{دعوت اسلام کا تیسرا دور : حصہ دہم}
(پیکر حسن و جمالﷺ پر کفار کا ہولناک ظلم و تشدد : حصہ اول)
ان پُر آشوب حالات میں بغض و عناد کی ان تند آندھیوں میں بھی اللہ تعالیٰ کا محبوب ﷺاپنے رب کریم کی توحید کی دعوت کو عام کرنے کے لئے سرگرم عمل ہے ہر گھر میں یہ پیغام پہنچا رہے ہیں۔ ہر مجمع میں اس کا اعلان فرما رہے ہیں۔ ہر خلوت میں اس کا ذکر ہے۔ مکہ کے ہر کوچہ و بازار میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا چرچا کر رہے ہیں۔ یہ ساری کوششیں ایک نقطہ پر مرکوز ہیں کہ جزیرہ عرب کے گوشہ گوشہ میں آپﷺ کے خالق قدیر کی یکتائی کا ڈنکا بجنے لگے انسانوں کی پیشانیاں معبودان باطل کے آستانوں کو چھوڑ کر صرف اور صرف اس حَیٌّ وَ قَیُّوۡمٌ کی بارگاہ بے کس پناہ میں سجدہ ریز ہوں جو ساری کائنات کا سچا اور حقیقی خالق اور مالک ہے۔ ہر شخص جس سے ملاقات ہوتی ہے آزاد ہو یا غلام، کمزور ہو یا توانا، غریب ہو یا امیر، مرد ہو یا عورت سب کو یہی درس دیا جا رہا ہے ۔
“لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ” اس کے علاوہ دنیا کی کسی چیز سے کوئی سرو کار نہیں کفار و مشرکین اذیت رسانی میں کوئی کسر نہیں اٹھا رہے لیکن ہر جور و ستم حضورﷺ کے ذوق بندگی اور شوق محبت کو کم کرنے کے بجائے فزوں سے فزوں تر کرتا چلا جاتا ہے۔ اس اذیت رسانی میں حضورﷺ کا چچا ابو لہب اور اس کی بیوی ام جمیل، جس کا نام اروی بنت حرب بن امیہ ہے اور جو حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی بہن ہے سب سے پیش پیش ہے۔
امام احمد بن حنبل علیہ الرحمۃ حضرت ربیعہ بن عباد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا۔ میں نے ذو المجاز کے میلہ میں رسول اللہﷺ کو دیکھا حضورﷺ فرما رہے تھے۔
“يٰٓاَیُّهَا النَّاسُ قُوۡلُوۡا لَا اِلٰهَ اِلَّا اللَّهُ تُفْلِحُوۡا”
ترجمہ: اے لوگو! کہو کوئی عبادت کے لائق نہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے یہ کہو گے تو دونوں جہانوں میں سرخرو ہو جاؤ گے۔
حضورﷺ وعظ فرما رہے ہیں لوگوں کا جمگھٹا ہے آپﷺ کے پیچھے ایک شخص لگا ہوا ہے۔ جس کی آنکھیں بھینگی اور چہرہ چمکدار ہے بالوں کی دو لٹیں اس کے گلے میں نکلی ہوئی ہیں وہ بلند آواز سے چیخ رہا ہے ۔
“اِنَّهٗ صَابِيٌ كَاذِبٌ يَتْبَعُهٗ حَيْثُ ذَهَبَ”
ترجمہ: یہ شخص بے دین ہے کاذب ہے حضورﷺ جدھر جاتے ہیں وہ آپﷺ کے پیچھے جاتا ہے۔
میں نے لوگوں سے پوچھا یہ کون ہے انہوں نے بتایا کہ یہ ان کا چچا ہے اور اس کا نام ابو لہب ہے۔
(سیرت ابن کثیر، جلد اول، صفحہ362)
امام بیہقی علیہ الرحمۃ حضرت ربیعہ الدئلی سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں میں نے رسول ﷺ کو ذی المجاز کی منڈی میں دیکھا حضور ﷺ لوگوں کے گھروں میں جا جا کر ان کو اللہ تعالیٰ کی توحید کی دعوت دیتے تھے۔ حضور ﷺکے پیچھے پیچھے ایک شخص تھا جس کی آنکھیں بھینگی تھیں جس کے رخسار چمک رہے تھے وہ یہ اعلان کرتا پھرتا تھا۔
“يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ لَا يَغُرَّنَّكُمْ هٰذَا عَنْ دِيۡنِكُمْ وَدِيۡنِ اٰبَآءِ كُمْ”
ترجمہ: اے لوگو یہ شخص تمہیں تمہارے دین سے اور تمہارے باپ دادا کے دین سے گمراہ نہ کر دے۔
میں نے لوگوں سے پوچھا یہ اعلان کرنے والا کون ہے؟ انہوں نے بتایا یہ ابو لہب ہے۔ بنی کنانہ قبیلہ کا ایک آدمی روایت کرتا ہے کہ ذی المجاز کی منڈی میں میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا حضورﷺ فرما رہے تھے۔
“يٰٓاَیُّهَا النَّاسُ قُوۡلُوۡا لَا اِلٰهَ اِلَّا اللَّهُ تُفْلِحُوۡا” ترجمہ: اے لوگو! کہو لا الہ الا اللہ فلاح پا جاؤ گے۔
