Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹

سیرت النبیﷺ کی اقساط

قسط نمبر 71 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ

(حصہ: اڑسٹھ)
{ہندوستان : حصہ اٹھارہواں}
فرقہ بازی:

مسٹر آئی بی ہورنر لکھتے ہیں: بدھ مت کے ماننے والے بہت جلد اٹھارہ فرقوں میں منقسم ہو گئے۔ اگرچہ سب کی عقیدت کا مرکز گوتم بدھا کی ذات تھی لیکن ہر فرقہ نے اپنی عبادت گاہیں اور خانقاہیں الگ الگ بنا لی تھیں، گوتم بدھ کی موت کے چند ہفتوں بعد اس کے تربیت یافتہ پانچ سو شاگردوں کی ایک کونسل منعقد ہوئی یہ سب لوگ بدھا کے بلاواسطہ شاگرد تھے اس کونسل میں بدھ مت کے بنیادی اصول طے کئے گئے جن کی پابندی ہر اس مرد اور عورت پر لازمی قرار دی گئی جو اپنے آپ کو بدھ مت کا پیروکار شمار کرتا تھا۔ ایک سو سال بعد “وسال” کے مقام پر ایک اجتماع ہوا

قسط نمبر 72 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ

(حصہ: انہتر)
{ہندوستان : حصہ انیسواں}
برہمنوں کا دوبارہ عروج اور اس کے اثرات:
جب تک ہرش جیسے طاقتور اور بالغ نظر حکمران موجود رہے برہمنوں نے بدھوں کے خلاف کوئی سیاسی بغاوت نہیں کی اور مناسب وقت کا انتظار کرتے رہے۔ جب چندر گپتا کا آخری حکمران ہرش مر گیا تو انہیں موقع ملا کہ وہ اپنی کمین گاہوں سے نکل کر ملک کی زمام حکومت اپنے ہاتھ میں لے لیں راجپوت، راجے مہاراجے ، گویا ان کے اشارے کے منتظر تھے حالات کو موافق پاتے ہوئے انہوں نے بدھ مذہب کے خلاف بغاوت کر دی۔ سیاسی اقتدار کی باگ ڈور حسبِ سابق راجپوتوں نے سنبھال لی۔ اور مذہبی اقتدار کی باگ ڈور برہمنوں نے اپنے ہاتھ میں تھام لی اس طرح اپنا کھویا ہوا وقار برہمنوں نے واپس لے لیا۔ برہمنوں نے انسانی مساوات کے نظریہ کو مسترد کرتے ہوئے ذات پات کا پہلا نظام نافذ کر دیا جانوروں کی قربانیاں دوبارہ دی جانے لگیں۔

قسط نمبر 73 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ

(حصہ: ستر)
{ہندوستان : حصہ بیسواں}
(سیاسی حالات)
اگرچہ موہنجوداڑو اور ہڑپہ کے آثار قدیمہ کے بر آمد ہونے سے ہمیں یہ تو معلوم ہو گیا کہ ان علاقوں میں ایک اعلیٰ قسم کی تہذیب موجود تھی یہاں کے رہائشی مکانوں کے نقشے، ان میں علیحدہ غسل خانوں کا موجود ہونا، جنوباً شمالاً متوازی وسیع شاہراہیں اور ان سے نکلنے والی چھوٹی گلیاں استعمال شدہ پانی کی نکاسی کا عمدہ انتظام اس بات کی شہادت دینے کے لئے کافی ہیں کہ وہاں کا نظام حکومت بڑا ترقی یافتہ تھا۔ لیکن ابھی تک ان کے نظام حکومت پر کیونکہ پردہ پڑا ہوا ہے۔ اس لئے ہم اس کے بارے میں مزید وضاحت سے قاصر ہیں۔ لیکن جب آریوں نے ہندوستان پر قبضہ کیا تو جو قبیلہ جہاں آباد ہوتا گیا قبائلی نظام کے مطابق وہاں چھوٹی چھوٹی ریاستیں قائم ہوتی گئیں اس لئے آریوں کے ابتدائی عہد میں ہمیں ہندوستان کا ملک ان گنت چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹا ہوا معلوم ہوتا ہے ہر قبیلہ کا سردار، ان کا راجہ ہوتا تھا

قسط نمبر 74 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ

(حصہ: اکہتر)
{ہندوستان : حصہ اکیسواں}
(اخلاقی اور معاشی حالات)

خلاقی حالت: آپ گزشتہ صفحات میں پڑھ آئے ہیں کہ”سوما” کے پودے کو تمام پودوں کا بادشاہ کہا جاتا اور اس سے کشید کی ہوئی شراب کو پجاری پی کر پوجا کیا کرتے۔ سوما، خود بھی ان کے دیوتاؤں میں سے ایک دیوتا تھا جس کی پوجا کی جاتی تھی کیونکہ اس سے ایسی عمدہ اور نشہ آور شراب بنتی تھی جسے پی کر انسان سرمست و مخمور ہو جاتا۔ یہ بھی آپ پڑھ آئے ہیں کہ بڑے بڑے مندروں میں دیوداسیوں کے طائفے ہوتے تھے جو ان مورتیوں کے سامنے رقص کیا کرتیں اور گیت گایا کرتیں اور مندر کے پروہت کو اختیار تھا کہ وہ کسی پجاری کو شاد کام کرنے کے لئے کسی دیوداسی کو اس کے پاس شب بسری کے لئے بھیج دے۔ علامہ بیرونی نے بھی اس کا ذکر کیا ہے مسٹر ویدیا، جو ہندو مورخ ہیں وہ لکھتے ہیں: اس میں شک نہیں کہ تمام مندروں میں پیشہ ور عورتیں ناچنے کے لئے اپنی زندگی کو وقف کئے ہوئے تھیں۔ خاص کر شیو جی کے مندروں میں یہ رسم عام تھی اور راجے ان مندروں سے خاص آمدنی حاصل کرتے تھے۔

قسط نمبر 75 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ

تذکرہ (حصہ: بہتّر)
{چین : حصہ اول}
چین اور چینی معیشت: اپنے رقبہ کی وسعت اور آبادی کی کثرت کے باعث یہ ملک دنیا کے تمام ممالک پر فوقیت رکھتا ہے 1966ء کی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی پچھتر اور ستتر کروڑ کے درمیان تھی۔ اور 1980ء میں چین کی آبادی ایک ارب سے تجاوز کر گئی تھی۔ اس کا رقبہ جس پر کمیونسٹ حکومت کا قبضہ ہے تیس لاکھ اسی ہزار مربع میل ہے اور تائیوان کا جزیرہ جس پر چینی قومی حکومت قائم ہے اس کا رقبہ چودہ ہزار مربع میل ہے اگرچہ رقبہ کے لحاظ سے روس اس سے بڑا ہے لیکن آبادی کے لحاظ سے روس یا کینیڈا کو اس سے کوئی نسبت نہیں۔ یہ ملک جتنا وسیع ہے اتنی ہی اسکی ثقافت اور تہذیب قدیم ہے یہاں پہاڑ کی ایک چوٹی چوبیس ہزار فٹ سے بھی زیادہ بلند ہے جو دنیا کی سب سے بلند ترین چوٹیوں میں شمار کی جاتی ہے۔ اس کے برعکس اس کے شمال مغرب میں ایک ایسا علاقہ بھی ہے جو کہ دنیا میں سب سے زیادہ نشیبی علاقہ ہے

قسط نمبر 76 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ

تذکرہ (حصہ: تہتّر)
{چین : حصہ دوم}
(چین سیاسی حالات، معاشرہ اور مذہب)
سیاسی حالات: تاج و تخت شاہی خاندان میں موروثی ہوتا ۔ لیکن بادشاہ کے بعد اس کا بیٹا تخت نشین نہ ہوتا بلکہ اس کے بھائی کو تاج شاہی پہنایا جاتا بادشاہ کی اہم ذمہ داریوں میں فوج کی قیادت تھی وہی ملک کی افواج کا کمانڈر انچیف ہوتا۔ مذہبی رسوم کی ادائیگی اور دیگر تقریبات بھی بادشاہ ہی انجام دیتا۔ پروہتوں کی ایک تعلیم یافتہ جماعت اس سلسلہ میں اس کی مدد کرتی۔ وہ پروہت علم نجوم کے ماہر ہوتے۔ مذہبی رسوم ادا کرنے کے لئے بادشاہ کی اعانت اور راہنمائی کرتے ان کے ہاں جو کیلنڈر (جنتری) رائج تھا وہ شمسی نہیں بلکہ قمری تھا۔ چاند کے مہینوں کا کیلنڈر تیار کرنا ان پروہتوں کی ذمہ داری تھی۔

قسط نمبر 77 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ

حصہ: چوہتر)
{چین : حصہ سوم}
(کانفیوشس : حصہ اول)
551 قبل مسیح چین میں ایک مرد حکیم پیدا ہوا۔ جسے دنیا کانفیوشس کے نام سے جانتی ہے اس کا وطن ایک چھوٹی جاگیر دارانہ ریاست تھا۔ جسے لو (LU) کہتے تھے وہ ساری عمر چین میں اس لئے سیر و سیاحت کرتا رہا کہ اسے کوئی ایسا حکمران مل جائے جو اس کے بتائے ہوئے اصولوں پر خود بھی عمل کرے اور لوگوں کو بھی ان پر عمل کرنے کی دعوت دے ۔ اگرچہ وہ 479 قبل مسیح بہتّر سال کی عمر میں ناکامی کا داغ لئے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوا لیکن وہ اپنی تعلیمات کے ایسے گہرے نقوش چھوڑ گیا کہ دو ہزار سال بعد بھی چین کی وسیع و عریض مملکت میں اس کے اثرات محسوس کئے جاتے ہیں اس نے نہ پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا کہ اس کی تعلیمات کو آسمانی الہام سمجھا جائے اور نہ اس نے فلسفی کی حیثیت سے اپنے نظریات پیش کئے کہ انہیں منوانے کے لئے دلائل و براہین کی تائید حاصل کرے۔ اس لئے کانفیوشس کے نظریات و افکار کو مذہب کہنا ہرگز درست نہیں

قسط نمبر 78 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ

(حصہ: پچہتّر)
{چین :حصہ چہارم}
(کانفیوشس : حصہ دوم)
کانفیوشس کے نظریات کا بہترین ترجمان اس کی وفات کے ایک سو سال بعد پیدا ہوا جس کا نام منسیس (MENCIUS) ہے ولادت 288 اور وفات 373 قبل مسیح ۔ وہ انسان کی نیک فطرت کے بارے میں یقین محکم رکھتا تھا۔ اور اس کی خفیہ صلاحیتوں کو نشوونما دینے کے لئے ایک مثالی قیادت کی ضرورت پر زور دیتا تھا۔ وہ اس پر مصر تھا کہ سب سے اہم چیز یہ ہے کہ انسان کی مادی زندگی کو بہتر سے بہتر بنایا جائے اسے اپنی زندگی میں اپنے نظریات کی کامیابی دیکھنے کا موقع نہ ملا۔ لیکن اس کے بعد اس کے شاگردوں میں بڑے بڑے قابل لوگ پیدا ہوئے جو اعلیٰ مناصب پر فائز ہوئے انہوں نے اپنا اثر و رسوخ بادشاہوں کے درباروں میں بھی استعمال کیا۔ اور انہیں کانفیوشس کے نظریات سے آگاہ کیا حکمرانوں کو ان نظریات کی پیروی میں اپنی سلطنت کو مستحکم کرنے اور اپنی رعایا میں امن و امان برقرار رکھنے کے روشن امکانات نظر آئے۔ گزشتہ دو ہزار سال سے کانفیوشس کے نظریات جن میں اپنے اسلاف کی پرستش کا عقیدہ اور یہ عقیدہ کہ بادشاہ آسمان کا بیٹا ہوتا ہے

