{حبشہ کی طرف پہلی ہجرت : حصہ سوم}
ماہ رجب بعثت کے پانچویں سال میں مہاجرین کا یہ پہلا کارواں حبشہ روانہ ہوا۔ تین ماہ کا عرصہ انہوں نے بڑے امن و عافیت سے گزارا ایک روز انہیں اطلاع ملی کہ اہل مکہ نے اسلام قبول کر لیا ہے اب وہاں مکمل امن و امان ہے۔ کسی کافر کی مجال نہیں کہ فرزندان اسلام کو اب اذیت پہنچائے ۔ ان مہاجرین نے باہمی مشورہ کیا کہ جس ظلم و تشدد کے خوف سے ہم اپنا وطن عزیز اور اہل و عیال چھوڑ کر آئے ہیں۔ وہ تو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے دور ہو گیا ہمیں اب واپس اپنے وطن لوٹ جانا چاہئے ۔چند لوگوں نے واپسی کا فیصلہ کیا۔ دوسرے حضرات نے کہا کہ ابھی کوئی پختہ اطلاع نہیں آئی۔ اس لئے جلدی میں واپسی کا فیصلہ دانش مندانہ نہیں۔ ہمیں صبر کرنا چاہئے یہاں تک کہ حضور کریمﷺ کا کوئی قاصد آئے اور ہمیں اس کے بارے میں بتائے۔ بعض مورخین نے اہل مکہ کے مسلمان ہونے کی افواہ گرم ہونے کی ایک وجہ بیان کی ہے۔ اگرچہ وہ سراسر باطل ہے اور اس لائق نہیں کہ اسے یہاں لکھا جائے لیکن بعض کتب سیرت و تفسیر میں وہ مذکور ہے اس لئے اب اس کا لکھنا ضروری ہے تاکہ اس کے مطالعہ سے کسی کے دل میں کوئی شک و شبہ پیدا ہوا ہو تو اس کا ازالہ کیا جا سکے۔ وہ بے سر و پا روایت یہ ہے کہ ایک روز نبی کریم ﷺ نے حرم شریف میں سورۃ النجم کی تلاوت کی۔
اس سلسلہ میں ہم “تفسیر ضیاء القرآن” کا وہ اقتباس قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں جو سورہ حج کی آیت نمبر 52 کی تفسیر سے متعلق ہے۔
وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ مِنۡ رَّسُوۡلٍ وَّ لَا نَبِیٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤی اَلۡقَی الشَّیۡطٰنُ فِیۡۤ اُمۡنِیَّتِہٖ ۚ فَیَنۡسَخُ اللّٰہُ مَا یُلۡقِی الشَّیۡطٰنُ ثُمَّ یُحۡکِمُ اللّٰہُ اٰیٰتِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿52﴾
ترجمہ:اور ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا اور نہ کوئی نبی مگر (سب کے ساتھ یہ واقعہ گزرا کہ) جب اس (رسول یا نبی) نے (لوگوں پر کلامِ الٰہی) پڑھا (تو) شیطان نے (لوگوں کے ذہنوں میں) اس (نبی کے) پڑھے ہوئے (یعنی تلاوت شدہ) کلام میں (اپنی طرف سے باطل شبہات اور فاسد خیالات کو) ملا دیا، سو شیطان جو (وسوسے سننے والوں کے ذہنوں میں) ڈالتا ہے اللہ انہیں زائل فرما دیتا ہے پھر اللہ اپنی آیتوں کو (اہلِ ایمان کے دلوں میں) نہایت مضبوط کر دیتا ہے، اور اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے۔
(سورۃ الحج، آیۃ:52)
