Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 191دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوارحصہ: اکیسواں}

{دعوت اسلام کا تیسرا دور : حصہ سوم}
(حضورﷺ کو اپنا ہم نوا بنانے کے لیے دیگر مساعی : حصہ اول)


کفار مکہ کے جتنے وفد حضرت ابو طالب کے پاس گئے وہ نا کام و نا مراد لوٹے۔ لیکن کفار نے اب براہ راست حضور ﷺ سے سلسلہ گفتگو کا آغاز کیا۔ عتبہ بن ربیعہ، رؤساء قریش میں سے ایک سر بر آوردہ رئیس تھا۔ ایک روز صحن حرم میں قریش کی ایک محفل جمی ہوئی تھی۔ یہ بھی اس میں بیٹھا ہوا تھا۔ اور حضور نبی کریم ﷺ دور حرم کے ایک گوشہ میں یاد الہٰی میں مصروف تھے۔ عتبہ بولا۔ اے قریشی بھائیو! کیا میں محمد (روحی فداہ علیہ الصلوٰۃ والسلام) کے پاس نہ جاؤں اور ان سے گفتگو کروں اور ان کے سامنے چند تجاویز پیش کروں شائد ان میں سے کوئی تجویز وہ مان لیں اور ہماری اس پریشانی کا خاتمہ ہو جائے۔ یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نئے نئے مشرف با اسلام ہوئے تھے اور آئے روز مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جاتا تھا۔ سب نے اس بات کی تائید کی اور کہا اے ابو الولید! اٹھئے اور ان سے گفتگو کیجئے۔ عتبہ اٹھا اور حضور ﷺ کے پاس جاکر بیٹھ گیا کچھ دیر سکوت طاری رہا پھر اس نے مہر سکوت توڑی اور یوں گویا ہوا۔

اے میرے پیارے بھتیجے ! حسب و نسب کے لحاظ سے جو تیرا مقام ہے وہ ہم سب کو معلوم ہے لیکن تو نے اپنی قوم کو ایک بڑی مصیبت میں مبتلا کر دیا ہے تو نے ان کے اتحاد کو پارہ پارہ کر دیا ہے تو انہیں بے وقوف کہتا ہے ۔ ان کے خداؤں اور ان کے عقائد کی عیب چینی کرتا ہے ان کے باپ دادوں کو کافر کہتا ہے اب میری بات سنو ۔ میں چند تجاویز پیش کرتا ہوں ان میں غور کرو اور ان میں سے جو تجویز تمہیں پسند ہو وہ قبول کر لو۔ حضورﷺ نے یہ سن کر فرمایا اے ابا ولید ! اپنی تجاویز پیش کرو میں سننے کے لئے تیار ہوں۔ عتبہ کہنے لگا۔ پہلی تجویز تو یہ ہے کہ یہ سب کچھ جو آپﷺ کر رہے ہیں۔ اگر اس سےآپکا مقصد مال جمع کرنا ہے تو ہم آپﷺ کے سامنے دولت کا انبار لگا دینے کے لئے تیار ہیں تاکہ آپ ﷺ سارے ملک عرب میں رئیس اعظم بن جائیں۔ اور اگر اس کا مقصد عزت اور سرداری حاصل کرنا ہے تو ہم سب آپ ﷺ کو اپنا سردار ماننے کے لئے آمادہ ہیں آپ ﷺ کے حکم کے بغیر ہم کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے۔اور اگر آپ ﷺ بادشاہی کے طلب گار ہیں تو ہم سب آپ ﷺ کو اپنا بادشاہ تسلیم کر لیتے ہیں۔ اور اگر جنات کا کوئی اثر ہے جس سے مغلوب ہو کر آپ ﷺ نے ساری قوم کے خلاف محاذ قائم کر رکھا ہے تو ہم آپ ﷺ کا علاج کرانے کے لئے تیار ہیں۔ اس علاج میں جتنا بھی خرچ ہوگا وہ ہم برداشت کریں گے۔ آپ ﷺ کو اس بارے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
وہ کہتا رہا حضورﷺ خاموشی سے سنتے رہے۔ جب وہ خود ہی چُپ ہو گیا تو رحمت عالم ﷺگویا ہوئے ۔
قَدْ فَرَغْتَ يَا اَبَا الْوَلِيۡدِ؟
ترجمہ: اے ابا الولید! تم نے اپنی بات پوری کر لی؟
اس نے کہا ہاں! حضور ﷺنے فرمایا اب میرا جواب سنو۔ اس نے کہا فرمائیے میں سنتا ہوں۔
وَقَالَ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيۡمِ ﴿﴾
حٰمٓ ۚ﴿1﴾ تَنۡزِیۡلٌ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۚ﴿2﴾ کِتٰبٌ فُصِّلَتۡ اٰیٰتُہٗ قُرۡاٰنًا عَرَبِیًّا لِّقَوۡمٍ یَّعۡلَمُوۡنَ ۙ﴿3﴾ بَشِیۡرًا وَّ نَذِیۡرًا ۚ فَاَعۡرَضَ اَکۡثَرُہُمۡ فَہُمۡ لَا یَسۡمَعُوۡنَ ﴿4﴾ وَ قَالُوۡا قُلُوۡبُنَا فِیۡۤ اَکِنَّۃٍ مِّمَّا تَدۡعُوۡنَاۤ اِلَیۡہِ وَ فِیۡۤ اٰذَانِنَا وَقۡرٌ وَّ مِنۡۢ بَیۡنِنَا وَ بَیۡنِکَ حِجَابٌ فَاعۡمَلۡ اِنَّنَا عٰمِلُوۡنَ ﴿5﴾
ترجمہ:اور فرمایا : ۔ اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو بہت ہی مہربان ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے۔
حا، میم (حقیقی معنی اللہ اور رسول ﷺ ہی بہتر جانتے ہیں) نہایت مہربان بہت رحم فرمانے والے (رب) کی جانب سے اتارا جانا ہے۔ (اِس) کتاب کا جس کی آیات واضح طور پر بیان کر دی گئی ہیں علم و دانش رکھنے والی قوم کے لئے عربی (زبان میں) قرآن (ہے)۔ خوشخبری سنانے والا ہے اور ڈر سنانے والا ہے، پھر ان میں سے اکثر لوگوں نے رُوگردانی کی سو وہ (اِسے) سنتے ہی نہیں ہیں۔اور کہتے ہیں کہ ہمارے دل اُس چیز سے غلافوں میں ہیں جس کی طرف آپ ہمیں بلاتے ہیں اور ہمارے کانوں میں (بہرے پن کا) بوجھ ہے اور ہمارے اور آپ کے درمیان پردہ ہے سو آپ (اپنا) عمل کرتے رہئے ہم اپنا عمل کرنے والے ہیں۔
(سورۃ حم السجدة،آیۃ:5-1 )