قسط نمبر 79 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ

( حصہ: چہیتّر)
{چین : حصہ پنجم آخری حصہ}
(کانفیوشس : حصہ سوم آخری حصہ)
ایک عجیب و غریب بات ایسی ہے جس میں اہل چین بالکل منفرد ہیں۔ دنیا کی شاید ہی کوئی دوسری قوم اس معاملہ میں ان کے ساتھ مماثلت رکھتی ہو۔ وہ یہ کہ چینی بیک وقت کئی مذہبوں کے پیروکار ہوتے تھے، وہ اگر بدھ مت قبول کرتے ہیں تو اس کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ کانفیوشس یا ٹاؤ ازم سے اپنا تعلق پہلے منقطع کریں پھر یہ نیا مذہب اختیار کریں، بلکہ بیک وقت وہ تینوں مذہبوں سے اپنی عقیدت کا رشتہ استوار رکھتے ہیں اور زندگی کے مختلف مراحل میں جس مذہب کی تعلیمات کو وہ اپنے لئے مفید پاتے ہیں اس کو اپنا لیتے ہیں۔ میگزین لائف کی ورلڈ لائبریری نے چین پر جو کتاب شائع کی ہے اس میں اس کے ایڈیٹر لکھتے ہیں۔ چینی جب تک اپنے منصب پر فائز ہوتا ہے تو وہ کانفیوشس کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوتا ہے اور جب وہ اپنے عہدہ سے معزول ہوتا ہے

قسط نمبر 80 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ

(حصہ: ستتر)
{جزیرہ عرب : حصہ اول}
ملک عرب ایک جزیرہ نما ہے جو ایشیا کے برّاعظم کے انتہائی جنوب مغربی حصہ میں واقع ہے انسائیکلو پیڈیا آف بریٹانیکا کے مقالہ نگار نے اس کا حدود اربعہ یوں تحریر کیا ہے۔ اس کے جنوب مغرب میں بحر احمر جنوب میں خلیج عدن اور بحیرہ عرب ، شمال مشرق میں خلیج عمان اور خلیج فارس ( خلیج عرب ) واقع ہے، اس کی شمالی سرحد جو خلیج فارس کے دہانہ سے شروع ہو کر خلیج عقبہ تک چلی گئی ہے یہ پوری طرح واضح نہیں۔ اگرچہ سعودی عرب کی مملکت اور کویت کی سرحدوں کو جزیرہ عرب کی شمالی سرحد کہا جاتا ہے، ان مذکورہ حدود کے مطابق صحرائے شام، جزیرہ عرب کا حصہ نہیں لیکن در حقیقت معاملہ اس کے بر عکس ہے یہ علاقہ اپنی طبعی اور جغرافیائی خصوصیات اور آبادی کے لحاظ سے جزیرہ عرب ہی کا حصہ ہے، قدیم اور جدید جغرافیہ دان بالاتفاق اسے جزیرہ عرب کا حصہ شمار کرتے ہیں۔ جزیرہ نمائے عرب کا رقبہ تقریباً دس لاکھ مربع میل ہے،

قسط نمبر 81 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ

(حصہ: اٹھتر)
{جزیرہ عرب : حصہ دوم}
(جزیرہ عرب کی تقسیم)
علماء جغرافیہ نے جزیرہ عرب کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ (1) التہامہ (2) الحجاز (3) النجد (4) العروض (5) یمن پھر ہر حصہ کی ذیلی تقسیمیں بھی کی گئی ہیں ہم یہاں ان بڑے پانچ حصص کے بارے میں قارئین کی خدمت میں مختصر کچھ عرض کریں گے۔ ڈاکٹر حسن ابراہیم حسن اپنی کتاب ” تاریخ الاسلام ” کی جلد اول میں ان حصص کی تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ التہامہ: یہ وہ نشیبی علاقہ ہے جو بحر احمر کے ساحل کے ساتھ ساتھ ینبوع سے نجران (یمن) تک چلا گیا ہے اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ التہم جو اس کا مادہ اشتقاق ہے اس کا معنی ہے گرمی کی انتہائی شدت اور ہوا کا رک جانا۔ اس علاقہ میں گرمی نا قابل برداشت حد تک شدید پڑتی ہے اور ہوا رکی رہتی ہے، جس سے اس کی شدت میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس لئے اس کو “تہامہ ” کہتے ہیں اس علاقہ کا دوسرا نام “الغور” ” ہے کیونکہ نجد کے مقابلہ میں یہ علاقہ نشیب میں واقع ہے اس لئے اسے اس نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔

قسط نمبر 82 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ

( حصہ:اُناسی)
{جزیرہ عرب : حصہ سوم}
کیا سارا جزیرہ عرب بنجر اور بے آب و گیاہ ریگستان ہے؟
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ عرب کے وسیع و عریض علاقہ میں پانی نایاب ہے بارشوں کا فقدان ہے زمینیں بنجر اور ریتلی ہیں اس لئے یہاں کسی قسم کی زراعت و کاشتکاری نہیں ہو سکتی لیکن جزیرہ عرب کے مختلف علاقوں کا سروے کرنے سے یہ غلط فہمی دور ہو جاتی ہے اور انسان اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ جزیرہ عرب میں بعض ایسے وسیع اور زرخیز میدان، شاداب وادیاں ہیں جو اپنی زرخیزی میں ہزاروں سال سے اپنی مثال آپ ہیں۔ ہزاروں سال ان میں کامیابی کے ساتھ زراعت ہوتی رہی۔ جس کے خوشحال باشندوں نے اپنے اپنے علاقے میں بڑے بڑے شہر اور کثیر تعداد میں خطے آباد کئے۔ یہ زرخیز خطے ساحلی علاقوں میں بکثرت نظر آتے ہیں جنوب مغربی یمن کا علاقہ اپنی سرسبزی اور شادابی میں ضرب المثل تھا قدیم زمانہ کے لوگ اسے “الارض الخضراء” یعنی سرسبز و شاداب سر زمین کہا کرتے تھے۔ جزیرہ عرب کے جنوب میں حضر موت کا علاقہ ہے

قسط نمبر 83 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ

(حصہ: اسّی)
{جزیرہ عرب : حصہ چہارم}
(عربی قبائل : حصہ اول)

جزیرہ عرب کا حدود اربعہ اور اس کی طبعی تقسیمات کے بیان کے بعد اب ہم اختصار کے ساتھ عرب کے قبائل اور اس کے باشندوں کے بارے میں کچھ تفصیلات پیش کرتے ہیں۔ عرب کے مورخین نے اہل عرب کو ابتداء میں دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا ہے جو العرب البائدہ اور العرب الباقیہ کے نام سے موسوم ہیں۔

العرب البائدہ: سے مراد وہ قبیلے اور خاندان ہیں جنہیں گردش لیل و نہار نے فنا کر دیا ہے ان کے بارے میں نہ صحیح تاریخی معلومات ہمارے پاس موجود ہیں اور نہ ان کے ایسے اثار موجود ہیں جن سے ان کی عظمت اور اقبال مندی کے بارے میں کچھ اندازہ لگایا جا سکے اب ان کی یادگار صرف ان کے نام رہ گئے ہیں جو آسمانی کتابوں میں یا عرب شعراء کے کلام میں کہیں کہیں موجود ہیں ان فنا ہو جانے والوں میں سے مشہور قبائل یہ ہیں عاد ، ثمود، طسم ، جدیس ، جرہم الاولیٰ ۔ لیکن بعض مورخین کا یہ خیال ہے

قسط نمبر 84 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ

(حصہ: اکاسی)
{جزیرہ عرب : حصہ پنجم}
(عربی قبائل : حصہ دوم)
حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بارہ فرزند تھے، جن کی نسل میں اللہ تعالیٰ نے برکت دی اور وہ بے شمار قبائل میں منقسم ہو کر جزیرہ عرب کے مختلف علاقوں میں رہائش پذیر ہو گئے آپ کی اولاد میں سے ایک مشہور شخصیت جو بعد میں آنے والی اولاد اسماعیل کا سنگم قرار پائی اس کا نام عدنان ہے اس میں کسی کو اختلاف نہیں کہ عدنان ، حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ذریت سے ہیں لیکن آپ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی کون سی پشت میں سے ہیں اس میں بہت اختلاف ہے۔ جرجی زیدان اس سلسلہ میں لکھتے ہیں: عرب مورخین میں اس بارے میں اختلاف ہے کہ عدنان اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے درمیان کتنی پشتیں گزری ہیں بعض کا خیال ہے کہ عدنان حضرت اسماعیل علیہ السلام کی چالیسویں پشت سے تھے بعض آپ کو بیسویں، بعض پندرہویں پشت میں شمار کرتے ہیں لیکن اس بات میں سب کا اتفاق ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد عدنان سے پھیلی عدنان کے دو بیٹے تھے” عُک” اور “معد ” آخر الذکر عدنانی یا اسماعیلی قبائل کا جد اعلیٰ تھا۔

قسط نمبر 85 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ

(حصہ:بیاسی)
{جزیرہ عرب : حصہ ششم}
(عربی قبائل :حصہ سوم ~ آخری حصہ)
بنی مضر: مضر کے دو بیٹے تھے قیس عیلان اور الیاس۔ قیس عیلان کی اولاد سے دو مشہور قبیلے ہوئے ہوازن اور سلیم۔ ہوازن میں سے ایک قبیلہ بنی سعد ہے جو سعد بن بکر کی اولاد سے ہے اس قبیلہ کے ہر فرد کو سعدی کہتے ہیں حضرت حلیمہ بنت ذوہیب رضی اللہ عنہا جن کو رحمت اللعالمینﷺ کی مرضعہ (دودھ پلانے والی) بننے کا لا زوال شرف حاصل ہوا اسی قبیلہ کی فرد تھیں۔ قسّی جسے ثقیف بھی کہتے ہیں وہ بھی اسی قبیلہ کا فرد تھا اس کا اصل نام منبہ بن بکر تھا۔ یہ طائف میں اپنے سسرال کے پاس ٹھہرا ہوا تھا۔ ان میں باہمی مخاصمت پیدا ہو گئی وہ وہاں سے باہر نکلنے پر مجبور ہو گیا۔ مورخ بکری نے منبہ بن بکر کے ثقیف کے نام سے مشہور ہونے کی وجہ یہ لکھی ہے کہ ثقیف اور نخع خالہ زاد بھائی تھے وہ ایک مختصر سا ریوڑ لے کر باہر نکلے اس ریوڑ میں ایک شیر دار بکری تھی جس کا بچہ بھی تھا۔ یمن کے بادشاہ کی طرف سے کوئی خراج لینے والا ان کے پاس سے گزرا اس نے وہ بکری اور اس کا بچہ بطور خراج لینے کا ارادہ کیا
قسط نمبر87 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:چوراسی)
{جزیرہ عرب : حصہ ہشتم}
(قبل از اسلام جزیرہ عرب میں آزاد ریاستیں: حصہ دوم)
(مملکت سبا:حصہ اول)
مرور زمانہ سے مملکت معین پر کہنہ سالی کے آثار رونما ہونے لگے ان کے انحطاط کے دور میں سبا کے علاقہ میں ایک اور قوم نے انگڑائی لینا شروع کی اگرچہ اس کے عہد اقتدار کا آغاز ایک چھوٹی سی ریاست سے ہوا لیکن آہستہ آہستہ یہ قوم ترقی کے مراحل طے کرتی گئی اور اردگرد کے علاقوں کو بھی انہوں نے اپنا زیر نگین بنا لیا ان کی مدت حکومت نو سو پچاس قبل مسیح سے ایک سو پندرہ قبل مسیح تک ہے نو سو پچاس قبل مسیح سے چھ سو پچاس ق م تک معین اور سبا کی مملکتیں ساتھ ساتھ باقی رہیں لیکن چھ سو پچاس قبل مسیح میں مملکت معین کا چراغ گل ہو گیا اور ان کے تمام علاقوں کی سیادت مملکت سبا کو میسر آ گئی جس طرح پہلے بتایا جا چکا ہے کہ اہل یمن کے اصلی باشندے یعرب بن قحطان کی اولاد سے تھے اس کی نسل پھیلی اور یمن کے وسیع و عریض علاقہ پر چھا گئے سب بھی یعرب کی اولاد میں سے ہے
قسط نمبر88 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: پچاسی )

