Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 157جسد اطہرﷺ کی جمال آرائیاں: حصہ سوم)


ام معبد: سفر ہجرت در پیش ہے حضورﷺ مکہ سے سکونت ترک کر کے یثرب کے بخت خفتہ کو جگانے کے لئے اور اس غیر معروف بستی کو شہرت و بقائے دوام بخشنے کے لئے صحرائی علاقہ کو عبور کر رہے ہیں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور آپ ﷺکے غلام حضرت عامر بن فہیرہ کو ہمرکابی کا شرف حاصل ہے۔ ایک بدو عورت کے خیمہ کے پاس سے گزر ہوا۔ جس کا نام ام معبد ہے ان اجنبی راہروؤں نے اس عورت کو کہا۔ اگر تمہارے پاس کچھ دودھ یا گوشت ہو تو وہ اسے ہم قیمتًا خریدنے کے لئے تیار ہیں۔ ام معبد نے کہا اگر میرے پاس کھانے کی کوئی چیز ہوتی تو میں بصد مسرت تمہاری میزبانی کی سعادت حاصل کرتی ہمیں تو قحط سالی نے دانے دانے کا محتاج بنا دیا ہے۔ حضور ﷺ نے اس کے خیمہ کے ایک گوشہ میں ایک بکری دیکھی حضورﷺ نے پوچھا اے ام معبد ! یہ بکری کیسی ہے ؟ اس نے کہا ضعف اور کمزوری کی وجہ سے چلنے سے قاصر ہے اس لئے ریوڑ کے ساتھ چرنے کے لئے نہیں جا سکی اور یہیں کھڑی رہ گئی ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا اجازت دو تو ہم اس کا دودھ دوہ لیں۔ ام معبد نے کہا اگر اس میں کچھ دودھ ہے تو بصد شوق دوہ لیجئے بکری کو حضورﷺ کے پاس لایا گیا حضور ﷺ نے اس کے تھنوں پر ہاتھ پھیرا۔ اور اللہ تعالیٰ کا نام لے کر اس کو دوھنا شروع کیا اس خشک کھیری والی بکری سے اتنا دودھ نکلا کہ سب نے خوب سیر ہو کر پیا حضور ﷺنے دوبارہ اسے دوہا تو ام معبد کے گھر کے سارے برتن لبا لب بھر گئے جب اس کا خاوند دن بھر کے کام کاج سے فارغ ہو کر شام کو واپس آیا تو خیمہ میں ہر برتن دودھ سے بھرا ہوا دیکھ کر حیران و ششدر ہو کر رہ گیا پوچھنے لگا۔ اے ام معبد ! یہ دودھ کی نہر کہاں سے نکلی؟ گھر میں تو کوئی شِیر دار جانور نہ تھا۔ ام معبد نے کہا۔ نہیں بخدا نہیں ۔ لیکن ایک با برکت ہستی یہاں سے گزری ہے یہ سب اس کا فیضان ہے۔ پھر اس نے سارا واقعہ اپنے خاوند کو کہہ سنایا۔ خاوند نے کہا اس با برکت ہستی کا حلیہ بیان کرو اللہ کی قسم! مجھے تو یہ وہی شخص معلوم ہوتا ہے جس کی تلاش اور تعاقب میں قریش چار سو اپنے گھوڑے سرپٹ دوڑا رہے ہیں اس وقت ام معبد نے اس پیکرِ نورانیﷺ کی جو دلکش تصویر کشی کی آپ بھی اس کا مطالعہ فرمائیے اور لطف اٹھائیے۔ “فَقَالَتۡ” ترجمہ:ام معبد کہنے لگی۔

“رَاَيْتُ رَجُلًا ظَاهِرَ الۡوَضَآءَةِ حَسَنَ الْخَلْقِ ، مَلِيۡحَ الْوَجْهِ، لَمْ تُعِبۡهُ ثَجۡلَةٌ وَّلَمْ تَزَرۡ بِهٖ صَعۡلَةٌ، قَسِيۡمٌ وَسِيۡمٌ فِيۡ عَيْنَيْهِ دَعْجٌ وَفِيۡ اَشْفَارِهٖ وَطَفٌ، وَفِيۡ صَوْتِهٖ صَهۡلٌ، اَحۡوَلُ، اَکۡحَلُ، اَزَجُّ ، اَقۡرَنُ، فِيۡ عُنُقِهٖ سَطۡحٌ”
ترجمہ: میں نے ایک ایسا مرد دیکھا جس کا حسن نمایاں تھا۔ جس کی ساخت بڑی خوبصورت اور چہرہ ملیح تھا۔نہ رنگت کی زیادہ سفیدی اس کو معیوب بنا رہی تھی اور نہ گردن اور سر کا پتلا ہونا اس میں نقص پیدا کر رہا تھا۔بڑا حسین، بہت خوبرو۔ آنکھیں سیاہ اور بڑی تھیں پلکیں لابنی تھیں۔اس کی آواز گونج دار تھی۔سیاه چشم ، سرمگین،دونوں ابرو باریک اور ملے ہوئے۔ گردن چمکدار تھی۔

