{دعوت اسلام کا تیسرا دور : حصہ ششم}
(حضورﷺ کو اپنا ہم نوا بنانے کے لیے دیگر مساعی : حصہ چہارم آخری حصہ)
ایسا کریں ایک سال آپ ہمارے خداؤں لات و عزیٰ وغیرہ کی ہمارے ساتھ مل کر پرستش کریں اور ایک سال ہم سب آپ کے ساتھ مل کر آپ کے خدائے واحد کی عبادت کریں گے اور اس کا فلسفہ انہوں نے یہ بتایا کہ ایک تو یہ کہ ہماری آپس کی بے اتفاقی اور جنگ و جدال ختم ہو جائے گا دوسرا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یا ہم حق پر ہیں اور جن معبودوں کی عبادت کرتے ہیں وہی سچے خدا ہیں تو ایک سال جب آپ ہمارے ساتھ مل کر ان کی پوجا کریں گے تو ان کی برکتوں سے آپ بھی مالا مال ہو جائیں گے۔ اور اگر ہمارے معبود باطل ہیں اور آپ جس خداوند قدوس کی عبادت کرتے ہیں وہی سچا خدا ہے تو جب ہم ایک سال آپ کے ساتھ مل کر اس کی عبادت کریں گے تو اس کی مہربانی اور نوازشات سے ہماری جھولیاں بھر جائیں گی۔ ہم بھی اس طرح محروم نہیں رہیں گے۔ ان کا یہ شیطانی فلسفہ سن کر رحمت دو عالم ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہاری اس تجویز کا جواب اپنے رب سے پوچھ کر دوں گا مجھے اس کی وحی کا انتظار ہے چنانچہ حضرت جبرائیل امین علیہ السلام یہ سورت لے کر نازل ہوئے۔
قُلۡ یٰۤاَیُّہَا الۡکٰفِرُوۡنَ ۙ﴿1﴾ لَاۤ اَعۡبُدُ مَا تَعۡبُدُوۡنَ ۙ﴿2﴾ وَ لَاۤ اَنۡتُمۡ عٰبِدُوۡنَ مَاۤ اَعۡبُدُ ۚ﴿3﴾ وَ لَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدۡتُّمۡ ۙ﴿4﴾ وَ لَاۤ اَنۡتُمۡ عٰبِدُوۡنَ مَاۤ اَعۡبُدُ ؕ﴿5﴾ لَکُمۡ دِیۡنُکُمۡ وَلِیَ دِیۡنِ﴿6﴾
(سورة الكافرون،آیۃ1-6 )
ترجمہ: آپ فرما دیجئے: اے کافرو! میں ان کی عبادت نہیں کرتا جنہیں تم پوجتے ہو۔ اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔ اور نہ (ہی) میں (آئندہ کبھی) ان کی عبادت کرنے والا ہوں جن کی تم پرستش کرتے ہو۔اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔ (سو) تمہارا دین تمہارے لئے اور میرا دین میرے لئے ہے۔
چنانچہ اس مہم سے بھی کفار کو خائب و خاسر لوٹنا پڑا۔ آگے بڑھنے سے پہلے یہاں ایک بات غور طلب ہے کہ حضور ﷺ کی بعثت کا مقصد یہی تھا کہ انہیں کفر و شرک کی ظلمتوں سے نکال کر توحید کی جگمگاتی ہوئی شاہراہ پر گامزن کر دیا جائے۔ اس کے لئے جو تجاویز انہوں نے پیش کی تھیں ان کو عملی جامہ پہنانا اگرچہ کسی انسان کے بس کی بات تو نہیں لیکن اللہ تعالیٰ جس نے اپنے ایک کلمہ کن سے اس عالم رنگ و بو کو تخلیق فرمایا ۔ اس کے سامنے کوئی مشکل نہ تھا کہ وہ ان پہاڑوں کو پرے دھکیل دیتا یا ان کا نام و نشان ہی مٹا دیتا اور مکہ کی وہ تنگ وادی وسیع اور فراخ ہو جاتی ۔ جس نے ننھے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ایڑی سے زمزم کا چشمہ جاری کر دیا اس کے لئے یہ امر ہرگز مشکل نہ تھا کہ وہ ایک دو دریا جاری کر دیتا۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اگر مردوں کو زندہ کیا تھا تو اللہ تعالیٰ اپنے محبوب کریمﷺ کی نبوت کے بارے میں ان لوگوں کے جملہ شکوک دور کرنے کے لئے اگر قُصی اور دیگر چند بزرگوں کو زندہ کر دیتا تو ساری مشکلیں دور ہو جاتیں۔
