Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 189دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوار، حصہ: انیسواں}

{دعوت اسلام کا تیسرا دور : حصہ اول}


کھلی اور عام دعوت: یہ دعوت اسلامیہ کا تیسرا مرحلہ تھا اس کا دائرہ رشتہ داروں سے بڑھا کر سب انسانوں تک بڑھا دیا گیا تھا جب کفار مکہ نے دیکھا کہ اب نبی کریم ﷺ نے بر ملا اپنے دین کی تبلیغ کا کام شروع کر دیا ہے آہستہ آہستہ مختلف قبائل کی اہم شخصیتیں اس نئی دعوت سے متاثر ہو رہی ہیں اور اس کو قبول کر رہی ہیں تو انہوں نے سوچا کہ اگر نئی تحریک کو روکنے کے لئے انہوں نے کوئی مؤثر اور بر وقت قدم نہ اٹھایا تو سارا معاشرہ ایک ہمہ گیر انقلاب کی زد میں آ جائے گا۔ ان کے معبودوں کے تخت اوندھے کر دیئے جائیں گے ان کی پوجا پاٹ کے لئے ان کے استھانوں پر دور و نزدیک سے آنے والے پجاریوں کی نہ یہ ریل پیل رہے گی نہ نذرانوں کے انبار لگیں گے، ان کی مذہبی چودہراہٹ کا بھی جنازہ نکل جائے گا چنانچہ انہوں نے اسلام اور نبی اسلام ﷺ کے خلاف راست اقدام کا فیصلہ کر لیا لیکن کوئی قدم اٹھانے سے پہلے انہوں نے مناسب سمجھا کہ آپﷺ کے چچا حضرت ابو طالب سے بات کریں اور ان کے ذریعہ حضور ﷺکو اس نئی دعوت سے دست بردار ہونے کی ترغیب دلائیں چنانچہ ایک روز رؤساء قریش کا ایک نمائندہ وفد جو مندرجہ ذیل اکابر قوم پر مشتمل تھا۔ حضرت ابو طالب کے پاس گیا۔ وفد کے ارکان کے نام یہ ہیں۔
عتبہ ، شیبہ ، پسران ربیعہ ، ابو سفیان بن حرب بن امیہ ، ابو البختری، العاص بن ہشام ، الاسود بن مطلب ، ابو جہل ، ولید بن مغیرہ ، نبیہ ، منبہ پسرانِ حجاج بن عامر ، اور عاص بن وائل۔
(السيرة النبویہ ابن ہشام، جلد اول، صفحہ276 – 277)

انہوں نے بڑی احتیاط سے سلسلہ کلام کا آغاز کیا۔ کہنے لگے اے ابو طالب ! آپ کا بھتیجا ہمارے خداؤں کو برا بھلا کہتا ہے۔ اور ہمارے مذہب کے عیب نکالتا ہے۔ ہمیں بے وقوف اور ہمارے آباؤ اجداد کو گمراہ کہتا ہے یا تو آپ اسے روک لیں یا درمیان سے ہٹ جائیں ہم خود اسے روک لیں گے۔ حضرت ابو طالب نے ان کو بڑی نرمی سے جواب دیا اور بڑی خوبصورتی سے انہیں ٹال دیا۔ وہ لوگ مطمئن ہو کر واپس آ گئے۔

لیکن سرکار دو عالمﷺ حسب سابق تبلیغ دین میں مصروف رہے اور اپنے حسن بیان اور زور استدلال سے اللہ کے دین کو سر بلند کرنے کے لئے کوشش فرماتے رہے اسلام کی روز افزوں ترقی کے باعث کفار کے ساتھ تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہوتی گئی۔ قریش کے سردار حضورﷺ سے بہت دور چلے گئے ان کے دلوں میں سرکار دو عالمﷺ کی عداوت کے شعلے تیز تر ہونے لگے۔ اب ہر وقت اور ہر جگہ حضور ﷺکے خلاف باتیں ہونے لگیں اور منصوبے بنائے جانے لگے وہ ایک دوسرے کو نبی رحمتﷺ کے خلاف ابھارنے اور اسلام کے خلاف سخت اقدامات کرنے کے لئے بھڑکانے لگے۔
(السيرة النبویہ، ابن کثیر، جلد اول، صفحہ473، سیرت ابن ہشام، جلد اول، صفحہ276)

