Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 176دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوار، حصہ: ششم}
(سب سے پہلے ایمان لانے والے، حصہ :ششم) 《سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی وساطت سے ایمان لانے والے: حصہ سوم》


حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ: حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی کوششوں سے حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ بھی مشرف بہ اسلام ہوئے۔ نوفل بن عدویہ جو اسد قریش کے لقب سے مشہور تھا اسے جب اس بات کا علم ہوا تو وہ غصہ سے بے قابو ہو گیا۔ اس نے دونوں کو یعنی حضرت صدیق اکبر اور حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کو ایک رسی میں جکڑا اور کس کر باندھ دیا۔ یہ دونوں حضرات کراہتے رہے لیکن ابن عدویہ کے قوت اور دبدبہ کے ڈر سے ان کے قبیلہ بنو تیم کے کسی فرد کو ہمت نہ ہوئی کہ انہیں آ کر چھڑا دے۔ حضور ﷺ دعا فرمایا کرتے تھے: “اَللّٰهُمَّ اکۡفِنَا شَرَّ ابْنِ الْعَدَوِيَّةِ” ترجمہ:اے اللہ! عدویہ کے بیٹے کے شر سے ہمیں بچا۔
حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ بصریٰ کی منڈی میں تجارت کے لیے گئے وہاں خانقاہ میں ایک راہب رہتا تھا اس نےاپنے لوگوں کو کہا کہ دریافت کرو کہ بیرونی تاجروں میں کوئی حرم کا تاجر بھی آیا ہوا ہے۔ میں نے بتایا کہ میں مکہ سے آیا ہوں ۔ مجھے اس کے پاس لے گئے ۔ اس نے دریافت کیا کہ کیا احمد نامی کوئی شخص تم میں ظاہر ہوا ہے میں نے پوچھا کون احمد ؟ اس نے کہا احمد بن عبداللہ بن عبد المطلب یہ مہینہ اس کے ظہور کا ہے وہ نبی آخر الانبیاء ہیں ان کے ظہور کی جگہ مکہ ہے اور ہجرت گاہ نخلستانوں والی وہ شور زمین ہے۔ خبردار ! ان پر ایمان لانے میں تم پر کوئی سبقت نہ لے جائے میرے دل میں ان کی بات بیٹھ گئی۔ میں جلدی سے مکہ لوٹا میں نے پوچھا تو مجھے بتایا گیا کہ محمد بن عبداللہ نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ ﷺپر ایمان لے آئے ہیں۔ میں آپ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا آپ رضی اللہ عنہ نے مجھے اسلام کے بارے میں بتایا مجھے لے کر حضور ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اور میں مشرف بہ اسلام ہوا۔
(السیرة الحلبیہ، جلد 1، صفحہ 265)

یہ بھی عشرہ مبشرہ میں سے ہیں اور اس شش رکنی کمیٹی کے رکن تھے۔ حضور ﷺنے آپ رضی اللہ عنہ کو طلحہ الخیر اور طلحہ الجود کے لقب سے ملقب فرمایا مہاجرین اولین سے ہیں بدر کے علاوہ تمام غزوات میں شرکت فرمائی آپ رضی اللہ عنہ کی عمر چونسٹھ سال تھی۔
“وَ قَبْرُهٗ بِالْبَصۡرَةِ مَشْهُوۡرُ يُزَارُ وَ يُتَبَرَّكُ”
ترجمہ: آپ رضی اللہ عنہ کا مزار شریف بصرہ میں ہے لوگ تبرک حاصل کرنے کے لئے وہاں حاضری دیتے ہیں۔
(محمد رسول اللہ محمد رضا، جلد 1، صفحہ 79)

دوسرے روز خوش نصیبوں کا ایک اور گروہ لے کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بارگاہ رسالتﷺ میں حاضر ہوئے ان حضرات نے بھی ہادی کونینﷺ کے دست ہدایت بخش پر ہاتھ رکھ کر بیعت اسلام کی۔
حضرت ابو عبیدہ بن جراح، ابو سلمہ عبداللہ بن عبدالاسد، ارقم بن ابی الارقم، عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہم
(السيرة النبویہ لابن کثیر، جلد 1، صفحہ 439)

تبلیغ اسلام کا یہ سلسلہ خفیہ طور پر جاری رہا خوش نصیب روحیں جب پیغام حق کو سنتیں تو جس طرح پیاسے، ٹھنڈے اور میٹھے پانی کے چشمے کی طرف کھینچے چلے آتے ہیں وہ بھی بے تابانہ وار اس دعوت کو قبول کرنے کے لئے لپکتیں ۔ وہ ازلی نیک بخت جن کو ” اَلسَّابِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ ” کے زمرہ میں شامل ہونے کی سعادت نصیب ہوئی ان میں سے چند کے نام بطور تبرک تحریر کئے جاتے ہیں۔

حضرت عبیدہ بن حارث، سعید بن زید،ان کی اہلیہ فاطمہ (حضرت عمر کی ہمشیرہ ) اسماء اور عائشہ دختران صدیق اکبر، خباب بن الارت، عمیر بن ابی وقاص، حضرت سعد کے بھائی، عبداللہ بن مسعود ، مسعود بن القاری، سلیط بن عمر، اور ان کے بھائی حاط، عیاش بن ربیعہ، ان کی اہلیہ اسماء، خنیس بن حذافہ ، عامر بن ربیعہ، عبداللہ بن جحش اور ان کے بھائی ابو احمد، جعفر بن ابی طالب ، اور آپ کی اہلیہ اسماء بنت عمیس، حاطب بن الحارث ، عثمان بن مظعون کے دو بھائی قدامہ اور عبداللہ و غیرھم رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین ۔
(محمد رسول اللہ محمد رضا، جلد 1، صفحہ 79)

حضور نبی کریم ﷺ کے من موہنے انداز تبلیغ اور حضورﷺ کے یار وفا شعار حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی کوششوں سے آہستہ آہستہ اسلام، سعید روحوں کو اپنی طرف ملتفت کرتا گیا اور ان کے دلوں میں نور توحید سے اجالا کرتا گیا یہاں تک کہ داعی حقﷺ کی دعوت پر لبیک کہنے والوں کی تعداد بیس ہو گئی اور یہ ساری کوششیں خفیہ طور پر جاری تھیں اور ان کو صیغہ راز میں رکھا جاتا تھا۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top