اسلام کی ان ابتدائی شاندار کامیابیوں نے کفر و باطل کے ایوانوں میں ایک کہرام مچا دیا اور انہوں نے حق و صداقت کے اس ابھرتے ہوئے آفتاب کی کرنوں کا راستہ روکنے کے لئے پردے تاننے کی مہم کا آغاز کر دیا وہ یہ سمجھتے تھے کہ اس طرح وہ باطل کے اندھیروں کو حق کی ان رُوپَہْلی اور تابندہ کرنوں کی یلغار سے بچا سکیں گے ۔ جو بالکل نا ممکن تھا۔ ان کے جور و ستم کی مہم کا آغاز ایک چھوٹے سے واقعہ سے ہوا۔ جس کو علامہ ابن کثیر علیہ الرحمۃ کے حوالہ سے ہدیہ قارئین کیا جاتا ہے۔
علامہ ابن کثیر علیہ الرحمۃ رقمطراز ہیں جب مسلمان مردوں کی تعداد اڑتیس ہو گئی تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالتﷺ میں عرض کی کہ یا رسول اللہﷺ! اب ہمیں کھل کر میدان میں نکل آنا چاہئے اور تبلیغ اسلام کا فریضہ پوری قوت سے انجام دینا چاہئے۔ حضورﷺ نے فرمایا اے ابو بکر! ابھی ہماری تعداد بہت کم ہے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا اصرار جاری رہا یہاں تک کہ رسول اکرمﷺ دار ارقم کے حجرہ سے نکل کر حرم شریف کے صحن میں اپنے غلاموں کی معیت میں تشریف لے آئے اور تمام مسلمان مسجد کے کونوں میں بکھر گئے اور اپنے اپنے قبیلہ میں جا کر نشستیں سنبھال لیں۔ جب سب لوگ بیٹھ گئے تو سرکار دو عالمﷺ بھی تشریف لے آئے دنیائے اسلام کا سب سے پہلا خطیب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ لوگوں کو اللہ اور اس کے رسول ﷺکی طرف دعوت دینے کے لئے کھڑے ہوئے۔ کفار حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے اس خطبہ کو سن کر آگ بگولہ ہو گئے اور مشتعل ہو کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور باقی مسلمانوں پر ہلہ بول دیا اور ان پر خوب ظلم کیا۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پر تو ان کا غصہ بڑا شدید تھا چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ کو دھکا دے کر زمین پر گرایا اوپر چڑھ گئے پاؤں سے اور ڈنڈوں سے زد و کوب کرتے رہے اتنے میں بد بخت عقبہ بن ربیعہ آ گیا اس نے اپنے بھاری بھرکم جوتے اتارے اور ان سے آپ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر پے در پے ضربیں لگانے لگا اور آپ رضی اللہ عنہ کے پیٹ پر چڑھ کر کودنے لگا آپ رضی اللہ عنہ کا چہرہ سوج کر پھول گیا یہاں تک کہ ناک اس سوجن میں نظر ہی نہیں آتی تھی۔
آپ رضی اللہ عنہ کے قبیلہ بنی تیم کو معلوم ہوا تو انہوں نے مشرکین کو دھکے دے کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے دور ہٹایا اور آپ رضی اللہ عنہ کو ایک کپڑے میں لپیٹ کر آپ رضی اللہ عنہ کے گھر لے آئے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے میں کسی کو شک نہ تھا۔ پھر بنو تیم مسجد حرام میں واپس آئے اور اعلان کر دیا کہ اگر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ انتقال فرما گئے تو ہم عقبہ کو ضرور تہہ و تیغ کر دیں گے۔ یہ اعلان کرنے کے بعد پھر وہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جہاں وہ مدہوش پڑے تھے آپ رضی اللہ عنہ کے والد حضرت ابو قحافہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے قبیلہ والے آپ رضی اللہ عنہ کو بلاتے تھے لیکن آپ رضی اللہ عنہ کوئی جواب نہیں دیتے تھے سارا دن غشی طاری رہی جب سورج غروب ہونے لگا تو آپ رضی اللہ عنہ کو کچھ ہوش آیا۔ اور پہلا جملہ جو آپ رضی اللہ عنہ کی زبان سے نکلا وہ یہ تھا کہ “مَا فُعِلَ رَسُوۡلُ اللهِ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ” ترجمہ: مجھے بتاؤ میرے آقاﷺ میرے ہادی و مرشدﷺکا کیا حال ہے؟
یہ سن کر ان لوگوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا اور ملامت کرنے لگے ۔ پھر وہ لوگ وہاں سے واپس جانے کے لئے اٹھے اور آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ ام الخیر کو کہا کہ خیال رکھنا انہیں ضرور کچھ کھلانا پلانا۔ جب والدہ اکیلی آپ رضی اللہ عنہ کے پاس رہ گئیں اور اصرار کرنا شروع کیا کہ آپ رضی اللہ عنہ کچھ بولیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پھر وہی جملہ دہرایا:
“مَا فَعِلَ رَسُوۡلُ اللهِ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ” ترجمہ: کہ اللہ کے پیارے رسولﷺ کا کیا حال ہے؟
