(سب سے پہلے ایمان لانے والے: حصہ دوم)
《حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ》
بعثت سے پہلے نبی مکرم ﷺ اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے درمیان گہرے دوستانہ مراسم تھے ایک دوسرے کے پاس آمد و رفت، نشست و برخاست، ہر اہم بات پر صلاح مشورہ ، ہر روز کا معمول تھا۔ کئی تجارتی سفر جو بیرون ملک پیش آئے ان میں بھی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ حضورﷺ کے ہم سفر رہے طبائع میں کمال یکسانیت کے باعث باہمی انس و محبت بھی درجہ کمال تک پہنچا ہوا تھا۔ اس بے تکلف میل جول کے باعث حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ حضور سرور عالمﷺ کے کمالات و محامد کے عینی شاہد تھے اور دل سے گرویدہ تھے اس عرصہ میں آپ رضی اللہ عنہ نے کئی خواب دیکھے جنہوں نے آپ رضی اللہ عنہ کے قلب و ذہن کو حضور ﷺکی محبت اور عقیدت کا گہوارہ بنا دیا تھا۔
شیخ محمد ابو زہرہ رحمۃ اللہ علیہ نے الروض الانف کے حوالے سے ایک خواب ذکر کیا ہے جو درج ذیل ہے۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک رات خواب دیکھا کہ چاند مکہ میں اترا ہے اور تمام گھروں میں اس کی روشنی پھیل گئی ہے اور اس کا ایک ایک ٹکڑا ہر گھر میں گرا ہے پھر آپ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ چاند کے بکھرے ہوئے ٹکڑے یکجا ہو گئے اور وہ مکمل چاند ان کی گود میں آ گیا۔ اہل کتاب کے کسی عالم سے آپ رضی اللہ عنہ نے اس خواب کی تعبیر پوچھی اس نے بتایا کہ وہ نبیﷺ جس کی آمد کے ہم منتظر ہیں اور جس کے ظہور کی گھڑی بالکل قریب آ گئی ہے وہ ظاہر ہو گا۔ اور آپ رضی اللہ عنہ اس کی اطاعت و پیروی کریں گے اور اس کی اطاعت کی برکت سے آپ رضی اللہ عنہ سارے جہاں میں سعید ترین شخص ہوں گے ایسے خوابوں نے اور ہر روز نبی کریم ﷺ کے کمالات کے مشاہدہ نے انہیں اس سروش غیب کے لئے سراپا گوش بنا دیا جس کا سارے عالم کو انتظار تھا۔ اور علماء کتاب جس کی آمد کا برملا اعلان کرتے رہتے تھے مختلف سفروں کے دوران میں آپ رضی اللہ عنہ نے حضورﷺ سے ایسی علامات دیکھی تھیں جو حضورﷺ کی عظمت شان اور درخشاں مستقبل کی پیشین گوئی کر رہی تھیں، گویا رحمت خداوندی نے اپنے محبوبﷺ کی رفاقت کے لئے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو چن لیا تھا۔ اور ذہنی طور پر ان کو یوں تیار کر لیا تھا کہ اِدھر نور نبوتﷺ چمکے اُدھر یہ اس کے اجالے کو عام کرنے کے لئے اپنی ساری توانائیاں پیش کر دیں اِدھر دعوت حق کا اعلان ہو ۔ اُدھر لَبَّیۡکَ اَللّٰهُمَّ لَبَّیۡکَ کی صدائیں اس کے استقبال کے لئے ان کی دل کی گہرائیوں سے بلند ہونے لگیں۔ چنانچہ حضور ﷺ نے جب آپ رضی اللہ عنہ کو ایمان لانے کی دعوت دی تو بلا ادنی تامل انہوں نے اس کو قبول کر لیا سرور عالمﷺ خود فرماتے ہیں۔
“مَا دَعَوْتُ اَحَدًا اِلَى الْاِسْلَامِ اِلَّا كَانَتْ عِنْدَهٗ كَبۡوَةٌ وَّ تَرَدُّدٌ وَ نَظۡرٌ اِلَّا اَبَا بَكْرٍ مَا عَكَمَ عَنْهُ حِيۡنَ ذَكَرْتُهٗ لَهٗ وَ لَا تَرَدَّدَ”
ترجمہ: میں نے جس کو بھی اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ تو اس کا پاؤں پھسلا۔ اور وہ تشویش میں مبتلا ہوا اور غور و فکر کرنے لگا۔ سوائے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے انہوں نے نہ تردد کیا اور نہ جھجکے۔
(سبل الہدیٰ والرشاد، جلد دوم، صفحہ406)
حقیقت یہ ہے کہ حضرت ورقہ اور دیگر علماء اور راہبوں نے حضور ﷺکے بارے میں بڑی پیشن گوئیاں کی تھیں جن کو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے کانوں سے سنا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کو یقین تھا کہ اس ہستی کو اللہ تعالیٰ نبی بنا کر مبعوث فرمانے والا ہے اور اس گھڑی کے لئے آپ رضی اللہ عنہ شدت سے منتظر رہا کرتے تھے کہ حضورﷺ اپنی نبوت کا اعلان کریں اور یہ جلدی سے حضورﷺ کی دعوت کو قبول کرتے ہوئے ایمان لانے کا شرف حاصل کریں چنانچہ ایک روز آپ رضی اللہ عنہ حکیم بن حزام کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ حکیم کی لونڈی اس کے پاس آئی اور بتایا کہ آپ رضی اللہ عنہ کی پھوپھی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا آج یہ خیال کر رہی ہیں کہ ان کے خاوند نبی مرسلﷺ ہیں۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام تھے یہ سن کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ خاموشی سے وہاں سے چلے گئے اور نبی کریمﷺ کی خدمت میں پہنچے۔ اور آپﷺ سے خبر دریافت کی حضورﷺ نے وحی کی آمد کا واقعہ انہیں بتایا اور آگاہ کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو رسول بنا کر مبعوث فرمایا ہے۔ اس وقت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا۔ “صَدَقْتَ بِاَبِيۡ وَاُمِّيۡ اَنْتَ وَ اَهْلُ الصِّدْقِ اَنْتَ اَنَا اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللَّهُ وَ اَنَّكَ رَسُوۡلُ اللَّهِﷺ”
ترجمہ: آپ رضی اللہ عنہ نے عرض کی میرے ماں باپ آپﷺ پر قربان ہوں آپﷺ نے سچ فرمایا ہے اور آپﷺ سچوں میں سے ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے بغیر اور کوئی معبود نہیں اور آپﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔
شرح مواہب اللدنیہ میں علامہ زرقانی علیہ الرحمۃ نے بھی اسی قول کو ترجیح دی ہے، لکھتے ہیں۔
“وُقُوۡعُ اِسْلَامِ صِدِّيۡقٍ عَقۡبَ اِسْلَامِ خَدِيۡجَةَ لِاَنَّهٗ كَانَ يَتَوَقَّعُ ظُهُوۡرَ نَبُوَّتِهٖ عَلَيْهِ السَّلَامُ لِمَا سَمِعَهٗ مِنْ وَّرَقَةَ وَكَانَ اَىۡ اَبُوۡ بَكْرٍ يَوْمًا عِنْدَ حَكِيۡمِ بْنِ حِزَامِِ اِذْ جَآءَتْ مَوْلَاةُٗ فَاَنْسَلَّ اَبُوۡ بَكۡرٍ حَتّٰى اَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ فَاَسْلَمَ”
ترجمہ: کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ایمان کے فوراً بعد حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مشرف بہ اسلام ہوئے کیونکہ آپ رضی اللہ عنہ کو یہ توقع تھی کہ حضورﷺ اپنی نبوت کا اعلان فرمانے والے ہیں اور اس کی وجہ یہ تھی کہ حضور ﷺکے بارے میں آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت ورقہ بن نوفل سے بہت کچھ سنا تھا۔ ایک روز حکیم بن حزام کے پاس حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بیٹھے تھے کہ ان کی لونڈی آئی اور حکیم کو بتایا کہ ان کی پھوپھی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا آج کہہ رہی تھیں کہ ان کے خاوندﷺ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح نبی مرسل ہیں یہ سنتے ہی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ وہاں سے اٹھ گئے اور حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کیا۔
(محمد رسول الله از محمد الصادق عرجون، جلد اول، صفحہ522)
اس کی مزید تائید اس سے ہوتی ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی جو توصیف اور مدح حضورﷺ نے فرمائی ہے وہ مضمون کے اعتبار سے بالکل ایک جیسی ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سرور عالمﷺ جب بھی گھر سے باہر تشریف لے جاتے تو نکلنے سے پہلے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کرتے اور ان کی تعریف فرماتے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ایک دن اسی طرح حضورﷺ نے ان کا ذکر کیا اور ان کی تعریف فرمائی تو مجھے بڑی غیرت آئی۔ میں نے کہا وہ ایک بوڑھی عورت تھیں اللہ تعالیٰ نے ان سے بہت بہتر ازواج آپﷺ کو دی ہیں۔ حضور ﷺ یہ بات سن کر بڑے غضبناک ہوئے شدت غضب سے پیشانی کے بال کانپنے لگے پھر فرمایا بخدا ہرگز نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے بہتر ان کے بدلے کوئی زوجہ مجھے نہیں دی وہ میرے ساتھ ایمان لائی جب کہ لوگوں نے کفر کیا۔ انہوں نے میری تصدیق کی۔ جب لوگوں نے مجھے جھٹلایا۔ انہوں نے اپنے مال سے میری دلجوئی کی جب لوگوں نے مجھے محروم کیا ان سے اللہ تعالیٰ نے مجھے اولاد عطا فرمائی جب کہ دوسری ازواج سے اولاد پیدا نہ ہوئی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے دل میں فیصلہ کیا کہ آئندہ میں آپ رضی اللہ عنہا کا ذکر کرتے وقت ان کی عیب جوئی نہیں کروں گی۔ اسی طرح حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ میں تلخ کلامی ہوئی ۔ حضورﷺ کو اس سے بڑی تکلیف ہوئی حضورﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے نبی بنا کر مبعوث کیا تو تم نے مجھے جھٹلایا اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا یہ سچے ہیں انہوں نے اپنی ذات اور مال سے میری دلجوئی کی کیا آپ رضی اللہ عنہ میرے لئے میرے اس دوست رضی اللہ عنہ کو چھوڑیں گے یا نہیں؟
