(حلف الفضول :حصہ دوم آخری حصہ)
یہ معاہدہ مدتوں نافذ العمل رہا۔ جب کسی مظلوم نے اس معاہدہ کا واسطہ دے کر فریاد کی تو لوگ بے تامل تلواریں بے نیام کئے اس فریادی کی مدد کے لئے دوڑ کر آئے۔ رومانیہ کے وزیر خارجہ “کونستانس جیور جیو” نے حضورﷺ کی سیرت طیبہ پر ایک کتاب لکھی۔ ہے جس کا نام ہے “نظرة جديدة فی سيرة رسول اللہﷺ ” جس کا عربی ترجمہ پروفیسر ڈاکٹر محمد التونجی نے کیا ہے جو حلب یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں۔ اس میں مصنف مذکور نے حلف الفضول کے بارے میں اپنی تحقیقات کا اضافہ کیا ہے۔ اِس سے اُس حلف کو ایک منظم اور طاقتور بنانے میں سرکار دو عالم ﷺ کی مساعی جمیلہ پر روشنی پڑتی ہے اس لئے ہم اس کتاب کے حوالے سے چند چیزیں ہدیہ قارئین کرتے ہیں۔ وہ حلف الفضول کے عنوان کے ضمن میں ہی ہیں۔
“كَانَ حِلْفُ الْفُضُوۡلِ عِبَارَةً عَنْ كَوْكَبَةٍ مُؤَلَّفَةٍ مِنْ رَهْطٍ مِنَ الْفِتْيَانِ المُسَلَّحِيۡنَ هَدۡفُهُمْ اَنْ لَّا يَضِيۡعَ حَقُّ الْمَظْلُوۡمِ”
ترجمہ: یعنی حلف الفضول عبارت ہے اس منظم دستہ سے جو مسلح نوجوانوں پر مشتمل تھا اور جن کا مقصد صرف یہ تھا کہ کسی مظلوم کا حق ضائع نہ ہو۔
(نظرة جديده فی سيرة رسول اللہﷺ، صفحہ 39)
وزیر موصوف اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں: کہ ایک بدو جنوبی علاقہ سے فریضہ حج ادا کرنے کے لئے مکہ مکرمہ آیا اس کے ساتھ اس کی ایک بیٹی بھی تھی جو بڑی خوبرو تھی ۔ مکہ کے ایک دولت مند تاجر ( جس کا نام دوسرے مؤرخین نے نبیہ بن حجاج لکھا ہے) نے اس بچی کو اغوا کر لیا اس مسکین باپ کے لئے بجز اس کے کوئی چارہ کار نہ رہا کہ وہ اپنے قبیلہ کے پاس جائے انہیں اپنی داستانِ غم سنائے اور ان سے مدد کی درخواست کرے۔ لیکن پھر اسے یاد آیا کہ اس کے قبیلہ میں مردوں کی تعداد بہت کم ہے۔وہ مکہ کے دس قریشی قبیلوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ وہ اسی پریشانی میں سرگرداں تھا جب محمد مصطفیٰ ﷺ کو اس واقعہ کا علم ہوا حضورﷺ نے قریش کے نوجوانوں کو اپنے پاس بلایا اور انہیں کہا کہ قریشی نے تاجر کے ساتھ جو نازیبا حرکت کی ہے اس پر ہمیں خاموش نہیں رہنا چاہئے، چنانچہ قریش کے چند نوجوان کعبہ شریف کے پاس جمع ہوئے اور سب نے بایں الفاظ حلف اٹھایا۔
“نُقْسِمُ اَنْ نَحْمِيَ الْمَظْلُوۡمَ حَتّٰى يَسْتَعِيۡدَ حَقَّهٗ مِنَ الظَّالِمِ وَ نُقْسِمُ اَنْ لَّا يَكُوۡنَ لَنَا هَدَفٌ مُعَيَّنٌ مِنْ وَّرَآءِ هٰذَا الْعَمَلِ وَلَا يُهِمُّنَا اَنۡ يَّكُوۡنَ الْمَظْلُوۡمُ فَقِيۡرًا اَوْ غَنِيًّا”
ترجمہ:ہم قسم اٹھاتے ہیں کہ ہم مظلوم کی مدد کریں گے یہاں تک کہ ظالم سے وہ اپنا حق واپس لے لے اور ہم قسم اٹھاتے ہیں کہ اس حلف سے اس کے بغیر ہمارا کوئی اور مقصد نہیں ہو گا۔ ہم اس بات کی پروا نہیں کریں گے کہ مظلوم غنی ہے یا فقیر ۔
(نظرة جديده ،صفحہ40)
جب انہوں نے قسم اٹھائی تو حضورﷺان کے ساتھ تھے۔ پھر انہوں نے حجر اسود کو زمزم کے پانی سے دھویا اور اس دھوون کو پی لیا۔ مقصد یہ ظاہر کرتا تھا کہ وہ اپنی قسم پر پختہ ہیں۔ حلف برداری کی اس تقریب کے بعد سرکار دو عالمﷺ اپنے نوجوان ساتھیوں کو ہمراہ لے کر اس ظالم تاجر کے گھر گئے اور اس کے مکان کا گھیراؤ کر لیا اور اس سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بچی کو عزت و آبرو کے ساتھ واپس کر دے۔ تاجر نے کہا کہ ایک رات مجھے مہلت دو میں صبح وہ لڑکی اس کے باپ کو لوٹا دوں گا لیکن ان نو جوانوں نے اس کی اس تجویز کو ٹھکرا دیا اس کو مجبور کیا کہ وہ بچی کو فوراً اس کے باپ کے سپرد کرے۔ اب وہ مجبور ہو گیا اور بادل نخواستہ اسے بچی کو واپس کرنا پڑا۔ یہی مصنف لکھتے ہیں: اس سلسلہ میں ایک اور روایت بھی ہے۔ ایک پردیسی تاجر مکہ آیا ابو جہل نے اس سے کچھ سامان خریدا۔ لیکن اس کی قیمت ادا کر نے سے انکار کر دیا۔ اس پردیسی تاجر کو نو جوانوں کے اس جتھہ کے بارے میں کوئی علم نہ تھا۔ وہ فریاد کناں اپنے قبیلہ کے پاس آیا انہیں برانگیخۃ کیا کہ وہ اس کی مدد کریں لیکن ایک محدود افراد پر مشتمل قبیلہ قریش کے دس قبائل سے کیونکر ٹکر لے سکتا تھا۔ انہوں نے معذرت کر دی وہ تاجر پھر مکہ لوٹ آیا۔ حضورﷺ کو ابو جہل کی اس حرکت کا علم ہوا تو حضورﷺ بنفس نفیس ابو جہل کے گھر تشریف لے گئے اور اس سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سامان کی قیمت تاجر کو ادا کرے چنانچہ بادل نخواستہ اسے قیمت ادا کرنا پڑی۔اس قسم کے واقعات سے حلف الفضول کو بڑی شہرت حاصل ہوئی اور وہ مظلوم و بے آسرا لوگ جن پر اثر و رسوخ والے لوگ ظلم کیا کرتے تھے اور کسی کو انہیں ٹوکنے کی بھی ہمت نہ تھی اب ان مظلوموں کو ایک سہارا مل گیا۔ جب بھی کسی پر کوئی شخص زیادتی کرتا تو حلف الفضول کے ارکان اور ان کے اس مسلح دستے کے نوجوان اس کی فریاد رسی کے لئے سامنے آ جاتے۔ یہ مصنف لکھتا ہے۔
“وَكَانَتْ فِكۡرَةُ اِیْجَادِ حَلْفِ الْفُضُوۡلِ مِنْ قِبَلِ رَسُوۡلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ الْبِعْثَةِ ذَاتَ اَهْمِيَّةٍ كَبِيۡرَةٍ لِاَنَّهٗ اِسْتَطَاعَ بِهٰذَا الْاِبْتِكَارِ اَنْ يُّحْدِثُ اِنْقِلَابًا فِيۡ اِسْتِرْدَادِ حُقُوۡقِ الْعَرَبِ وَتُمَکِّنِ مِنْ زَعْزَعَةِ فِكۡرَةِ الْاِنْتِقَامِ مِنَ الْقَبِيۡلَةِ كُلِّهَا”
ترجمہ:بعثت سے پہلے رسول اللہﷺ کی طرف سے حلف الفضول کے منصوبہ کی تجویز بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ اس جدت سے حضورﷺ نے لوگوں کے کھوئے ہوئے حقوق واپس دلانے میں ایک انقلاب برپا کر دیا اور اس تجویز کے ذریعہ سارے قبیلے کو ہدف انتقام بنانے کے نظریہ کا قلع قمع کر دیا۔ (نظرة جديده ،صفحہ 41)
جس طرح ہم پہلے بتا آئے ہیں کہ حلف فضول کا آغاز حضرت زبیر بن عبد المطلب کی تحریک سے ہوا اور اس کے بعد عبد اللہ بن جدعان کے گھر چند مشہور قبائل کے سردار جمع ہوئے اور انہوں نے مظلوم کی امداد کرنے کا معاہدہ کیا جو حلف الفضول کے نام سے تاریخ میں مشہور ہوا۔ لیکن اس میں صحیح قوت اور جان اس وقت پیدا ہوئی جب حضور ﷺ نے اس میں سرگرم حصہ لیا اور حضورﷺ کی ترغیب پر قریشی نوجوانوں کا ایک ایسا مسلح جتھہ تیار ہو گیا جو اس معاہدہ کے تحت کئے گئے فیصلوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ہر وقت سر دھڑ کی بازی لگانے کے لئے تیار رہتے تھے۔ اور مکہ کے بڑے بڑے رئیسوں اور سرمایہ داروں کی مجال نہ تھی کہ ان کے فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیں۔ اسی لئے اس یورپین مؤرخ نے حلف الفضول کے نظریہ کو حضورﷺ کی طرف منسوب کیا ہے۔ حضورﷺ اگرچہ بعثت سے قبل اپنی قوم کی مشرکانہ رسوم اور دیگر ناشائستہ حرکات اور اخلاق باختہ سرگرمیوں سے کلیۃً اجتناب فرمایا کرتے تھے لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ حضورﷺ اپنے معاشرہ سے الگ تھلگ راہبانہ قسم کی زندگی بسر کرتے تھے حضورﷺ اپنی قوم کی صحت مند اور مفید سرگرمیوں میں فعال حصہ لیا کرتے۔ ان کی شادی، خوشی و غمی میں شریک ہوتے۔ ان کی سیاسی ، ثقافتی ، معاشی مصروفیتوں میں مؤثر کردار انجام دیتے۔ جب کبھی سلیم الطبع لوگ اپنے معاشرہ کی بگڑی ہوئی حالت کو سنوارنے کے لئے کوئی مثبت قدم اٹھاتے تو حضورﷺ بڑی گرم جوشی سے اس میں شرکت فرماتے اور اس منصوبہ کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کرتے۔ زندگی اور زندگی کے تقاضوں سے آنکھیں بند رکھنا حضورﷺ کی فطرت سلیمہ کو گوارا ہی نہ تھا۔ تجارتی کاروانوں میں دور دراز کے سفر اختیار کرنا۔ حلف فضول میں شرکت اور اس کو کامیابی سے ہمکنار کرنا اسی سلسلہ کی کڑیاں ہیں۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