(سب سے پہلے ایمان لانے والےحصہ :پندرہواں)
} سیدنا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ایمان لانا: حصہ سوم آخری حصہ}
حضرت صہیب رضی اللہ عنہ جو سابقین اولین میں سے ہیں۔ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے کے بعد کے واقعات یوں روایت کرتے ہیں۔
“وَقَالَ صُهَيْبُ لَمَّا اَسْلَمَ وَ عُمَرُ قَالَ يَا رَسُوۡلَ اللهِ ﷺ! لَا يَنْبَغِيۡ اَنْ يُّكْتَمَ هٰذَا الدِّيۡنُ اَظْهِرۡ دِيۡنَكَ وَ خَرَجَ وَ مَعَهُ الْمُسْلِمُوۡنَ وَ عُمَرَ اَمَامَهُمْ مَعَهٗ سَيْفٌ يُّنَادِيۡ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللهِ ﷺ حَتّٰى دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَ قَالَتۡ قُرَيْشٌ لَقَدْ اَتَاكُمْ عُمَرُ مَسْرُوۡرًا مَا وَرَآءَكَ يَا عُمَرُ قَالَ وَرَائِيۡ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُوۡلُ اللَّهِ ﷺ فَاِنْ تَحَرَّكَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ لَاُمَکِّنَنَّ سَيْفِىۡ مِنْهُ ثُمَّ تَقَدَّمَ اَمَامَهٗ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ يَطُوۡفُ وَيَحْمِيۡهِ حَتّٰى فَرَغَ مِنْ طَوَافِهٖ”
ترجمہ: حضرت صہیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ مشرف با اسلام ہوئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہﷺ! اب یہ مناسب نہیں کہ اس دین کو چھپایا جائے۔ حضورﷺ اپنے دین کو ظاہر فرمائیے۔ حضورﷺ مسلمانوں کی معیت میں دار ارقم سے باہر تشریف لائے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنی تلوار لئے آگے آگے چل رہے تھے اور بلند آواز میں “لَا اِلٰهَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَسُوۡلُ اللَّهِ ﷺ” کا ورد کر رہے تھے یہاں تک کہ مسجد حرام میں داخل ہوئے قریش نے دیکھ کر کہا آج حضرت عمر رضی اللہ عنہ بڑے خوش خوش آ رہے ہیں انہوں نے پوچھا اے عمر! کیا خبر ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: “وَرَائِيۡ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَسُوۡلُ اللَّهِ ﷺ” خبر یہ ہے کہ “لَا اِلٰهَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَسُوۡلُ اللَّهِ ﷺ” خبردار اگر تم میں سے کسی نے ہلنے کی کوشش کی ورنہ میں اپنی تلوار سے تمہیں گھائل کر دوں گا پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضورﷺ کے آگے آگے چلتے رہے حضورﷺ نے طواف فرمایا آپ رضی اللہ عنہ حضورﷺ کی حفاظت کر رہے تھے یہاں تک کہ حضورﷺ طواف سے فارغ ہو گئے۔
(رواه ابن ماجہ) (شرح مواہب اللدنیہ، جلد 1، صفحہ 177)
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ایمان کا واقعہ تاریخ اسلام کا ایک عظیم ترین واقعہ ہے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں۔
“لَمَّا اَسْلَمَ عُمَرُ قَالَ جِبْرَئِيۡلُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا مُحَمَّدُ ﷺ! لَقَدِ اسْتَبْشَرَ اَهْلُ السَّمَآءِ بِاِسْلَامِ عُمَرَ”
ترجمہ:یعنی جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسلمان ہوئے تو حضرت جبرائیل امین علیہ السلام بارگاہ نبویﷺ میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مسلمان ہونے سے آسمان کے سارے رہنے والوں نے بڑی مسرت کا اظہار کیا ہے ۔
(رواه ابن ابی شيبۃ والطبرانی)
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کے حلقہ بگوش اسلام ہونے پر بڑا جامع تبصرہ فرمایا ہے۔