{جزیرہ عرب : حصہ نہم}
(قبل از اسلام جزیرہ عرب میں آزاد ریاستیں: حصہ سوم)
(مملکت سبا:حصہ دوم)

مملکت سبا کی اخلاقی حالت: اپنے خالق حقیقی سے ان کی عبودیت کا رشتہ ٹوٹ چکا تھا، وہ متعدد باطل معبودوں کی پرستش میں اپنا قیمتی وقت بھی برباد کیا کرتے اور اپنے شرف انسانیت کی قبا کی دھجیاں بھی بکھیرا کرتے پھر دولت کی فراوانی نے تمام اخلاقی بندشوں کو توڑ کر رکھ دیا ان کے شہر اور ان کی آبادیاں فسق و فجور کا مرکز بن کر رہ گئیں ایک عورت کئی مردوں کے ساتھ شادی کرتی تھی اور اہل خانہ میں باہمی فسق و فجور کا بازار گرم رہتا تھا اور اپنی بہنوں اور بیٹیوں کے ساتھ بد کاری کرنے کا عام رواج تھا شراب پانی کی طرح پی جاتی تھی یہ لوگ عام طور پر کھجوروں سے شراب کشید کرتے تھے۔
قسط نمبر89 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: چھیاسی )
{جزیرہ عرب : حصہ دہم}
(قبل از اسلام جزیرہ عرب میں آزاد ریاستیں : حصہ چہارم)
(مملکت حمیر:حصہ اول)
اس مملکت کا مؤسس اول “حمیر” تھا جو بنی قحطان کی نسل سے تھا اس مملکت کا محل وقوع سبا اور بحر احمر کے درمیان تھا ان علاقوں کو پہلے قتبان کے نام سے موسوم کیا جاتا تھا ابتدا میں اس مملکت کا ظہور قبتان کے علاقہ میں ہوا آہستہ آہستہ اس نے مملکت سبا اور ریدان کو اپنے قبضہ میں لے لیا اور ریدان کو اپنا دارالسلطنت مقرر کیا جو بعد میں ” ظفار ” کے نام سے مشہور ہوا۔ یہ شہر اندرون یمن کا ایک شہر ہے جو راستہ صنعاء کی طرف جاتا ہے اس پر “مخا” سے مشرق کی طرف ایک سو میل کی مسافت پر واقع ہے اہل حمیر نے اہل معین اور اہل سبا کی ثقافت و تجارت کو بطور ورثہ پایا اور ان کی زبان بھی وہی تھی جو پہلے دو قبیلوں کی تھی پہلے یہ لوگ ریدان میں سکونت پذیر تھے اور وہاں کے نواب اور رؤساء تھے۔ ان میں جو سب سے زیادہ بڑا ہوتا

قسط نمبر90 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: ستاسی )

{جزیرہ عرب : حصہ گیارہواں}
(قبل از اسلام جزیرہ عرب میں آزاد ریاستیں : حصہ پنجم)
(مملکت حمیر:حصہ دوم)
پانچ سو چونتیس کا یہ واقعہ ہے ان میں سے ایک آدمی کسی طرح جان بچا کر روم کے قیصر یستنیان کے پاس پہنچا اور اس کے ہم مذہبوں پر یمن کے بادشاہ نے جو ظلم روا رکھا تھا اس کی لرزہ خیز داستان اسے جا کر سنائی اور امداد کا طالب ہوا اس وقت حبشہ کا ملک سلطنت روم کا ایک صوبہ تھا۔ قیصر نے وہاں کے گورنر کو حکم دیا کہ وہ یمن پر حملہ کرے اور مسیحی آبادی کو وہاں کے ظالم حکمران کے پنجہ استبداد سے نجات دلائے اس کاروائی سے قیصر دو مقصد حاصل کرنا چاہتا تھا ایک تو وہ یمن پر قبضہ کر کے تجارتی کاروانوں کے خشکی کے اس راستہ کو اپنے قبضہ میں لینا چاہتا تھا تاکہ تجارت کے میدان میں وہ اپنے ایرانی رقیبوں کو مات دے سکے۔ اس کا دوسرا مقصد دینی تھا
قسط نمبر91 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: اٹھاسی )
{جزیرہ عرب : حصہ بارہواں}
(قبل از اسلام جزیرہ عرب میں آزاد ریاستیں : حصہ ششم)
(مملکت حیرہ: حصہ اول)
مملکت حیرہ: جس طرح پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ اس وقت دو عالمی قوتیں تھیں جنہوں نے متمدن دنیا کو آپس میں بانٹ رکھا تھا مغرب میں اہل روم اور مشرق میں اہل ایران ان دونوں مملکتوں نے اپنے اپنے مفاد کے لئے اپنی سرحدوں کے قریب عربی قبائل کی بفر سٹیٹس (یعنی دو مملکتوں کو جدا کرنے والی درمیانی مملکت ) قائم کر رکھی تھیں ایران والے اپنی سرحدوں پر واقع عربی قبائل کے حکمران طبقہ کی سرپرستی کرتے تھے اور یہ لوگ اس کے صلے میں انہیں اپنے سپاہی مہیا کرتے جو رومی حملہ آور لشکروں کے ساتھ نبرد آزما ہوتے نیز اگر بادیہ نشین عرب قبائل ایران کے شہروں، ان کی تجارتی منڈیوں اور تجارتی کاروانوں پر یلغار کر دیتے تو اس وقت بھی یہ عرب قبائل اپنے عرب بھائیوں کو اس تاخت و تاراج سے روکتے اور اگر ضرورت محسوس ہوتی
قسط نمبر92 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ ( حصہ:ننانوے )
{جزیرہ عرب : حصہ تیرہواں}
(قبل از اسلام جزیرہ عرب میں آزاد ریاستیں : حصہ ہفتم)
(مملکت حیرہ:حصہ دوم)
مملکت سبا: دوسری روایت میں ہے کہ وہ اسے لے کر عین التمر پہنچا وہاں اس نے اس کے ساتھ شب عروسی گزاری پھر اسے خیال آیا کہ وہ بد فطرت عورت ہے جس نے اپنی قوم اپنے وطن اور اپنے باپ کے ساتھ غداری کی ہے اس نے اپنے ایک سپاہی کو ایک سرکش اور منہ زور گھوڑے پر سوار ہونے کا حکم دیا اور نضیرہ کی مینڈھیوں کو گھوڑے کی دم سے باندھا سوار کو کہا کہ گھوڑے کو ایڑ لگائے چنانچہ وہ گھوڑا ہوا ہو گیا۔ نضیرہ اس کے پیچھے گھسٹتی چلی گئی یہاں تک اس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے اور سننے والوں کے لئے اس واقعہ میں ایک درس عبرت ہے
قسط نمبر93 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ ( حصہ: نوے )
جزیرہ عرب : حصہ چودہواں}
(قبل از اسلام جزیرہ عرب میں آزاد ریاستیں: حصہ ہشتم آخری حصہ)
ملوک غسان: بنی جفنہ کا سب سے پہلا امیر جو عظمت و شوکت میں لاثانی تھا اس کا نام حارث بن جبلہ تھا۔ شہنشاہ جستینان کے زمانہ میں یہ غساسنہ کا حکمران بنا۔ اس کا سلسلہ نسب جفنہ بن عمرو تک پہنچتا ہے قیصر جستینان نے حارث کو ملک یعنی بادشاہ کا مرتبہ بخشا بلاد شام میں جتنے عرب قبیلے آباد تھے ان سب کا اسے فرمانروا مقرر کیا اس کا مقصد یہ تھا کہ حیرہ کے بادشاہ کا مد مقابل ایک ایسا عرب امیر مقرر کیا جائے جو قوت و سطوت میں اس کا ہم پلہ ہو ۔ اس سے پہلے کسی عرب کو رومیوں نے کبھی کوئی باعزت منصب نہیں سونپا تھا۔ مورخین کا اس بات میں اختلاف ہے

قسط نمبر94 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ ( حصہ: اکانوے )

{جزیرہ عرب : حصہ پندرہواں}
(اہل عرب کی خصوصیات : حصہ اول)
جزیرہ عرب کے جغرافیائی اور سیاسی حالات اور مختلف علاقوں میں مختلف قبائل کی آباد کاری کی تفصیلات کا آپ مطالعہ فرما چکے ہیں۔ اب ہم اس جزیرہ کے باشندوں کی اخلاقی خصوصیات کا جائزہ لیں گے جس سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ باوجود اس بات کے کہ جزیرہ عرب کا اکثر علاقہ لق و دق صحراؤں ، ناقابل کاشت بنجر میدانوں اور ناقابل عبور ریگستانوں پر مشتمل تھا اس کے بسنے والے علم سے بالکل بے بہرہ تھے اس کے باوجود قدرت نے اس خطہ کو اور اس میں سکونت پذیر قوم کو کیوں اپنے محبوب مکرم خاتم النبیینﷺ کی بعثت کے لئے اور اس دین حنیف کی پہلی تجربہ گاہ بنانے کے لئے منتخب فرمایا
قسط نمبر 95 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:بانوے)
{جزیرہ عرب : حصہ سولہواں}
(اہل عرب کی خصوصیات : حصہ دوم)
اہل عرب کی قوت حافظہ: فہم و فراست کی نعمت کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے اہل عرب کو بلا کی قوت حافظہ ارزانی فرمائی تھی۔ اگرچہ وہ لکھنے اور پڑھنے سے عاری تھے لیکن اپنی یاداشت کے بل بوتے پر انہوں نے اپنی جنگوں اور دیگر اہم واقعات کی تفصیلات کو محفوظ رکھا۔ وہ صرف اپنے سلسلہ نسب سے ہی پوری طرح باخبر نہ تھے بلکہ اپنے گھوڑوں کے نام اور ان کے نسب ناموں کو بھی پوری طرح جانتے تھے جو گھوڑا میدان جنگ میں غیر معمولی شجاعت اور کار کردگی کا مظاہرہ کرتا اس کی نسب سے وہ پوری طرح واقف رہتے تھے ان کے تہواروں میں جو ادبی محفلیں منعقد ہوتیں جن میں دور و نزدیک سے آئے ہوئے فصحاء وبلغاء اپنے قصیدے سناتے یا اپنے خطبات سے لوگوں کے دلوں کو موہ لیتے، سننے والے ایک بار سننے سے وہ پورا قصیدہ اور پورا خطبہ ازبر کر لیتے پھر وہ اس سے آگے روایت کرتے رہتے اگر کسی کی زبان سے فی البدیہ کوئی جملہ نکل جاتا

قسط نمبر 96 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:ترانوے)

{جزیرہ عرب : حصہ سترہواں}
(اہل عرب کی خصوصیات : حصہ سوم)
(اہل عرب کی سخاوت و فیاضی:حصہ اول)
جزیرہ عرب کا اکثر حصہ لق و دق صحراؤں اور ریگستانوں پر مشتمل تھا۔ بارش بھی بہت کم مقدار میں برستی تھی معیشت کے دیگر ذرایع کا بھی فقدان تھا۔ اس لئے اہل عرب کی معاشی حالت اس وقت بڑی نا گفتہ بہ تھی۔ لیکن اس غربت و ناداری کے باوجود اللہ تعالیٰ نے سخاوت و فیاضی کی جو صفت ان کو مرحمت فرمائی تھی اس کی تفصیلات پڑھ کر انسان حیرت زدہ ہو جاتا ہے۔ ان کے اشعار کا بہترین حصہ وہ ہے جن میں انہوں نے اپنی فیاضیوں کا ذکر کیا ہے ان کا یہ دستور تھا کہ رات کو اونچے ٹیلوں پر آگ روشن کر دیتے تاکہ اگر رات کے وقت کسی مسافر کا وہاں سے گزر ہو تو وہ اس آگ کو دیکھ کر ان صحرا نشین بدووں کے خیموں تک پہنچ سکے اور جب کوئی بھٹکا ہوا مسافر آدھی رات کے وقت ان کے ہاں پہنچ جاتا تو اس کی خاطر و مدارات کی وہ حد کر دیتے۔ ایک شاعر اپنے غلام کو کہتا ہے ۔
قسط نمبر 97 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:چرانوے)
{جزیرہ عرب : حصہ اٹھارہواں}
(اہل عرب کی خصوصیات : حصہ چہارم)
(اہل عرب کی سخاوت و فیاضی:حصہ دوم آخری حصہ)

