Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 167بعثت مبارکہ: حصہ نہم}

(نزول وحی کا آغاز)


جس طرح پہلے بتایا جا چکا ہے کہ وحی کا آغاز سچے خوابوں کے دکھائے جانے سے ہوا۔ علامہ ابن حجر علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں کہ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ رؤیا صادقہ کی مدت چھ ماہ تھی اور اس کی ابتدا ربیع الاول شریف میں ہوئی جب کہ سرور عالمﷺکی عمر مبارک پوری چالیس سال ہو گئی۔ بیداری کی وحی کا آغاز ماہ رمضان المبارک میں ہوا۔
(فتح الباری، جلد اول، صفحہ 22)

لیکن اس بارے میں مورخین کا اختلاف ہے کہ وہ کون سا مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے حضورﷺ کو شرف نبوت سے سرفراز فرمایا اور نزول وحی کا آغاز ہوا۔ ایک گروہ کی رائے ہے کہ ماہ ربیع الاول میں یہ شرف بخشا گیا دوسرا گروہ کہتا ہے کہ ماہ رمضان میں ایک قول یہ بھی ہے کہ ماہ رجب میں۔ لیکن نصوص قرآنی اس بات کی تائید کرتی ہیں کہ نزول قرآن کی ابتداء رمضان المبارک کے مہینہ میں ہوئی۔ ارشاد الہیٰ ہے۔
“شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ”
ترجمہ: رمضان کا وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا۔
( سورة البقرۃ،آیۃ:185)

دوسری جگہ ارشاد خداوندی ہے۔
“اِنَّا اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ”
ترجمہ: کہ ہم نے اس کو لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ۔ (سورۃ القدر،آیۃ :1)

اور یہ امر مسلَّمہ ہے کہ لیلۃ القدر ماہ رمضان کی ایک رات ہے۔ پھر اس میں اختلاف ہے کہ نزول وحی کا آغاز کس تاریخ کو ہوا ۔ بعض نے سات، بعض نے سترہ ،بعض نے اٹھارہ رمضان المبارک کی تاریخیں مقرر کی ہیں لیکن اگر ہم اس تاریخ کے تعین کے لئے آیات قرآنی اور احادیث نبویﷺ پر اعتماد کریں تو یہ الجھن بآسانی حل ہو جاتی ہے۔ نص قرآنی سے ثابت ہے کہ نزول قرآن کا آغاز ماہ رمضان میں ہوا یہ بھی آیت قرآنی سے ثابت ہوا کہ جس رات میں اس کا نزول ہوا اس رات کا نام لیلۃ القدر ہے اور صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ حضورﷺ نے پہلے ارشاد فرمایا کہ لیلۃ القدر کو رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو مزید کرم فرمایا اور امت کی سہولت کے پیش نظر اس کو آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرنے کی ترغیب دی ان آیات اور روایات کے مطالعہ سے ہم بآسانی اس نتیجہ پر پہنچ جاتے ہیں کہ نزول قرآن کا آغاز اکیسویں، تئیسویں، پچیسویں، ستائیسویں اور انتیسویں راتوں میں سے کسی ایک رات میں ہوا ان پانچ راتوں میں سے وہ کون سی مخصوص رات ہے جس کو یہ سرمدی شرف و اعزاز نصیب ہوا تو اس بارے میں بھی زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ حضورﷺ کی ایک اور حدیث پاک ہمیں اس الجھن سے نکالنے کے لئے کافی ہے۔ حضورﷺ کا معمول مبارک تھا کہ ہر سوموار کو عام طور پر روزہ رکھا کرتے تھے۔ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ! آپﷺ سوموار کے دن اکثر روزہ کیوں رکھتے ہیں؟ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا۔ “فِيْهِ ولِدْتُّ وَفِيْهِ اُنْزِلَ عَلَیَّ الْقُرْآنُ”

اور دوسری روایت میں ہے۔
“ذٰلِكَ يَوْمٌ وُلِدْتُّ فِيْهِ وَيَوْمٌ بُعِثْتُ اَوْ اُنْزِلَ عَلَىَّ فِيْهِ”
ترجمہ: کہ اسی دن میری ولادت ہوئی اور اس دن میں مبعوث ہوا اور مجھ پر قرآن نازل ہوا ۔ (صحیح مسلم)

اب ان پانچ راتوں میں سے یہ دیکھنا ہے کہ سوموار کی رات کون سی تھی۔ اگر یہ معلوم ہو جائے تو پھر یہ مسئلہ خود بخود حل ہو جائے گا۔ تقویم علمی کے حساب سے اس آخری عشرہ میں سوموار کی دو راتیں بنتی ہیں ایک اکیسویں اور ایک اٹھائیسویں۔ طاق رات کیونکہ اکیسویں ہے اس لئے ان دلائل کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کر نا قرین صحت ہے کہ اکیس رمضان المبارک کی بابرکت رات میں نزول قرآن کا آغاز ہوا اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کریمﷺکے سر اقدس پر ختم نبوت کا تاج سجا کر اور رحمۃ للعالمینی کی خلعت فاخرہ پہنا کر خفتہ بچت (بد نصیب) انسانیت کی تقدیر کو جگانے کے لئے مبعوث فرمایا۔
“وَاللهُ تَعَالٰى اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ الَّذِيْ بَعَثَ اِلٰى خَلْقِهٖ اَحْسَنَهُمْ خَلْقًا وَ اَكْرَمَهُمْ خُلُقًا مُحَمَّدًا مُبَشِّرًا وَ نَذِيْرًا وَدَاعِيًا اِلَى اللهِ بِاِذْنِهٖ وَسِرَاجًا مُنِيْرًا صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَعَلٰى اٰلِهٖ صَلٰوةً وَسَلَامًا كَثِيْرًا كَثِيْرًا”

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top