(آثار بعثت کا ظہور:حصہ چہارم آخری حصہ)
حق تو یہ ہے کہ ان حالات میں خوف و ہراس، بے چینی و اضطراب کا پیدا ہونا باعث حیرت نہیں بلکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو باعث صد حیرت و تعجب ہوتا۔ چنانچہ علماء محققین نے اس حدیث کے ان کلمات لَقَدْ خَشِيْتُ عَلٰىٰ نَفْسِیْ کی متعدد توجیہات پیش کی ہیں جو توجیہ ہمیں سب سے زیادہ بہتر لگی وہ علامہ بدر الدین عینی علیہ الرحمۃ کی ہے جسے بایں الفاظ بیان کیا جاتا ہے۔
“خَافَ اَنْ لَّا يَقْوِىْ عَلٰى مُقَاوَمَةِ هٰذَا الْاَمْرِ وَلَا يَطِيْقُ حَمْلَ اَعْبَآءِ الْوَحْيِ”
ترجمہ:حضورﷺ کو اس بات پر اندیشہ ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس امر عظیم کی ذمہ داریوں کو آپ ﷺپوری طرح سے سر انجام نہ دے سکیں اور وحی کے اس بارِ گراں کے متحمل نہ ہو سکیں۔ (عمدۃ القاری طبع البابی الحلبی، جلد اول، صفحہ 78)
علامہ ابن حجر علیہ الرحمۃ نے بھی اسی توجیہ کو بایں الفاظ بیان کیا ہے۔
“اَلْعَجْزُ عَنْ حَمْلِ اَعْبَآءِ النُّبُوَّةِ”
ترجمہ: مبادا میں نبوت کے اس بار گراں کو اٹھا نہ سکوں ۔ (فتح الباری، جلد اول، صفحہ 20)
علامہ محمد الصادق عرجون رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی گراں قدر تصنیف”محمد رسول اللہﷺ ” میں بحوالہ امام قسطلانی علیہ الرحمۃ “لَقَدْ خَشِيْتُ عَلَیَّ” کے جملہ کی ایک اور توجیہ پیش کی ہے اس کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔ “قَدْ خَشِيْتِ” یہ واحد متکلم کا صیغہ نہیں بلکہ واحد مؤنث مخاطب کا صیغہ ہے اور یہاں حرف استفہام مقدر ہے “اَ قَدْ خَشِيْتِ عَلَىَّ” لکھتے ہیں کہ رحمت کائناتﷺ شرف نبوت سے مشرف ہونے کے بعد گھر تشریف لائے اپنی رفیقہ حیات ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات فرمائی۔ کیونکہ حضورﷺ مقررہ وقت سے کافی دیر بعد تشریف لائے تھے اس تاخیر سے آپ رضی اللہ عنہا بے چین ہو گئیں سرور عالمﷺ تشریف لائے تو عرض کی: “اَیْنَ کُنْتَ یَا اَبَا اَلْقَاسِمِ”
ترجمہ: اے ابو القاسم ( حضورﷺ کی کنیت) حضورﷺ اتنی دیر کہاں تشریف فرما رہے؟
میں تو تاخیر کے باعث بے چین ہو گئی تھی حضورﷺ کی تلاش میں اپنے آدمی بھیجے لیکن جب وہ ناکام واپس آئے تو میری بے قراری میں مزید اضافہ ہو گیا۔ سرور کائناتﷺ نے اپنی رفیقہ حیات رضی اللہ عنہا کو تسلی دینے کے لئے فرمایا ذرا میری طرف دیکھو۔
“مَالِيْ؟” ترجمہ: مجھے تو کوئی تکلیف نہیں پہنچی میں تو بخیر و عافیت آپ رضی اللہ عنہا کے سامنے موجود ہوں۔ پھر فرمایا: “اَ قَدْ خَشِيْتِ عَلَیَّ” ترجمہ: کیا تمہیں میرے بارے میں خوف و اندیشہ لاحق ہو گیا تھا؟ انہوں نے عرض کی: “کَلَّا” ترجمہ: ہر گز مجھے کوئی اندیشہ لاحق نہیں ہوا تھا۔
چونکہ آپﷺ ان صفات کمال سے متصف ہیں جو ہستی ایسے اوصاف حمیدہ سے متصف ہو اللہ تعالیٰ خود اس کا نگہبان ہوتا ہے وہ اسے رسوا نہیں کرتا۔ اس کے بعد نبی مکرمﷺ نے انہیں غار حرا کی خلوتوں میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کی آمد اور قرأت آیات قرآنی کے بارے میں بالتفصیل مطلع فرمایا۔
(محمد رسول اللہ، ابراہیم عرجون، جلد اول، صفحہ370-371)