ایک اور شاعر اپنے ممدوح کی تعریف کرتے ہوئے لکھتا ہے۔
سَاَشْكُرُ عُمۡرََوا اِنۡ تَرَافَتْ مَنِيَّتِيۡ
اَبَادِيۡ لَمْ تُمْنُنْ وَاِنْ مَعِيَ جَلَّتٖ
اگر موت نے مجھے مہلت دی تو میں عمرو کا ان نعمتوں پر شکریہ ادا کروں گا جو اگرچہ جلیل القدر ہیں لیکن اس نے کبھی مجھ پر ان کا احسان نہیں جتلایا۔

فَتًی غَيۡرُ مَحۡجُوۡبِ الۡغِنٰى عَنْ صَدِيۡقِهٖ
وَلَا مُظۡهِرِ الشِّكۡوٰى اِذَ النَّعْلُ زَلَّتٖ
وہ ایسا جوان ہے کہ اپنے دوست سے اپنی دولت کو چھپا کر نہیں رکھتا اور اگر اس کا پاؤں پھسل جائے تو اس پر شکوہ سنج نہیں ہوتا۔

قسط نمبر 98 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:پچانوے)
{جزیرہ عرب : حصہ انیسواں}
(اہل عرب کی خصوصیات : حصہ پنجم)
اہل عرب کی شجاعت: اہل عرب جن خوبیوں سے متصف تھے ان میں سے ایک اعلیٰ ترین خوبی ان کی شجاعت اور بہادری تھی اپنی عزت و ناموس کے لئے اپنے حقوق کے تحفظ اور ان کی بازیابی کے لئے اپنے قبیلہ کی سطوت کا ڈنکا بجانے کے لئے وہ اپنی متاع زیست کو قربان کرنے کے لئے بلا تامل تیار ہو جایا کرتے تھے اپنا سر کٹا دینا، اپنے جسم کے پرزے اڑا دینا، عالم شباب میں موت کا تلخ پیالہ اپنے لبوں سے لگا لینا ان کے لئے ادنیٰ سی بات تھی وہ زندگی اور اس کے عیش و طرب کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے اپنی عزت اور اپنے قبیلہ کی آبرو کو بچانے کے لئے موت سے کھیل جانا ان کے لئے قطعا کوئی خوفناک کھیل نہ تھا وہ اپنے خیال کے مطابق اپنے اعلیٰ مقاصد کے لئے اپنی جان اور خون کا نذرانہ پیش کرنا اپنا فرض اولین سمجھا کرتے تھے ان کی ساری زندگیاں اپنے دشمنوں سے لڑتے ہوئے گزرتی تھیں
قسط نمبر 99 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:چھیانوے)
{جزیرہ عرب : حصہ بیسواں}
(اہل عرب کی خصوصیات : حصہ ششم)
(اہل عرب کی وفائے عہد کی شان: حصہ اول)
وفا، سچائی کے قبیلہ سے ہے اس کے بر عکس غدر اور دھوکا، جھوٹ اور ظلم کے قبیلہ سے ہے کیونکہ وفا نام ہے زبان اور عمل سے سچ بولنے کا اور غدر نام ہے زبان اور عمل سے جھوٹ بولنے کا اس لئے وعدہ کی پابندی کا قرآن کریم نے بار بار حکم دیا ہے اور وعدہ پورا کرنے والوں کی ستائش فرمائی ہے۔ وَ اَوۡفُوۡا بِعَہۡدِیۡۤ اُوۡفِ بِعَہۡدِکُمۡ ۚ وَ اِیَّایَ فَارۡھَبُوۡنِ ﴿40﴾ ترجمہ: اور تم میرے (ساتھ کیا ہوا) وعدہ پورا کرو میں تمہارے (ساتھ کیا ہوا) وعدہ پورا کروں گا، اور مجھ ہی سے ڈرا کرو۔ (سورۃ البقرة،آیۃ : 40) ارشاد الہی ہے۔ وَاَوْفُوۡا بِعَهْدِ اللَّهِ اِذَا عٰهَدۡتُّمۡ﴿91﴾ ترجمہ: کہ جب تم اللہ تعالیٰ سے وعدہ کرو تو اسے پورا کرو۔ (سورۃ النحل،آیۃ : 91)
قسط نمبر 100 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: ستانوے )
{جزیرہ عرب : حصہ اکیسواں}
(اہل عرب کی خصوصیات: حصہ ہفتم)
(اہل عرب کی وفائے عہد کی شان:حصہ دوم)
دوسرے دن نعمان اپنے دستور کے مطابق مسلح ہو کر اپنے گھوڑے پر سوار ہوا اور اس جگہ پہنچا جہاں وہ اس روز پہلے نظر آنے والے شخص کو قتل کیا کرتا تھا۔ اس نے قراد کو کہا کہ سامنے آؤ اور جلاد کو اس کا سر قلم کرنے کا حکم دیا اس کے وزیروں نے کہا اے بادشاہ ! جب تک یہ پورا دن ختم نہ ہو جائے ۔ آپ اس کو قتل نہیں کر سکتے ۔ اس نے اسے شام تک مہلت دے دی نعمان دل سے یہ چاہتا تھا کہ قراد قتل ہو جائے اور حنظلہ جس نے اس ویرانے میں اس کی مہمان نوازی کی تھی وہ کسی طرح بچ جائے۔ سورج ابھی ڈوبنے کے قریب ہے قراد کے کپڑے اتار دیئے گئے ہیں اس نے صرف چادر باندھی ہوئی ہے اسے پکڑ کر نطع (چمڑے کا فرش جس پر مجرم۔قتل کیا جاتا ہے) پر کھڑا کر دیا گیا جلاد تلوار بے نیام کئے ہوئے اس کے پاس کھڑا ہے اور نعمان کے اشارہ ابرو کا منتظر ہے
قسط نمبر101بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:اٹھانوے)
{جزیرہ عرب : حصہ بائیسواں}
(اہل عرب کی خصوصیات: حصہ ہشتم)
(اہل عرب کی غیرت و حمیت:حصہ اول)
عرب کے یہ بادیہ نشین دیگر صفات حمیدہ سے متصف ہونے کے ساتھ ساتھ غیرت کے جذبہ سے بھی سرشار تھے یہ اپنی عصمت و عفت کی حفاظت کے لئے خون کے دریا بہا دینا اور کشتوں کے پشتے لگا دینا اپنا اہم ترین فریضہ سمجھتے تھے۔ کسی کی مجال نہ تھی کہ ان کی ناموس کی طرف بری نگاہ سے دیکھ سکے اور وہ اسے خاموشی سے برداشت کر لیں اسی جذبہ سے سرشار ہونے کے باعث وہ اپنے نسب کی حفاظت کیا کرتے تھے اور اپنے شجرہ نسب کو یاد رکھا کرتے تھے اور ہر وہ شخص جس میں شرافت و فضیلت کا ادنیٰ سا بھی حصہ پایا جاتا ہو۔ وہ لازمی طور پر غیرت مند ہوتا ہے۔ اور وہ قوم جو شجاعت، سخاوت،
قسط نمبر102بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: ننانوے )
{جزیرہ عرب : حصہ تئیسواں}
(اہل عرب کی خصوصیات: حصہ نہم)
(اہل عرب کی غیرت و حمیت:حصہ دوم آخری حصہ)
عوف بن معلم ایک عرب سردار تھا ریاست کندہ کے بادشاہ حارث بن عمرو نے اس کی لڑکی کی بہت تعریف سنی اس نے ایک دانا اور تجربہ کار عصام نامی عورت کو عوف کی بچی کو دیکھنے کے لئے بھیجا عصام نے واپس آکر اس بچی کا سراپا جس انداز سے بیان کیا اور اس کے خصائل و شمائل کا جامع تذکرہ کیا وہ بھی عربی ادب کا ایک شاہکار ہے رشتہ طے ہو گیا۔ رسم نکاح کے بعد ماں نے اپنی لخت جگر کو رخصت کرتے وقت جو نصیحت کی اس کا متن مع ترجمہ آپ کی توجہ کے لئے پیش خدمت ہے۔
قسط نمبر103بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:سو)
{جزیرہ عرب : حصہ چوبیسواں}
(اہل عرب کی زندگی کا تاریک پہلو: حصہ اول)
وہ قوم جس کی ذہانت اور فراست، شجاعت اور سخاوت، ایفاء عہد اور غیرت، فصاحت و بلاغت کا آپ تفصیلی مطالعہ کر چکے ہیں۔ اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ جب ان گونا گوں خوبیوں اور کمالات سے متصف قوم کا تعلق نور نبوت سے منقطع ہو گیا۔ وحی الہیٰ کی روشنی سے انہوں نے استفادہ کرنا ترک کر دیا تو ان کمالات کے باوجود اس کا انجام کیا ہوا ۔ ان کی ساری خوبیاں اور کمالات ذلیل اور خسیس مقاصد کے لئے وقف ہو کر رہ گئے جادہ حق سے ان کے قدم ایسے پھسلے کہ پھر ان کی کوئی خوبی، ان کو قعر مذلت (انتہائی ذلت) میں گرنے سے نہ بچا سکی۔ ایسی ذہین قوم جو ایک لفظ سن کر مخفی اسرار اور پنہاں نکات کا کامیابی سے کھوج لگا لیتی تھی ان کو پتھر کے بنے ہوئے
قسط نمبر104بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:ایک سو ایک)
{جزیرہ عرب : حصہ پچیسواں}
(اہل عرب کی زندگی کا تاریک پہلو: حصہ دوم آخری حصہ)
عرب صرف ایک ہبل کی ہی پوجا نہیں کرتے تھے بلکہ جزیرہ عرب کے اطراف و اکناف میں مختلف شکلوں کے بتوں کی پوجا شروع ہو گئی تھی بعض کسی مکان کی شکل میں، بعض درختوں کے جھنڈ کی شکل میں، بعض گھڑے ہوئے پتھر ۔ الغرض بت پرستی کی ایک وبا پھوٹ پڑی تھی یہاں تک کہ کعبہ کے ارد گرد تین سو ساٹھ بت نصب کر دیئے گئے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ عرب کے سارے قبائل کعبہ کا حج کرنے کے لئے آیا کرتے تھے اس لئے قریش نے ان تمام قبائل کے معبودان باطل کے مجسمے یہاں یکجا کر دیئے تھے تاکہ کسی قبیلہ کا آدمی بھی حج کرنے کی نیت سے آئے تو اپنے معبود کے بت کو یہاں دیکھ کر اس کی عقیدت میں اور اضافہ ہو اور قریش کی ریاست کو تسلیم کرنے میں وہ کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہ کرے۔ ان میں سب سے پرانا بت “منات “کے نام سے مشہور تھا۔
قسط نمبر105بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:ایک سو دو)
{جزیرہ عرب : حصہ چھبیسواں}
(بتوں کے بارے میں کفار کا عقیدہ:حصہ اول)
اپنے بتوں کے بارے میں کفار کا جو عقیدہ تھا آیات قرآنی نے اسے جا بجا وضاحت سے بیان کر دیا ہے پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ اپنے بتوں کو الٰہ مانتے تھے، یہ چیز ان کی سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ ایک ذات کائنات کے گونا گوں، ان گنت امور کا احاطہ کیونکر کر سکتی ہے ۔ نظام عالم کو چلانے کے لئے ان کے نزدیک یہ ضروری تھا کہ متعدد خداؤں کو تسلیم کریں، کوئی تخلیق و آفرینش کا کام کرے، کوئی رزق رسانی کی ذمہ داری سنبھالے، کوئی بیماروں کو صحت دے، کوئی مفلوک الحالوں کو غنی کرے، کوئی کمزوروں کو طاقت ور بنائے ۔ کسی کی ذمہ داری جنگوں کا فیصلہ کرنا، کسی کو شکست سے دو چار کرنا اور کسی کو فتح و کامرانی سے ہمکنار کرنا ہو، کوئی خدا بارش برسانے والا ہو، کوئی کھیت اگانے والا ،اور کوئی اولاد دینے والا، کوئی خدا زمین کے ہر لحظہ تغیر پذیر احوال پر نظر رکھنے
قسط نمبر106بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:ایک سو تین)
{جزیرہ عرب : حصہ ستائیسواں}
(بتوں کے بارے میں کفار کا عقیدہ:حصہ دوم آخری حصہ)
الغرض ہر قبیلہ کا اپنا اپنا خدا تھا جس کی وہ تعظیم کرتے اور اس کے سامنے رسوم عبادت بجا لاتے اس سلسلہ میں گاہے بگاہے کئی ایسے واقعات رو پذیر ہوتے جن سے اگر ایک طرف ان بتوں کی بے بسی کا پردہ چاک ہوتا تو دوسری طرف ان کے پرستاروں کی عقیدت کا بھانڈا بھی چوراہے میں پھوٹ جاتا۔ مالک اور ملکان ، کنانہ کے دو بیٹے تھے جدہ کے ساحل پر ان کا ایک بت تھا جس کا نام سعد تھا وہ ایک لمبی چٹان تھی، بنی ملکان کا ایک شخص اپنے اونٹوں کی ایک قطار لے کر وہاں آیا تاکہ اس سے برکت حاصل کرے ۔ جب اس نے اپنے اونٹوں کو اس چٹان کے قریب کیا تو وہ چٹان ان جانوروں کے خون سے لت پت تھی جو اس کے لئے ذبح کئے گئے تھے اونٹ یہ دیکھ کر بلک پڑے
قسط نمبر107بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:ایک سو چار)
{جزیرہ عرب : حصہ اٹھائیسواں}
(بتوں کے بارے میں ان کا رویہ:حصہ اول)
اپنے بتوں کے بارے میں ان کا رویہ بڑا مضحکہ خیز تھا۔ حضرت ابو رجاء العطاردی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں زمانہ جاہلیت میں ہمارا طریقہ یہ تھا کہ ہم ایک پتھر کو پوجتے رہتے اور جب ہمیں اس سے کوئی خوبصورت پتھر مل جاتا تو ہم پہلے معبود پتھر کو پھینک دیتے اور نئے پتھر کی پوجا شروع کر دیتے اگر کسی مقام پر کوئی پتھر دستیاب نہ ہوتا تو ہم مٹی کی ایک ڈھیری بناتے اس کے اوپر بکری کھڑی کر کے اس کا دودھ دوہتے اور اس ڈھیری پر ڈال دیتے پھر ہم اس ڈھیری کی عبادت کرنے لگتے۔ (بلوغ الارب، جلد دوم ، صفحہ 211)
قسط نمبر108بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:ایک سو پانچ)