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریمﷺ کو بتا رہے ہیں کہ آپ سے پہلے ہم نے جتنے رسول اور نبی مبعوث فرمائے ان کے ساتھ یہ معاملہ ہوا کہ جب انہوں نے ہماری آیتیں لوگوں کو پڑھ کر سنائیں تو شیطان نے ان لوگوں کے دلوں میں ان آیات کے بارے میں طرح طرح کے شکوک و شبہات پیدا کر دیئے۔ بجائے اس کے کہ وہ ان آیات کو قبول کرتے اُلٹا ان کے خلاف محاذ قائم کر لیا اور اعتراضات کی بوچھاڑ شروع کر دی۔ یہ مفہوم متعدد دوسری آیتوں میں بھی بیان فرمایا گیا ہے۔
“وَ اِنَّ الشَّیٰطِیۡنَ لَیُوۡحُوۡنَ اِلٰۤی اَوۡلِیٰٓئِہِمۡ لِیُجَادِلُوۡکُمۡ ۚ”
ترجمہ:کہ شیطان اپنے چیلوں کے دلوں میں طرح طرح کے وسوسے ڈالتے ہیں تاکہ وہ تمہارے ساتھ بحث مباحثہ شروع کر دیں۔
( سورة الانعام ، آیۃ:121)
دوسری آیت میں ہے۔
وَ کَذٰلِکَ جَعَلۡنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیۡنَ الۡاِنۡسِ وَ الۡجِنِّ یُوۡحِیۡ بَعۡضُہُمۡ اِلٰی بَعۡضٍ زُخۡرُفَ الۡقَوۡلِ غُرُوۡرًا ؕ وَ لَوۡ شَآءَ رَبُّکَ مَا فَعَلُوۡہُ فَذَرۡہُمۡ وَ مَا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿112﴾
ترجمہ:اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لئے انسانوں اور جِنّوں میں سے شیطانوں کو دشمن بنا دیا جو ایک دوسرے کے دل میں ملمع کی ہوئی (چکنی چپڑی) باتیں (وسوسہ کے طور پر) دھوکہ دینے کے لئے ڈالتے رہتے ہیں، اور اگر آپ کا ربّ (انہیں جبراً روکنا) چاہتا (تو) وہ ایسا نہ کر پاتے، سو آپ انہیں (بھی) چھوڑ دیں اور جو کچھ وہ بہتان باندھ رہے ہیں (اسے بھی)۔
( سورۃ الانعام، آیۃ:112)
پہلے شیاطین جن و انس نے جو سلوک اپنے ہادیوں کے ساتھ کیا تھا بعینہ وہی رویہ مکہ کے مشرکین نے اختیار کیا۔ جب یہ آیت نازل ہوئی
“حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الۡمَيۡتَةَ” ترجمہ: تم پر (اللہ نے) مردار کو حرام کر دیا ہے۔
تو مشرکین اسے لے اڑے اور اس پر یہ اعتراض جڑ دیا کہ دیکھو جی جسے خود مارتے ہیں اس کو تو حلال اور پاک کہہ رہے ہیں اور جسے خدا نے مارا وہ ان کے نزدیک حرام اور پلید ہے۔ جب سود کی حرمت کا حکم نازل ہوا تو ان کی زبانیں قینچی کی طرح چلنے لگیں کہ ذرا انصاف تو دیکھو کہ بیع تو ان کے لئے حلال ہے اور سود حرام ۔ حالانکہ دونوں میں نفع ہے یہ کہاں کی عقل مندی ہے کہ دو ایک جیسی چیزوں میں سے ایک کو حرام اور دوسری کو حلال کر دیا جائے۔ اسی قسم کے متعدد واقعات ہیں جن کے متعلق شیطان ان کو بھڑکاتا اور وہ اسلام کے خلاف بڑے جوش و خروش سے پراپیگینڈا کی ایک نئی مہم کھڑی کر دیتے لیکن اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کاملہ سے اور دلائل قاہرہ سے باطل کا پول کھول دیتا اور حق کی روشنی پھر ہر طرف پھیل جاتی ۔ آیت کا یہ مفہوم اتنا واضح اور دوسری آیات کے عین مطابق ہے کہ کسی قسم کا تذبذب باقی نہیں رہتا لیکن بعض کتابوں میں ایک روایت کے درج ہو جانے سے اس آیت کا مطلب کچھ سے کچھ کر دیا گیا جس سے صرف اپنوں کے دلوں میں اضطراب کی لہر پیدا نہیں ہوئی بلکہ دشمنان اسلام کو قرآن صاحب قرآنﷺ اور دین اسلام کی صداقت پر حملہ کرنے کے لئے ایک مہلک ہتھیار مل گیا۔ چاہئے تو یہ تھا کہ آیت کی اس واضح اور صاف تشریح پر ہی ہم اکتفا کرتے اور اس روایت کی طرف التفات کے بغیر آگے بڑھ جاتے لیکن کیونکہ یہ روایت ہماری کتابوں میں راہ پا گئی ہے اور دشمنان اسلام نے اس سے فائدہ اٹھا کر اسلام کے خلاف طوفان برپا کر رکھا ہے۔ اب اس سے تعرض نہ کرنا بھی ادائے فرض میں کوتاہی کے مترادف ہے۔ اس لئے با دِل نخواستہ وہ روایت نقل کر رہے ہیں ۔ اس کے بعد علماء محققین نے جس طرح اس کے پرخچے اڑاتے ہیں ان کا بالاجمال ذکر کریں گے تا کہ کسی طالب حق کے لئے تردد و تذبذب کا کوئی امکان باقی نہ رہے۔
واللہُ الْمُسْتَعَانُ وَعَلَيْهِ التُّكْلَانُ
کہا یہ گیا ہے کہ اس آیت کی شان نزول یہ ہے کہ ایک روز حرم شریف میں کفار و مشرکین کے ایک اجتماع میں حضورﷺ نے سورہ نجم کی تلاوت فرمائی۔ جب یہاں پہنچے
اَفَرَءَیۡتُمُ اللّٰتَ وَ الۡعُزّٰی ﴿19﴾ وَ مَنٰوۃَ الثَّالِثَۃَ الۡاُخۡرٰی ﴿20﴾
ترجمہ:کیا تم نے لات اور عزٰی (دیویوں) پر غور کیا ہے۔اور اُس تیسری ایک اور (دیوی) منات کو بھی (غور سے دیکھا ہے؟ تم نے انہیں اللہ کی بیٹیاں بنا رکھا ہے)۔
تو شیطان نے اَلۡعِیَاذُ بِاللہِ زبان پر یہ الفاظ جاری کر دیئے۔
“تِلۡكَ الۡغَرَانِيۡقُ الْعُلٰى وَاِنَّ شَفَاعَتَهُنَّ لَتُرْتَجٰي”
ترجمہ: یعنی یہ بت مرغان بلند پرواز ہیں اور ان کی شفاعت کی امید کی جاسکتی ہے۔
یہ سن کر مشرکین کی خوشی کی حد نہ رہی اور حضور پر نور ﷺ کا اسم گرامی لے کر کہنے لگے کہ وہ اپنے پرانے دین کی طرف لوٹ آیا ہے آج اس کی اور ہماری عداوت ختم ہو گئی اور جب حضور ﷺ نے سورہ نجم کے سجدہ والی آیات پڑھیں تو حضور ﷺ نے بھی سجدہ کیا اور مشرکین نے بھی سجدہ کیا۔ اس کے بعد حضرت جبرائیل امین علیہ السلام آئے اور آپ ﷺکو کہا کہ میں نے آپ کو یہ سورت اس طرح وحی نہیں کی تھی جس طرح آپ نے پڑھی۔ یہ سن کر حضور ﷺ کو از حد رنج و غم ہوا ۔ اس رنج و غم کو دور کرنے کے لئے یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ غم نہ کریں پہلے بھی جتنے رسول اور نبی گزرے ہیں سب کے ساتھ ایسا ہوا ہے۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