(حربِ فجار:حصہ سوم :آخری حصہ)
حربِ فجار کی وجہ تسمیہ: شیخ محمد ابو زہرہ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں۔
“اَلۡفِجَارُ، مَصۡدَرُ فَاجَرَ فَمَصْدَرُ مَفَاعَلَۃً فِعَالًا اَوْ مُفَاعَلَةَ كَقِتَالٍ اَوْ مُقَاتَلَةٍ وَنِقَاشٍ وَمُنَاقِشَةٍ وَالْفِجَارُ مَعْنَاهُ تَبَادُلُ الْفُجُوۡرِ”
ترجمہ:فجار ، فاجر کا مصدر ہے اور باب مفاعلہ کا مصدر فعال اور مفاعلہ کے وزن پر آتا ہے جیسے قاتل کا مصدر قتال و مقاتلہ اور ناقش کا مصدر نقاش و مناقشہ ہے۔ فجار کا معنی ہے دو فریقوں کا فجور کا ارتکاب کرنا۔
(خاتم النبیین، امام محمد ابو زہرہ ، جلد اول، صفحہ 149 )
اس جنگ کو حربِ فجار کہنے کی وجہ یہ ہے کہ جنگ کے دونوں فریقوں نے ان مہینوں میں ایک دوسرے کے ساتھ جنگ کی جن میں جنگ کرنا عہدِ جاہلیت میں بھی حرام سمجھا جاتا تھا۔ یہ شریعت ابراہیمی کا ایک حکم تھا۔ جس پر عرب معاشرہ میں اس وقت بھی سختی سے عمل کیا جاتا تھا۔ حرمت والے مہینے یہ تھے۔ ذی قعدہ، ذی الحجہ، اور محرم ۔ یہ تینوں مہینے ایک ساتھ اس کی حکمت یہ تھی کہ جزیرہ عرب کے اطراف و اکناف سے لوگ فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے آئیں تو انہیں راستہ میں مکمل امن و امان میسر ہو ۔ کسی اچانک حملہ یا کسی راہزن کا انہیں اندیشہ نہ ہو۔ اور جب یہ فریضہ ادا کرنے کے بعد اپنے وطن واپس جائیں تب بھی خیر و عافیت کے ساتھ واپس جا سکیں چوتھا مہینہ رجب کا تھا یہ ان کے نزدیک عمرہ ادا کرنے کے لئے مخصوص تھا اس میں بھی قاصدِ حرم کو ضمانت دی گئی تھی کہ وہ آزادی پر اطمینان سے یہ سفر کرے۔ اس کی جان و مال سے کسی قسم کا تعرض نہیں کیا جائے گا۔ اسلام نے بھی ان مہینوں کی حرمت کو برقرار رکھا اور مسلمانوں پر بھی حرام قرار دیا کہ وہ ان میں جنگ کا آغاز کریں اگر دشمن ان پر حملہ کر دے تو اپنے دفاع میں انہیں ہتھیار اٹھانے کی اجازت دی گئی۔
ارشاد الہی ہے۔
اِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُوۡرِ عِنۡدَ اللّٰہِ اثۡنَا عَشَرَ شَہۡرًا فِیۡ کِتٰبِ اللّٰہِ یَوۡمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ مِنۡہَاۤ اَرۡبَعَۃٌ حُرُمٌ ؕ ذٰلِکَ الدِّیۡنُ الۡقَیِّمُ ۬ۙ فَلَا تَظۡلِمُوۡا فِیۡہِنَّ اَنۡفُسَکُمۡ وَ قَاتِلُوا الۡمُشۡرِکِیۡنَ کَآفَّۃً کَمَا یُقَاتِلُوۡنَکُمۡ کَآفَّۃً ؕ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿36﴾
ترجمہ:بے شک اللہ کے نزدیک مہینوں کی گنتی اللہ کی کتاب (یعنی نوشتۂ قدرت) میں بارہ مہینے (لکھی) ہے جس دن سے اس نے آسمانوں اور زمین (کے نظام) کو پیدا فرمایا تھا۔ ان میں سے چار مہینے (ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب) حرمت والے ہیں۔ یہی سیدھا حساب ہے۔ سو تم ان مہینوں میں (اَز خود جنگ و قتال میں ملوث ہو کر) اپنی جانوں پر ظلم نہ کرنا اور تم (بھی) تمام (محارِب) مشرکین سے اسی طرح (جوابی) جنگ کیا کرو جس طرح وہ سب (اکٹھے ہو کر) تم سب پر جنگ مسلط کرتے ہیں، اور جان لو کہ بے شک اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔
( سورة التوبۃ،آیۃ :36)
اس جنگ میں بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوبﷺ کی خود حفاظت فرمائی۔ حضورﷺ نے بذات خود جنگ و قتال میں حصہ نہیں لیا۔ حضورﷺ کے ہاتھ سے نہ کوئی شخص مارا گیا اور نہ زخمی ہوا۔ حضورﷺ کی اس میں شمولیت اس حد تک تھی کہ آپﷺ کے سارے چچا اس میں شریک تھے ان کا دفاع حضورﷺ کا فرض تھا۔ وہ آپﷺ بجا لائے۔
چنانچہ اس جنگ میں اپنے کردار کے بارے میں حضورﷺ ارشاد فرماتے ہیں۔
“كُنۡتُ اَنْبَلُ عَلٰٓى اَعْمَامِیۡ”
اس فقرہ کے دو معنی کئے گئے ہیں عام علماء نے تو اس کا یہ مفہوم بتایا ہے کہ:
ترجمہ: میرے چچا دشمن پر تیر برساتے تھے اور میں ترکش سے تیر نکال نکال کر انہیں دیا کرتا تھا۔
اس کا دوسرا مفہوم یہ ہے جو شیخ ابو زہرہ علیہ الرحمۃ نے بیان کیا ہے۔
“اَيۡ اَمْنَعُ النَّبِلَ عَنْ اَعْمَامِيۡ فَهُوَ كَانَ دَرۡعًا وَّاقِيَةً لِاَعْمَامِهٖ”
ترجمہ: کہ میں ان تیروں کو روکا کرتا تھا جو میرے چچاؤں پر چلائے جاتے تھے۔ تو گویا حضورﷺ اپنے چچاؤں کے لئے دشمن کے واروں سے بچانے والی زرہ تھے۔
(خاتم النبیین، امام محمد ابو زہرہ، جلد اول، صفحہ 151)
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