{جزیرہ عرب : حصہ انتیسواں}
(بتوں کے بارے میں کفار کا رویہ:حصہ دوم آخری حصہ)

زنادقہ: قریش میں سے ایک گروہ زندیقوں کا بھی تھا۔ ابن قتیبہ نے “کتاب المعارف” میں جہاں عرب کے زمانہ جاہلیت کے ادیان کا ذکر کیا ہے وہاں یہ بھی لکھا ہے کہ قریش کے زندیقوں نے اس مسلک کو حیرہ سے اخذ کیا تھا۔
(کتاب المعارف لابن قتیبہ، صفحہ 266)

اہل حیرہ کائنات کے دو اصلوں کے قائل تھے نور اور ظلمت، نور خیر کا کرنے والا تھا۔ اور ظلمت ، شر کی فاعل تھی یہ دونوں اصل ازلی اور ابدی تھے سمع، بصر اور ادراک کی صفت سے متصف تھے نفس اور صورت میں مختلف تھے۔ ان کے افعال اور تدابیر میں تضاد تھا۔ نور، خوبصورت اور خوشبودار تھا۔ اس کا نفس کریم، حکیم اور نفع بخش تھا۔ ہر قسم کی بھلائیاں، خوشیاں اور اصلاحی کام اس سے صادر ہوتے تھے اور ظلمت اس کے بر عکس تھی۔

قسط نمبر109بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:ایک سو چھ)
{جزیرہ عرب : حصہ اکتیسواں}
(بعض اہل حق:حصہ دوم)
(زید بن عمرو بن نفیل، امیہ بن ابی صلت و اسعد ابو کرب الحمیری)
عہد جاہلیت میں اہل عرب نے جس قسم کے عقائد باطلہ کو اپنا رکھا تھا اس کا سرسری جائزہ آپ کے سامنے پیش کر دیا گیا ہے لیکن اس دور میں جب کہ ہر طرف کفر و شرک اور فسق و فجور کی کالی رات چھائی ہوئی تھی بعض ایسے نفوس قدسیہ بھی تھے جو اگرچہ تعداد میں بہت کم تھے لیکن اللہ تعالیٰ کی توحید پر ان کا یقین محکم اور اس کی صفات کمال پر ان کا ایمان پختہ تھا۔ معبودان باطل سے وہ قطعا بیزار تھے۔ شب دیجور میں آسمان پر جس طرح ستارے چمک رہے ہوتے ہیں اسی طرح ان بھیانک اندھیروں میں ان کا وجود منبع انوار تھا۔ ان میں سے چند بر گزیدہ ہستیوں کے عقائد اور اطوار کے بارے میں مختصرا تحریر کیا جاتا ہے۔
قسط نمبر110بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:ایک سو سات)
{جزیرہ عرب : حصہ اکتیسواں}
(بعض اہل حق:حصہ دوم)
(زید بن عمرو بن نفیل، امیہ بن ابی صلت و اسعد ابو کرب الحمیری)
زید بن عمرو بن نفیل: اس خوش نصیب گروہ میں سے جنہوں نے گمراہی کی اندھیری رات میں بھی حق کا دامن مضبوطی سے پکڑے رکھا زید بن عمرو بن نفیل ہیں۔ یہ اپنے اہل وطن کے مشرکانہ عقائد سے بچپن سے ہی متنفر تھے یہ نہ ان کی پوجا کرتے اور نہ ان کے لئے جانوروں کی قربانیاں دیتے۔ علامہ الفاکہی نے اپنی سند سے عامر بن ربیعہ سے روایت کیا۔ عامر کہتے ہیں میری ملاقات زید بن عمرو سے ہوئی جب وہ مکہ سے نکل کر حراء کی طرف جا رہے تھے انہوں نے مجھے کہا اے عامر ! میں نے اپنی قوم کے باطل عقیدہ کو ترک کر دیا ہے اور ملت ابراہیمی کی اتباع اختیار کر لی ہے میں اس خدا کی عبادت کرتا ہوں جس کی حضرت اسماعیل علیہ السلام اس کعبہ کی طرف منہ کر کے عبادت کیا کرتے تھے۔ میں ایک نبی کا انتظار کر رہا ہوں
قسط نمبر111بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:ایک سو آٹھ)
{جزیرہ عرب : حصہ بتیسواں}
(بعض اہل حق:حصہ سوم)
(سیف بن ذی یزن)
آپ پہلے پڑھ آئے ہیں کہ حبشیوں نے یمن پر قبضہ جما لیا تھا اہل یمن پر ظلم و ستم کی انتہا کر دی تھی سیف بن ذی یزن نے کسریٰ سے امداد طلب کی یمن پر چڑھائی کی حبشیوں کو شکست دی اور اپنے اہل وطن کو ان کی غلامی کی ذلت اور اذیت رسانی سے نجات دلائی۔ یہ واقعہ حضور نبی کریمﷺ کی ولادت با سعادت کے بعد یوں رونما ہوا جزیرہ عرب کے گوشہ گوشہ سے وفود سیف بن ذی یزن کو مبارک دینے کے لئے آئے شعراء نے اس کی مدح میں قصیدے لکھے جس میں اس کے احسان کا ذکر کیا گیا۔ کہ اس نے اہل یمن کو حبشیوں کی ذلت آمیز غلامی سے نجات دلائی اور اس پر اس کی خدمت میں خراج تشکر پیش کیا گیا ان وفود میں ایک وفد مکہ کے قریش کا بھی تھا۔ اس وفد میں حضرت عبدالمطلب بن ہاشم، امیہ بن شمس، عبداللہ بن جدعان اور اسد بن خویلد جیسے رؤسا تھے،
قسط نمبر112بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:ایک سو نو)
{جزیرہ عرب : حصہ تنتیسواں}
(بعض اہل حق:حصہ چہارم آخری حصہ)
(ورقہ بن نوفل القرشی و خالد بن سنان بن غیث العبسی)
ورقہ بن نوفل القرشی: ورقہ بن نوفل ابن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی کا سلسلہ نسب قصی میں حضور نبی کریمﷺ کے سلسلہ نسب کے ساتھ مل جاتا ہے ام المومنین حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا ورقہ کے چچا خویلد بن اسد کی صاحب زادی تھیں ابو الحسن البقاعی نے آپ کے بارے میں ایک مستقل کتاب لکھی ہے جس میں آپ کا صحابی ہونا ثابت کیا ہے ورقہ بن نوفل، ان سعادت مند افراد سے تھے جو زمانہ جاہلیت میں بھی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان رکھتے تھے قریش اور دیگر بت پرست عرب قبائل سے ان کا کوئی واسطہ نہ تھا۔ آپ نے اپنی عقل سلیم سے ہی یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ عرب کے بت پرست دین ابراہیمی سے بھٹک گئے ہیں۔ وہ ہمیشہ اس تلاش میں رہتے کہ انہیں وہ طریقہ معلوم ہو جائے جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کرتے تھے
قسط نمبر113بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:ایک سو دس)
{جزیرہ عرب : حصہ چونتیسواں}
( اہل عرب کی عبادات)
جزیرہ عرب کے تمام باشندے اپنے آپ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف منسوب کرتے اور اس نسب پر فخر کرتے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد تین ہزار سال تک جزیرہ عرب میں کوئی نبی مبعوث نہ ہوا اسے زمانہ فترت کہتے ہیں جب کہ وحی کا سلسلہ منقطع رہا۔ اس زمانہ میں بھی دین حنیف کی بہت سی عبادات ان میں باقی رہیں لیکن انہوں نے ان عبادات کو ایسا رنگ دے دیا تھا اور ان کے لئے ایسی شرائط اور قیود مقرر کر دی تھیں جن کے باعث ان عبادات کی روح فنا ہو گئی تھی دین ابراہیمی کے مطابق وہ اپنے مردوں کو غسل دیتے تھے کفن پہناتے تھے ان کی نماز جنازہ پڑھتے تھے اور سنت ابراہیمی کے مطابق ان کو قبروں میں دفن کرتے لیکن ان کی نماز جنازہ میں نہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا تھی، نہ ہی اس میت کے لئے اللہ تعالیٰ کی جناب میں مغفرت کی دعائیں مانگی جاتی تھیں
قسط نمبر114بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:ایک سو گیارہ)
{جزیرہ عرب : حصہ پنتیسواں}
( اہل عرب کی لغو عادات:حصہ دوم)

