(شام کی طرف دوسرا سفر :حصہ اول)
جزیرہ عرب کا بیشتر حصہ لق و دق صحراؤں اور خشک پہاڑی سلسلوں پر مشتمل ہے۔ اس زمانہ میں یہاں کے باشندے بھیڑ بکریوں کے ریوڑ چرا کر گزر اوقات کیا کرتے تھے جہاں کہیں پانی دستیاب ہوتا وہاں چھوٹے چھوٹے نخلستان اور تھوڑی بہت کھیتی باڑی ہو جاتی ۔ البتہ اہل مکہ تجارت پیشہ تھے۔ مشرق اور مشرق بعید کے ممالک سے درآمد کی ہوئی اجناس گرم مصالحہ اور مصنوعات باد بانی کشتیوں کے ذریعے یمن کی بندر گاہوں تک پہنچتیں۔ یہاں مکہ کے قریشی تاجر ان کو خرید لیتے اور اپنے اونٹوں پر لاد کر بحیرہ روم کی بندر گاہوں اور شام کے شہروں تک لے جاتے وہاں انہیں فروخت کرتے اور یہاں سے مغربی ممالک سے درآمد شدہ اشیاء خرید کر یمن کی بندر گاہوں اور شہروں تک پہنچاتے جو لوگ سرمایہ کی کمی کے باعث تجارت کی سکت نہ رکھتے وہ اپنے اونٹوں کے ذریعہ مال برداری کر کے کافی اجرت کما لیتے۔ اس طرح اہل مکہ کو فارغ البالی اور خوشحالی کی زندگی بسر کرنے کے مواقع میسر تھے۔ مکہ مکرمہ کے قریشیوں کے تجارتی کارواں موسم گرما میں شام کو جاتے اور موسم سرما میں یمن کا رخ کرتے۔ یہ تجارت کافی وسیع پیمانے پر ہوتی۔ وہ قافلہ جو حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی قیادت میں شام سے واپس آ رہا تھا جس کا محاصرہ کرنے کے لئے مسلمان مدینہ طیبہ سے نکلے تھے اس قافلہ کے تجارتی سامان کی قیمت چالیس ہزار سونے کی اشرفیوں کے برابر تھی اس وقت کی اشرفی کی قوت خرید کا اندازہ اشرفی کی موجودہ قوت خرید سے نہیں لگایا جا سکتا۔ مکہ کے جو لوگ اس تجارت میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیتے تھے اور سب سے زیادہ متمول اور مالدار تھے۔ ان میں سر فہرست حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تھیں آپ رضی اللہ عنہا کا سلسلہ نسب یہ ہے۔ حضرت خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی۔ آپ رضی اللہ عنہا ایک کامیاب اور متمول تاجرہ کے ساتھ ساتھ مکارم اخلاق کی پیکر جمیل تھیں۔ عفت و پاکدامنی کے باعث اس عہد جاہلیت میں “طاہرہ ” کے لقب سے ملقب تھیں۔ رحم دلی، غریب پروری اور سخاوت آپ رضی اللہ عنہا کی امتیازی خصوصیات تھیں۔ جب اہل مکہ کا تجارتی قافلہ بیرون ملک جاتا تو آپ رضی اللہ عنہا کے تجارتی سامان سے لدے ہوئے اونٹ بھی اس قافلہ کے ہمراہ ہوتے۔ جتنا سامان تجارت سارے اہل قافلہ کا ہوتا اتنا ہی ایک خاتون حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا بھی ہوتا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہا اپنے نمائندوں کو سامان تجارت دے کر روانہ کرتیں جو آپ رضی اللہ عنہا کی طرف سے کاروبار کرتے اس کی دو صورتیں تھیں۔ یا وہ ملازم ہوتے ان کی اجرت یا تنخواہ مقرر ہوتی جو انہیں دی جاتی نفع اور نقصان سے انہیں کوئی سروکار نہ ہوتا یا نفع میں ان کا کوئی حصہ، نصف، تہائی یا چہارم مقرر کر دیا جاتا اگر نفع ہوتا تو وہ اپنا حصہ لے لیتے بصورت نقصان ساری ذمہ داری حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا پر عائد ہوتی۔ اس کو شریعت میں “عقد مضاربہ” کہتے ہیں۔