انہوں نے طے کیا کہ ایک بار پھر ہمیں حضرت ابو طالب کے ذریعہ کوشش کرنی چاہے چنانچہ مکہ کے معزز شہریوں کا ایک وفد دوبارہ آپ کے پاس گیا اور پہلے سے زیادہ درشت اور فیصلہ کن لہجہ میں گفتگو کی، کہنے لگے۔
اے ابو طالب! عمر، عز و شرف اور قدر و منزلت کے اعتبار سے ساری قوم میں آپ کو ممتاز مقام حاصل ہے ۔ ہم پہلے حاضر ہوئے تھے اور ہم نے درخواست کی تھی کہ آپ اپنے بھتیجے کو ان باتوں سے باز آنے کا حکم دیں لیکن آپ نے انہیں نہیں روکا بخدا ! اب ہمارا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا ہے ہمیں مزید یارائے صبر نہیں رہا۔ وہ ہمارے آباؤ اجداد کو برا بھلا کہتا ہے ہمیں احمق اور بیوقوف بتاتا ہے۔ ہمارے خداؤوں کی عیب جوئی کرتا ہے یا تو آپ انہیں ان باتوں سے روک لیں۔ ورنہ ہم تم دونوں کے خلاف اعلان جنگ کر دیں گے اور یہ جنگ جاری رہے گی جب تک ہم میں سے ایک فریق فنا نہ ہو جائے۔ ان کے انداز تکلم سے پتہ چلتا تھا کہ وہ گفتگو کے ذریعہ معاملات سدھارنے نہیں آئے تھے بلکہ کھلا چیلنج دینے کے لئے آئے تھے ان الفاظ میں دھمکی تھی اور حضرت ابو طالب کا کوئی جواب سنے بغیر وہاں سے اٹھ کر چل دیئے ۔

حضرت ابو طالب کو اس دھمکی سے بڑا دکھ ہوا اس پیرانہ سالی میں وہ ساری قوم سے دشمنی مول لینا نہیں چاہتے تھے لیکن وہ اس بات پر بھی تیار نہ تھے کہ حضورﷺ کی نصرت و اعانت سے دست کش ہو جائیں اور حضورﷺ کو کفار کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں۔ حضرت ابو طالب نے آدمی بھیج کر حضورﷺ کو اپنے پاس بلایا اور اس گفتگو سے آگاہ کیا جو ان کے درمیان اور اس وفد کے درمیان ہوئی تھی۔ واپس جانے سے پہلے انہوں نے جو دھمکی دی تھی اس کے بارے میں بھی بتایا۔ پھر کہا۔
“فَابْقِ عَلَىَّ وَعَلٰى نَفْسِكَ وَلَا تَحْمِلْنِيْ مِنَ الْاَمْرِ مَا لَا اَطِيْقُ”
ترجمہ: اے جان عم ! مجھ پر بھی رحم کرو اور اپنے آپ پر بھی۔ مجھ پر ایسا بوجھ نہ ڈالو جس کو اٹھانے کی مجھ میں ہمت نہیں۔
(السيرة النبویہ ابن ہشام، جلد اول، صفحہ278)

اپنے چچا کی یہ باتیں سن کر نبی کریمﷺ کو یہ خیال گزرا کہ شائد حضرت ابو طالب آپ ﷺکی مدد اور تعاون سے دست کش ہونے والے ہیں اب ان میں سکت نہیں رہی کہ مزید حضور ﷺکے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہو سکیں سرکار دو عالمﷺ نے بڑے اطمینان و سکون سے جواب دیا۔
:يَا عَمُّ! وَاللَّهِ لَوْ وَضَعُوا الشَّمْسَ فِيْ يَمِيْنِيْ وَالْقَمَرَ فِيْ يَسَارِيْ عَلٰى اَنْ اَتْرُكَ هٰذَا الْاَمْرَ حَتّٰى يُظْهِرَهُ اللہُ اَوْ اَهْلَكَ فِيْهِ مَا تَرَكْتُهٗ”
ترجمہ:اے میرے چچا! اگر وہ سورج کو میرے دائیں ہاتھ میں رکھ دیں اور چاند کو میرے بائیں ہاتھ میں اور یہ توقع کریں کہ میں دعوت حق کو ترک کر دوں گا تو یہ نا ممکن ہے یا تو اللہ تعالیٰ اس دین کو غلبہ دے دے گا یا میں اس کے لئے جان دے دوں گا۔ اس وقت تک میں اس کام کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں۔
(السيرة النبویہ ابن کثیر، جلد اول، صفحہ 474)

