یہ عمارت عہد رسالتﷺ اور عہد خلافت راشدہ بلکہ اس کے بعد بھی کچھ عرصہ تک جوں کی توں قائم رہی۔ 64ھ میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا قبضہ حرم مکہ پر مکمل ہو گیا۔ یزید نے اپنا لشکر حصین بن نمیر کی قیادت میں آپ رضی اللہ عنہ کے مقابلہ کے لئے مکہ بھیجا اس نے حرم شریف کا محاصرہ کر لیا اور منجنیقوں (توپوں) کے ذریعہ پتھر برسائے اس سنگ باری سے عمارت کعبہ میں جگہ جگہ شگاف پڑ گئے۔ وہ ظالم اللہ کے گھر پر ابھی پتھر برسا رہا تھا کہ یزید کی موت کی اسے اطلاع ملی ۔ اور اسے اپنا محاصرہ اٹھا کر بے نیل مرام (مقصد حاصل کیے بغیر) لوٹنا پڑا۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس خستہ عمارت کو گرا کر ان بنیادوں پر کعبہ مقدسہ کی از سر نو تعمیر کی جن پر حضرت خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمائی تھی۔ دو سطح زمین کے برابر رکھے ایک مشرقی سمت دوسرا مغربی سمت میں ایک داخل ہونے کے لئے دوسرا باہر نکلنے کے لئے لیکن حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کا اقتدار زیادہ عرصہ برقرار نہ رہا۔ حجاج نے مکہ پر حملہ کیا اور آپ رضی اللہ عنہ کو بڑی بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔ حجاج کو مکہ کا گورنر مقرر کیا گیا اس نے اموی خلیفہ عبدالملک بن مروان کو کعبہ کی تعمیر کے بارے میں لکھا اس نے از راہ بغض حکم دیا کہ اس عمارت کو گرا دیا جائے جو حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے تعمیر کرائی ہے۔ اور جن بنیادوں پر پہلے تعمیر کی گئی تھی انہیں پر تعمیر کی جائے۔ حجر کے حصہ کو حسب سابق باہر رکھا جائے دو دروازوں کے بجائے ایک دروازہ رکھا جائے۔ دوسرا دروازہ بند کر دیا جائے جب اس کے حکم کے مطابق کعبہ کی دوبارہ تعمیر کی گئی تو پھر اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا اب وہ اظہار ندامت کیا کرتا اور حجاج پر لعنت بھیجتا۔ آخر کار بنی امیہ کا عہد حکومت اختتام پذیر ہوا ان کی جگہ عباسی خلافت کا آغاز ہوا ان کے ایک خلیفہ مہدی نے ارادہ کیا کہ اس عمارت کو گرا دے اور پھر کعبہ کو اپنی اصلی بنیادوں پر تعمیر کرے اس نے اس کے بارے میں امام دار الہجرۃ سیدنا امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دریافت کیا اس عالم ربانی نے ایسا کرنے سے منع فرمایا اور اس کی وجہ بھی بیان فرما دی فرمایا۔ “اِنِّيۡ اَكْرَهٗ اَنْ يَّتَّخِذَهَا الْمُلُوۡكُ مَلْعَبَةً”
ترجمہ: میں اس بات کو نا پسند کرتا ہوں اس طرح کعبہ مقدسہ بادشاہوں کا کھلونا بن جائے گا یعنی جس کا جی چاہے گا پہلی عمارت کو گرا کر اپنے نام سے نیا کعبہ بنانے لگے گا اس طرح اس کا تقدس مجروح ہو گا۔
(السيرة النبویہ، ابن کثیر، جلد اول، صفحہ 282)
خلیفہ مہدی نے امام کی رائے کے سامنے سر جھکا دیا آج تک کعبہ کی وہی عمارت قائم ہے اللہ تعالیٰ عزت و شرف کے ساتھ اپنے اس مقدس گھر کو ابد الآباد تک سلامت رکھے۔ ہم گناہگاروں عصیاں شعاروں کی جائے پناہ برقرار رہے
“اٰمِيۡنَ ثُمَّ اٰمِيۡنَ بِجَاهِ حَبِيۡبِهِ الۡكَرِيۡمِ النَّبِيِّ الْاُمِّيِ الَّذِيۡ نَوَّرَ اَرْجَآءَهَا بِنُوۡرِ التَّوْحِيۡدِ وَعَمَّرَ حَرَمَهَا بِسُجُوۡدِ السَّاجِدِيۡنَ وَذِكْرِ الذَّاكِرِيۡنَ وَعَلٰى اٰلِهٖ وَصَحْبِهٖ وَمَنْ اَحَبَّهٗ وَاتَّبَعَہٗ اَجْمَعِيۡنَ اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنَ”
اعلان نبوت سے پہلے حضور نبی کریم ﷺ کی ذات ، جن محامد و کمالات کا مرقع زیبا تھی اس کی شان دلنوازی کو آشکارا کرنے کے لئے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ قارئین کے مطالعہ کے لئے پیش کیا جاتا ہے ۔ علامہ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے “الاصابہ فی تمییز الصحابہ” اور علامہ ابن اثیر علیہ الرحمۃ نے “اُسْد الغابۃ فی معرفۃ الصحابہ” میں اس واقعہ کو یوں قلم بند کیا ہے۔ آپ کا نام حضرت زید بن حارثہ بن شراحیل الکعبی رضی اللہ عنہ تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ کا نام سُعدی تھا جو بنی معن خاندان کی ایک خاتون تھیں بچپن میں وہ اپنی ماں کے ساتھ اپنے ننھال آئے ہوئے تھے کہ بنی قین قبیلہ کے شہسواروں نے ان کے خیموں پر یورش کر دی ان کے ساز و سامان کو لوٹا اور حضرت زید رضی اللہ عنہ کو بھی پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئے اور عکاظ کی منڈی میں انہیں جا کر فروخت کر دیا۔ حکیم بن حزام حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے تھے انہوں نے چار سو درہم کے عوض انہیں خرید لیا اور اپنی پھو پھی صاحبہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں پیش کر دیا۔ جب آپ نبی کریمﷺ کے عقد میں آئیں توآپ رضی اللہ عنہا نے حضرت زید رضی اللہ عنہ کو بطور تحفہ حضورﷺ کی خدمت میں پیش کیا تا کہ وہ حضورﷺ کی خدمت میں رہے حضورﷺ نے حضرت زید رضی اللہ عنہ کو اسی وقت آزاد کر دیا اور بچوں کی طرح ان کے ساتھ محبت و پیار کا برتاؤ فرماتے رہے۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ کے والد حارثہ اپنے لڑکے کے فراق میں دیوانہ ہو گئے ان کی تلاش میں ملک ملک کی خاک چھان ماری اپنے بیٹے کے فراق میں جو قصیدہ انہوں نے لکھا اسے پڑھ کر آج بھی دل پیچ جاتا ہے اس کے چند شعر آپ بھی ملاحظہ فرمائیں۔ ایک بدو کی بلاغت اور اس کے درد و سوز سے آگاہی حاصل کریں۔
بَكَيْتُ عَلٰى زَيْدٍ وَ لَمْ اَدْرِمَا فَعَلۡ
اَ حَىٌ فَيُرْجٰي اَمْ اَتٰى دُوۡنَهُ الْاَجَلۡ
میں حضرت زید رضی اللہ عنہ کے فراق میں ہر وقت روتا رہتا ہوں مجھے اس کے حال کا کوئی علم نہیں کیا وہ زندہ ہے تاکہ اس کے لوٹ آنے کی امید کی جائے یا موت کی آغوش میں سو چکا ہے۔
تُذَكِّرُنِيۡهِ الشَّمْسُ عِنْدَ طُلُوۡعِهَا
وَتَعْرِضُ ذِكْرَاهُ اِذَا غَرْبُهَا اَفَلْ
سورج جب طلوع ہوتا ہے تو وہ اس کی یاد تازہ کر دیتا ہے۔ اور جب غروب ہونے لگتا ہے تو پھر بھی اس کی یاد ستانے لگتی ہے ۔
وَاِن هَبَّتِ الۡاَرْوَاحُ هَیَّجْنَ ذِكْرَهٗ
فَيَاۡ طُوۡلَ مَا حُزْنِيۡ عَلَيْهِ وَمَا وَجَلٖ
جب ہوائیں چلتی ہیں تو اس کی آتش شوق کو بھڑکا دیتی ہیں اس کی جدائی میں میرا غم اس کے متعلق میرے اندیشوں کا سلسلہ کتنا طویل ہے ۔
سَاَعْمَلُ نَصَّ الْعِيۡسِ فِي الْاَرْضِ جَاهِدًا
وَلَا اَسْئَمُ التَّطْوَافَ اَوْ تَسۡاَمَ الْاِبِلٖ
میں اپنی اعلی نسل کی سانڈنی کو زمین میں چلاتا رہوں گا اور نہ میں اس کی تلاش میں طواف کرنے سے تھکوں گا اور نہ ہی میری اونٹنی۔
حَيَاتِيۡ اَوْ تَاْتِيۡ عَلَىَّ مَنِيَّتِيۡ
وَكُلُّ امْرِئٍ فَانٍ وَّاِنْ غَرَّهُ الْاَمَلۡ
مجھے اپنی زندگی کی قسم میں اس کی طرف سفر جاری رکھوں گا یہاں تک کہ میری موت آ جائے۔ ہر شخص فانی ہے اگرچہ امید اسے دھوکا میں رکھے۔
(السيرة النبویہ، ابن ہشام، جلد اول، صفحہ 266)
اتفاق سے قبیلہ بنی کلب کا ایک قافلہ حج کے لئے مکہ آیا حضرت زید رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا اور پہچان لیا اور انہوں نے بھی حضرت زید رضی اللہ عنہ کو پہچان لیا اور انہیں بتایا کہ آپ رضی اللہ عنہ کے والد آپ رضی اللہ عنہ کے ہجر میں دن رات روتے رہتے ہیں انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو تلاش کرنے کے لئے سارے ملک کا چپہ چپہ روند ڈالا ہے۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے انہیں کہا کہ میرے والد کو میری طرف سے یہ پیغام پہنچا دینا۔
اُحِنَّ اِلٰى قَوْمِىۡ وَ اِنْ كُنْتُ نَائِياً
بِاَنِّيۡ قَطِيۡنُ الْبَيْتِ عِنْدَ الْمَشَاعِرٖ
وَ اِلٰى بِحَمۡدِ اللهِ فِيۡ خَيْرِ اُسْرَةٍ
كِرَامٍ مُعَدٍّ كَابِرًا بَعۡدَ كَابِرٖ
میرے دل میں اپنی قوم کا شوق موجزن رہتا ہے اگر چہ اپنے وطن سے بہت دور ہوں ۔ میں ایسے گھر میں سکونت پذیر ہوں جو مشاعر کے قریب ہے۔ میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ایک شریف خاندان میں زندگی بسر کر رہا ہوں جو لوگ بڑے کریم النفس ہیں جو پشت ہا پشت سے اپنے علاقہ کے رئیس ہیں۔
(السيرة النبویہ، ابن ہشام، جلد اول، صفحہ 266)
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