ان کی جاہلانہ رسوم میں سے ایک رسم یہ بھی تھی کہ جب بارش برسنا بند ہو جاتی اور قحط سالی کا دور دورہ ہوتا تو وہ سلع اور عشر ( دو درختوں کے نام ) کی ٹہنیاں کاٹ کر ایک گائے کی دم کے ساتھ باندھ دیتے ان شاخوں کو آگ لگا دیتے اور اس گائے کو دشوار گزار پہاڑیوں میں لٹھ مار کر بھگا دیتے اور یہ خیال کرتے کہ ان کے اس طریقہ سے بادل امڈ کر آئیں گے بجلی چمکے گی اور موسلا دھار بارش برسے گی۔ ایک اعرابی اس لغو حرکت پر اظہار نفرین کرتے ہوئے کہتا ہے۔

شَفَعْنَا بِبَيْقُوۡرٍ اِلٰى هَاطِلِ الْحَيَا
فَلَمْ يُغْنِ عَنَّا ذَاكَ بَلْ زَادَنَا جَدْیَا
ہم نے اس گائے سے شفاعت طلب کی جس کی دم سے وہ شاخیں باندھ کر آگ لگا دی گئی تھی تاکہ موسلا دھار بارش برسے۔ لیکن اس چیز نے ہمیں کوئی نفع نہ پہنچایا بلکہ خشک سالی میں مزید اضافہ ہو گیا۔

قسط نمبر115بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:ایک سو بارہ)
{جزیرہ عرب : حصہ چھتیسواں}
(اہل عرب کی لغو عادات:حصہ دوم)
اسلام نے ان تمام خرافات کو نیست و نابود کر دیا اور اپنے ماننے والوں کو ایسی رسوم ادا کرنے سے منع کر دیا ان کے ہاں ایک اور عقیدہ بھی پھیلا ہوا تھا کہ جب کسی آدمی کو قتل کر دیا جاتا ہے تو اس کے سر سے روح ایک پرندہ کی شکل میں نکلتی ہے اور جب تک اس مقتول کا انتقام نہ لیا جائے اس وقت تک وہ اس کی قبر پر چکر کاٹتی رہتی ہے۔ اور کہتی ہے کہ: “اِسۡقُوۡنِیۡ فَاِنِّیۡ صَدِیَۃٌ” ترجمہ: مجھے پلاؤ میں سخت پیاسی ہوں۔ اس اعتقاد کے باعث ان کے ہاں اگر کسی آدمی کو قتل کر دیا جاتا۔ تو اس کے قریبی رشتہ داروں اور بیٹوں ، بھائیوں کے لئے اس کے خون کو معاف کرنا مشکل ہو جاتا تھا کیونکہ وہ یہ خیال کرتے تھے کہ جب تک ہم مقتول کا بدلہ نہیں لیں گے اس وقت تک اس کی روح کو چین نہیں آئے گا۔ وہ اپنے مشتعل جذبات کو تو ٹھنڈا کر سکتے تھے
قسط نمبر116بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:ایک سوتیرہ)
{جزیرہ عرب : حصہ سنتیسواں}
(اہل عرب کی لغو عادات:حصہ سوم)
(مقتول کی دیت و معاقرہ)
مقتول کی دیت: ان کے ہاں مقتول کی دیت عام طور پر ایک سو اونٹ ہوا کرتی۔ قاتل پوری دیت کو ساتھ لے کر اور اپنے قوم کے معززین کی جماعت کی ہمراہی میں مقتول کے وارثوں کے پاس جاتا اور ان سے دیت قبول کرنے اور قتل معاف کرنے کی درخواست کرتا اگر مقتول کے ورثاء طاقتور ہوتے تو دیت کو مسترد کر دیتے اور قصاص لینے پر اصرار کرتے اور اگر وہ اتنے طاقتور نہ ہوتے کہ قاتل کے قبیلہ کا مقابلہ کر سکیں تو پھر اپنا پردہ رکھنے کے لئے وہ یہ کہتے کہ ہم خود تو اپنے مقتول کو ان سو اونٹوں کے بدلے میں فروخت نہیں کر سکتے۔ البتہ اگر اللہ تعالیٰ یہ فیصلہ فرما دے تو پھر ہم دیت لے لیں گے۔
قسط نمبر117بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:ایک سوچودہ)
{جزیرہ عرب : حصہ اڑتیسواں}
(اہل عرب کی لغو عادات:حصہ چہارم)
(چرا گاہوں پر اجارہ داری، بحیرہ و سائبہ)
چراگاہوں پر اجارہ داری: آپ کو معلوم ہے کہ عرب کے بادیہ نشین قبائل کا ذریعہ معاش ریوڑ پالنا تھا۔ وہ چشموں چراگاہوں کی تلاش میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے رہتے تھے جہاں ان کی بھیڑ، بکریوں کے لئے پینے کا پانی اور چرنے کے لئے گھاس بآسانی دستیاب ہوتا۔ اس پر ان کی معاشی خوشحالی کا دار و مدار تھا۔ لیکن اس سلسلہ میں بھی طاقتور رؤساء ایسی حرکتیں کرتے تھے جن سے عوام الناس کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا جہاں بھی کسی قبیلہ کا کوئی طاقتور سردار پہنچتا تو وہ اپنا ایک کتا اونچی جگہ پر کھڑا کرتا اور اس کو بھونکاتا اور جہاں جہاں تک اس کتے کے بھونکنے کی آواز پہنچتی وہاں تک وہ چراگاہ اس ایک شخص کی مقبوضہ بن جاتی۔
قسط نمبر117بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:ایک سوچودہ)
{جزیرہ عرب : حصہ اڑتیسواں}
(اہل عرب کی لغو عادات:حصہ چہارم)
(چرا گاہوں پر اجارہ داری، بحیرہ و سائبہ)
چراگاہوں پر اجارہ داری: آپ کو معلوم ہے کہ عرب کے بادیہ نشین قبائل کا ذریعہ معاش ریوڑ پالنا تھا۔ وہ چشموں چراگاہوں کی تلاش میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے رہتے تھے جہاں ان کی بھیڑ، بکریوں کے لئے پینے کا پانی اور چرنے کے لئے گھاس بآسانی دستیاب ہوتا۔ اس پر ان کی معاشی خوشحالی کا دار و مدار تھا۔ لیکن اس سلسلہ میں بھی طاقتور رؤساء ایسی حرکتیں کرتے تھے جن سے عوام الناس کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا جہاں بھی کسی قبیلہ کا کوئی طاقتور سردار پہنچتا تو وہ اپنا ایک کتا اونچی جگہ پر کھڑا کرتا اور اس کو بھونکاتا اور جہاں جہاں تک اس کتے کے بھونکنے کی آواز پہنچتی وہاں تک وہ چراگاہ اس ایک شخص کی مقبوضہ بن جاتی۔
قسط نمبر118بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:ایک پندرہ )
{جزیرہ عرب : حصہ انتالیسواں}
(اہل عرب کی لغو عادات:حصہ پنجم)
(اہل عرب میں شادی بیاہ کے مروّج طریقے)
شریف قبائل میں تو شادی بیاہ کا یہی طریقہ تھا جس کو اسلام نے بھی جائز قرار دیا کہ لڑکے کے ورثاء لڑکی کے والدین کے پاس جاتے اور ان سے رشتہ کی درخواست کرتے اور اگر وہ ان کی اس درخواست کو قبول کرتے تو لڑکے کے رشتہ دار از حد ممنون شکر گزار ہوتے۔ لڑکی کا مہر مقرر کیا جاتا مجلس نکاح منعقد ہوتی اور لڑکی کے والدین نیک تمناؤں کے ساتھ اپنی لڑکی کو رخصت کرتے۔لیکن اس نکاح کے علاوہ رشتہ زوجیت کے انعقاد کے اور بھی متعدد طریقے رائج تھے جن کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ کفر و شرک کی آلودگیوں نے ان کے جذبہ غیرت و حمیت کا کس طرح گلا گھونٹ دیا تھا۔ اور وہ لوگ کیونکر ایسی رسموں کو کھلے دل سے برداشت کرتے تھے نہ ان کا ضمیر ان کو اس بے غیرتی پر ملامت کرتا تھا
قسط نمبر119بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ ( حصہ:ایک سوسولہ آخری حصہ )
{جزیرہ عرب : حصہ چالیسواں آخری حصہ}
(اہل عرب کی لغو عادات:حصہ ششم آخری حصہ)
(بچیوں کو زندہ درگور کرنا)
ایک انتہائی ظالمانہ اور سنگدلانہ رسم جو ان میں مروج تھی اور جس کو باعث عزت و شرف سمجھا جاتا تھا وہ “وَأْدُ الۡبَنَاتِ” کی رسم تھی یعنی جب کسی کے ہاں بچی پیدا ہوتی تو ان کے ہاں صف ماتم بچھ جاتی اور جب وہ چند سال کی ہو جاتی تو باپ اس کو بہترین کپڑے پہناتا مزین و آراستہ کر کے جنگل میں لے جاتا۔ اپنے ہاتھوں سے ایک گہرا گڑھا کھودتا پھر اس میں دھکا دے کر اس بچی کو پھینک دیتا اور اس پر مٹی ڈال کر اس گڑھے کو بھر دیتا۔ وہ بیچاری چیختی چلاتی رہ جاتی لیکن اس سنگدل باپ پر ذرا اثر نہ ہوتا۔ بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے کی یہ قبیح رسم تقریباً عرب کے تمام قبائل میں کم و بیش رائج تھی۔ لیکن بنو تمیم میں اس کا رواج بہت زیادہ تھا۔

