(آثار بعثت کا ظہور:حصہ دوم)
بعض حضرات نے لکھا ہے کہ حضورﷺ صرف رمضان شریف کا پورا مہینہ یہاں گزارتے تھے۔ لیکن احادیث صحیحہ کے مطالعہ سے یہی پتہ چلتا ہے کہ اگرچہ حضورﷺ رمضان المبارک کا پورا مہینہ یہاں گزارتے تھے لیکن اس کے علاوہ بھی بکثرت یہاں تشریف لایا کرتے تھے۔
اس روایت کے الفاظ بھی اس طرف اشارہ کرتے ہیں۔
“وَهُوَ التَّعْبُدُ اللَّيَالِيْ ذَوَاتَ الْعَدَدِ قَبْلَ اَنْ يَّنْزِعَ اِلٰى اَهْلِهٖ وَيَتَزَوَّدُ لِذٰلِكَ ثُمَّ يَرْجِعُ اِلٰى خَدِيْجَةَ وَيَتَزَوَّدُ لِمِثْلِهَا حَتّٰى جَآءَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِيْ غَارِ حِرَا”
ترجمہ: حضورﷺ چند روز کے لئے خورد و نوش کا سامان لے کر غار حراء میں تشریف لے جاتے جب یہ راشن ختم ہو جاتا تو پھر ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لاتے چند روز قیام فرماتے خورد و نوش کا سامان لے کر پھر اس غار میں اپنے رب کو یاد کرنے کے لئے فروکش ہو جاتے۔ اسی حالت میں وحی کا آغاز ہوا۔
حضور سرور عالمﷺ اس غار میں آ کر کیا کرتے تھے؟
اس کا جواب ایک لفظ وَ یَتَحَنَّثْ میں مذکور ہے ۔ یہ باب تفعل کا فعل مضارع ہے اس باب کا اہم خاصہ یہ ہے کہ مصدری معنی سے تَجَنُّب (پرہیز کرنا) پر دلالت کرتا ہے یعنی مصدری معنی کی نفی کرتا ہے جیسے تَأَثَّمَ اس کا ماخذ اور مصدر اَثِمَ ہے جس کا معنی گناہ کرنا ہے لیکن جب اس مصدر سے باب تفعل بنا کر تَأَثَّمَ کہا جاتا ہے تو اس وقت اس کا معنی ہوتا ہے گناہ سے اجتناب کرنا اس طرح تَہَجُّدُٗ کا مادہ ہُجُوْدٍ ہے جس کا معنی سونا ہے لیکن جب اس کا باب تفعل بنا کر تَہَجُّدُٗ کہا جاتا ہے تو اس کا معنی جاگنا ہوتا ہے۔ جس میں سونے کی نفی کی جاتی ہے۔
اسی طرح تَحَنُّثُٗ کا ماخذ حَنِثَ ہے جس کا معنی گناہ کا ارتکاب کرنا۔ اور تَحَنُّثُٗ کا معنی ہو گا گناہوں سے اجتناب کرنا یعنی اپنا وقت یاد الہیٰ میں صرف کرنا۔
(عمدة القاری، جلد اول، صفحہ55)
علامہ عینی علیہ الرحمۃ نے اس کا ایک دوسرا معنی بھی نقل کیا ہے ۔
“قَالَ اَبُو الْمَعَالِيْ فِي الْمُنْتَهٰى تَحَنَّثَ تَعَبَّدَ مِثْلَ تَحَنَّفَ”
ترجمہ: ابو المعالیٰ علیہ الرحمۃ کہتے ہیں کہ تحنث کا معنی تعبد ہے یعنی عبادت کرنا۔
علامہ عینی علیہ الرحمۃ نے ایک اور قول بھی اس سلسلہ میں نقل کیا ہے۔
“سُئِلَ ابْنُ الْاَعْرَابِيُّ عَنْ قَوْلِهٖ يَتَحَنَّثُ فَقَالَ لَا اَعْرِفُهٗ وَ سَاَلْتُ اَبَا عَمْرٍو اَلْشَّيْبَانِيَّ فَقَالَ لَا اَعْرِفُہٗ يَتَحَنَّثُ اِنَّمَا هُوَ يَتَحَنَّفُ”
ترجمہ: ابن الاعرابی اور شیبانی علیہما الرحمۃ کی رائے یہ ہے کہ یہ لفظ يَتَحَنَّثُ نہیں ہے بلکہ يَتَحَنَّفُ ہے۔ املاء کی غلطی سے ایسا لکھا گیا ہے۔ اس کا معنی ہے یکسوئی سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا۔
(عمدة القاری، جلد اول، صفحہ49)
امام مسلم علیہ الرحمۃ نے اپنی صحیح میں اور امام ترمذی علیہ الرحمۃ نے اپنی جامع میں یہ حدیث نقل کی ہے۔
“اِنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اِنِّيْ لَاَعْرِفُ حَجَرًا بِمَكَّةَ كَانَ يُسَلِّمُ عَلَىَّ قَبْلَ اَنْ یُّنْزَلَ عَلَىَّ”
ترجمہ: فرمایا میں مکہ میں ایک پتھر کو جانتا ہوں جو مجھ پر نزول وحی سے پہلے سلام بھیجا کرتا تھا۔ اسی طرح حضور کریمﷺ جب مکہ سے باہر وادیوں اور جنگل میں تشریف لے جاتے تو پتھر اور درخت “اَلصَّلوٰةُ وَ السَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہِ” کہہ کر سلام عرض کرتے۔
