Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 190دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوار، حصہ: بیسواں}

{دعوت اسلام کا تیسرا دور : حصہ دوم}
(قریبی رشتہ داروں کو دعوت حق دینے کے لیے حکم الہٰی : حصہ دوم آخری حصہ)


مطعم بن عدی بن نوفل بن عبد مناف بن قصی بولا ۔ خدا کی قسم! اے ابو طالب تیری قوم نے تیرے ساتھ کمال انصاف کیا ہے اور حتی المقدور کوشش کی ہے کہ اس الجھن سے تمہیں نکالیں جو تم نا پسند کرتے ہو۔ تم نے ان کی یہ منصفانہ پیش کش ٹھکرا کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ تم ان سے کسی قیمت پر مفاہمت کرنے کے لئے تیار نہیں حضرت ابو طالب نے فرمایا ۔ اے مطعم ! میری قوم نے ہر گز میرے ساتھ انصاف نہیں کیا البتہ تم نے میرا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔ اور میرے خلاف ساری قوم کی مدد کی ہے یہ بہت بڑی زیادتی ہے۔ دن بدن کشیدگی میں اضافہ ہوتا گیا۔ حالات سنگین سے سنگین تر ہونے لگے عداوت کی آگ تیزی سے بھڑکنے لگی۔ ایک دوسرے کی کھل کر مخالفت ہونے لگی ۔

حضور سرور عالمﷺ کے کئی قریبی رشتہ دار بھی حضورﷺ کی مخالفت میں پیش پیش تھے اس تکلیف دہ ماحول سے متاثر ہو کر حضرت ابو طالب نے ایک قصیدہ لکھا جس میں اس طوطا چشمی پر ان رشتہ داروں کو عار دلائی ، اس قصیدہ کے چند شعر آپ بھی ملاحظہ فرمائیں۔

اَرَى اَخَوَيْنَا مِنْ اَبِيْنَا وَاُمِّنَا
اِذَا سُئِلَا قَالَا اِلٰى غَيْرِنَا اَمْرٗ
میں اپنے دو سگے بھائیوں کو دیکھتا ہوں جب ان سے صورت حال کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو کہتے ہیں ہمارے بس میں کچھ نہیں سب کچھ دوسروں کے اختیار میں ہے ۔

بَلٰى لَهُمَا اَمْرٌ وَلٰكِنْ تَجَرْجَمَا
كَمَا جُرْجِمَتْ مِنْ رَاْسِ ذِیْ عَلَقِ صَخَرٗ
ان کے بس میں تو سب کچھ تھا۔ لیکن وہ دونوں اپنے مقام سے گر پڑے جیسے ذی علق پہاڑ سے پتھر لڑھک جاتا ہے۔

اَخَصُّ خُصُوْصًا عَبْدِ شَمْسٍ وَ نَوٰفَلًا
هُمَا نَبَذَانَا مِثْلَ مَا يُنْبَذَ الْجَمَرٗ
میں خاص طور پر عبد شمس اور نوفل کا ذکر کرتا ہوں جنہوں نے ہمیں اس طرح دور پھینک دیا ہے جس طرح دہکتے ہوئے انگارے کو دور پھینک دیا جاتا ہے۔
(سيرة النبویہ بن ہشام ، جلد اول، صفحہ 28)

کفار مکہ کا وفد تیسری بار جب حضرت ابو طالب کے پاس گیا اور عمارہ کی پیش کش کی جسے آپ نے بھی حقارت سے ٹھکرا دیا۔ تو حالات اور کشیدہ ہو گئے اور کفار نے متحد ہو کر اسلام اور پیغمبر اسلامﷺ کی مخالفت کے پروگرام بنانے شروع کئے۔ حضرت ابو طالب نے محسوس کیا کہ میں تنہا کفر کی اجتماعی یلغار کو نہیں روک سکتا چنانچہ آپ نے ایک قصیدہ لکھا اور اس میں بنو ہاشم اور بنی مطلب کی غیرت و حمیت کو للکارا کہ جس طرح دوسرے قبائل حضور ﷺ کی مخالفت اور عداوت میں متحد ہو گئے ہیں ہمیں بھی آپ کے دفاع کے لئے متحدہ محاذ بنانا چاہئے وہ قصیدہ کافی طویل ہے اس کے چند اشعار بطور نمونہ پیش خدمت ہیں۔ آپ فرماتے ہیں۔

