Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 204دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوارحصہ: چونتیسواں}

{دعوت اسلام کا تیسرا دور : حصہ سولہواں}
(صحابہ کرام پر ظلم و ستم کی روح فرسا داستانیں :حصہ دوم)
(حضرت بلال رضی اللہ عنہ : حصہ اول)


آپ امیہ بن خلف کے غلام تھے اور ان ازلی سعادت مندوں میں سے تھے جن کا شمار السابقون الاولون میں ہوتا ہے امیہ کی اسلام دشمنی یہ کب برداشت کر سکتی تھی کہ اس کا زر خرید غلام اس کی مرضی کے بغیر اس کے بیشمار خداؤں کے خلاف علم بغاوت بلند کرے اور ایک خداوند حقیقی کی بندگی کا دم بھرنے لگے۔ اسے جب معلوم ہوا کہ اس کا غلام مسلمان ہو گیا ہے تو غصہ سے اس کا خون کھولنے لگا۔ اس نے عزم کر لیا کہ وہ اس جرم کی حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اتنی سخت سزا دے گا کہ اس کا برداشت کرنا ممکن نہ ہو گا۔ وہ مجبوراً اس نئے دین سے اپنا رشتہ توڑ لے گا وہ آپ کے گلے میں رسی ڈال کر آوارہ لڑکوں کے ہاتھوں میں پکڑا دیتا۔ وہ ان کا تمسخر اڑاتے ،مذاق کرتے، مکہ کی گھاٹیوں میں لے کر انہیں گھومتے اور گلیوں میں انہیں گھسیٹتے۔ لیکن میخانہ وحدت کا یہ مستانہ کیف و مستی میں کھویا رہتا۔ اور احد احد کے نعرے لگا لگا کر کفر و شرک کے حواریوں کا منہ چڑاتا رہتا۔ وہ بے شعور بچے، رسی کو اس زور سے کھینچتے کہ ان کی گردن پر گہری خراشیں پڑ جاتیں اور خون بہنے لگتا۔

حضرت حسان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اسلام قبول کرنے سے پہلے حج کرنے کے لئے مکہ آیا میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ان کے گلے میں ایک لمبی رسی تھی جسے بچوں نے پکڑا ہوا تھا اور وہ اسے کھینچ رہے تھے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کہہ رہے تھے۔
“اَحَدٌ اَحَدٌ اَنَا اکْفُرۡ بِاللَّاتِ وَالْعُزّٰى وَ هُبَلٍ وَنَائِلَۃٍ”
ترجمہ:وہ یکتا ہے یکتا ہے میں لات عزیٰ، ہبل اور نائلہ کی خدائی کا انکار کرتا ہوں۔
(سبل الہدی والرشاد، جلد دوم، صفحہ 477)

امیہ کا دوسرا انداز تعذیب یہ تھا کہ پہلے وہ آپ کو بھوکا اور پیاسا رکھتا پھر دوپہر کے وقت جب دھوپ خوب چمک رہی ہوتی اور ریتلی زمین تانبے کی طرح تپ رہی ہوتی ۔ تو وہ آپ کو اس پر لٹا دیتا پھر بھاری بھر کم پتھر آپ کی چھاتی پر رکھ دیتا اور کہتا یا تو محمد (ﷺ ) کا دین چھوڑ دو اور لات و عزیٰ کی عبادت کرو اور یا تم اسی طرح تڑپتے رہو گے یہاں تک کہ تمہارا دم نکل جائے۔ آپ نیم مدہوشی کے عالم میں یہی جواب دیتے۔
“اَحَدٌ اَحَدٌ اَنَا لَا اُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا اَنَا كَافِرٌ بِاللَّاتِ وَالْعُزّٰى”
ترجمہ: وہ یکتا ہے یکتا ہے۔ میں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا میں لات اور عزیٰ کا انکار کرتا ہوں ۔

حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔
“مَرَرْتُ بِبِلَالٍ وَهُوَ يُعَذَّبُ فِيۡ رَمَضَاءَ وَلَوْ اَنَّ بِضْعَةَ لَحْمٍ وُضِعَتْ عَلَيْهِ لَنَضِجَتْ”
ترجمہ: ایک روز میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا جبکہ انہیں گرم کنکریوں پر لٹا کر عذاب دیا جا رہا تھا۔ وہ کنکریاں اتنی شدید گرم تھیں کہ اگر گوشت کا ٹکڑا بھی ان پر رکھا جائے تو ان کی حرارت سے پک جائے۔
اس کے باوجود وہ کہہ رہے تھے۔
“اَنَا کَافِرٌ بِاللَّاتِ وَالۡعُزّٰی”
ترجمہ: میں لات و عزیٰ کو نہیں مانتا میں ان کی خدائی کا انکار کرتا ہوں۔
امیہ یہ سن کر اور غضبناک ہو جاتا اور انہیں مزید ستانے لگتا۔ ان کے گلے کو زور سے دباتا یہاں تک کہ وہ بے ہوش ہو جاتے۔
(سبل الہدی والرشاد، جلد دوم، صفحہ 477 )

حضرت بلال رضی اللہ عنہ جب شدت عذاب میں احد احد کے نعرے لگاتے تو کافر ان کو تلقین کرتے کہ اس اذیت سے بچنے کی ایک ہی صورت ہے کہ تم یہ کفریہ جملے کہو آپ فرماتے میری زبان ان کو بولنے سے قاصر ہے۔ میں معذور ہوں۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ ، عبداللہ بن جدعان کے غلاموں میں سے تھے اور مکہ کے گرد و نواح میں اس کی بکریاں چرایا کرتے تھے جب انہیں اسلام کی دعوت پہنچی تو انہوں نے بلا جھجک اسے قبول کر لیا لیکن اس کو ظاہر نہیں ہونے دیا ایک روز یہ کعبہ کا طواف کرنے گئے اس کے اردگرد بت قطار در قطار نصب تھے ان پر نفرت سے تھوک دیا اور زبان سے نکل گیا۔
“خَابَ وَخَسِرَ مَنْ عَبَدَكُنَّ”
ترجمہ: وہ نامراد اور گھاٹے میں ہے جو تمہاری عبادت کرتا ہے۔

قریش نے ان کی یہ حرکت دیکھ لی اور ان کے مالک عبد اللہ بن جدعان سے ان کی شکایت کی۔ اس نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو امیہ بن خلف کے حوالے کر دیا۔ تاکہ وہ ان کی خوب مرمت کرے اور یہ نئے مذہب کو چھوڑنے پر مجبور ہو جائے وہ سنگدل اس مسکین کو عذاب دینے کے نئے نئے طریقے اختیار کرتا اور اپنے دل کی بھڑاس نکالتا۔ ایک روز سرکار دو عالمﷺ کا ادھر سے گزر ہوا۔ جہاں انہیں عذاب دیا جا رہا تھا اور یہ کیف و مستی سے سرشار نیم مدہوشی کے عالم میں احد احد کے نعرے بلند کر رہے تھے اس رحمت مجسم ﷺنے اتنے ستم جھیلنے والے غلام کو یہ مژدہ سنا کر مطمئن کیا۔
“سَيُنۡجِيۡكَ اَحَدٌ اَحَدٌ”
ترجمہ:کہ جس وحدہ لاشریک کے تم نعرے لگا رہے ہو وہی اس عذاب الیم سے تمہیں نجات دے گا۔

یہاں علامہ حلبی علیہ الرحمۃ نے کتنا پیارا جملہ لکھا ہے ۔
“وَكَانَ بِلَالُ بِقَوْلِهٖ اَحَدٌ اَحَدٌ يَمۡزُجُ مِرَارَةَ الْعَذَابِ بِحَلَاوَةِ الۡاِيۡمَانِ”
ترجمہ: یعنی حضرت بلال رضی اللہ عنہ ، احد احد کہہ کر عذاب کی تلخی میں ایمان کی مٹھاس کا امتزاج کر رہے تھے۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top