(سب سے پہلے ایمان لانے والے، حصہ :چہارم)
《سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی وساطت سے ایمان لانے والے: حصہ اول》
سیدنا حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور اشاعت اسلام: اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو گونا گوں خصائل حمیدہ سے متصف فرمایا تھا۔ نسبی لحاظ سے آپ رضی اللہ عنہ کا خاندان قومِ قریش میں بڑا معزز شمار ہوتا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ بڑے کامیاب تاجر تھے کاروبار میں راست بازی، لین دین میں دیانتداری آپ رضی اللہ عنہ کا طرہ امتیاز تھا، غریبوں کی امداد، یتیموں اور بیواؤں کی سر پرستی آپ رضی اللہ عنہ کا معمول تھا زمانہ جہالت کی آلودگیوں سے آپ رضی اللہ عنہ کا دامن پاک تھا آپ رضی اللہ عنہ نے کبھی کسی بت کو سجدہ نہیں کیا۔
“وَ فِي السِّيۡرَةِ الْحَلْبِيَةِ اَنَّ اَبَا بَكْرِ لَمْ يَسْجُدۡ لِصَنَمٍ قَطُّ”
ترجمہ: سیرت حلبیہ میں ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کبھی کسی بت کو سجدہ نہیں کیا۔
(السيرة النبویہ، احمد بن زینی دحلان، جلد 1، صفحہ 179)
اخلاق باختگی کے اس دور میں مے خواری، قمار بازی سے آپ رضی اللہ عنہ ہمیشہ دور رہے۔ دولتمند ہونے کے باوجود غرور اور تکبر کی آپ رضی اللہ عنہ کو ہوا تک نہ لگی تھی بات کے سچے، وعدہ کے پکے ، بڑے خوش اخلاق، بلند کردار عالی ظرف، تحمل و بردباری کے پیکر الغرض ان صفات جمیلہ کے باعث تمام اہل مکہ دل سے ان کا احترام کرتے تھے معاشرہ کے ہر طبقہ میں ان کی عزت کی جاتی۔ آپ رضی اللہ عنہ کے پاس آنے جانے والوں کا تانتا بندھا رہتا ہر شخص سے آپ رضی اللہ عنہ عزت سے پیش آتے اور ہر ممکن طریقہ سے اس کی دلجوئی کرتے۔ ان خداداد خوبیوں کے باعث آپ رضی اللہ عنہ کے احباب کا ایک وسیع حلقہ معرض وجود میں آ گیا تھا جو مکہ کے چیدہ چیدہ افراد پر مشتمل تھا ان لوگوں کو آپ رضی اللہ عنہ پر مکمل اعتماد تھا۔ ہر اہم کام میں مشورہ کے لئے وہ لوگ آپ رضی اللہ عنہ کی طرف رجوع کرتے اور آپ رضی اللہ عنہ کی صائب رائے سے مستفید ہوتے۔
اللہ تعالی ٰنے جب آپ رضی اللہ عنہ کو شرف ایمان سے مشرف فرمایا اور آپ رضی اللہ عنہ کا دل نور ہدایت سے منور ہو گیا تو آپ رضی اللہ عنہ کی طبع فیاض نے گوارا نہ کیا کہ لوگ اندھیروں میں بھٹکتے رہیں آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے دوستوں کے حلقہ میں تبلیغ اسلام کا کام شروع کر دیا جن پر آپ رضی اللہ عنہ کو اعتماد تھا چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ کی کوششیں بار آور ہونے لگیں اور بڑی بڑی عظیم شخصیتیں دین اسلام کو قبول کر کے امت مسلمہ میں شامل ہونے لگیں وہ سعادت مند روحیں جو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی مساعی جمیلہ سے مشرف بہ اسلام ہوئیں ان میں سے چند کے اسماء گرامی درج ذیل ہیں۔
ان حضرات نے اسلام کی تاریخ میں جو کارہائے نمایاں انجام دیئے وہ اظہر من الشمس ہیں۔ ملت کا بچہ بچہ ان سے واقف ہے۔ ان کے نام پڑھ کر آپ بآسانی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا ایمان لانا اسلام کے لئے کتنا یمن و برکت کا باعث بنا۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