Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 165 بعثت مبارکہ: حصہ ہفتم)

(النبی و الرسول)


تفسیر ضیاء القرآن کے حوالہ سے اس کی تشریح اور معانی کی تحقیق پیش خدمت ہے۔ صاحب لسان العرب لفظ نبی کی تحقیق کرتے ہوئے رقمطراز ہیں۔ اس کے ماخذ اشتقاق کے متعلق اہل لغت کے تین قول ہیں۔
1) یہ نَبَاءٌ سے مشتق ہے۔
2) یہ نَبُوَّۃٌ سے مشتق ہے۔
3) یہ نَبَاوَۃٌ سے مشتق ہے۔
پہلے قول کے مطابق نَبِیٌّ بروزن فَعِیْلٌ بمعنی ُمفْعِلُٗ مُخْبِرُٗ ہو گا یعنی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دینے والا ہو ۔

علامہ جوہری اور فراء علیہما الرحمۃ دونوں کی یہ رائے ہے کہ نَبَاءٌ سے ماخوذ ہے اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دینے والا ۔
“اَلْجُوْهَرِيُّ : وَالنَّبِيُّ الْمُخْبِرُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لِاَنَّهُ اَنْبَاَ عَنْہُ وَ هُوَ فَعِيْلٌ بِمَعْنَيْ مُفْعِلُٗ، قَالَ الْفَرَّاءُ : اَلنَّبِيُّ هُوَ مَنْ اَنْبَاَ عَنِ اللَّهِ وَتُرِكَ هَمْزَتُهٗ وَاِنْ اُخِذَ مِنَ النُّبُوَّةِ وَالنَّبَاوَةِ وَهِيَ الْاِرْتِفَاعُ عَنِ الْاَرْضِ اَوْ هِيَ الشَّیْئُ الْمُرْتَفِعُ اَيْ اَنَّهٗ اَشْرَفُ عَلٰى سَائِرِ الْخَلْقِ “
ترجمہ:اور اگر اس کا ماخذ اشتقاق نَبُوَّۃٌ یا نَبَاوَۃٌ ہو تو اس کا معنی ہے بلند اور اونچی چیز۔ کیونکہ نبی دوسروں سے ہر لحاظ سے ارفع و اعلیٰ ہوتا ہے اس لئے اسے نبی کہتے ہیں۔

لیکن علامہ اصفہانی علیہ الرحمۃ نے مزید تحقیق کرتے ہوئے لکھا ہے
“اَلنَّبَاُ ذُوْ فَائِدَةٍ عَظِيْمَةٍ يَحْصُلُ بِهٖ عِلْمٌ اَوْ غَلْبَةُ ظَنٍّ وَّلَا يُقَالُ لِلْخَبْرِ فِي الْاَصْلِ نَبَاٌ حَتّٰى يَتَضَمَّنَ هٰذِهِ الْاَشْيَآءَ الثَّلَاثَةَ”
ترجمہ: کہ نَبَاءٌ ہر خبر کو نہیں کہا جاتا بلکہ صرف اس خبر کو نَبَاءٌ کہتے ہیں جس میں تین اوصاف ہوں۔
1) فائدہ مند ہو۔
2) اہم اور عظیم ہو۔
3) ایسی ہو کہ اس کے سننے سے علم یا کم از کم غلبہ ظن حاصل ہو۔

علامہ اصفہانی علیہ الرحمۃ اس لفظ پر تفصیلی بحث کرنے کے بعد لکھتے ہیں۔
“اَلنَّبُوَّةُ سَفَارَةٌ بَيْنَ اللهِ وَبَيْنَ ذَوِي الْعُقُوْلِ مِنْ عِبَادِهٖ لِاِزَاحَةِ عَلَيْهِمْ فِيْ اَمْرِ مَعَادِهِمْ وَمَعَاشِهِمْ وَالنَّبِيُّ لِكَوْنِهٖ مُنَبَاٌ بِمَا تَسْكُنُ اِلَيْهِ الْعُقُوْلِ الذَّاكِيَّةُ وَهُوَ يَصِحُّ اَنْ يَّكُوْنَ فَعِيْلًا بِمَعْنَى فَاعِلٍ وَاَنْ يَّكُوْنَ بِمَعْنَى الْمَفْعُوْلِ”
ترجمہ: نبوت اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان پیغام رسانی کو کہتے ہیں جس سے ان کی دنیا اور عقبیٰ کی بیماریاں دور ہو جاتی ہیں۔ نبی کیونکہ ایسی باتوں سے آگاہ کرتا ہے جس سے عقل سلیم کو تسکین ہوتی ہے اس لئے یہ فاعل اور مفعول دونوں معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔
(المفردات لفظ نبی)
(ضیاء القرآن، جلد چہارم، صفحہ9 -10)

مولانا بدر عالم صاحب لفظ نبی کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ حافظ ابن تیمیہ لکھتے ہیں۔
نبی کا لفظ نَبَاءٌ سے مشتق ہے اور لغت میں اَنْبَاءٌ گو ہر چیز کے لئے مستعمل ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کا عام استعمال اب صرف غیب کی خبروں میں ہونے لگا ہے۔ اس لحاظ سے نَبِیُّ اللہِ کے معنی یہ ہوں گے :اَلَّذِیْ نَبَّاَهُ اللهُ”
ترجمہ: یعنی جس کو اللہ تعالیٰ نے نبی بنایا ہو اور اس کو غیب کی خبریں دی ہوں ۔
(ترجمان السنۃ، جلد چہارم، صفحہ 441)
الرسول:

علامہ ابن منظور علیہ الرحمۃ لسان العرب میں لفظ ”رسول“ کی تحقیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
” اَلرَّسُوْلُ مَعْنَاهُ فِي اللُّغَةِ الَّذِيْ يُتَابِعُ اَخْبَارَ الَّذِيْ بَعَثَہٗ”
ترجمہ: رسول کا معنی لغت میں یہ ہے کہ جس نے اس کو بھیجا ہے اس کی اخبار کی پیروی کرے ۔
دائرۃ المعارف ( اردو ) میں لفظ رسول کی تشریح یوں کی گئی ہے۔ جو اپنے بھیجنے والے کے احوال و واقعات کی مطابقت کرے عام استعمال میں یہ لفظ قاصد، ایلچی یا پیغام لانے والے کے لئے بولا جاتا ہے۔ شریعت اسلامیہ کی اصطلاح میں رسول سے مراد اللہ کا وہ برگزیدہ بندہ ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ انسانوں تک اپنا پیغام پہنچانے کے لئے مبعوث فرماتا ہے۔
(دائره المعارف (اردو) ، جلد دہم، صفحہ 251 -252)

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top