اللہ کا حبیبﷺ اپنے رب کا کلام پڑھتا جا رہا تھا اور عتبہ دم بخود سنتا جا رہا تھا اس نے اپنے بازو پیٹھ کے پیچھے زمین پر ٹیک لئے تھے۔ حضور ﷺنے آیت سجدہ تک اس سورت کی تلاوت کی اور پھر خود سجدہ کیا۔ پھر حضور ﷺنے عتبہ کو مخاطب کر کے فرمایا۔
“قَدْ سَمِعْتَ يَا اَبَا الْوَلِيۡدِ مَا سَمِعْتَ فَاَنْتَ وَذَاكَ”
ترجمہ: جو تجھے سننا چاہئے تھا وہ تم نے سن لیا۔ اب تم جانو اور تمہارا کام ۔
عتبہ اُٹھ کر اپنے ساتھیوں کی طرف گیا اسے آتا دیکھ کر وہ آپس میں سرگوشیاں کرنے لگے بعض نے کہا ہم قسم کھا کر کہتے ہیں کہ یہ عتبہ جو آ رہا ہے یہ وہ نہیں جو گیا تھا۔ اب اس کا چہرہ بالکل بدلا ہوا ہے اتنے میں عتبہ آ کر ان کے پاس بیٹھ گیا وہ بولے فرمائیے ۔ کیا کر آئے ہو۔ اس نے کہا میں نے وہاں ایک ایسا کلام سنا ہے بخدا میں نے اس سے پہلے اس جیسا کبھی نہیں سنا۔ بخدا نہ وہ شعر ہے نہ جادو ہے اور نہ کہانت ہے۔ اے قوم قریش! میری بات مانو اس کو اپنے حال پر چھوڑ دو۔ تم اس سے کنارہ کش ہو جاؤ ۔ جو کلام میں سن کر آیا ہوں خدا کی قسم اس کا بہت بڑا نتیجہ نکلنے والا ہے۔ اگر عرب کے دوسرے قبائل اس کے ساتھ جنگ کر کے اس کا خاتمہ کر دیں تو تمہارا مطلب بغیر کسی تکلیف کے پورا ہو گیا۔ اور اگر سارے عرب پر اس نے غلبہ پا لیا اور ان پر حکومت قائم کر لی تو وہ حکومت تمہاری ہی ہو گی۔ وہ عزت جو اس وقت اسے ملے گی وہ بھی تمہاری عزت ہو گی ۔ اس طرح تم خوش نصیب ترین قوم ہو گے کہ بغیر کشت و خون کے تم عرب کے تاج و تخت کے مالک بن جاؤ گے۔ وہ یہ سن کر چیخ اٹھے اے ابو الولید! اس کی زبان کا جادو تم پر چل گیا ہے اور تم بھی اپنے مذہب سے مرتد ہو گئے ہو ۔ عتبہ بولا، میں نے اپنی رائے تمہیں بتا دی اب جو تمہاری مرضی تم وہ کرو۔
(سبل الہدیٰ والرشاد، جلد دوم، صفحہ 449)

