(حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے عقد نکاح :حصہ دوم آخری حصہ)
سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے حضورﷺ کے نکاح کا واقعہ معتبر کتب سیرت و تاریخ کے حوالہ سے ہم بیان کر چکے ہیں وہاں یہ وضاحت سے بتا دیا گیا ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے چچا عمرو بن اسد نے ان کی طرف سے وکالت کا فریضہ انجام دیا۔ کیونکہ ان کے والد خویلد ، حرب فجار سے بھی پہلے وفات پا چکے تھے۔ لیکن ابن اسحاق رحمۃ اللہ علیہ کے حوالہ سے ایک روایت بیان کی جاتی ہے کہ وہ زندہ تھے۔ نکاح کی تقریب سے پہلے انہیں شراب پلا دی گئی۔ وہ مدہوش ہو گئے اس حالت میں ان سے نکاح کی اجازت لی گئی نکاح کے بعد انہیں نیا لباس پہنایا گیا اور کستوری لگائی گئی۔ جب انہیں ہوش آیا تو پوچھا۔
“مَا هٰذَا الْعَقِيْرُ وَمَا هٰذَا الْعَبِيْرُ وَمَا هٰذَا الْخَبِيْرُ، قَالَتْ زَوَّجْتَنِيْ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ ﷺ قَالَ مَا فَعَلْتُ اَنّٰى اَفْعَلُ قَدْ خَطَبَكِ اَكَابِرُ قُرَيْشٍ فَلَمْ اَفْعَلْ”
ترجمہ:یہ شور و غوغا کیسا ہے؟ یہ خوشبو کس نے لگائی ہے یہ زرق برق لباس مجھے کس نے پہنایا ہے؟ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا آپ نے میری شادی حضرت محمد بن عبداللہﷺ کے ساتھ کر دی ہے۔ اس خوشی میں یہ سب کچھ ہے۔ خویلد کہنے لگے میں نے نہیں کی اور میں کر بھی کیسے سکتا ہوں جب کہ بڑے بڑے اکابر قریش کی درخواست کو میں نے مسترد کر دیا ہے۔
امام ابن جریر طبری علیہ الرحمۃ یہ روایت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں۔
“قَالَ الْوَاقِدِىُ هٰذَا غَلَطٌ” ترجمہ: امام واقدی علیہ الرحمۃ نے کہا ہے کہ یہ روایت غلط ہے۔
جو روایت صحیح سند سے مروی ہے وہ یہ ہے کہ نکاح عمرو بن اسد نے پڑھایا اور خویلد (والد ) تو حرب فجار سے کئی سال پہلے فوت ہو چکے تھے۔ اس صحیح روایت کی امام طبری علیہ الرحمۃ نے متعدد صحیح سندیں تحریر کی ہیں۔
1) بواسطہ محمد بن جبیر بن مطعم۔
2) بواسطہ ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا۔
3) بواسطہ ابن عباس رضوان اللہ علیہم۔
یہی مروی ہے۔
“اِنَّ عَمَّهَا عَمْرَو بْنَ اَسَدٍ زَوَّجَهَا رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمَ وَاَبَاهَا مَاتَ قَبْلَ حَرْبِ الْفِجَارِ”
ترجمہ:حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے چچا عمرو بن اسد نے ان کا نکاح اللہ کے رسولﷺکے ساتھ کیا حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے والد حرب فجار سے پہلے ہی وفات پاچکے تھے۔
(تاریخ طبری، جلد اول جز ثانی ، صفحہ197)
