Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 181دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوار، حصہ: گیارہواں}

(سب سے پہلے ایمان لانے والےحصہ :گیارہواں)
《سیدنا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا ایمان لانا: حصہ اول》

اسلام کا نور تاباں آہستہ آہستہ سلیم الفطرت لوگوں کے اذہان و قلوب کو منور کرتا جا رہا تھا اسلام نے اپنے فطری حسن و جمال سے بڑی بڑی جلیل القدر اور نادرہ روز گار ہستیوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔ ہر روز کوئی نہ کوئی عظیم شخصیت اسلام قبول کر کے اس کی قوت میں اضافہ کا باعث بن رہی تھی اسلام کے خلاف اگرچہ مشرکین مکہ کا اجتماعی رد عمل ابھی شروع نہیں ہوا تھا لیکن اکا دکا ایسے واقعات ظہور پذیر ہوتے رہتے جس سے اس بغض و عداوت کا اظہار ہوتا رہتا جو اسلام کے بارے میں ان کے دلوں میں سلگ رہا تھا حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو جس بے رحمی سے کفار نے زد و کوب کیا اس کے بارے میں آپ پہلے پڑھ چکے ہیں اسی طرح بے سہارا اور بے آسرا لوگ جو دین حق کو قبول کرتے ان پر ظلم و ستم توڑنے میں وہ قطعا تامل نہ کرتے یہاں تک ان میں سے جو زیادہ شقی القلب تھے انہوں نے محبوب رب العالمینﷺ پر بھی دست تعدی دراز کرنا شروع کر دیا تھا۔ ایک روز رحمت عالمﷺ صفا کی پہاڑی پر تشریف فرما تھے ابو جہل کا ادھر سے گزر ہوا حضور ﷺکو دیکھا تو اس کے سینے میں بغض و عناد کا جو لاوا سلگ رہا تھا پھٹ پڑا۔ اس نے سب و شتم کے تیر برسانے شروع کر دیئے علم و وقار کے اس کوہ گراں نے اس کا کوئی جواب نہ دیا اس بے اعتنائی پر ابو جہل کا غصہ اور تیز ہو گیا اس کے ہاتھ میں ڈنڈا تھا۔ اس نے اس سے مارنا شروع کیا پے در پے ضربوں سے جسم نازک و اطہر سے خون رسنے لگا لیکن اس پیکر تسلیم و رضاﷺ نے صبر کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھا اور اُف تک نہ کی۔ دل کا غبار نکال کر ابو جہل اتراتا ہوا اپنے مداحوں کی اس محفل میں جا بیٹھا جو صحن حرم میں اس کے قبیلہ والوں نے منعقد کی ہوئی تھی۔اس کے چلے جانے کے بعد رحمت عالم ﷺ بھی خاموشی سے اپنے گھر تشریف لے گئے۔ حضرت عبداللہ بن جدعان رضی اللہ عنہ کا گھر کوہ صفا کے قریب تھا۔ ان کی ایک لونڈی نے یہ سارا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اس روز جنگل میں شکار کے لئے گئے ہوئے تھے۔ چاشت کے وقت ایک کامیاب شکاری کی طرح شاداں و فرحاں واپس آ رہے تھے۔ ان کا معمول تھا کہ شکار سے واپسی پر پہلے حرم شریف میں حاضری دیتے بیت اللہ شریف کا طواف کرتے پھر صحن حرم میں رؤسا قریش نے اپنی اپنی محفلیں جہاں جما رکھی ہوتی تھیں وہاں جاتے ۔ سب سے علیک سلیک کرتے۔ مزاج پرسی کرتے تب گھر واپس جاتے۔ اس روز بھی اس ارادہ سے وہ حرم شریف کی طرف جا رہے تھے کہ کوہ صفا کے پاس سے گزر ہوا۔ حضرت عبداللہ بن جدعان رضی اللہ عنہ کی جس کنیز نے ابو جہل کی تعدی کا دلخراش منظر دیکھا تھا وہ ان کا راستہ روک کر کھڑی ہو گئی اور کہا۔ “يَا اَبَا عَمَّارَةَ لَوْ رَاَيْتَ مَا لَقِيَ ابْنُ اَخِيۡكَ مُحَمَّدٌ ﷺمِنْ اَبِي الْحَكَمِ اٰنِفًا وَجَدَهٗ هٰھُنَا فَاَذَاهُ فَشَتَمَهٗ وَبَلَغَ مِنْهُ مَا يَكْرَهُ ثُمَّ اِنْصَرَفَ عَنْهُ وَلَمْ يُكَلِّمُہٗ” ترجمہ:اے ابو عمارہ! آج آپ رضی اللہ عنہ کے بھتیجے کے ساتھ ابو جہل نے یہ وحشیانہ سلوک کیا ہے پہلے گالیاں دیتا رہا جب حضور ﷺنے خاموشی اختیار کئے رکھی پھر مار مار کر لہولہان کر دیا۔ یہ سن کر حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے تن بدن میں آگ لگ گئی غصہ سے آگ بگولہ ہو کر ابو جہل کی تلاش میں آگے بڑھے۔ آج ان کی کیفیت ہی نرالی ہے نہ کسی سے پرسش احوال کر رہے ہیں نہ کسی محفل میں کھڑے ہو کر سلام کہہ رہے ہیں ابو جہل کی تلاش میں سیدھے آگے بڑھے چلے جاتے ہیں آخر کار آپ رضی اللہ عنہ کی نظر ابو جہل پر پڑ گئی جو اپنے اہل قبیلہ کی محفل میں بڑی تمکنت سے بیٹھا ہے۔ لوگ سراپا ادب بن کر اس کے گرد حلقہ باندھے بیٹھے ہیں آپ رضی اللہ عنہ اس مجمع میں گھس گئے اپنی کمان سے اس مردود کے سر پر پے در پے ضربیں لگائیں کہ خون کا فوارہ پھوٹ نکلا اور غصہ سے گرجتے ہوئے کہا۔ “اَتَشْتِمُهٗ وَاَنَا عَلٰى دِیۡنِهٖ” ترجمہ: اے ابو جہل تیری یہ مجال کہ تو میرے بھتیجے کو گالیاں نکالے حالانکہ میں نے اس کا دین قبول کر لیا ہے۔ اگر تجھ میں ہمت ہے تو آ اور مجھے روک کر دیکھ ۔ بنو مخزوم قبیلہ کے لوگ اپنے سردار کی اس رسوائی پر سیخ پا ہو گئے اٹھے کہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ سے اس کا بدلہ لیں۔ ابو جہل بڑا کائیں تھا۔ وہ جانتا تھا کہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ جیسے شیر دل کا مقابلہ ان لومڑیوں سے نہیں ہو سکے گا خواہ مخواہ کئی جانیں ضائع ہوں گی اپنے قبیلہ والوں کو کہا کہ ۔ “دَعُوۡا اَبَا عَمَّارَةَ فَاِنِّيۡ وَاللَّهِ قَدْ سَبَبْتُ اِبْنَ اَخِيۡهِ سَبًّا قَبِيۡحًا” ترجمہ: ابو عمارہ (حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ) کو کچھ نہ کہو بخدا میری غلطی ہے کہ میں نے ان کے بھتیجے سے بد کلامی کی ہے۔ رشتہ داری کے جوش میں یہ سب کچھ ہو گیا ابو جہل سے اپنے پیارے بھتیجے کا انتقام بھی لے لیا اور اپنے مسلمان ہونے کا اعلان بھی کر دیا لیکن جب گھر واپس آئے تو نفس امارہ نے ملامت کرنا شروع کر دی اے حمزہ ! تو نے یہ کیا کیا۔ فرط غضب میں تو اتنا دور چلا گیا کہ اپنے آباؤ اجداد کے عقیدے کو بغیر سوچے سمجھے ترک کر دیا اور ایک نئے دین کو قبول کرنے کا اعلان کر دیا۔ تو وہ کیا کریں انہیں یہ بات اپنی شان کے سراسر خلاف معلوم ہوئی کہ انہوں نے ایک ایسے دین کو قبول کر لیا ہے جس کے بارے میں انہوں نے پوری طرح سے غور و خوض ہی نہیں کیا۔ ساری رات بڑے قلق و اضطراب میں کٹی۔ ایسی پریشان رات انہوں نے آج تک نہیں گزاری تھی۔ اور ایسے ذہنی کرب سے انہیں کبھی پالا نہیں پڑا تھا جب صبح ہوئی تو بارگاہ رسالتﷺ میں حاضر ہوئے عرض کی۔ “يَا ابْنَ اَخِيۡ اِنِّيۡ قَدْ وَقَعْتُ فِيۡ اَمْرٍ لَا اَعْرِفُ اَلْمَخْرَجَ مِنْهُ وَ اِقَامَةُ مِثْلِيۡ عَلٰى مَا لَا اَدْرِيۡ مَا هُوَ اَ رُشْدٌ اَمْ هُوَ غَىٌّ شَدِيۡدٌ وَحَدِّثۡنِيۡ وَقَدْ اِشْتَهَيْتُ يَا ابْنَ اَخِيۡ اَنْ تُحَدِّثَنِيۡ” ترجمہ:اے میرے بھتیجے ! میں ایک ایسی مشکل میں گرفتار ہو گیا ہوں جس سے نکلنے کا راستہ میں نہیں جانتا۔ اور ایسی بات پر میرا قائم رہنا بڑا مشکل ہے جس کے بارے میں مجھے یہ علم نہیں کہ یہ ہدایت ہے یا گمراہی۔ اس لئے مجھے اس بارے میں کچھ ارشاد فرمائیے میرے بھتیجے! میری خواہش ہے کہ آپ ﷺاس سلسلہ میں گفتگو کریں۔ (سبل الہدیٰ،جلد2،صفحہ444) عقل و دل و نگاہ کے مرشد کاملﷺ نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے بے تاب دل کی طلب پر توجہ فرمائی اور بڑے دلنشین انداز میں اسلام کی صداقت و حقانیت کے بارے میں چند ارشادات فرمائے وَ یُزَکِّیۡھِمۡ کی شان والے نبیﷺ کی نگاہ التفات کی دیر تھی کہ سارے حجابات اٹھ گئے ساری ظلمتیں کافور ہو گئیں۔ شک و شبہ کا غبار چھٹ گیا دل کی دنیا نور ایمان سے جگ مگ جگمگ کرنے لگی۔ اور عرض کی اَشْهَدُ اَنَّكَ لَصَادِقٌ میں دل کی گہرائیوں سے گواہی دیتا ہوں کہ آپﷺ سچے ہیں۔ “فَاظْهَرۡ يَا ابْنَ اَخِيۡ دِيۡنَكَ فَوَاللَّهِ مَا اُحِبُّ اَنَّ لِيۡ مَا اَظَلَّتۡهُ السَّمَآءُ وَاِنِّيۡ عَلٰى دِيۡنِي الۡاَوَّلِ” ترجمہ:اے میرے بھائی کے فرزند ﷺ! آپﷺ اپنے دین کا اظہار فرماتے رہے بخدا میں اس بات کو ہر گز پسند نہیں کرتا کہ مجھے ہر وہ نعمت دے دی جائے جس پر آسمان سایہ فگن ہے تاکہ میں اپنے پہلے دین کی طرف لوٹ جاؤں ۔ 🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲
Scroll to Top