ان تمام امور سے مقصد یہ تھا کہ نبی کریمﷺ آنے والی ذمہ داریوں سے کچھ نہ کچھ آگاہ ہو جائیں اب ہم صحیح بخاری سے مذکورہ حدیث کا ایک اور حصہ نقل کرتے ہیں اور اس کا ترجمہ ہدیہ قارئین کرتے ہیں۔
“فَجَاءَهُ الْمَلِكُ فَقَالَ اِقْرَاْ قَالَ مَا اَنَا بِقَارِئِ ْقَالَ فَاَخَذَنِيْ فَغَطَّنِىْ حَتّٰى بَلَغَ مِنِّى الْجُهْدُ ثُمَّ اَرْسَلَنِيْ فَقَالَ اِقْرَاْ قُلْتُ مَا اَنَا بِقَارِئِ فَاَخَذَنِيْ فَغَطَّنِيَ الثَّانِيَةَ حَتّٰى بَلَغَ مِنِّيَ الْجُهْدُ ثُمَّ اَرْسَلَنِيْ فَقَالَ اِقْرَاْ فَقُلْتُ مَا اَنَا بِقَارِئٍ فَاَخَذَنِيْ فَغَطَّنِىْ الثَّالِثَةَ ثُمَّ اَرْسَلَنِيْ فَقَالَ :اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّکَ الَّذِیۡ خَلَقَ ۚ﴿1﴾ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَق ٍۚ﴿2﴾ اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَم ُۙ﴿3﴾ – فَرَجَعَ بِهَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ”
ترجمہ: پھر آپﷺ کے پاس (غار میں) فرشتہ حاضر ہوا اور کہا پڑھیے آپﷺ نے جواب دیا میں پڑھنے والا نہیں ہوں حضورﷺ فرماتے ہیں پھر اس فرشتہ نے مجھے پکڑا مجھے سینہ سے لگا کر خوب بھینچا یہاں تک مجھے اس کے زور سے بھینچنے سے تکلیف محسوس ہوئی۔ پھر مجھے چھوڑ دیا اور دوبارہ کہا کہ پڑھیے میں نے کہا میں پڑھنے والا نہیں ہوں ۔ اس نے پھر مجھے پکڑا سینے سے لگا کر خوب بھینچا یہاں تک کہ مجھے اس کے زور سے بھینچنے سے تکلیف محسوس ہوئی۔ پھر مجھے چھوڑ دیا اور سہ بارہ کہا پڑھیے ! میں نے پھر کہا میں پڑھنے والا نہیں پھر اس نے مجھے پکڑ کر تیسری بار خوب بھینچا۔ پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا:
اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّکَ الَّذِیۡ خَلَقَ ۚ﴿1﴾ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَق ٍۚ﴿2﴾ اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَم ُۙ﴿3﴾الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِۙ﴿4﴾ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ ﴿5﴾
ترجمہ: آپ پڑھیے اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے (سب کو ) پیدا فرمایا۔ پیدا کیا انسان کو جمے ہوئے خون سے۔ پڑھیے آپ کا رب بڑا کریم ہے۔ جس نے علم سکھایا قلم کے واسطہ سے۔ اسی نے سکھایا انسان کو جو وہ نہیں جانتا تھا۔
(سورۃ العلق،آیۃ:1-5)
ہم حدیث پاک کے اس حصہ میں چند امور کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں۔ اِقۡرَاْ صیغہ امر ہے۔ جو وجوب اور حکم کے لئے آتا ہے۔ لیکن یہاں یہ تلقین کے لئے ہے تکلیف کے لئے نہیں۔ بارگاہ نبوت ﷺکے ادب کا تقاضا بھی یہی ہے۔
(فیض الباری، جلد اول، صفحہ24)
“اِقْرَاْ لَيْسَ مِنْ بَابِ التَّكْلِيْفِ بَلْ مِنْ بَابِ التَّلْقِيْنِ”
ترجمہ:غَطْ کا معنی ہے کسی چیز کو پانی میں ڈبو دینا۔ یا کسی چیز کو زور سے نچوڑنا تا کہ اس میں پانی کا قطرہ بھی نہ رہے۔ یہاں مراد ہے سینے سے لگا کر بھینچنا۔ علماء کے نزدیک اس سے مقصد تنبیہ کرنا ہے۔ لیکن صوفیاء کرام کے نزدیک اس سے مقصود دل میں القاء کرنا، بشریت سے ملکیت کی طرف قریب کرنا۔ استاد و تلمیذ میں مناسبت پیدا کرنا۔
(فیض الباری، جلد اول، صفحہ24)
“ذَكَرَ الْعُلَمَآءُ اَنَّهٗ كَانَ ضَرْبًا مِّنَ التَّنْبِيْهِ وَقَالَ الصُّوْفِيَةُ كَثَّرَهُمُ اللَّهُ تَعَالٰى اِنَّهٗ كَانَ لِلْاِ لْقَآءِ فِي الْقَلْبِ وَلِلتَّقْرِيْبِ اِلَى الْمَلْكِيَّةِ وَ اِحْدَاثِ الْمُنَاسِبَةِ بِهَا”
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