“قَالَ ابْنُ مَسْعُوۡدٍ كَانَ اِسْلَامُ عُمَرَ عِزًّا وَ هِجْرَتُهٗ نَصْرًا وَ اِمَارَتُہٗ رَحْمَةً وَاللَّهِ مَا اسْتَطَعْنَا اَنْ نُّصَلِّيَ حَوۡلَ الْبَيْتِ ظَاهِرِيۡنَ حَتّٰى اَسۡلَمَ عُمَرُ”
ترجمہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اسلام مسلمانوں کے لئے باعث عزت اور آپ رضی اللہ عنہ کی ہجرت باعث نصرت اور آپ رضی اللہ عنہ کی خلافت سراپا رحمت تھی۔ بخدا! ہماری طاقت نہ تھی کہ ہم ظاہری طور پر کعبہ کے صحن میں نماز ادا کر سکیں۔ یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا۔
(شرح مواہب اللدنیہ، جلد 1، صفحہ 177)
آپ رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے کی تاریخ: ہم اوپر لکھ آئے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے مسلمان ہونے کے صرف تین دن بعد اسلام کو قبول کیا اور علماء محققین کی یہ رائے بھی بیان کی ہے کہ صحیح قول کے مطابق حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اعلان نبوت کے دوسرے سال مشرف بہ اسلام ہوئے۔ اس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبوت کے دوسرے سال حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے تین دن بعد حضور نبی کریم ﷺ کے دست مبارک پر اسلام کی بیعت کی۔ اس قول کی مزید تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اکثر علماء کی یہ رائے ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ سے پہلے انتالیس مرد مسلمان ہو چکے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے مسلمان ہونے سے چالیس کا عدد پورا ہوا ۔ اس سے بھی اس قول کی تائید ہوتی ہے۔ کہ آپ رضی اللہ عنہ نبوت کے دوسرے سال حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ لیکن بعض علماء کا یہ خیال ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے بعثت کے چھٹے سال اسلام قبول کیا جب کہ حبشہ کی طرف پہلی ہجرت مکمل ہو چکی تھی۔
مذکورہ بالا دلائل کی روشنی میں ہمارے نزدیک وہی قول راجح ہے جس کو علامہ ابن حجر علیہ الرحمۃ وغیرہ محققین کی تائید حاصل ہے۔
علامہ ابن حجر علیہ الرحمۃ نے “فتح الباری” میں “مناقب حضرت عمر رضی اللہ عنہ “کے باب میں تحریر کیا ہے۔
“رَوَى اِبْنُ اَبِيۡ خَیْثَمَةَ عَنْ عُمَرَ لَقَدْ رَاَيْتُنِيۡ وَمَا اَسْلَمَ مَعَ رَسُوۡلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِلَّا تِسْعَةٌ وَّثَلَاثُوۡنَ وَكَمَّلْتُھُمۡ اَرْبَعِيۡنَ”
ترجمہ: حضرت ابن ابی خثیمہ رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ میں نے دیکھا کہ حضورﷺکے ساتھ صرف انتالیس آدمی اسلام لا چکے تھے۔ اور میں نے ایمان لا کر چالیس کا عدد مکمل کیا۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے سے مسلمانوں کی تعداد چالیس ہو گئی تو حضرت جبرائیل امین علیہ السلام یہ آیت لے کر نازل ہوئے۔
“قَالَ فِيۡهِ فَنَزَلَ جِبْرَئِيۡلُ عَلَیۡہِ السَّلَامُ وَقَالَ:”
ترجمہ:حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے کے بعد حضرت جبرائیل امین علیہ السلام یہ آیت لے کر نازل ہوئے ۔
یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ حَسۡبُکَ اللّٰہُ وَ مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿64﴾
ترجمہ:اے نبئ (معّظمﷺ)! آپﷺ کے لئے اللہ کافی ہے اور وہ مسلمان جنہوں نے آپﷺ کی پیروی اختیار کر لی۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