Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 207دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوار، حصہ: سنتیسواں}

{دعوت اسلام کا تیسرا دور : حصہ انیسواں}
(صحابہ کرام پر ظلم و ستم کی روح فرسا داستانیں :حصہ پنجم)
(النہدیہ اور ان کی بیٹی اور لطیفہ رضی اللہ عنہا)


حضرت النہدیہ اور ان کی بیٹی رضی اللہ عنہما: یہ دونوں ولید بن مغیرہ کی لونڈیاں تھیں۔ انہیں بھی اللہ تعالیٰ نے نعمت ایمان سے مالا مال کر دیا تھا پھر یہ ایک عورت کی ملکیت میں چلی گئیں جب یہ ایمان لے آئی تو یہ بے رحم مالکہ ان کو طرح طرح سے اذیتیں پہنچاتی اور کہتی کہ میں کبھی بھی تمہیں ستانے اور اذیت دینے سے باز نہیں آؤں گی یا جس نے تجھ کو بے دین کیا وہ تمہیں خرید کر آزاد کر دے۔ ایک دن وہ ماں بیٹی اپنی مالکہ کا آٹا پیسنے کے لئے جا رہی تھیں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں خریدا اور اسی وقت آزاد کر دیا اس نے جو قیمت مانگی وہی اس کو دے دی اور انہیں کہا اب تم دونوں آزاد ہو۔ اور جو آٹا پیسنے کے لئے جا رہی تھیں اس کے بارے میں فرمایا وہ اس کو واپس کر دو۔ لیکن انہوں نے عرض کی ہم چاہتی ہیں کہ آٹا پیس کر ہم اس کے حوالے کریں آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔
“ذَا كَمَا اِنْ شِئْتُمَا” ترجمہ:یہ تمہاری مرضی۔

حضرت لطیفہ رضی اللہ عنہا: یہ عامر بن فہیرہ کی بہن تھی۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی لونڈی تھی۔ ان کی ایک اور لونڈی بھی تھی جو مسلمان ہو گئی تھی اسلام لانے سے پہلے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دل میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بغض و عناد کے جو دریا موجزن تھے۔ اس کی وجہ سے ان بیچاری لونڈیوں کو وہ خوب پیٹتے تھے انہیں کوئی چھڑانے والا بھی نہ تھا۔ اتنا پیٹتے کہ تھک جاتے۔ اور سستانے کے لئے رکنا پڑتا انہیں کہتے کہ میں ذرا دم لے لوں پھر تمہاری خبر لیتا ہوں ۔ اس بہیمانہ زد و کوب کا سلسلہ دیر تک جاری رہتا۔
ایک روز جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان پر مشق ستم کر رہے تھے اور مار مار کر تھک گئے تو اس لونڈی نے کہا اے عمر! اگر تم مسلمان نہ ہوئے تو میرا رب تمہیں بھی ایسے ہی عذاب میں مبتلا کرے گا۔
(السيرة الحلبیہ، امام محمد ابو زہرہ، جلد اول، صفحہ 286)

الہیٰ ! کیا شان ہے تیرے نام کی ، کن ناقابل تسخیر قوتوں کا مخزن ہے تیری ذات پر ایمان ، کیا عظمتیں ہیں تیرے محبوب ﷺکے طوق غلامی کی جن کو یہ سرمدی نعمتیں تو ارزانی فرماتا ہے، وہ ذرے ہوں تو رشک آفتاب بن جاتے ہیں، وہ قطرے ہوں تو سمندر کی بیکرانیوں کے امین بن جاتے ہیں، وہ غلام ہوں تو دنیا کے کج کلاہ ان کے باج گزار بن جاتے ہیں۔ اس لطیفہ کو بھی حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے خریدا۔ اور خرید کر اللہ کی راہ میں آزاد کر دیا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے والد حضرت ابو قحافہ رضی اللہ عنہ ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ انہوں نے جب دیکھا کہ نحیف و نزار غلاموں اور لونڈیوں کو ان کا بیٹا حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ خریدتا ہے اور آزاد کر دیتا ہے تو انہوں نے از راه خیر خواہی اپنے بیٹے کو نصیحت کی۔
“يَا بُنَيَّ اَرَاكَ تُعْتِقُ رِقَابًا ضِعَافًا فَلَوْ اَنَّكَ فَعَلْتَ فَاَعْتَقْتَ رِجَالًا جَلْدَآءَ يَمْنَعُوۡنَكَ وَيَقُوۡمُوۡنَ دُوۡنَكَ”
ترجمہ:اے میرے بیٹے! میں دیکھ رہا ہوں کہ تم ایسے غلاموں کو آزاد کرتے ہو جو ضعیف اور کمزور ہیں اگر تمہیں غلاموں کو آزاد کرنے کا شوق ہے تو جواں اور طاقتور غلاموں کو آزاد کیا کرو۔ جو مشکل میں تمہارے دست و بازو بنیں اور دشمن کے مقابلہ میں وہ تمہارے لئے سینہ سپر ہوں۔
(سبل الہدی والرشاد، جلد اول، صفحہ 483)

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا۔
:يٰٓاَبَتِ اِنَّمَا اُرِيۡدُ مَا اُرِيۡدُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ”
ترجمہ: کہ میں تو یہ جو کچھ کر رہا ہوں محض اپنے بزرگ برتر رب کی رضا کے لئے کر رہا ہوں۔
اللہ تعالیٰ نے باپ اور بیٹے کی گفتگو سنی اور یہ پیغام دے کر حضرت جبرائیل امین علیہ السلام کو اپنے محبوب رؤف رحیم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کا حکم دیا۔
فَاَمَّا مَنۡ اَعۡطٰی وَ اتَّقٰی ۙ﴿5﴾ وَ صَدَّقَ بِالۡحُسۡنٰی ۙ﴿6﴾ فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلۡیُسۡرٰی ؕ﴿7﴾
ترجمہ:پس جس نے (اپنا مال اللہ کی راہ میں) دیا اور پرہیزگاری اختیار کی۔ اور اس نے (اِنفاق و تقوٰی کے ذریعے) اچھائی (یعنی دینِ حق اور آخرت) کی تصدیق کی۔تو ہم عنقریب اسے آسانی (یعنی رضائے الٰہی) کے لئے سہولت فراہم کر دیں گے۔
(سورۃ الیل،آیۃ: 5-7 )

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top