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے یہ تسلی آمیز کلمات ایک آئینہ حق نما ہیں جس میں حضورﷺ کے اخلاق عالیہ کے نقوش جمیلہ پوری آب و تاب کے ساتھ منعکس ہو رہے ہیں اس کے ساتھ ہی ان الفاظ سے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاکی فرزانگی، حقیقت شناسی اور حضورﷺ کے ساتھ آپ رضی اللہ عنہا کی بے پایاں عقیدت کا بھی اظہار ہو رہا ہے۔ بیویاں اپنے شوہروں سے بہت کم متاثر ہوتی ہیں دوسرے لوگ بڑے لوگوں کے صرف کمالات اور ان کی خوبیوں سے آگاہ ہوتے ہیں لیکن بیویاں ان کی ان کمزوریوں اور خامیوں پر بھی مطلع ہوتی ہیں جن پر ان کے بغیر اور کوئی مطلع نہیں ہو سکتا لیکن یہاں حضورﷺ کی جلوت و خلوت پر کامل آگاہی رکھنے والی خاتون ، اپنے آقاﷺ کے ان محامد و کمالات کا نہایت بلیغ اور دلنشین انداز میں اظہار کر کے اپنی اس وارفتگی اور دلبستگی کا والہانہ اظہار کر رہی ہیں جس کی مثال تاریخ میں ڈھونڈے سے نہیں مل سکتی۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ایک چچا زاد بھائی تھے جن کا نام حضرت ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبدالعزیٰ تھا۔ یہ ان چند لوگوں میں سے تھے جو بُت پرستی سے دل برداشتہ ہو کر تلاش حق میں گرد و نواح کے ممالک میں چلے گئے تھے وہاں جا کر حضرت ورقہ نے عیسائیت قبول کر لی تھی۔ آپ عبرانی زبان لکھنا جانتے تھے انہوں نے انجیل کو عبرانی رسم الخط میں لکھنا شروع کر دیا تھا۔ آپ کی عمر کافی زیادہ ہو گئی تھی بینائی بہت کمزور ہو چکی تھی گویا نہ ہونے کے برابر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاحضورﷺ کو لے کر حضرت ورقہ کے پاس آئیں اور انہیں کہا۔اے میرے چچا کے بیٹے ! اپنے بھتیجے کی بات سنو ۔ حضرت ورقہ نے حضورﷺ کو کہا فرمائیے! آپﷺ کو کیا نظر آیا ہے؟رسول کریمﷺ نے سارا ماجرا ان سے بیان کیا۔ سن کر حضرت ورقہ نے کہا یہ وہی ناموس حضرت (جبرائیل) علیہ السلام ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اتارا تھا۔ اے کاش! میں اس وقت جوان ہوتا، اے کاش میں اس وقت زندہ ہوتا جب آپﷺ کی قوم آپﷺ کو مکہ سے نکالے گی۔ حضورﷺ نے پوچھا کیا وہ مجھے یہاں سے نکال دیں گے؟ حضرت ورقہ نے کہا جی ہاں! جو شخص بھی اس قسم کی دعوت لے کر آیا جو آپﷺ لے کر آئے ہیں لوگوں نے اس سے دشمنی کی۔ اگر مجھے آپ ﷺکا وہ دن دیکھنا نصیب ہوا تو میں آپﷺ کی پر زور مدد کروں گا۔ اس کے بعد حضرت ورقہ زیادہ دیر زندہ نہیں رہے۔ جلد ہی انتقال فرما گئے۔حضور نبی کریمﷺ کی بعثت اور منصب نبوت پر فائز ہونے کے بارے میں یہ وه جامع، مستند اور صحیح ترین روایت ہے جو ہم نے صحیح بخاری سے نقل کر کے قارئین کے مطالعہ کے لئے پیش کی ہے۔
اس موقع پر اگر وحی، نبوت اور رسالت کی اصطلاحات کی تشریح ہو جائے تو قارئین کے لئے از بس مفید ہو گا۔ کیونکہ سیرت نبویﷺ کو سمجھنے کے لئے ان کلمات کی ماہیت پر آگاہی ضروری ہے جب تک ان کلمات کا صحیح مفہوم ذہن نشین نہ ہو جگہ جگہ پر الجھنیں انسان کے ذہن کو پراگندہ کرنے کے لئے موجود ہوتی ہیں۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