اس صحیح روایت کے علاوہ درایت بھی ابن اسحاق علیہ الرحمۃ کی اس روایت کی تصدیق نہیں کرتی۔ حضورﷺکی ذات والا صفات ظاہری حسن و جمال نیز اپنے معنوی محامد و کمالات کے باعث سارے اہل مکہ کی آنکھوں کا تارا بنی ہوئی تھی۔ جس گلی سے گزر جاتے دیدہ و دل ان کے قدموں میں از خود بچھتے چلے جاتے۔ ان کی امانت و صداقت کی صفات سے اپنے اور بیگانے اتنے متاثر تھے کہ سب آپﷺ کو الامین اور الصادق کے لقب سے پکارا کرتے۔ کسی بڑے سے بڑے رئیس کو بھی اگر حضورﷺ اپنے داماد ہونے کے شرف سے مشرف فرماتے تو وہ اس کو اپنے لئے بہت بڑا اعزاز تصور کرتا۔ خویلد اگر زندہ ہوتے تو وہ خوشی سے پھولے نہ سماتے۔نیز یہ تقریب نکاح لوگوں کی نظروں سے چھپ کر کسی کنج تنہائی میں انعقاد پذیر نہیں ہوئی تھی۔ یہ تو ایک محفل عام تھی بنو ہاشم کے سردار عبد المطلب کے سارے فرزند اور حضورﷺ کے سارے چچا اس میں شریک تھے ان کے علاوہ خاندان قریش کے سارے قابل ذکر افراد مدعو تھے ان کی غیرت یہ کب گوارا کر سکتی تھی کہ ایک ایسی بیوہ سے اپنے عدیم المثال بھتیجے کا عقد کریں جس کا باپ رضا مند نہ ہو۔ اور پھر اس کے لئے ایک ایسی نازیبا حرکت کریں جو اس جاہلی معاشرہ میں بھی بنظر استحسان نہ دیکھی جاتی تھی۔ خود حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا جیسی عفت مآب اور عصمت شعار خاتون جو اس فسق و فجور کے دور میں “الطاہرہ ” کے لقب سے مشہور تھی۔ اپنے لئے اس طرز عمل کو کیونکر پسند کر سکتی تھی۔دوسرے لوگوں کے لئے یہ خیال کر بھی لیا جائے کہ کسی منفعت کے پیش نظر انہوں نے بفرض محال اس قباحت کو گوارا کر لیا۔ تو حضور پاکباز ﷺ کے کردار کی رفعت، خلق کی پاکیزگی اور طینت کی ارجمندی کے لئے یہ صورت حال کیونکر قابل قبول ہو سکتی تھی۔ اس لئے ہم شرح صدر سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ ابن اسحاق علیہ الرحمۃ کی یہ روایت عقل و نقل، درایت و روایت کسی معیار پر پوری نہیں اترتی۔
عصر حاضر کے مایہ ناز محقق امام محمد ابو زہرہ رحمۃ اللہ علیہ رقمطراز ہیں۔
“وَمَا ذَكَرَهٗ اِبْنُ اِسْحَاقَ مِنَ الَّذِيْ زَوَّجَهَا اَبُوْهَا خُوَيْلَدُ غَيْرُ صَحِيْحٍ لِاَنَّ خُوَيْلَدَ قَدْ مَاتَ قَبْلَ حَرْبِ الْفِجَارِ”
ترجمہ:یعنی ابن اسحاق علیہ الرحمۃ کی یہ روایت جس میں یہ مذکور ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا نکاح ان کے والد خویلد نے پڑھایا، صحیح نہیں ہے کیونکہ خویلد حرب فجار سے پہلے فوت ہو گئے تھے۔
(خاتم النبیین، امام محمد ابو زہرہ، جلد اول، صفحہ163)
علامہ سہیلی علیہ الرحمۃ نے بھی الروض الانف میں اس کی توثیق کی ہے۔
(الروض الانف، جلد اول، صفحہ212)
علامہ ابن کثیر علیہ الرحمۃ نے السیرۃ النبویہ میں تصریح کر دی ہے کہ خود ابن اسحاق علیہ الرحمۃ نے بھی اپنے اس قول سے رجوع کر لیا۔ علامہ ابن کثیر علیہ الرحمۃ نے پہلے علامہ سہیلی علیہ الرحمۃ کے قول کی تائید کی ہے۔ پھر لکھا ہے۔