والدہ نے کہا بخدا! مجھے تیرے صاحبﷺ کے بارے میں کوئی خبر نہیں کہ ان کا کیا حال ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اماں ! حضرت ام جمیل بنت خطاب کے پاس جاؤ اور حضور ﷺکے بارے میں اس سے دریافت کرو۔آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ وہاں سے نکل کر حضرت ام جمیل کے پاس آئیں انہیں کہا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ سے حضرت محمد بن عبداللہﷺ کے بارے میں پوچھتے ہیں انہوں نے جواب دیا نہ میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو جانتی ہوں اور نہ حضرت محمد بن عبداللہﷺ کو اگر آپ پسند کریں تو میں آپ کے ساتھ آپ کے بیٹے کے پاس چلی جاتی ہوں ۔حضرت ام الخیر نے کہا بہت بہتر، چنانچہ حضرت ام جمیل ان کے ساتھ ان کے گھر آئیں ۔ دیکھا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ مدہوش پڑے ہیں اور نزع کی حالت ہے حضرت ام جمیل آپ رضی اللہ عنہ کے قریب گئی اور رونا چیخنا شروع کر دیا اور کہا بخدا جس قوم نے تیرے ساتھ یہ بہیمانہ سلوک کیا ہے بیشک وہ فاسق و فاجر اور کافر ہیں اور اللہ تعالیٰ ضرور ان سے انتقام لے گا لیکن حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ان سے بھی وہی سوال کیا
“مَا فَعَلَ رَسُوۡلُ اللهِ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ” ترجمہ: کہ میرے آقاﷺ کا کیا حال ہے ؟
حضرت ام جمیل نے کہا کہ یہ آپ رضی اللہ عنہ کی ماں سن رہی ہے آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ان سے ڈرنے کی ضرورت نہیں مطمئن ہونے کے بعد حضرت ام جمیل نے کہا :سَالِمٌ صَحِیۡحٌ . ترجمہ: کہ حضور ﷺ صحیح و سلامت ہیں۔
آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا۔ حضورﷺ کہاں ہیں؟ اس خاتون نے بتایا کہ حضورﷺ دار ابن ارقم میں ہیں۔ اپنے آقاﷺ کی خیریت کی خبر سن کر آپ رضی اللہ عنہ نے کہا۔ بخدا !میں اس وقت تک نہ کچھ کھاؤں گا اور نہ پیوں گا جب تک اللہ کے پیارے رسولﷺ کی بارگاہ ناز میں حاضری کا شرف حاصل نہ کروں گویا آپ رضی اللہ عنہ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر حضورﷺ کی خیریت کے بارے میں اطمینان حاصل کرنا چاہتے تھے ان دونوں خواتین نے کچھ دیر انتظار کیا یہاں تک کہ لوگوں کی آمد و رفت ختم ہو گئی سناٹا چھا گیا وہ آپ رضی اللہ عنہ کو لے کر گھر سے نکلیں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ان پر ٹیک لگائے ہوئے حضورﷺ کی بارگاہ میں پہنچے۔
“فَأَكَبَّ عَلَيْهِ رَسُوۡلُ اللهِ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبَّلَهٗ وَ أَكَبَّ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُوۡنَ وَ رَقَّ لَهٗ رَسُوۡلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِقَّةً شَدِيۡدَةً”
ترجمہ: حضورﷺ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پر جھک گئے اور ان کو بوسے دینے لگے اور مسلمان بھی ان پر جھک گئے اور آپ رضی اللہ عنہ کی حالت زار کو دیکھ کر نبی کریمﷺ کے دل رحیم پر بڑی رقت اور گداز طاری ہوا۔
حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہﷺ! میرے ماں باپ حضور ﷺپر قربان جائیں مجھے کوئی تکلیف نہیں سوائے ان جوتیوں کی ضربوں کے جو عقبہ نے میرے چہرے پر ماری ہیں۔
“وَ هٰذِهٖ اُمِّيۡ بَرَّۃُ بِوَلَدِهَا وَ اَنْتَ مُبَارَكٌ فَادْعُهَا اِلَى اللَّهِ وَ ادْعُ اللهَ لَهَا عَسَى اللهُ اَنْ يَّسْتَنْقِذَهَا بِكَ مِنَ النَّارِ”
ترجمہ: یہ میری ماں برّہ اپنے بیٹے کے ساتھ حاضر ہے حضورﷺ سراپا برکت ہیں انہیں اللہ کی طرف بلائیں اور ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں مجھے امید ہے حضورﷺ کی برکت سے اللہ تعالیٰ انہیں آگ سے نجات دے گا۔
حضور نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں ان کی ہدایت کےلئے التجا کی پھر انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی چنانچہ وہ مشرف بہ اسلام ہو گئیں۔ پھر مسلمان رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک مہینہ تک دار بنی ارقم میں قیام فرما رہے۔ اور خفیہ طریقہ سے لوگوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دیتے رہے۔
(السيرة النبویہ، ابن کثیر، جلد 1، صفحہ 439 تا 441 ، السيرة النبویہ، زینی دحلان، جلد 1 صفحہ210 تا211)
اس زمانہ میں جن لوگوں کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کی دعوت حق قبول کرنے کے لئے منشرح کیا ان میں سے چند حضرات کے کوائف پیش خدمت ہیں۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