ان احادیث پاک سے پتہ چلتا ہے کہ سب سے پہلے ایمان لانے والے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں۔ (محمد رسول الله از محمد الصادق، جلد اول، صفحہ523)
آپ رضی اللہ عنہ کا نام عبد الکعبہ تھا۔ حضورﷺ نے آپ رضی اللہ عنہ کا نام بدل کر عبداللہ رکھا۔ ابو بکر آپ رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ “كُنِيَ بِاَبِيۡ بَكۡرٍ لِاِبۡتِكَارِهٖ بِالۡخِصَالِ الۡحَمِيۡدَةِ”
ترجمہ: خصال حمیدہ میں جدت طراز ہونے کی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو بکر رکھی گئی۔
آپ رضی اللہ عنہ کا لقب عتیق تھا۔ کیونکہ آپ رضی اللہ عنہ بڑے خوبرو اور خوش شکل تھے اس لئے آپ رضی اللہ عنہ کو عتیق کے لقب سے ملقب کیا گیا اور بعض کے نزدیک یہ لقب سرور عالمﷺ نے آپ رضی اللہ عنہ کو دیا کیونکہ حضورﷺ نے آپ رضی اللہ عنہ کو خوشخبری دی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو آتش جہنم سے آزاد کر دیا۔ اب رہا یہ سوال کہ سب سے پہلے ایمان لانے کا شرف کس کو حاصل ہوا۔ اس کے بارے میں عرض ہے کہ اس امر پر تمام ائمہ متفق ہیں کہ ساری امت اسلامیہ میں سب سے پہلے ام المؤمنین حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کو ایمان لانے کی سعادت نصیب ہوئی ۔ ان کے بعد اولیت کا شرف حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو حاصل ہوا یا حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو اس کے بارے میں متعدد روایات ہیں علماء ربانیین نے ان مختلف روایات میں یوں تطبیق کی ہے۔ کہ عورتوں میں سب سے پہلے ایمان لانے کا شرف حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو حاصل ہوا، بچوں میں سب سے پہلے ایمان لانے کا شرف حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو حاصل ہوا لیکن انہوں نے اپنا اسلام مخفی رکھا اور بالغ مردوں میں سب سے پہلے اسلام لانے کی سعادت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو نصیب ہوئی۔ انہوں نے اسلام قبول بھی کیا اور اس کا اعلان بھی کیا۔ غلاموں میں سب سے پہلے ایمان لانے والےحضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ تھے۔ لیکن ابن جوزی “صفوۃ الصفوۃ” میں امام شعبی علیہ الرحمۃ سے روایت کرتے ہیں کہ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ اَوَّلُ مَنْ صَلّٰى اَبُوۡ بَكْرٍ وَ تَمَثَّلُ بِاَبْيَاتِ حَسَّانِ بْنِ ثَابِتٍ
اِذَا تَذَكَّرْتَ شَجۡوًا مِّنْ اَخِيۡ ثِقَةٍ
فَاذْكُرْ اَخَاكَ اَبَا بَكْرٍ بِمَا فَعَلَا
خَيْرَ الْبَرِيَّةِ اَتْقَاهَا وَاَفْضَلَهَا
بَعْدَ النَّبِيِّ وَاَوْفَاهَا بِمَا حَمَلَا
وَ الثَّانِيۡ التَّالِيۡ اَلۡمَحْمُوۡدُ مَشْهَدُہٗ
وَ اَوَّلُ النَّاسِ مِنْهُمْ صَدَّقَ الرُّسُلَا
ترجمہ: جب تم اپنے قابل اعتماد بھائی کے حزن و ملال کو یاد کرنا چاہو تو اپنے بھائی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو یاد کرو ان تکالیف کے باعث جو انہوں نے برداشت کیں۔ نبی کریمﷺ کے بعد وہ ساری مخلوق سے بہتر، سب سے زیادہ متقی اور سب سے افضل تھے انہوں نے جو ذمہ داری اٹھائی اس کو پورا کرنے میں سب سے زیادہ وفادار تھے۔ حضورﷺ کے بعد آنے والے دوسرے آپ رضی اللہ عنہ تھے آپ رضی اللہ عنہ کا مشہد قابل تعریف تھا اور ان لوگوں میں سب سے پہلے تھے جو رسولوں پر ایمان لائے۔
(سبل الہدیٰ والرشاد، جلد دوم، صفحہ406)
امام سہیلی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے یہ مدحیہ اشعار حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی شان میں لکھے نبی کریم ﷺنے انہیں سنا اور ان کی تردید نہیں کی ۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ سب سے پہلے ایمان لانے کا شرف حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو نصیب ہوا آزاد شدہ غلاموں میں حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اور غلاموں میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اسلام لانے میں اولیت کا شرف حاصل ہوا۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