(سب سے پہلے ایمان لانے والےحصہ :تیرہواں)
《حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ایمان لانا》
حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ جیسے شیر دل اور بہادر سردار کے اسلام لانے سے مکہ کی طاغوتی قوتوں پر سکتہ طاری ہو گیا لیکن اسلام کی قلوب و اذھان کو مسخر کرنے والی قوتیں اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز معجزوں کو بروئے کار لانے والی تھیں۔ چند روز میں عالم کفر کی ایک عدیم المثال شخصیت نبی رحمت ﷺ کے حضور دست بسۃ حاضر ہو کر سر تسلیم خم کرنے والی تھی۔
چنانچہ تین چار روز بعد خطاب کے لخت جگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ جو ایک قوی ہیکل، بلند قامت، بے باک مزاج 26 سالہ نوجوان تھے گوشہ تنہائی میں بیٹھے ہوئے اپنے ارد گرد وقوع پذیر ہونے والے واقعات پر غور و فکر کر رہے تھے۔ انہیں اس بات پر سخت حیرت تھی کہ تنہا ایک آدمی کی دعوت نے سارے ماحول کو پراگندہ کر کے رکھ دیا ہے مکہ کی پر امن فضا میں عداوت کی چنگاریاں سلگنے لگی ہیں۔ قبائل میں باہمی ہم آہنگی تہہ و بالا ہو رہی ہے۔ خاندانوں کی ایک دوسرے سے محبت نفرت کا رنگ اختیار کرتی جا رہی ہے بلکہ باپ بیٹوں سے، بھائی بھائی سے اور پڑوسی پڑوسی سے بدگمان ہوتا چلا جا رہا ہے۔ جن بتوں کی صدیوں سے پوجا کی جا رہی تھی۔ اب ان کی بے بسی اور بے کسی کے افسانے ہر کس و نا کس کی زبان پر ہیں۔ ہمارے آباؤ و اجداد کی دانش مندی کی قسمیں کھائی جاتی تھیں۔ اب انہیں گمراہ اور احمق کہا جا رہا ہے۔ عمر اور رتبہ میں چھوٹے لوگ بڑوں پر پھبتیاں کسنے لگے ہیں۔ اگر حالات پر قابو نہ پایا گیا تو ہمارا یہ عظیم اور مقدس معاشرتی نظام دھڑام سے زمین بوس ہو جائے گا۔ جو لوگ اس سلسلہ میں کوئی مؤثر کردار انجام دے سکتے ہیں انہیں جلد کوئی فیصلہ کن قدم اٹھانا چاہئے ۔ ورنہ پانی سر سے گزر جائے گا۔
وہ نوجوان اس بات پر بھی حیران و ششدر تھا کہ جو لوگ اس شخص کی دعوت کو قبول کر لیتے ہیں ان پر جتنی بھی سختیاں کی جائیں انہیں جتنے سنگین نوعیت کے عذاب کے شکنجوں میں کَس دیا جائے۔ وہ کسی قیمت پر اس دین سے اپنا رابطہ منقطع کرنے کے لئے آمادہ نہیں ہوتے۔ وہ سسک سسک کر جان تو دے سکتے ہیں۔ لیکن اس نبی مکرمﷺ کا دامن چھوڑنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ طویل غور و خوض کے بعد وہ نوجوان اس نتیجہ پر پہنچا کہ اس فتنہ پر قابو پانے کی ایک ہی صورت ہے کہ اس شخص کی زندگی کے چراغ کو گل کر دیا جائے جس نے یہ سارا فساد برپا کر رکھا ہے۔ لیکن وہ کون ماں کا لال ہے جو اس ذمہ داری کو اٹھا سکے۔ ان کی نگاہ انتخاب اِدھر اُدھر سے گھوم پھر کر اپنی ذات پر ہی مرکوز ہو کر رہ جاتی تھی۔ انہیں اپنی سخت جانی ، شجاعت اور مستقل مزاجی پر کامل بھروسہ تھا۔ اپنے عقائد اور نظریات کے ساتھ انہیں جو وابستگی تھی، اپنے بتوں سے انہیں جو قلبی عقیدت تھی، اپنے معاشرتی نظام کو بچانے کا جو جذبہ ان کی رگ و پے میں بے کلی (بے چینی) بن کر دوڑ رہا تھا۔ اس نے انہیں اس راہ میں ہر قربانی دینے کے لئے آمادہ کر دیا تھا۔
وہ اپنے میں وہ دم خم محسوس کرنے لگے تھے جو سارے بنو ہاشم کے غم و غصہ کے طوفانوں کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہو سکتا تھا۔ آخر کار طویل سوچ بچار کے بعد وہ اس از حد خطرناک مہم کو سر انجام دینے کے لئے اٹھے، اپنی شمشیر برآں اپنے گلے میں حمائل کی، اور اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے کا عزم بالجزم کر کے وہ اپنے گھر سے نکلے۔ گرمی کا موسم تھا، دوپہر کا وقت تھا، دھوپ بڑی سخت تھی، گرم لُو جسم کو جھلسا رہی تھی، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان تمام چیزوں سے بے نیاز اپنی دھن میں گم آگے بڑھ رہے تھے۔ راستہ میں ایک قریشی نوجوان حضرت نعیم بن عبداللہ انعام رضی اللہ عنہ سے مڈ بھیڑ ہو گئی حضرت نعیم رضی اللہ عنہ مسلمان ہو چکے تھے لیکن اپنے اسلام کو ظاہر نہیں کیا تھا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا غصہ دیکھ کر ان سے صبر نہ ہو سکا۔ پوچھ لیا۔ اے عمر!،کدھر کا قصد ہے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بڑی رعونت سے جواب دیا کہ اس شخص کا سر قلم کرنے کے لئے جا رہا ہوں جس نے میرے شہر کا سکون چھین لیا ہے۔ اور گھر گھر نفرت کے انگارے دہکا دیئے ہیں۔
حضرت نعیم رضی اللہ عنہ نے کہا اُدھر بعد میں جانا پہلے اپنے گھر کی خبر لو۔ آپ رضی اللہ عنہ کی بہن حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور آپ رضی اللہ عنہ کے بہنوئی حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ اس نبیﷺ کا کلمہ پڑھ چکے ہیں۔ یہ خبر سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اوسان خطا ہو گئے آگے بڑھنے کے بجائے اپنے بہنوئی کے گھر کا رُخ کیا۔ وہاں پہنچ کر کوٹہ کے ساتھ کان لگا کر سننے کی کوشش کی۔ تو کسی کلام کے پڑھے جانے کی آواز سنائی دی زور سے دروازے پر دستک دی۔ اندر سے آواز آئی۔ کون؟ کڑک کر جواب دیا۔ خطاب کا بیٹا عمر، دروازہ کھولو ۔ جب اہل خانہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آواز سنی تو سہم گئے ان اوراق کو احتیاط سے سنبھال کر رکھ دیا جن پر قرآن کریم کی آیات لکھی ہوئی تھیں۔ ہمشیرہ نے جا کر دروازہ کھولا۔ اپنی بہن کو دیکھتے ہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ بہت غضبناک ہو کر گرجے۔ اے اپنی جان کی دشمن! مجھے پتہ چل گیا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہا مرتد ہو گئی ہیں۔ اپنا آبائی مذہب چھوڑ دیا ہے۔ اور نیا مذہب قبول کر لیا ہے ہاتھ میں سوٹی تھی اس سے بہن کو پیٹنا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ ان کے سر سے خون جاری ہو گیا۔ پھر اپنے بہنوئی حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کو مار مار کر لہولہان کر دیا۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی دست درازی حد سے تجاوز کر گئی تو بہن نے زخمی شیرنی کی طرح گرج کر کہا۔ اے بھائی! جتنا تیرا جی چاہتا ہے مجھے مار ۔ میرے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے لیکن کان کھول کر سن لے۔ میں اپنا دین کسی قیمت پر چھوڑنے کے لئے تیار نہیں۔
سارا جسم خون سے لت پت ہے سر کے زخموں سے خون رس رہا ہے اس حالت میں یہ جرأت مندانہ جواب سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دل پسیج گیا کہنے لگے بہن! مجھے وہ صحیفہ دکھاؤ جو تم پڑھ رہی تھیں۔ بہن نے بے دھڑک جواب دیا کہ تم مشرک ہو ، نجس اور ناپاک ہو، تم اس صحیفہ کو ہاتھ نہیں لگا سکتے۔ اگر تمہیں شوق ہے تو غسل کر کے پہلے اپنے آپ کو پاک کرو تب میں تمہیں وہ صحیفہ پڑھنے کے لئے دے سکتی ہوں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اٹھے غسل کیا بہن حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے وہ صحیفہ بھائی کو دیا۔ کھولا تو سامنے سورہ طہٰ تھی پڑھنا شروع کیا۔ ابھی چند آیتیں ہی تلاوت کی تھیں کہ اس کی تاثیر سے سنگ خارہ سے بھی سخت تر دل پانی پانی ہو گیا آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے بے چین ہو کر پوچھا حضورﷺ کہاں ہیں؟ میں ان کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی بگڑی سنوارنا چاہتا ہوں۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