حضرت ابو طالب کی مالی حالت خوش کن نہ تھی۔ تنگ دستی کا اکثر سامنا رہتا آپ کو معلوم ہوا کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا تجارتی قافلہ عنقریب شام جانے کی تیاریاں کر رہا ہے آپ نے حضورﷺ کو اپنے پاس بلایا اور بڑی محبت سے کہا۔ اے میرے بھتیجے! میں ایسا آدمی ہوں جس کے پاس مال و دولت نہیں۔ میرے موجودہ حالات بہت سنگین ہیں قحط سالی نے رہی سہی کسر بھی نکال دی ہے۔ میرے پاس سرمایہ بھی نہیں کہ اسے تجارت میں لگا سکوں ۔ تیری قوم کا تجارتی کارواں اب شام جانے والا ہے اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کئی لوگوں کو اجرت دے کر بھیج رہی ہے کہ وہ ان کا مال لے جائیں اور تجارت کریں۔ اگر آپﷺ بھی ان کے پاس جا کر اپنی خدمات پیش کریں تو یقینا وہ آپﷺ کو دوسروں پر ترجیح دیں گی کیونکہ وہ آپﷺ کے خصال حمیدہ سے خوب واقف ہے اگرچہ میں پسند نہیں کرتا کہ آپﷺ کو شام روانہ کروں کیونکہ وہاں یہود سے ایذا رسانی کا خطرہ ہے لیکن اب اس کے بغیر کوئی چارہ کار بھی نہیں۔ حضورﷺ کی غیرت نے کسی کے پاس طالب اور سائل بن کر جانا گوارا نہ کیا اور اپنے شفیق چچا کو جواب دیا۔
“لَعَلَّهَا تُرْسِلُ اِلَىَّ فِيۡ ذَاكَ” ترجمہ:شائد وہ خود ہی مجھے اس سلسلہ میں بلاوا بھیجیں۔
حضرت ابو طالب نے کہا۔
“اِنِّيۡ اَخَافُ اَنْ تُوَلِّىَ غَيْرَكَ وَتَطْلُبَ اَمْرًا مُدْبِرًا”
ترجمہ:مجھے اندیشہ ہے کہ وہ کسی اور کو مقرر کر دیں گی پھر آپﷺ ایک ایسی چیز کو طلب کریں گے جو پیٹھ پھیر چکی ہوگی۔
حضورﷺ نے جواب میں خاموشی اختیار کر لی ۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے حضورﷺ کے محاسن اخلاق ، آپﷺ کی امانت، دیانت اور پاکبازی کی شہرت سن رکھی تھی۔ لیکن انہیں اس پیشکش کی جرأت نہ ہوتی تھی جب انہیں چچا بھتیجے کی اس گفتگو کا علم ہوا تو فوراً پیغام بھیج کر بلایا۔ اور کہا میں یہ ذمہ داری اس لئے آپﷺ کے سپرد کرنے لگی ہوں کہ میں نے آپﷺ کی سچائی ، دیانتداری اور خُلق کریم کے بارے میں بہت کچھ سنا ہے ۔ اگر آپﷺ یہ پیشکش قبول فرما لیں تو جو معاوضہ میں دوسروں کو دیتی ہوں اس سے دو گنا آپﷺ کو دوں گی۔ حضورﷺ نے اس کا ذکر اپنے مہربان چچا سے کیا۔ آپ نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا یہ رزق اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ خاص سے آپﷺ کی طرف بھیجا ہے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنے غلام میسرہ کو حضورﷺ کے ساتھ روانہ کیا اور تاکیدی حکم دیا کہ “لَا تَعْصِ لَهٗ اَمْرًا وَلَا تُخَالِفۡ لَهٗ رَاْيًا” ترجمہ: میسرہ! خبردار ان کی نافرمانی نہ کرنا اور نہ ہی ان کی کسی رائے کی مخالفت کرنا۔
ان کے اس حکم سے صاف پتہ چلتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہانے میسرہ کو حضورﷺ کی نگرانی کرنے کے لئے نہیں بھیجا تھا بلکہ حضورﷺ کے آرام و آسائش کا ہر طرح خیال رکھنے کے لئے اور خدمت گزاری کے لئے بھیجا تھا۔ 16 ذی الحجہ کو یہ قافلہ روانہ ہوا روانگی کے وقت حضورﷺ کے چچا صاحبان الوداع کہنے کے لئے آئے۔ اور اہل قافلہ کو تاکید کی کہ حضورﷺ کا ہر طرح خیال رکھیں۔
شیخ محمد ابو زہرہ رحمۃ اللہ علیہ اپنے محبت بھرے انداز میں قافلہ کی روانگی کا منظر یوں بیان فرماتے ہیں۔
“فَصَلَتِ الْعِيۡرُ وَفِيۡهَا خَيْرُ خَلْقِ اللَّهِ تَعَالٰى تَكْلُؤُهَا عِنَايَتُهٗ سُبۡحَانَهٗ وَتَعَالٰى”
ترجمہ: قافلہ مکہ سے روانہ ہوا۔ جس میں وہ ہستی تھی جو اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق سے اعلیٰ و افضل تھی۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی نگاہ لطف و عنایت اس کی نگہبانی فرما رہی تھی۔
اس دفعہ بھی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے مال بردار اونٹوں کی تعداد دیگر قافلہ والوں کے سارے اونٹوں کی تعداد کے برابر تھی۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