Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 186دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوارحصہ: سولہواں}

(سب سے پہلے ایمان لانے والےحصہ :سولہواں آخری حصہ )


کیا اسلام تلوار سے پھیلا ہے: نبی رحمت ﷺ نے بعثت کے بعد پہلے تین سال اعلانیہ تبلیغ کے بجائے خاص خاص لوگوں تک اپنی تبلیغی سرگرمیوں کو محدود رکھا۔ اس میں ایسی ایسی ہستیاں مشرف با اسلام ہوئیں جن کے زریں کارناموں سے ملت اسلامیہ کی تاریخ کے صفحات جگمگا رہے ہیں۔ بے مثال خوبیوں اور عظیم صلاحیتوں سے مالا مال شخصیتوں نے ایسے نازک وقت اور مشکل حالات میں حبیب کبریا ﷺ کے دست مبارک پر بیعت کر کے اسلام کو دل کی گہرائیوں سے قبول کیا جب کہ اسلام کے بیت المال میں ان کو دینے کے لئے ایک درہم بھی نہ تھا۔ مسلمانوں کی بے بسی اور بے کسی کا یہ عالم تھا کہ مشرکین ان پر ظلم کے پہاڑ توڑتے اور یہ اُف تک نہ کر سکتے تھے۔ ان حالات میں اسلام قبول کرنے والے وہ لوگ تھے۔ جو طبعی طور پر بڑے خود دار، غیور اور مستغنی تھے جہاں بھر کے سارے خزانے اگر ان کے قدموں پر ڈھیر کر دیئے جاتے تو وہ کسی ایسے نظریہ کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھے جسے ان کا ذہن اور ضمیر مسترد کر چکا ہو ۔ وہ فطری طور پر اتنے نڈر اور بیباک تھے کہ وہ کسی جابر حکمران کے خوف سے کسی باطل کے سامنے سر جھکا نہیں سکتے تھے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ ان لوگوں کو جو نہ لالچی تھے، نہ مفاد پرست نہ بزدل تھے اور نہ ڈر پوک، کس چیز نے انہیں اسلام کا اس قدر گرویدہ بنا دیا اپنے محبوب اور حبیب رسولﷺ کے دست مبارک پر ایمان کا عہد کیا تو عمر بھر اس کو نبھایا۔ اور ان میں سے اکثر و بیشتر نے شہادت کی الفت میں بصد مسرت اپنی جان تک کا نذرانہ پیش کر دیا۔ بلا خوف تردید یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ اسلام کی حقانیت کا حسن و جمال تھا جس نے ان شیر دل انسانوں کے دلوں کو موہ لیا تھا۔ یہ سرور عالم ﷺ کے اسوہ حسنہ کی رعنائیاں اور زیبائیاں تھیں جنہوں نے ان عظیم انسانوں کو اپنا شیدائی بنا لیا تھا۔ یہ اتنے باضمیر اور با کردار لوگ تھے جنہیں کوئی قارون خریدنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ یہ وہ جری اور بہادر لوگ تھے جن کی ہیبت سے کوہساروں کے دل لرزتے تھے۔ اور جن کے رعب سے سمندروں کے طوفان سهم جایا کرتے تھے۔ ایسی نادرہ روز گار ہستیوں کا اسلام لانا، اسلام کی حقانیت اور نبی اسلام ، محسن کائنات محمد رسولﷺ کی صداقت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ جس اسلام نے اپنی انتہائی بے بسی اور بے کسی کے دور میں محض اپنے فطری حسن اور کمال دلنوازی سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ جیسے زیرک و دانا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے بہادر و مدبر، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ جیسے غنی اور فیاض۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ جیسے شیر دل اور سپہر علم و حکمت کے نیر اعظم ، حضرت سعد اور حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہما جیسے سپہ سالاروں اور فاتحین (رضی اللہ عنہم) کو اپنا جان نثار بنا لیا تھا۔ اسے کسی اور تلوار کی کیا ضرورت تھی ۔ یقیناً وہ سچا دین ہے اس کے ان عظیم فرزندوں کی دلکش صورت اور جہاں افروز سیرت سے بڑھ کر کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top