وَلَمَّا رَاَيْتُ الْقَوْمَ لَا وُدَّ فِيْهِمٖ
وَقَدْ قَطَعُوْا كُلَّ الْعُرٰى وَ الْوَسَائِلٖ
جب میں نے قوم کو دیکھا کہ ان میں محبت کا نام و نشان باقی نہیں رہا انہوں نے محبت و قرابت کے سارے رشتے توڑ دیئے ہیں۔

وَقَدْ صَارَحُونَا بِالْعَدَاوَةِ وَالاَذٰى
وَقَدْ طَاوَعُوْا اَمْرَ الْعَدُوِّ الْمَزَايِلٖ
اور انہوں نے کھلم کھلا ہماری دشمنی اور ایذا رسانی شروع کر دی۔ اور انہوں نے ہمارے دشمن کا حکم ماننا شروع کر دیا۔

وَقَدْ حَالَفُوْا قَوْمًا عَلَيْنَا اَظِنَّةً
يَعُضُّوْنَ غَيْظًا خَلْفَنَا بِالْاَنَامِلٖ
انہوں نے ہمارے دشمنوں کے ساتھ دوستی کا معاہدہ کر لیا ہے اور ہمارے پس پشت غصے سے اپنی انگلیاں کاٹتے ہیں۔

صَبَرْتُ لَهُمْ نَفْسِيْ بِسَمْرَآءَ سَمْحَةٍ
وَاَبْيَضَ عَضْبٍ مِنْ تُرَاثِ الْمَقَاوِلٖ
میں نے اپنے نفس کو صبر کی تلقین کی اور میرے ہاتھ میں گندم گوں لچک دار نیزہ تھا اور سفید کاٹنے والی تلوار جو بزرگ سرداروں سے ہمیں ورثہ میں ملی تھی۔

وَاَحْضَرْتُ عِنْدَ الْبَيْتِ رَهْطِيْ وَاِخْوَتِي
وَاَمْسَکْتُ مِنْ اَثْوَابِهٖ بِالْوَصَائِلٖ”
میں نے بیت اللہ شریف کے پاس اپنی قوم اور اپنے بھائیوں کو جمع کیا اور میں نے بیت اللہ کے سرخ دھاریوں والے غلاف کو پکڑ لیا۔

كَذَبْتُمْ وَ بَيْتِ اللهِ نَتْرُكُ مَكَّةً
وَنَظْعَنُ اِلَّا اَمْرُكُمْ فِيْ بَلَابِلٖ
خانہ خدا کی قسم ! تم نے جھوٹ بولا ہے کہ ہم مکہ کو چھوڑ جائیں گے اور یہاں سے کوچ کر جائیں گے یہاں تک کہ تمہاری حالت مضطرب ہو جائے اور تمہاری اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے ۔

كَذَّبْتُمْ وَ بَيْتِ اللهِ نُبْزِيْ مُحَمَّدًا
وَلَمَّا نُطَاعِنْ دُوْنَهٗ وَنُنَاضِلٖ
خانہ خدا کی قسم! تم نے جھوٹ بولا ہے کہ ہم محمدﷺ کو چھوڑ دیں گے جب تک ان کا دفاع کرتے ہوئے نیزوں اور تیروں سے تم پر حملہ آور نہیں ہوں گے۔