حضورﷺ نے زبان مبارک سے یہ جملہ فرمایا اور چشمان مبارک سے آنسو ٹپک پڑے ۔ اور حضورﷺ وہاں سے اُٹھ کر واپس چل دیئے۔ چچا نے آواز دے کر بلایا اور کہا واپس تشریف لائیے۔ حضورﷺ واپس تشریف لے آئے چچا نے کہا۔
“اِذْهَبْ يَا ابْنَ اَخِيْ وَقُلْ مَا اَحْبَبْتَ فَوَاللَّهِ لَا اُسَلِّمُكَ لِشَيْئٍ اَبَدًا”
ترجمہ: اے میرے بھتیجے! آپﷺ کا جو جی چاہے کہیے میں آپﷺ کو کسی قیمت پر کفر کے حوالے نہیں کروں گا۔
(سيرة النبویہ ابن ہشام، جلد اول، صفحہ278)

اور چند شعر کہے جن میں سے ایک یہ ہے۔
وَاللَّهِ لَنْ يَصِلُوْا اِلَيْكَ بِجَمْعِهِمْ
حَتّٰى اُوَسَّدَ فِي التُّرَابِ دَفِيْنَا
بخدا یہ سارے مل کر بھی آپﷺ تک نہیں پہنچ سکتے جب تک مجھے مٹی میں دفن نہ کر دیا جائے۔

اہل مکہ کو جب یہ پتہ چلا کہ ہماری یہ کوشش بھی بے سود اور ہماری دھمکی بھی بے اثر ثابت ہوئی ہے کہ حضر ت ابو طالب نے اپنے بھتیجے کی امداد سے نہ ہاتھ اٹھایا اور نہ اسے ہمارے حوالے کرنے پر آمادہ ہوا ہے بلکہ پہلے سے بھی زیادہ اس کی پشت پناہی کا اسے یقین دلایا ہے تو انہوں نے ایک اور چال چلی یہ سارا وفد تیسری بار پھر حضرت ابو طالب کے پاس حاضر ہوا اور اپنے ساتھ ولید بن مغیرہ کا جواں سال خوبرو اور تند و توانا بیٹا عمارہ بھی ساتھ لے گئے اور جا کر بڑے ادب سے گزارش کی کہ اے ابو طالب! ہم آپ کے ساتھ ایک سودا کرنے کے لئے آئے ہیں۔ مکہ کے سردار ولید بن مغیرہ کا یہ خوبصورت اور جواں بیٹا تم دیکھ رہے ہو۔ اس کا عنفوان شباب، اس کا حسن و جمال ، اس کی قوت اور توانائی سارے مکہ میں ضرب المثل ہے۔ یہ ہم آپ کو دیتے ہیں۔ اس کو فرزندی میں لے لیجئے آج کے بعد یہ تمہارا بیٹا۔ اور تم اس کے باپ ۔ اگر اسے قتل کر دیا جائے تو اس کی ساری دیت آپ کو ملے گی ۔ ہر میدان، ہر معرکہ میں یہ آپ کا دست و بازو ہو گا۔ ہمارا اس سے اب کوئی سروکار نہیں اس کے بدلے میں اپنے بھتیجےﷺ کو ہمارے حوالے کر دو۔ جو آپ کے اور آپ کے بزرگوں کے دین کا دشمن ہے جس نے آپ کی قوم کی وحدت کو پارہ پارہ کر دیا ہے ہمیں احمق اور بے وقوف کہتا ہے۔ ہم اس کا قصہ تمام کر دیں گے۔ اس طرح آپ کا بھی نقصان نہ ہو گا اور ہم سب ایک بہت بڑی مصیبت سے بچ جائیں گے۔ جب وہ اپنا فلسفہ بگھار چکے تو آپ نے جواب دیا۔
“وَاللَّهِ لَبِئْسَ مَا تَسُوْمُوْنَنِيْ اَتُعْطُوْنِيْ اِبْنَكُمْ اَغْذُوْهُ لَكُمْ وَ اُعْطِيْكُمْ اِبْنِيْ تَقْتُلُوْنَهٗ هٰذَا وَاللَّهِ مَا لَا يَكُوْنُ اَبَدًا”
ترجمہ: بخدا! تم میرے ساتھ بہت برا سودا کر رہے ہو۔ مجھے تو اپنا بیٹا دے رہے ہو کہ میں اس کی خاطر و مدارات کروں اور اس کی پرورش کروں اور اس کے بدلے میں میرا بیٹا لینا چاہتے ہو تا کہ تم اس کو قتل کر دو بخدا ایسا ہر گز نہ ہو گا۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top