“ذَكَرَ اِبْنُ اِسْحَاقٍ فِيْ اٰخِرِ السِّيْرَةِ اِنَّ اَخَاهَا عَمْرَو بْنَ خُوَيْلَدِِ هُوَ الَّذِيْ زَوَّجَهَا رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمَ فَاللهُ اَعْلَمُ”
ترجمہ:علامہ ابن اسحاق علیہ الرحمۃ نے اپنی سیرت کے آخر میں تصریح کی ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بھائی عمرو نے آپ رضی اللہ عنہا کا نکاح پڑھایا واللہ اعلم ۔
(السيرة النبویہ، ابن کثیر، جلد اول، صفحہ267)
اس طیبہ طاہرہ رفیقہ حیات کی آمد سے سرور عالم ﷺکی حیات طیبہ میں ایک خوش آئند اور مسرت آگیں انقلاب رونما ہوا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بھر پور محبت اور شبانہ روز خدمت گزاری نے اس خلا کو بڑے سلیقہ سے پُر کرنے کی سعی مشکور کی جو سیدہ آمنہ کے سایہ عاطفت کے اُٹھ جانے سے حضورﷺ بچپن سے ہی محسوس کرتے تھے۔ قبیلہ قریش کی اس معزز، دانشمند اور دور اندیش خاتون کو عبدالمطلب کے جواں سال اور جواں بخت پوتے کے فضائل و شمائل نے ایسا گرویدہ کر دیا تھا کہ انہوں نے اپنا دل، اپنی جان اور اپنا مال و متاع سب کچھ ان کے قدموں پر نثار کر دیا تھا اور اس سودے پر وہ صرف خوش ہی نہ تھیں بلکہ نازاں تھیں اور شکر گزار تھیں کہ اس پیکر جمال و کمال نے انہیں اپنی چاکری میں قبول فرمایا ہے۔ ان مختصر الفاظ سے آپ رضی اللہ عنہا کی عظیم شخصیت کا صحیح تعارف نہیں ہو سکا۔ سرکار دو عالمﷺ کی سیرت طیبہ کے ضمن میں آپ رضی اللہ عنہاکی خدمات جلیلہ کا ذکر آئے گا کیونکہ اس کے بغیر سیرت نبوی ﷺمکمل نہیں ہو سکتی۔ اس وقت آپ رضی اللہ عنہا کی حقیقی عظمتوں کا قارئین کو پتہ چلے گا اور ان مخفی حکمتوں کا راز فاش ہو گا جن کی بناء پر علیم و حکیم خدا نے اپنے محبوبﷺ کی زوجیت کے لئے اس طیبہ ، طاہرہ کو منتخب فرمایا۔یہ عقد زواج بڑا بابرکت ثابت ہوا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا طاہرہ کے بطن طاہر سے حضورﷺ کے بیٹے حضرت قاسم جن کی وجہ سے حضورﷺ کی کنیت ابو القاسم ہوئی۔ اور حضرت عبداللہ جو طیب اور طاہر کے لقب سے ملقب تھے تولد ہوئے دونوں صاحب زادے بچپن میں انتقال فرما گئے۔ تیسرے صاحب زادے حضرت ابراہیم تھے جو حضرت ماریہ قبطیہ کے شکم سے پیدا ہوئے وہ بھی عالم شیر خوارگی میں وفات پا گئے۔ حضور سرور عالمﷺ کی چاروں صاحب زادیاں سیدات، رقیہ ، زینب، ام کلثوم اور سیدۃ نساء العالمين فاطمۃ البتول الزھرا رضی اللہ تعالیٰ عنہن اجمعین کی ولادت با سعادت بھی آپ کے شکم سے ہوئی ان سب نے عہد نبوتﷺ پایا سب مشرف بہ سلام ہوئیں۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