Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 163بعثت مبارکہ: حصہ پنجم)

(الوحی)


کلمہ وحی کی ایسی تشریح جس سے اس کا لغوی اور اصطلاحی معنی واضح ہو جائے اور ذہن میں کسی قسم کی خلش باقی نہ رہے اس کے لئے تفسیر “المنار ” کی مندرجہ ذیل عبارت غور و فکر کے لئے قارئین کی خدمت میں پیش کی جاتی ہے۔
الشیخ رشید رضا علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں۔

اَلْوَحْىُ فِي اللُّغَةِ : يُطْلَقُ عَلَى الْاِشَارَةِ وَالْاِيْمَاءِ وَمِنْهُ قَوْلُهٗ تَعَالٰى فَاَوْحٰى اِلَيْهِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُكْرَةً وَّعَشِيًّا○ (سورۃ مريم،آیۃ : 11)

وَعَلَى الْاِلْهَامِ الَّذِيْ يَقَعُ فِي النَّفْسِ وَهُوَ اَخْفٰى مِنَ الْاِيْمَاءِ وَمِنْهُ قَوْلُهٗ تَعَالٰى وَاَوْحَيْنَا اِلٰى اُمِّ مُوْسٰى○ (سورۃالقصص،آیۃ :22)

وَيَظْهَرُ اَنَّ هٰذَا بِعِنَايَةٍ خَاصَّةٍ مَّا مِنَ اللَّهِ تَعَالٰى وَعَلٰى مَا يَكُوْنُ غَرِيْزِيَّةً دَآئِمَةً مِّنْهُ قَوْلُهٗ تَعَالٰى وَاَوْحٰى رَبُّکَ اِلَی النَّحْلِ○
(سورۃ النحل،آیۃ :28)

وَعَلَى الْاِعْلَامِ فِي الْخِفَآءِ وَهُوَ اَنْ تُعَلِّمُ اِنْسَاناً بِاَمْرٍ تُخْفِيْهِ عَنْ غَيْرِهٖ وَمِنْهُ قَوْلُهٗ تَعَالٰى شَيَاطِيْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ يُوْحِىْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ○
(سورۃالانعام،آیۃ :113)

“وَاُطْلِقَ عَلَى الْكِتَابَةِ وَالرِّسَالَةِ لِمَا يَكُوْنُ فِيْهِمَا مِنَ التَّخْصِيْصِ”
ترجمہ: لغت میں وحی کا اطلاق مختلف معنوں پر ہوتا ہے کبھی اشارہ کے معنی میں جیسے سورۃ مریم آیت 11 میں ارشاد ہے:

پس اشارہ کیا حضرت زکریا علیہ السلام نے ان لوگوں کی طرف کہ تسبیح بیان کرو اللہ تعالیٰ کی صبح و شام۔

کبھی معنی الہام میں استعمال ہوتا ہے: جو دل میں ڈال دیا جاتا ہے اس میں اشارہ سے بھی زیادہ راز داری ہوتی ہے جس طرح سورۃ القصص آیت نمبر27 میں ہے کہ: ہم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کے دل میں یہ بات ڈال دی۔ اور اس وحی الہام سے اسی شخص کو نوازا جاتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی ہو۔

اور کبھی اس کا اطلاق اس صفت پر ہوتا ہے جو کسی چیز کی فطرت میں ودیعت کر دی گئی ہو اور اس میں دوام پایا جائے جیسے آیت 28 سورہ النحل میں ہے: آپﷺ کے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی فرمائی یعنی اس کی فطرت میں یہ چیز ڈال دی۔

کبھی اس کا اطلاق کسی شخص کو راز داری اور چپکے سے کسی امر پر مطلع کر دینے پر ہوتا ہے تاکہ کسی دوسرے آدمی کو اس کا پتہ نہ چلے۔ جیسے آیت 113 سورہ الانعام میں ہے کہ :انسانوں اور جنوں میں سے شیاطین چپکے چپکے ایک دوسرے کو اپنے منصوبوں سے آگاہ کرتے ہیں۔ جو وہ اللہ کے نبیوں کے خلاف بناتے رہتے ہیں۔
اور وحی کا اطلاق تحریر اور پیغام رسانی پر ہوتا ہے کیونکہ یہ چیز بھی ان دو آدمیوں کے ساتھ مخصوص ہوتی ہے اور عام آدمی کو اس کا علم نہیں ہوتا۔

کلمہ وحی کے یہ لغوی معنی ہیں۔ جن میں اہل زبان اس کو استعمال کرتے ہیں اس سلسلہ میں آیات قرآنی کی متعدد مثالیں آپ ابھی پڑھ چکے ہیں۔ لیکن وہ وحی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انبیاء کرام کے ساتھ مخصوص ہوتی ہے اس کی تشریح صاحب المنار نے اس عبارت سے یوں کی ہے۔
“وَ وَحْيُ اللهِ اِلٰى اَنْبِيَآئِهٖ هُوَ مَا يُلْقِيْهِ اِلَيْهِ مِنَ الْعِلْمِ الضَّرُوْرِيِّ الَّذِيْ يُخْفِيْهِ عَنْ غَيْرِهٖ بَعْدَ اَنْ يَّكُوْنَ اَعَدَّ اَرْوَاحَهُمْ لِتُلْقِّيْهِ بِوَاسِطَةٍ كَمَلَكٍ اَوْ بِغَيْرِ وَاسِطَةٍ”
ترجمہ: وہ وحی جو اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کی طرف کرتا ہے اس سے مراد وہ علم ضروری اور بدیہی ہے جو منجانب الہیٰ انبیاء کرام کے دلوں میں پیدا کر دیا جاتا ہے۔ جسے دوسرے لوگوں سے مخفی رکھا جاتا ہے اور اس وحی کے القا سے پہلے اللہ تعالیٰ انبیاء کرام کی ارواح میں ایسی استعداد پیدا کر دیتا ہے جس سے وہ اس وحی کو قبول کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں چاہے وہ وحی فرشتہ کے واسطہ سے ہو یا بغیر کسی واسطہ کے۔
(المنار، جلد ششم، صفحہ 28)

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top