اس واقعہ کے بارے میں ایک اور روایت بھی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ سے گفتگو کرنے کے بعد وہ قریش کے پاس لوٹ کر نہیں آیا بلکہ سیدھا گھر چلا گیا اور کئی روز تک اپنے قریشی بھائیوں سے ملاقات تک نہ کی۔ ابو جہل کہنے لگا اے گروہ قریش ! میرا خیال ہے کہ عتبہ مرتد ہو گیا ہے اور محمد (فداہ روحیﷺ) کی طرف مائل ہو گیا ہے حقیقت یہ ہے کہ عتبہ کو محمدﷺ کے لذیذ کھانوں نے اپنا گرویدہ بنا لیا ہے یا اسے کوئی ایسی ضرورت لاحق ہو گئی ہے جو ان کے بغیر پوری نہیں ہو سکتی اس لئے اس نے ہم سے منہ موڑ لیا ہے ۔ اٹھو! اس کے پاس چلتے ہیں اور اس سے بات کرتے ہیں۔ ابو جہل ان سب کو لے کر عتبہ کے گھر پہنچا۔ اور کہنے لگا اے عتبہ ! ہمیں اطلاع ملی ہے کہ تم نے اپنا آبائی مذہب چھوڑ دیا ہے اور محمدﷺکے فریفتہ ہو گئے ہو۔ اگر تجھے تنگ دستی کی شکایت ہے جس کی بناء پر تم گھر لذیذ کھانے نہیں پکوا سکتے تو ہمیں حکم دے ہم تیرے لئے اتنا مال جمع کر دیں گے کہ تو غنی ہو جائے گا۔ اور اپنے گھر میں جیسے لذیذ کھانے چاہے گا پکوا لیا کرے گا اوروں کے دستر خوان پر جانے کی تمہیں محتاجی نہیں رہے گی۔ عتبہ کوئی معمولی آدمی نہیں تھا۔ قریش کا رئیس تھا۔ دولت مند تھا مکہ کے دانش مندوں میں اس کا شمار ہوتا تھا۔ لیکن کفر کی نحوست نے اس کی عقل سلیم کو مسخ کر دیا تھا۔ ابو جہل کے اس بیہودہ طعنہ نے اس کی اندھی عصبیت کو بر افروختہ کر دیا۔ اور غضب ناک ہو کر اس نے قسم کھائی کہ آج کے بعد میں محمد (ﷺ) سے بات تک نہ کروں گا۔ تم سب کو علم ہے کہ میں قریش میں سب سے زیادہ دولت مند آدمی ہوں مجھے تمہاری خیرات کی کیا ضرورت ہے۔
پھر اس نے وہ سارا واقعہ بیان کیا جو ذکر ہو چکا ہے۔
(السيرة النبویہ ابن ہشام، جلد اول، صفحہ 313-314)

جس کلام الہیٰ کے اعجاز بلاغت نے عتبہ جیسے دشمن اسلام کو پانی پانی کر دیا اگر دنیاوی مفاد حائل نہ ہوتا تو وہ آج یقیناً حضور نبی کریم ﷺ کے دست حق پرست پر اسلام کی بیعت کر لیتا اس طرح باقی لوگ بھی اسلام سے متاثر ہو رہے تھے۔ آج یا کل وہ ساری رکاوٹوں کو عبور کر کے غلامی مصطفیٰ ﷺ کا طوق زیب گلو کر رہا تھا۔ مکہ کے قریشی قبائل میں سے کوئی قبیلہ بھی ایسا نہ رہا تھا جس میں سے کوئی نہ کوئی ایمان نہ لا چکا ہو ۔ اگر ان سے کوئی طاقتور شخص مسلمان ہوتا تو خون کے گھونٹ پی کر رہ جاتے۔ اگر اپنے جیسا کوئی ایسا کرتا تو اس کے ساتھ سارے تعلقات منقطع کر دیئے جاتے۔ لیکن اگر کوئی کمزور او اور بے یار و مدد گار یہ جسارت کر بیٹھتا تو اس کے لئے جینا حرام کر دیا جاتا ۔ طرح طرح سے اسے ستایا جاتا۔ اسے تڑپتا دیکھ کر مسرت سے قہقے لگائے جاتے۔ لیکن دست حبیب کبریا ﷺسے توحید کی شراب کا جام پینے والے اپنی جرأت و استقامت کے ایسے مظاہرے کرتے کہ پہاڑوں کی فلک بوس چوٹیاں ادب سے ان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے جھک جایا کرتیں۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top