Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 175دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوار ~ حصہ: پنجم}

(سب سے پہلے ایمان لانے والے: حصہ~ پنجم)
《سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی وساطت سے ایمان لانے والے: حصہ دوم》


امیر المؤمنین عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ: آپ رضی اللہ عنہ خلفاء راشدین میں سے خلیفہ ثالث ہیں۔ پہلے حبشہ کی طرف ہجرت کی وہاں سے ہجرت کر کے مدینہ طیبہ آئے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں مندرجہ ذیل ممالک فتح ہوئے۔ قبرص، اصطخر، خوز، فارس کا آخری حصہ ، طبرستان، دارا بجرد، کرمان ، سجستان، سابور وغیرہ ۔
(السيرة النبویہ ، احمد بن زینی دحلان، جلد 1، صفحہ 187)

حضور ﷺ نے اپنی دو صاحب زادیاں یکے بعد دیگرے آپ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں دیں اسی لئے ذو النورین کے لقب سے مشہور ہوئے۔ اسلام کی ترقی اور مسلمانوں کی خوشحالی کے لئے آپ رضی اللہ عنہ نے بڑی فیاضی سے اپنی دولت لٹائی آپ رضی اللہ عنہ بڑے کامیاب تاجر تھے آپ رضی اللہ عنہ کا چہرہ بڑا خوبصورت ، جلد ریشم کی طرح نرم ، گھنی داڑھی، گندم گوں رنگ تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کو ذی الحجہ کی اٹھارہ تاریخ بروز جمعہ باغیوں نے شہید کر دیا۔ اس وقت آپ رضی اللہ عنہ کی عمر مبارک بیاسی سال تھی آپ رضی اللہ عنہ کی شہادت 35ھ میں ہوئی ۔ آپ رضی اللہ عنہ ان دس خوش نصیبوں سے تھے جن کو حضور ﷺ نے جنت کی خوشخبری دی تھی جنہیں عشرہ مبشرہ کہا جاتا ہے۔
( محمد رسول الله ، شیخ محمد رضا، صفحہ77)

حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ: آپ رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کی پھوپھی حضرت صفیہ بنت عبد المطلب کے فرزند تھے ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے تھے بارہ سال یا پندرہ سال کی عمر میں ایمان لائے آپ رضی اللہ عنہ کے چچا کو جب آپ رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے کا علم ہوا تو غصہ سے بے قابو ہو گئے۔ انہوں نے عزم کیا کہ وہ انہیں مجبور کر دیں گے کہ وہ نئے دین کو چھوڑ کر پھر اپنے آبائی دین کی طرف لوٹ آئیں۔ چنانچہ وہ آپ رضی اللہ عنہ کو چٹائی میں لپیٹتے اور رسی سے باندھ دیتے پھر نیچے سے دھواں دیتے یہاں تک کہ ان کا دم گھٹنے لگتا پھر کہتے اس عذاب سے بچنا چاہتے ہو تو محمد (فداہ ابی و امی ) کا انکار کر دو۔ نو خیز حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اپنی گرجدار آواز میں جواب دیتے: “لَا وَاللهِ لَا اَعُوۡدُ لِلْكُفْرِ اَبَدًا” ترجمہ:ہر گز نہیں بخدا میں کسی قیمت پر کفر کی طرف نہیں لوٹوں گا۔

آپ رضی اللہ عنہ کی شجاعت و سخاوت کے واقعات تاریخ اسلام کا روشن باب ہیں جن کا ایمان افروز تذکرہ اپنے اپنے مقام پر آئے گا۔ آپ رضی اللہ عنہ کا نسب قصی بن کلاب میں حضورﷺ کے ساتھ مل جاتا ہے۔ اس چھ رکنی شوریٰ کمیٹی کے آپ رضی اللہ عنہ بھی ایک رکن تھے جسے حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے اپنے بعد خلیفہ منتخب کرنے کے لئے مقرر کیا تھا۔ پہلے حبشہ پھر مدینہ طیبہ ہجرت کی۔ امت مسلمہ میں سب سے پہلے جہاد کے لئے تلوار کو بے نیام کرنے کا شرف انہیں نصیب ہوا عہد رسالتﷺ کے تمام غزوات میں شرکت کی عہد خلافت راشدہ میں فتح یرموک اور فتح مصر میں حصہ لیا آپ رضی اللہ عنہ کی عمر سرسٹھ سال تھی۔
(محمد رسول الله از محمد رضا، صفحہ78)

حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ: یہ ان دس میں سے ایک ہیں جن کو حضور پر نور ﷺنے جنت کی بشارت دی یہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی مقرر کردہ چھ رکنی شوریٰ کمیٹی کے ایک رکن بھی تھے آپ رضی اللہ عنہ نے بھی پہلے حبشہ پھر مدینہ طیبہ ہجرت کی۔ حضورﷺ کی معیت میں تمام معرکوں میں شریک ہوئے۔ احد کی جنگ میں انہیں اکیس زخم آئے اور اگلے دو دانت شہید ہو گئے ۔کامیاب تاجر، بڑے دولت مند اور بڑے سخی تھے۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں پانی کی طرح روپیہ بہایا کرتے تھے سفید سرخ رنگت، خوبرو سیاہ چشم ، لمبی پلکیں ، اونچی بینی، ہتھیلی پر گوشت، انگلیاں بھاری تھیں۔ آخر عمر تک بال کالے تھے۔ بہتر سال کی عمر میں 33ھ میں وفات پائی اور جنت البقیع میں مدفن نصیب ہوا۔
(محمد رسول الله از محمد رضا، صفحہ78)