قسط نمبر120 زم زم کی کھدائی

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے: حضرت اسماعیل علیہ السلام کے 12 بیٹے تھے، ان کی نسل اس قدر ہوئی کہ مکہ مکرمہ میں نہ سما سکی اور پورے حجاز میں پھیل گئی، ان کے ایک بیٹے قیدار کی اولاد میں عدنان ہوئے، عدنان کے بیٹے مَعد اور پوتے کا نام نَزَار تھا۔ نَزَار کے چار بیٹے تھے، ان میں سے ایک کا نام مُضَر تھا، مُضَر کی نسل سے قریش بن مالک پیدا ہوئے۔ یہ فِہر بن مالک بھی کہلائے، قریش کی اولاد بہت ہوئی، ان کی اولاد مختلف قبیلوں میں بٹ گئی ان کی اولاد سے قُصَّی نے اقتدار حاصل کیا قصی کے آگے تین بیٹے ہوئے ان میں سے ایک عبد مناف تھے جن کی اگلی نسل میں ہاشم پیدا ہوئے۔ ہاشم نے مدینہ کے ایک سردار کی لڑکی سے شادی کی، ان کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوا
قسط نمبر121 سو اونٹوں کی قربانی
حضرت عبدالمطلب کو یہ حکم اسوقت دیا گیا جب وہ اپنی منت بھول چکے تھے، پہلے خواب میں ان سے کہا گیا “منت پوری کرو” انھوں نے ایک مینڈھا ذبح کر کے غریبوں کو کھلا دیا ۔پھر خواب آیا ،اس سے بڑی پیش کرو اس مرتبہ انھوں نے ایک بیل ذبح کر دیا، خواب میں پھر یہی کہا گیا اس سے بھی بڑی پیش کرو، اب انھوں نے اونٹ ذبح کیا، پھر خواب آیا اس سے بھی بڑی چیز پیش کرو، انھوں نے پوچھا ، اس سے بھی بڑی چیز کیا ہے؟ تب کہا گیا: اپنے بیٹوں میں سے کسی کو ذبح کرو جیسا کہ تم نے منت مانی تھی اب انھیں اپنی منت یاد آئی، اپنے تمام بیٹوں کو جمع کیا اور ان سے منت کا ذکر کیا سب کے سر جھک گئے۔ کون خود کو ذبح کرواتا، آخر حضرت عبداللہ بولے: ابا جان آپ مجھے ذبح کر دیں۔
قسط نمبر122 ابرہہ کا انجام
آپﷺ عام الفیل میں پیدا ہوئے۔ یعنی ہاتھیوں والے سال میں، اس سال کو ہاتھیوں والا سال اس لیے کہا جاتا ہے کہ اسی سال ابرہہ نے ہاتھیوں کے ساتھ مکہ مکرمہ پر چڑھائی کی تھی۔ آپﷺ کی پیدائش اس واقعہ کے کچھ ہی دن بعد ہوئی ۔ واقعہ کچھ اسطرح ہے کہ ابرہہ یمن کا عیسائی حاکم تھا، حج کے دنوں میں اس نے دیکھا کہ لوگ بیت اللہ کا حج کرنے جاتے ہیں، اس نے اپنے لوگوں سے پوچھا: یہ لوگ کہاں جاتے ہیں؟ اسے جواب ملا: بیت اللہ کا حج کرنے کے لیے مکہ جاتے ہیں، اس نے پوچھا: بیت اللہ کس چیز کا بنا ہوا ہے؟ اسے بتایا گیا: پتھروں کا ہے۔ اس نے پوچھا: اس کا لباس کیا؟ بتایا گیا۔ ہمارے ہاں سے جو دھاری دار کپڑا جاتا ہے اس سے اس کی پوشاک تیار ہوتی ہے۔
قسط نمبر123 طلوع آفتاب مطلعِ نبوت و رسالتﷺ: (حصہ اول)
(ولادت سرور عالمﷺ : حصہ اول)
ربیع الاول کا مہینہ تھا، دو شنبہ کا دن تھا، اور صبح صادق کی ضیاء بار سہانی گھڑی تھی، رات کی بھیانک سیاہی چھٹ رہی تھی اور دن کا اُجالا پھیلنے لگا تھا۔ جب مکہ کے سردار حضرت عبدالمطلب کی جواں سال بیوہ بہو کے حسرت و یاس کی تاریکیوں میں ڈوبے ہوئے سادہ سے مکان میں ازلی سعادتوں اور ابدی مسرتوں کا نور چمکا۔ایسا مولود مسعود تولد ہوا جس کے من موہنے مکھڑے نے صرف اپنی غمزدہ ماں کو ہی سچی خوشیوں سے مسرور نہیں کیا بلکہ ہر درد کے مارے کے لبوں پر مسکراہٹیں کھیلنے لگیں۔ اس نورانی پیکر کے جلوہ فرمانے سے صرف حضرت عبداللہ کا کُلبئہ احزاں (جہاں غموں کا بسیرا ہو) جگمگانے نہیں لگا بلکہ جہاں کہیں بھی مایوسیوں اور حرماں نصیبیوں نے اپنے پنجے گاڑ رکھے تھے وہاں امید کی کرنیں روشنی پھیلانے لگیں اور ٹوٹے دلوں کو بہلانے لگیں۔
قسط نمبر124 طلوع آفتاب مطلعِ نبوت و رسالتﷺ: (حصہ دوم )
(ولادت سرور عالمﷺ : حصہ دوم)
حضرت آمنہ فرماتی ہیں کہ جب آپﷺ کی ولادت ہوئی تو آپﷺ زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھے تھے۔ اور آسمان کی طرف دیکھ رہے تھے۔ آپﷺ کی ناف پہلے ہی کٹی ہوئی تھی۔ وہب بن زمعہ کی پھوپھی کہتی ہیں کہ جب حضرت آمنہ کے ہاں رسول اللہﷺ کی ولادت ہوئی تو آپ نے حضرت عبدالمطلب کو اطلاع دینے کے لئے آدمی بھیجا جب وہ خوشخبری سنانے والا پہنچا اس وقت آپ حطیم میں اپنے بیٹوں اور اپنی قوم کے مردوں کے درمیان تشریف فرما تھے آپ کو اطلاع دی گئی کہ حضرت آمنہ کے ہاں بچہ پیدا ہوا ہے تو آپ کی خوشی و مسرت کی حد نہ رہی۔ آپ حضرت آمنہ کے پاس آئے حضرت آمنہ نے ولادت کے وقت جو انوار و تجلیات دیکھی تھیں
قسط نمبر125 طلوع آفتاب مطلعِ نبوت و رسالتﷺ: (حصہ سوم )
(ولادت سرور عالمﷺ : حصہ دوم)
اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ محسن انسانیتﷺ کا یوم میلاد دو شنبہ کا دن تھا۔ اس پر بھی علماء امت کا تقریباً اتفاق ہے کہ ربیع الاول کا با برکت مہینہ تھا۔ ماہ رمضان اور ماہ محرم کے اقوال کو اہل تحقیق نے درخور اعتنا ہی نہیں سمجھا۔ البتہ ماہ ربیع الاول کی کون سی تاریخ تھی جب مہتاب رشد و ہدایتﷺ نے جلوہ بار ہو کر ظلمت کدہ عالم کو منور فرمایا اس بارے میں علماء کرام کے متعدد اقوال ہیں ہم یہاں علماء محققین کی آراء ناظرین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں جن کے مطالعہ سے وہ بآسانی صحیح نتیجہ اخذ کر سکیں گے۔ 1) امام ابن جریر طبری علیہ الرحمۃ جو فقید المثال مفسر، بالغ نظر مورخ بھی ہیں وہ اس بارے میں لکھتے ہیں۔

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم

قسط نمبر126(طلوع آفتاب مطلعِ نبوت و رسالتﷺ:حصہ چہارم)

(تاریخ ولادت باسعادت سرور عالمﷺ:حصہ دوم)

مام الحافظ ابو الفتح محمد بن محمد بن عبدالله بن محمد بن یحیی بن سید الناس الشافعی الاندلسی علیہ الرحمۃ اپنی سیرت کی کتاب “عیون الاثر ” میں تحریر فرماتے ہیں۔ “وُلِدَ سَيِّدُنَا وَنَبِيُّنَا مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الۡاِثْنَيْنِ لِاِثْنَتَىۡ عَشَرَةَ لَيْلَةً مَضَتْ مِنْ شَهْرِ رَبِيۡعِ الْاَوَّلِ عَامَ الْفِيۡلِ قِيۡلَ بَعْدَ الْفِيۡلِ بِخَمْسِيۡنَ يَوْمًا” ترجمہ: ہمارے آقا اور ہمارے نبی محمد رسول اللہﷺ سوموار کے روز بارہ ربیع الاول شریف کو عام الفیل میں پیدا ہوئے ۔ بعض نے کہا ہے کہ واقعہ فیل کے پچاس روز بعد حضورﷺ کی ولادت ہوئی۔ (عیون الاثر، جلد اول، صفحہ 26) اس کے بعد انہوں نے ربیع الاول کی دو اور آٹھ تاریخ کے قول نقل کئے ہیں۔ علامہ ابن کثیر علیہ الرحمۃ جو علوم تفسیر، حدیث اور تاریخ میں اپنی نظیر آپ تھے وہ “السیرۃ النبویۃ” میں اس موضوع پر یوں داد تحقیق دیتے ہیں۔
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم
قسط نمبر127طلوع آفتاب مطلعِ نبوت و رسالتﷺ:حصہ پنجم)

(ولادت سرور عالمﷺ:حصہ سوم آخری حصہ)

علامہ شبلی نعمانی اور قاضی سلیمان منصور پوری نے محمود پاشا کو مصر کا باشندہ لکھا ہے مفتی محمد شفیع صاحب انہیں مکی لکھتے ہیں۔ مولانا حفظ الرحمٰن سیوہاروی نے انہیں قسطنطنیہ کا مشہور ہیئت دان اور مُنجّم (ماہر فلکیات) بتایا ہے۔ ہمیں بڑی کوشش کے باوجود محمود پاشا فلکی کی کتاب یا رسالہ نہیں مل سکا۔ البتہ معلوم ہوا کہ پاشا فلکی کا اصل مقالہ فرانسیسی زبان میں تھا جس کا ترجمہ سب سے پہلے احمد زکی آفندی نے “نتائج الافہام” کے نام سے عربی میں کیا اس کو مولوی سید محی الدین خان جج ہائی کورٹ حیدر آباد نے اردو کا جامہ پہنایا اور 1898ء میں نولکشور پریس نے شائع کیا لیکن اب یہ ترجمہ نہیں ملتا۔ محمود پاشا فلکی نے اگر علم فلکیات کی مدد سے کچھ تحقیقات کی بھی ہیں صحابہ کرام، تابعین اور دیگر قدماء کی روایات کو جھٹلانے کے لئے ان پر انحصار کرنا کسی طرح مناسب نہیں کیونکہ سائنسی علوم کی طرح فلکیات کی بھی کوئی بات قطعی نہیں ہوتی ۔

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی  علیہ وآلہ وسلم
قسط نمبر128(مولد مقدس و شکر خداوندی)

مولد مقدس (وہ مقدس مکان جہان ولادت النبیﷺ ہوئی): فرش زمین کا وہ مقام ہے جو اللہ تعالیٰ کے محبوب کریمﷺ کے پائے ناز کو سب سے پہلے بوسہ دے کر عرش پایہ بنا وہ پہلے حضرت عقیل بن ابی طالب اور ان کی اولاد کی ملکیت میں رہا۔ پھر حجاج کے بھائی محمد بن یوسف ثقفی نے ایک لاکھ دینار قیمت ادا کر کے اسے خرید لیا اور اس جگہ کو اپنے مکان کا حصہ بنا لیا۔ کیونکہ یہ مکان سفید چونے سے تعمیر کیا گیا تھا اور اس پر پلستر بھی سفید چونے کا تھا اس لئے اسے ” البیضاء ” کہا جاتا تھا۔ یہ عرصہ تک دار ابن یوسف کے طور پر مشہور رہا۔ ہارون الرشید کے عہد خلافت میں اس کی نیک بخت اور فیض رساں رفیقہ حیات زبیده خاتون فریضہ حج ادا کرنے کے لئے مکہ مکرمہ حاضر ہوئی تو اس نے یہ مکان حاصل کر کے گرا دیا اور اس جگہ مسجد تعمیر کر دی۔ ابن دحیہ کہتے ہیں کہ ہارون الرشید کی والدہ خیزران جب حج کے لئے آئی تو اس نے ابن یوسف کے مکان سے وہ حصہ نکال لیا

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر129(حضورﷺ کا معصوم بچپن:حصہ اول)

(اسم مبارک و کلمہ محمدﷺ کی تشریح)

اسم مبارک: ایک روایت میں یہ مذکور ہے کہ نبی کریمﷺ مختون پیدا ہوئے تھے لیکن دوسری روایات میں یہ ہے کہ ساتویں روز حضرت عبدالمطلب نے تمام قریش کو مدعو کیا اسی روز حضورﷺ کا ختنہ کیا گیا اور جانور ذبح کر کے عقیقہ کیا گیا اور آپ نے اپنے قبیلہ کی پر تکلف دعوت کا اہتمام فرمایا۔ جب وہ کھانا کھا چکے تو انہوں نے کہا۔ اے عبد المطلب! جس بیٹے کے تولد کی خوشی میں آپ نے اس پر تکلف دعوت کا اہتمام کیا ہے اور ہمیں عزت بخشی ہے یہ تو بتائیے کہ اس فرزند کا نام آپ نے کیا تجویز کیا ہے۔ آپ نے فرمایا میں نے اس کا نام ” محمد” تجویز کیا ہے۔ از راہ حیرت وہ گویا ہوئے۔ آپ نے اپنے اہل بیت میں سے کسی کے نام پر اس کا نام نہیں رکھا۔

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر130(حضورﷺ کا معصوم بچپن: حصہ دوم)

(رضاعت :حصہ اول)