وَنُسْلِمُهٗ حَتّٰى نُصَرَّعَ حَوْلَهٗ
وَنُذْهَلَ عَنْ اَبْنَاءِنَا وَالحَلَائِلٖ
اور ہم اسے تمہارے حوالے کر دیں گے اس سے پیشتر کہ ہمارے لاشے اس کے ارد گرد خاک آلود پڑے ہوں اور ہم اپنے بچوں اور اپنی بیویوں کو بھی فراموش کر چکے ہوں ۔

وَ اَبْيَضُ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِوَجْهِھٖ
ثَمَالُ الْيَتَامٰى وَعِظْمَةٌ لِلْاَرَامِلٖ
میرا بھتیجا گوری رنگت والا ہے جس کے چہرے کی برکت سے بارش طلب کی جاتی ہے وہ یتیموں کی پناہ گاہ اور بیواؤں کی ناموس کا محافظ ہے۔

يَلُوْذُ بِهِ الْهُلَّاكُ مِنْ اٰلِ هَاشِمٍ
فَهُمْ عِنْدَهٗ فِيْ رَحْمَةٍ وَفَوَاضِلٖ
یہ وہ جواں مرد ہے کہ جس کی پناہ آل ہاشم کے مفلس لیتے ہیں پس وہ جب اس کے پاس پہنچ جاتے ہیں تو وہ ان پر اپنے رحم و کرم کی بارش برسا دیتا ہے۔
(السيرة النبویہ ابن ہشام، جلد اول، صفحہ290 -291)

اس قصیدہ میں حضورﷺ کے خصائل حمیدہ اور اخلاق جمیلہ کا تذکرہ ہے ساتھ ہی اپنے اور بنو ہاشم، بنو مطلب کے نوجوانوں کے اس عزم مصمم کا پر جوش انداز میں اعلان ہے کہ جب تک ہم میں سے ایک مرد یا ایک عورت زندہ ہے کسی کی مجال نہیں کہ میرے بھتیجے کا بال بھی بیکا کر سکے۔ اگرچہ اس قصیدہ کا ہر شعر عربی فصاحت و بلاغت کی جان ہے اور اس کا ہر مصرعہ اس محبت و شیفتگی کا آئینہ دار ہے جو محترم چچا کو اپنے بلند اقبال، فرخندہ فال، بھتیجےﷺ سے تھی۔ چاہیے تو یہ تھا کہ مکمل قصیدہ ہدیہ قارئین کیا جاتا۔ لیکن یہ کافی طویل ہے اس لئے اس کے چند اشعار بطور تبرک قارئین کی خدمت میں پیش کرنے پر اکتفاء کیا گیا ہے تاکہ محبت کے ان عمیق جذبات کا کچھ تو آپ کو احساس ہو جائے۔ حضورﷺ کے دفاع کے لئے بنو ہاشم اور بنو مطلب کے جملہ افراد کو متحد کرنے کی یہ کوشش بار آور ثابت ہوئی ان دونوں خاندانوں نے وعدہ کیا کہ وہ حضورﷺ کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے بلکہ دشمنوں کے ہر وار کے سامنے وہ خود سینہ سَپر ہوں گے۔ اور وہ اپنی جان کی پروا تک بھی نہیں کریں گے۔ البتہ ابو لہب جو حضورﷺ کا سگا چچا تھا۔ اور خاندان بنی ہاشم کا ایک سر کردہ فرد تھا۔ اس نے اپنے خاندان کے مؤقف کے برعکس حضورﷺ کی عداوت میں اپنی ہر چیز داؤ پر لگانے کی قسم کھائی اس کی زندگی کا لمحہ لمحہ حضورﷺ کو دکھ پہنچانے اور صحابہ کرام علیہم الرِّضوَان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے میں صرف ہونے لگا۔
(السیرۃ الحلبیہ، جلد اول، صفحہ 274)
(السيرة النبویہ ابن ہشام، جلد اول، صفحہ281)

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top