(حقیقت نبوت)
اگرچہ نبوت و رسالت کی حقیقت کو سمجھنا ہمارے بس کی بات نہیں اس کی ماہیت کو کما حقہ وہی نفوس قدسیہ سمجھ سکتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اس منصب رفیع پر فائز فرمایا ہے۔ لیکن حجۃ الاسلام امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے مفہوم کو ہمارے اذہان کے قریب تر کرنے کی سعی مشکور کی ہے اس کے مطالعہ سے مقام نبوت سے کچھ نہ کچھ تعارف ضرور ہو جاتا ہے۔ اتنا تعارف بھی ایک عام قاری کے لئے از بس مفید ہے۔ حجۃ الاسلام کی تصنیف لطیف “اَلْمُنْقِذُ مِنَ الضَّلَالِ” در حقیقت ان کی اپنی آپ بیتی ہے جس میں انہوں نے اپنے سیر روحانی کی کیفیات قلم بند کی ہیں۔ اس کے ضمن میں ” ضرورت نبوت“ کے عنوان پر بحث کرتے ہوئے اپنے قارئین کو حقیقت نبوت سے بھی حتی الامکان روشناس کرانے کی کوشش فرمائی ہے۔ ان کی عبارت کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ان گنت اور بے شمار جہانوں سے وہ بالکل بے خبر ہوتا ہے اس میں سب سے پہلے لمس یعنی چھونے کی حس پیدا کی جاتی ہے۔ اس حس کی تخلیق سے موجودات کے متعدد انواع و اقسام اس پر بے حجاب ہو جاتے ہیں۔ وہ حرارت اور ٹھنڈک، خشکی اور تری ، ملائم اور درشت امور کا ادراک کرنے لگتا ہے۔ لیکن رنگ و روپ اور نغمہ و صوت کی دنیا سے وہ محض بے خبر ہوتا ہے اس کے نزدیک گویا ان اشیاء کا کوئی وجود ہی نہیں۔ پھر اس کو بینائی عطا کی جاتی ہے۔ جس سے وہ رنگوں ، شکلوں اور صورتوں کے عالم سے آگاہ ہونے لگتا ہے اس سے اس کی دنیا پہلے سے وسیع تر ہو جاتی ہے۔ لیکن آواز اور کسی شے کے شیریں اور تلخ ہونے کا اسے کچھ پتہ نہیں ہوتا گویا صوت و آہنگ اور شیریں و تلخ کا جہاں اس کے لئے ابھی کتم عدم سے منصہ شہود پر آیا ہی نہیں بعد ازاں اسے ذوق کی نعمت سے نوازا جاتا ہے ۔ اب وہ میٹھے کڑوے، پھیکے اور ترش وغیرہ اشیاء کو بھی پہچاننے لگتا ہے اس طرح وہ قدم بقدم آگے بڑھتا رہتا ہے جب اس کی عمر سات سال کے قریب ہوتی ہے تو اسے قوت تمیز سے بہرہ ور کر دیا جاتا ہے جس سے پہلے وہ بے بہرہ تھا جب اس میں قوت تمیز کی آنکھ کھلتی ہے تو اسے ایک انوکھی حالت سے دوچار کر دیا جاتا ہے جو پہلے اسے میسر نہ تھی۔ صلاحیتوں کی نشو و نما میں اس کی پیش رفت جاری رہتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ اس منزل تک پہنچ جاتا ہے جب عقل کی قوت اس میں تخلیق کی جاتی ہے اس قوت سے وہ واجبات، فرائض ممکنات اور مستحبات وغیرہ امور پر آگاہی حاصل کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔
امام غزالی علیہ الرحمۃ آگےفرماتے ہیں۔ اس عقل و فہم کی حالت سے ما وراء ایک اور حالت ہے جس میں انسان کی وہ آنکھ کھلتی ہے جس سے وہ امور غیبیہ کو اور جو کچھ آئندہ مستقبل میں وقوع پذیر ہونے والا ہے اس کو دیکھنے لگتا ہے یعنی وہ امور کہ جن کو سمجھنے سے عقل عاجز تھی جس طرح قوت تمیز عقل کی مدرکات کے فہم سے عاجز تھی بعینہ جس طرح حواس ظاہری مدرکات تمیز پا لینے سے بے بہرہ اور بے بس تھے۔ اس مفصل بحث کا خلاصہ حجۃ الاسلام امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ اس طرح بیان فرماتے ہیں۔
“فَكَمَا اَنَّ الْعَقْلَ طُوْرٌ مِّنْ اَطْوَارِ الْاٰدَمِيَّ يَحْصُلُ فِيْهِ عَيْنٌ يُبْصِرُ بِهَا اَنْوَاعًا مِنَ الْمَعْقُوْلَاتِ وَالْحَوَاسُ مَعْزُوْلَۃٌ عَنْهَا فَالنُّبُوَّةُ اَیْضًا عِبَارَةٌ عَنْ طُوْرٍ يَحْصُلُ فِيْهِ عَيْنٌ لَهَا نُوْرٌ يُظْهَرُ فِيْ نُوْرِهَا الْغَيْبُ وَ اُمُوْرٌ لَا يُدْرِكُهَا الْعَقْلُ”
ترجمہ: جس طرح عقل انسان کی ایک مخصوص حالت کا نام ہے جس سے انسان کو وہ آنکھ ملتی ہے جس سے وہ معقولات کے مختلف انواع کو دیکھنے لگتا ہے جن کے ادراک سے حواس بے بہرہ ہوتے ہیں پس نبوت بھی اسی طرح ایک مخصوص حالت کا نام ہے جس میں نبی کو وہ آنکھ ارزانی ہوتی ہے۔ جو روشن اور بینا ہوتی ہے جس کے انوار کی روشنی میں غیب اور وہ امور نظر آنے لگتے ہیں جو عقل کی رسائی سے بالا تر ہیں۔
(المنقذ من الضلال صفحہ 131 – 132 طبع دكتور عبد الحلیم محمود)
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