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ: آپ رضی اللہ عنہ نے انیس سال کی عمر میں اسلام قبول کیا آپ رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں اور اس چھ رکنی کمیٹی کے ممبر بھی تھے، جو تقرر خلیفہ کے لئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مقرر کی تھی آپ رضی اللہ عنہ اسلام کے پہلے تیر انداز ہیں۔ جنہوں نے اللہ کی راہ میں تیر چلائے اور دشمن کا خون بہایا حضور ﷺسے پہلے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کی آپ رضی اللہ عنہ کا لقب ” فارس الاسلام ” ہے۔ یعنی اسلام کا شہسوار ۔ تمام معرکوں میں شرکت کی ۔ احد کی جنگ میں مردانگی اور شجاعت کے جوہر دکھائے آپ رضی اللہ عنہ مستجاب الدعوات تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ اس لشکر اسلام کے سپہ سالار تھے جس نے شہنشاہ ایران کو شکست دی۔ مدائن جو کسریٰ کا پایہ تخت تھا اس پر اسلام کا پرچم لہرایا۔ 55ھ میں وفات پائی اور جنت البقیع میں مدفون ہوئے آپ رضی اللہ عنہ کا رنگ گندمی، قد لمبا، سر بڑا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے کا واقعہ بڑا حیرت انگیز ہے آپ رضی اللہ عنہ کی ماں کو جب پتہ چلا کہ آپ رضی اللہ عنہ اسلام لے آئے ہیں تو وہ آگ بگولہ ہو گئی۔ ان کے لئے یہ بات نا قابل برداشت تھی کہ ان کے جگر کا ٹکڑا، ان کی آنکھوں کا نور ان کے معبودوں لات و ہبل کے خلاف علم بغاوت بلند کرے۔ چنانچہ اس نے تہیہ کر لیا کہ جب تک حضرت سعد رضی اللہ عنہ اس نئے دین کو چھوڑ کر اپنے آبائی مذہب کی طرف نہیں لوٹیں گے نہ وہ کھائے گی نہ پیئے گی اور نہ سایہ میں بیٹھے گی۔ اسی طرح بھوکی پیاسی عرب کی چلچلاتی دھوپ میں تڑپ تڑپ کر جان دے دے گی۔ انہیں یہ یقین تھا کہ ان کا بیٹا حضرت سعد رضی اللہ عنہ ان کی اس تکلیف کو ہرگز برداشت نہیں کر سکے گا اور فورا ان کی مرضی کے مطابق اس نئے مذہب کو ترک کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔

“اِنَّهَا مَكَثَتْ يَوْمًا وَلَيْلَةً لَا تَاْكُلُ وَلَا تَشْرَبُ فَأَصْبَحَتْ وَقَدْ خَمِدَتْ ثُمَّ مَكَثَتْ يَوْمًا وَلَيْلَةً لَا تَاْكُلُ وَلَا تَشْرَبُ قَالَ سَعْدٌ فَلَمَّا رَاَيْتُ ذٰلِكَ قُلْتُ لَهَا تَعْلَمِيۡنَ وَاللَّهِ يَا اُمَّاہُ لَوْ كَانَ لَكِ مِائَةُ نَفْسِ تَخْرُجُ نَفْسًا نَفْسًا مَا تَرَكْتُ دِيۡنَ مُحَمَّدٍ ﷺفَكُلِىۡ اِنْ شِئْتِ اَوۡ لَا تَاْكُلِىۡ فَلَمَّا رَاَتۡ ذٰلِكَ اَكَلَتْ”
ترجمہ: چنانچہ ایک دن انہوں نے نہ کچھ کھایا اور نہ کچھ پیا۔ جب صبح اٹھی تو ضعف و نقاہت کے آثار ان کے چہرہ سے عیاں تھے۔ دوسرے روز پھر انہوں نے نہ کچھ کھایا اور نہ کچھ پیا۔ کمزوری میں مزید اضافہ ہو گیا۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں نے اپنی ماں کی یہ ضد دیکھی تو میں نے کہا اے ماں ! بخدا تم جانتی ہو کہ اگر تیری سو جانیں بھی ہوں ۔ اور وہ ایک ایک کر کے نکلتی جائیں تو پھر بھی میں دین مصطفیٰ ﷺ کو نہیں چھوڑوں گا۔ اب تمہاری مرضی کھانا کھاؤ یا نہ کھاؤ ۔ پانی پیو یا نہ پیو۔ جب انہوں نے میرا یہ پختہ عزم دیکھا تو انہوں نے خود بخود کھانا شروع کر دیا۔
(السيرة النبویہ ، احمد بن زینی دحلان، جلد 1، صفحہ 188)

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top