اس میں کیا حکمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کی ان تجاویز کو مسترد کر دیا۔ علماء کرام نے اس کی متعدد حکمتیں بیان کی ہیں۔ ایک حکمت تو یہ ہے کہ ان کے یہ سوالات اس لئے نہ تھے کہ وہ ہدایت قبول کریں گے۔ گمراہی کو چھوڑ کر صراط مستقیم پر گامزن ہو جائیں بلکہ انہوں نے از راہ عناد ان امور کے بارے میں اصرار کیا تھا۔ اگر ان کی نیت ہدایت پذیری کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ضرور ان پر نظر رحمت فرماتا لیکن قدرت معاندین اور بد نہاد لوگوں کی ناز برداری نہیں کیا کرتی۔
دوسری حکمت یہ بیان کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ اگر ان کے یہ سارے مطالبات پورے بھی کر دیئے گئے تو پھر بھی وہ اپنے کفر پر اڑے رہیں گے اور اس دعوت کو قبول نہیں کریں گے تو ایسے لوگوں کے بارے میں ان معجزات کے ظہور کا کوئی فائدہ نہ تھا چنانچہ الله تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔
وَ لَوۡ اَنَّنَا نَزَّلۡنَاۤ اِلَیۡہِمُ الۡمَلٰٓئِکَۃَ وَ کَلَّمَہُمُ الۡمَوۡتٰی وَ حَشَرۡنَا عَلَیۡہِمۡ کُلَّ شَیۡءٍ قُبُلًا مَّا کَانُوۡا لِیُؤۡمِنُوۡۤا اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ اللّٰہُ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَہُمۡ یَجۡہَلُوۡنَ ﴿111﴾
(سورۃ الانعام،آیۃ :111 )
ترجمہ: اور اگر ہم ان کی طرف فرشتے اتار دیتے اور ان سے مُردے باتیں کرنے لگتے اور ہم ان پر ہر چیز (آنکھوں کے سامنے) گروہ در گروہ جمع کر دیتے وہ تب بھی ایمان نہ لاتے سوائے اس کے جو اللہ چاہتا اور ان میں سے اکثر لوگ جہالت سے کام لیتے ہیں۔
علامہ سہیلی علیہ الرحمۃ نے اس کی یہ حکمت بیان کی ہے فرماتے ہیں کہ کفار اللہ تعالیٰ کی حکمتوں سے بے خبر تھے اس لئے وہ اس قسم کی بے سرو پا فرمائشیں کیا کرتے تھے اگر انہیں ان حکمتوں کا علم ہوتا تو کبھی وہ اس قسم کی باتیں کرنے کی جسارت نہ کرتے نبی پر ایمان وہ معتبر ہے جو اس کی بات کو سچا مان کر قبول کیا جائے۔ اور یہی انسان کی آزمائش ہے جو شخص نبی کے اقوال کو تو تسلیم نہیں کرتا لیکن اس کی فرمائش کے مطابق اگر کوئی معجزہ دکھایا جائے اور اسے وہ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرلے تو پھر وہ تسلیم کرے تو ایسا ایمان بارگاہ الہٰی میں مقبول نہیں ہوتا۔ انہیں چاہئے تھا کہ وہ نبی جس کی زندگی کا بہت بڑا حصہ ان کے درمیان گزرا ہے اور اس کے دامن عصمت پر کوئی معمولی سا داغ بھی کہیں نظر نہیں آتا اس کی زبان سے نکلی ہوئی دعوت کو وہ بے چون و چرا تسلیم کر لیتے ۔ نبی کے ارشاد پر تو ایمان لانے کے لئے وہ تیار نہیں لیکن اپنے ذاتی مشاہدات کو وہ حق کے پہچاننے کا معیار قرار دیتے ہیں ایسا ایمان اللہ تعالیٰ کی جناب میں منظور نہیں۔ نیز حضور ﷺنے اس سے پہلے بھی تو بے شمار معجزات دکھائے تھے اگر ان میں ایمان لانے کی صلاحیت ہوتی تو ان معجزات کے مشاہدے کے بعد ذرا تامل نہ کرتے اور فوراً اس دعوت کو قبول کر لیتے پہلے معجزات سے انہوں نے فائدہ نہیں اٹھایا تو ان عقل کے اندھوں سے کیا توقع ہو سکتی ہے کہ اگر ان کی یہ فرمائشیں پوری کر دی جائیں تو وہ ایمان لے آئیں گے کوئی اور عذر لنگ پیش کر کے باطل سے چمٹے نہیں رہیں گے۔
(سبل الہدیٰ، جلد دوم، صفحہ 451)
اور اس کی سب سے بڑی حکمت یہ ہے کہ جب بھی کسی قوم نے اس قسم کا معجزہ طلب کیا اور ان کے مطالبہ پر وہ معجزہ دکھایا گیا اور پھر بھی وہ ایمان نہ لائے اور کفر پر اڑے رہے ۔ تو اس وقت ان پر عذاب الہٰی نازل ہوا اور ان کو تہس نہس کر کے رکھ دیا گیا۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔
“قَالَ سَاَلَ اَهْلُ مَكَّةَ رَسُوۡلَ اللَّهِ ﷺ اَنْ یَّجْعَلَ لَهُمُ الصَّفَا ذَهَبًا وَاَنْ يَنْحٰى عَنْهُمُ الۡجِبَالَ فَيَزْرَعُوۡنَ فَاَتَاهُ جِبْرَئِيۡلُ وَقَالَ اِنَّ رَبَّكَ يَقْرَاُ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَيَقُوۡلُ لَكَ اِنْ شِئْتَ اَصْبَحَ الصَّفَا لَهُمْ ذَهَبًا وَمَنْ كَفَرَ مِنْهُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ عَذَّبْتُهٗ عَذَابًا لَا اُعَذِّبُهٗ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِيۡنَ وَاِنْ شِئْتَ فَتَحْتُ لَهُمْ بَابَ التَّوْبَةِ وَالرَّحْمَةِ قَالَ اَيْ بَابُ الرَّحْمَةِ رَوَى الۡاِمَامُ اَحْمَدُ وَالنِّسَائِيُّ وَالْحَاكِمُ وَالْبَيْضَاءُ فِيۡ صَحِيۡحِهٖ”
ترجمہ: امام احمد، نسائی ، حاکم اور بیضاء رحمۃ اللہ علیہم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا آپ نے کہا اہل مکہ نے اللہ کے پیارے رسولﷺ سے یہ مطالبہ کیا کہ صفا کی پہاڑی کو سونا بنا دیا جائے اور پہاڑوں کو دور ہٹا دیا جائے تاکہ کھلے میدانوں میں وہ زراعت کر سکیں حضرت جبرائیل امین علیہ السلام بارگاہ رسالتﷺ میں حاضر ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ ﷺ! آپﷺ کا پرور دگار آپﷺ کو سلام فرماتا ہے اور آپﷺ کو یہ پیغام دیتا ہے کہ اگر آپ ﷺچاہیں تو صفا کی پہاڑی سونا بن جائے۔ اگر اس کے بعد ان میں سے کسی نے کفر کیا تو ان کو ہم ایسے المناک عذاب میں مبتلاء کریں گے جس میں آج تک کسی کو مبتلاء نہ کیا گیا ہو گا۔ اور اگر آپﷺ کی مرضی ہو تو ہم ان کے لئے توبہ اور رحمت کا دروازہ کھلا رکھیں۔ حضورﷺ نے اپنے کریم و رحیم خدا کی بارگاہ میں عرض کی کہ اے میرے پروردگار ! تیرے اس بندے کی مرضی یہ ہے کہ تو ان کے لئے رحمت کا دروازہ کھلا رکھے۔
(سبل الہدیٰ، جلد دوم، صفحہ 458، السيرة النبویہ ، لابن کثیر، جلد اول، صفحہ 482)
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