میں نے دیکھا کہ ایک آدمی حضور ﷺکے پیچھے پیچھے ہے اور آپ ﷺپر مٹی ڈال رہا ہے پس میں نے غور کیا تو وہ ابو لہب تھا اور وہ کہ رہا تھا اے لوگو یہ شخص تمہیں تمہارے دین سے گمراہ نہ کر دے، اس کی مرضی یہ ہے کہ تم لات و عزٰی کی پرستش کو چھوڑ دو۔ ابو لہب کی طرح اس کی بیوی ام جمیل اروی بنت حرب بھی حضور ﷺکی عداوت میں اندھی ہو چکی تھی۔ جب یہ سورت (تَبَّتۡ يَدَا اَبِیۡ لَهَبٍ) نازل ہوئی تو اس کا وہ جذبہ عناد سہ آتشہ ہو گیا اس کے ہاتھ میں ایک لمبوترہ سا پتھر تھا۔ وہ حضورﷺ کی تلاش میں حرم شریف میں آئی ۔ اس وقت حضور نبی کریم ﷺ کے ساتھ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بھی حاضر تھے انہوں نے جب اس ظالم عورت کو حضورﷺ کی طرف آتے دیکھا تو عرض کی یا رسول اللہﷺ ! یہ بڑی بد زبان عورت ہے فحش کلامی اس کی فطرت ہے بہتر ہے حضورﷺ یہاں سے تشریف لے جائیں ایسا نہ ہو کہ وہ حضورﷺ کو اپنی بد کلامی اور ہرزہ سرائی سے اذیت پہنچائے حضورﷺ نے فرمایا ابو بکر فکر نہ کرو۔ وہ مجھے نہیں دیکھ سکے گی جب وہ قریب پہنچی تو کہنے لگیں۔ اے ابو بکر ! تیرے دوست نے میری ہجو کی ہے انہیں کیا ہو گیا ہے کہ میرے بارے میں شعر کہنے شروع کر دئے ہیں آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا بخدا ! آپﷺ تو شعر نہیں کہا کرتے دوسری روایت میں ہے آپ رضی اللہ عنہ نے کہا اس گھر کے رب کی قسم ! انہوں نے تیری ہجو نہیں کی ہے اور نہ وہ شاعر ہیں وہ کہنے لگی آپ رضی اللہ عنہ میرے نزدیک سچے ہیں۔ اور یہ کہتے ہوئے وہاں سے واپس چلی گئی کہ سارے قریش جانتے ہیں کہ میں ان کے سردار عبد مناف کی بیٹی ہوں ۔ اور جس کا باپ عبد مناف ہو۔ کسی کو زیب نہیں دیتا کہ اس کی مذمت کی جسارت کرے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہﷺ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے حضورﷺ کو دیکھا ہی نہیں صرف میرے ساتھ ہی باتیں کرتی رہی ہے حضورﷺ نے فرمایا جب تک وہ کھڑی رہی ایک فرشتہ اپنے دونوں پروں سے مجھ پر پردہ کئے رہا۔ حضورﷺ نے حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ کو کہا آپ رضی اللہ عنہ اس سے پوچھیں کہ تمہیں میرے پاس کوئی اور شخص بھی نظر آ رہا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے جب اس سے پوچھا تو کہنے لگی تم میرے ساتھ مذاق کرتے ہو بخدا مجھے تو تمہارے پاس اور کوئی شخص دکھائی نہیں دیتا۔
دوسری روایت میں ہے کہ وہ اس وقت آئی جب نبی کریم ﷺ مسجد میں تھے اور حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما حضورﷺ کی خدمت میں حاضر تھے اس کے ہاتھ میں ایک لمبوترہ پتھر تھا جب وہ حضورﷺ کے قریب کھڑی ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے اس کی بینائی سلب کر لی وہ حضورﷺ کو نہیں دیکھ رہی تھی لیکن ان دو صاحبان کو دیکھ رہی تھی چنانچہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر اس نے پوچھا کہ تمہارے صاحب کہاں ہیں آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا تم انہیں کیا کہنا چاہتی ہو؟ وہ کہنے لگی مجھے اطلاع ملی کہ انہوں نے میری ہجو کی ہے اگر میں ان کو پا لوں تو اس پتھر سے اس کے منہ پر ضرب لگاؤں گی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بیوقوف عورت ! آپﷺ شاعر تو نہیں پھر اس نے کہا اے خطاب کے بیٹے ! میں تجھ سے بات نہیں کر رہی کیونکہ وہ آپ رضی اللہ عنہ کی سخت مزاجی سے واقف تھی اور پھر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگی کہ ان ستاروں کی قسم ! تمہارا دوست شاعر ہے اور میں بھی شاعرہ ہوں جس طرح اس نے میری ہجو کی میں بھی اس کی ہجو میں شعر کہوں گی اور یہ کہہ کر واپس چلی گئی۔ حضورﷺ سے عرض کی گئی یا رسول اللہﷺ شائد اس نے آپﷺ کو دیکھا ہی نہیں حضورﷺ نے فرمایا وہ مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتی میرے درمیان اور اس کے درمیان اللہ تعالیٰ نے ایک حجاب تان دیا ہے۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