“وَ فِيۡ لِحۡيَتِهٖ كَثَافَةٌ، اِذَا صَمَتَ فَعَلَيْهِ الْوَقَارُ، وَاِذَا تَكَلَّمَ سَمَاہُ وَ عَلَاهُ الْبَهَاءُ، حُلُوَّ الْمَنْطِقِ، فَصۡلاً لَا نَزَرَ وَلَا هَزَرَ، كَاَنَّ مَنْطِقَهٗ خَرَزَاتُ نُظۡمٍ يَتَحَدَّرۡنَ”
ترجمہ:ریش مبارک گھنی تھی۔جب وہ خاموش ہوتے تو پر وقار ہوتے۔جب گفتگو فرماتے تو چہرہ پر نور اور بارونق ہوتا۔شیریں گفتار۔گفتگو واضح ہوتی نہ بے فائدہ ہوتی نہ بیہودہ ۔گفتگو گویا موتیوں کی لڑی ہے جس سے موتی جھڑ رہے ہوتے۔

“اَبۡھَی النَّاسِ وَ اَجْمَلُهُمۡ مِنۡ بَعِيۡدٍ، وَ اَحْلَاهُمْ وَاَحْسَنُهُمْ مِنْ قَرِيۡبٍ رَبۡعَةٌ لَا تَشْنُوۡهُ عَيْنٌ مِنْ طُوۡلٍ، لَا تَقْتَحِمُهٗ عَيْنٌ مِنْ قَصْرٍ، غُصْنٌ بَيْنَ غُصْنَيْنِ فَهُوَ اَنۡضَرُ الثَّلَاثَةِ مَنْظَرًا وَ اَحْسَنُهُمْ قَدًا لَهٗ رُفَقَآءُ يَحْفُوۡنَ بِهٖ، وَ اِنۡ قَالَ اِسْتَمِعُوۡا لِقَوْلِہٖ”
ترجمہ:دور سے دیکھنے پر سب سے زیادہ با رعب اور جمیل نظر آتے۔ اور قریب سے سب سے زیادہ شیریں اور حسین دکھائی دیتے۔ قد درمیانہ تھا۔ نہ اتنا طویل کہ آنکھوں کو برا لگے۔ نہ اتنا پست کہ آنکھیں حقیر سمجھنے لگیں۔آپ دو شاخوں کے درمیان ایک شاخ کی مانند تھے جو سب سے سر سبز و شاداب اور قد آور ہو۔ان کے ایسے ساتھی تھے جو ان کے گرد حلقہ بنائے ہوئے تھے۔ اگر آپ انہیں کچھ کہتے تو فورا اس کی تعمیل کرتے۔

“وَ اِنْ اَمَرَ تَبَادَرُوۡا اِلٰى اَمۡرِہٖ، مَحۡفُوۡدٌ ، مَحۡشُوۡدٌ ، لَا عَابِسٌ وَّلَا مُفَنَّدٌ”
ترجمہ: اگر آپ انہیں حکم دیتے تو وہ فوراً اس کو بجا لاتے۔ سب کے مخدوم، سب کے محترم ۔نہ وہ ترش رو تھے نہ ان کے فرمان کی مخالفت کی جاتی تھی۔
(خاتم النبیین، امام محمد ابو زہرہ، جلد اول، صفحہ268)

نبی کریم ﷺ کے خدا داد حسن و جمال کے بارے میں دو چار یا دس بیس کی یہ رائے نہ تھی بلکہ ہر وہ شخص جس کو قدرت نے ذوق سلیم کی نعمت سے نوازا ہوتا وہ حسن مصطفویﷺ کی دلربائیوں سے اسی طرح مسحور ہو جایا کرتا اور ہر ایک کی زبان سے بے ساخۃ یہی نکلتا۔

ز فرق تا بقدم ہر کجا کہ می نگرم
نظاره دامن دل می کشد کہ جا اینجا است
ترجمہ: یعنی سر مبارک سے لے کر قدم ناز تک جہاں بھی نگاہ پڑتی ہے ہر عضو کا بانکپن یہی کہتا ہے کہ صرف مجھے ہی دیکھتے رہو اور صرف میری رعنائیوں میں ہی کھوئے رہو۔

اس مرقع دلبری اور زیبائی کو جو دیکھتا سو جان سے اس پر قربان ہونے لگتا دوست، دشمن، اپنے اور بیگانے میں کوئی امتیاز باقی نہ رہتا۔ جسمانی خوبصورتی کے علاوہ قلبی طہارت، روحانی پاکیزگی کے باعث رخ انورﷺ پر انوار و تجلیات کی ہمہ وقت بارش برستی رہتی تھی اس نورانیت سے متاثر ہو کر ام معبد کی زبان سے بیساخۃ نکلا تھا۔

وَضَّاءُ الْجَبِيۡنِ مُتَلَالَئُ بِالنُّوۡرِ
مِنْ غَيْرِ اِسْتِكْبَارٍ وَ لَا اِسْتِعْلَاءِ
جبین سعادت چمک رہی ہے۔ چہرہ نور سے دمک رہا ہے۔ بایں ہمہ نہ غرور ہے اور نہ نخوت۔
جمال مصطفویﷺ وہ پیکر حسن تھا جس میں کمال کشش کے ساتھ ہیبت و وقار کی حسین آمیزش تھی۔ نہ فرط جلال سے آنکھیں اُٹھ سکتی تھیں نہ کشش جمال کے باعث دل کو یارائے صبر و قرار تھا اسے دیکھ کر کہنا پڑتا تھا۔ “تَبَارَكَ اللهُ اَحْسَنُ الْخَالِقِيۡنَ”

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top