سب سے پہلے حضرت سیدہ آمنہ نے اپنے نور نظر اور لخت جگرﷺ کو دودھ پلایا پھر یہ شرف حضرت ثویبہ کو نصیب ہوا۔ حضرت ثویبہ ابو لہب کی کنیز تھی اس نے ہی سب سے پہلے ابو لہب کو حضورﷺ کی ولادت کا مژدہ سنایا اور اس نے اپنے متوفی بھائی حضرت عبداللہ کے ہاں بیٹے کی پیدائش کی خوشی میں اسے آزاد کر دیا اپنے بھتیجے کی پیدائش پر اس نے جو اظہار مسرت کیا اس کا صلہ چودہ صدیوں سے اسے مل رہا ہے ہر سوموار کو اس ابدی جہنمی کو ٹھنڈا پانی بھی پینے کو مل جاتا ہے اور اس کے عذاب میں بھی اس روز کچھ تخفیف کر دی جاتی ہے اور تا روز حشر ایسا ہوتا رہے گا۔ حضرت ثویبہ کے علاوہ اور متعدد خواتین نے بھی حضورﷺ کو دودھ پلانے کی سعادت حاصل کی حضرت خولہ بنت منذر ،حضرت ام ایمن،حضرت حلیمہ سعدیہ، اور بنی سعد کی ایک اور خاتون ان کے علاوہ ہیں لیکن سب سے زیادہ یہ شرف حضرت حلیمہ کے حصہ میں آیا انہوں نے لگا تار دو سال تک یہ خدمت انجام دی

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 131حضورﷺ کا معصوم بچپن حصہ سوم)

(رضاعت :حصہ دوم)

ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضرت حلیمہ کہتی ہیں کہ جب میں مکہ پہنچی تو مجھے حضرت عبد المطلب ملے انہوں نے پوچھا تم کون ہو؟ میں نے کہا میں بنی سعد کی ایک خاتون ہوں انہوں نے نام پوچھا تو میں نے بتایا حلیمہ یہ سن کر حضرت عبدالمطلب فرط مسرت سے مسکرانے لگے اور فرمایا۔
“بَخۡ بَخۡ سَعْدٌ وَّحِلۡمٌ خَصْلَتَانِ فَهُمَا خَيْرُ الدَّهْرِ وَعِزُّ الْاَبَدِ”
ترجمہ: واہ واہ سعد اور حلم، کیا کہنا یہ وہ دو خوبیاں ہیں جن میں زمانہ بھر کی بھلائی اور ابدی عزت ہے۔
پھر فرمایا میرے ہاں ایک یتیم بچہ ہے کسی نے اس کے یتیم ہونے کی وجہ سے اسے قبول نہیں کیا تو اس یتیم بچہ کو گود میں لینے کے لئے تیار ہے؟
“هَلْ لَكِ اَنْ تَرْضَعِيۡهِ عَسٰى اَنْ تَسْعَدِيۡ بِهٖ”
ترجمہ: کیا تو اس کو دودھ پلانے کے لئے تیار ہے ہو سکتا ہے کہ اس کی برکت سے تیرا دامن یمن (برکت) و سعادت سے لبریز ہو جائے۔

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 132(حضورﷺ کا معصوم بچپن: حصہ چہارم)

(شق صدر کے بارے شکوک اور ان کا ازالہ)

شق صدر کے بارے میں جو روایات کتب حدیث میں موجود ہیں ان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ خواب کا واقعہ نہیں ہے بلکہ عالم بیداری میں حسی طور پر سینہ مبارک شق کیا گیا قلب انور باہر نکالا گیا اسے چیرا گیا۔ اس میں سے خون کا لوتھڑا کاٹ کر الگ کیا گیا۔ پھر اسے دھویا گیا پھر اسے اپنے مقام پر رکھ کر سینہ مبارک کو سی دیا گیا۔ عرصہ دراز تک اس واقعہ پر یہ اعتراض کیا جا تا رہا کہ ایسا ممکن نہیں اگر دل کو باہر نکالا جائے اس میں سے کوئی ٹکڑا کاٹ لیا جائےتو زندگی کے چراغ کا گل ہو جانا ایک یقینی امر ہے، عقل خود بین کے پرستاروں نے اس بات پر بڑا شور و غل مچایا لیکن انہوں نے اس بات پر غور کرنے کی زحمت گوارا نہ کی عقل انسانی نے طویل فکر و تدبر اور مسلسل استقرا کی ریاضت سے جو قواعد و ضوابط مرتب کئے ہیں 

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 133(حضورﷺ کا معصوم بچپن: حصہ پنجم)

(حضورﷺ کا والدہ ماجدہ کے ہمراہ سفر یثرب)

حضرت عبد المطلب کے والد گرامی حضرت ہاشم نے یثرب کے بنی نجار خاندان کے رئیس عمرو بن لبید کی صاحب زادی سلمیٰ سے شادی کی جس کے بطن سے شیبہ ( عبد المطلب ) پیدا ہوئے، حضرت ہاشم ایک تجارتی سفر پر فلسطین گئے تھے کہ غزہ کے مقام پر انتقال فرمایا اور یہ بھی کہ حضرت عبداللہ شادی کے بعد کچھ عرصہ مکہ میں رہے، پھر بغرض تجارت شام گئے جب لوٹے تو ان کا گزر یثرب سے ہوا، چند روز کے لئے اپنے والد حضرت عبدالمطلب کے ننہال میں قیام کیا اس اثناء میں وہ بیمار ہو گئے۔ آپ کے دوسرے ساتھیوں نے چند روز انتظار کیا لیکن جب آپ کی طبیعت نہ سنبھلی تو وہ لوگ مکہ روانہ ہو گئے لیکن آپ رک گئے کہ صحت درست ہو تو سفر اختیار کریں۔ لیکن مشیت الہیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ آپکی طبیعت بگڑتی چلی گئی یہاں تک کہ آپ نے یثرب میں ہی داعی اجل کو لبیک کہا۔

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 134حضورﷺ کا معصوم بچپن: حصہ ششم

(حضورﷺ کا والدہ ماجدہ کے ہمراہ سفر کے بعد مکہ کی جانب واپسی)

حضرت ام ایمن نے سیدہ آمنہ کو ابواء کے مقام پر دفن کیا یہ مقام مکہ اور مدینہ طیبہ کے درمیان ہے، قدیم شاہراہ جو مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ جاتی ہے اس پر ایک گاؤں مستورہ کے نام سے سے آتا ہے، جہاں ہوٹل اور قہوہ خانے ہیں آنے جانے والی بسیں اور کاریں یہاں رکتی ہیں مسافر چائے پیتے ہیں کھانا کھاتے ہیں، یہاں سے مدینہ طیبہ جاتے ہوئے دائیں طرف چند میل کے فاصلہ پر ابواء کی بستی ہے۔ بستی سے باہر ایک اونچا ٹیلہ ہے ارد گرد جھاڑیاں اور کیکر کے درخت اگے ہوئے ہیں اس ٹیلہ پر سیدہ آمنہ کا مزار پر انوار ہے۔ مزار کیا ہے کالے پتھر توڑ کر ایک جگہ بے ہنگم سا ڈھیر لگا دیا گیا ہے اس کے ارد گرد چار دیواری ہے وہ بھی کالے پتھروں کو جوڑ کر بنا دی گئی ہے۔ بظاہر وہاں زیب و زینت اور رونق نام کی کوئی چیز نہیں، لیکن قلب و روح کو وہاں ایسا کیف نصیب ہوتا ہے کہ سبحان اللہ۔

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 135حضورﷺ کا معصوم بچپن: حصہ ہفتم)

(حضورﷺ اور عم محترم ابو طالب)

حضرت عبد المطلب کی وصیت کے مطابق سرور عالمﷺ کی نگہداشت کی سعادت حضرت ابو طالب کے حصہ میں آئی۔ آپ کی مالی حالت اچھی نہ تھی لیکن اس کے باوجود آپ نے خدمت گزاری کا حق ادا کر دیا آپ اپنے بچوں سے بھی زیادہ حضورﷺ سے پیار کرتے۔ ایک لمحہ کے لئے بھی اپنی آنکھوں سے اوجھل نہ ہونے دیتے رات کو سوتے تو حضورﷺ کو اپنے پہلو میں لٹاتے۔ کھانے کا وقت ہوتا تو اس وقت تک دستر خوان نہ لگایا جاتا، جب تک حضورﷺ تشریف نہ لاتے۔ اگر حضورﷺ موجود نہ ہوتے تو اپنے کسی بچے کو بھیجتے تاکہ حضورﷺ کو ڈھونڈ کر لے آئے حضورﷺ کے آنے کے بعد کھانا شروع کیا جاتا۔ اپنے چچا کے دستر خواں پر جب شریک ہوتے تو اس کی برکتیں بھی ظہور پذیر ہوتیں۔ اگر آپ کے بچے کبھی حضورﷺ کے بغیر کھانا کھاتے تو کھانا پورا نہ ہوتا اور بھوکے اُٹھ آتے لیکن جب حضورﷺ تشریف فرما ہوتے تو سارے خوب سیر ہو کر کھاتے اور کھانا بھی بچ جاتا۔ یہ دیکھ کر ابو طالب کہتے

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 136نبی کریمﷺ کا عہد شباب اور کسب معاش کا دور: حصہ اول)

(حضرت ابو طالب کے ہمراء سفر شام:حصہ اول)

کسب معاش کا دور: حضرت ابو طالب کی مالی حالت تسلی بخش نہ تھی اہل و عیال کی کثرت نے اس کمزوری کو مزید تکلیف دہ بنا دیا تھا اس لئے جب حضورﷺ نو، دس سال کے ہوئے تو آپﷺ نے بعض لوگوں کے ریوڑ اُجرت پر چرانے شروع کر دیئے تاکہ اپنے محترم چچا کا ہاتھ بٹائیں۔

امام بخاری علیہ الرحمۃ نے اپنی صحیح میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
“قَالَ قَالَ رَسُوۡلُ اللهِﷺ مَا بَعَثَ اللهُ نَبِيًّا اِلَّا رَاعِيَ غَنَمٍ وَّ قَالَ لَهٗ اَصْحَابُهٗ وَاَنْتَ يَا رَسُوۡلَ اللهِ ﷺ؟قَالَ وَ اَنَا رَعَيْتُهَا لِاَهْلِ مَكَّةَ بِالْقَرَارِيۡطِ”
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی نبی کو مبعوث نہیں فرمایا مگر انہوں نے بکریوں کو چرایا ہے۔

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 137نبی کریمﷺ کا عہد شباب اور کسب معاش کا دور: حصہ دوم)

(حضرت ابو طالب کے ہمراء سفر شام:حصہ دوم)

جب قافلے والے کھانے سے فارغ ہوئے تو اس نے سب کو رخصت کر دیا اور خود حضورﷺ کے قریب آیا اور آزمانے کے لئے کہنے لگا۔ “اَسْئَلُكَ بِحَقِّ اللَّاتِ وَ الْعُزّٰىٰ اِلَّا مَا اَخْبَرْتَنِيۡ عَمَّا اَسْاَلُكَ عَنْهُ”
ترجمہ: میں تم سے لات و عزیٰ کے حق کے واسطہ سے سوال کرتا ہوں کہ جس بارے میں میں آپﷺ سے پوچھوں آپﷺ مجھے اس کا جواب دیں۔
اس نے حضورﷺ کو آزمانے کے لئے لات و عزیٰ کی قسم کھائی تھی حضورﷺ نے فرمایا۔
“لَا تَسْئَلۡنِيۡ بِاللَّاتِ وَ الْعُزّٰىٰ شَيْئًا فَوَاللَّهِ مَا اُبْغِضُ شَيْئًا قَطُّ بُغْضَهَا”
ترجمہ: مجھ سے لات و عزیٰ کے واسطہ سے کوئی بات مت پوچھو بخدا جتنی مجھے ان سے نفرت ہے اتنی اور کسی چیز سے نہیں۔ 

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 138نبی کریمﷺ کا عہد شباب اور کسب معاش کا دور: حصہ سوم}

(شدید قحط اور بارانِ رحمت)

ابن عساکر علیہ الرحمۃ نے جلہمہ بن عرفطہ علیہ الرحمۃ سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں میں مکہ گیا وہاں شدید قحط سالی تھی۔ عرصہ دراز سے بارش کی ایک بوند بھی نہیں ٹپکی تھی ایک شخص نے اہل مکہ کو کہا چلو لات و عزٰی کے پاس وہاں جا کر فریاد کرو۔ ایک اور بولا منات کے پاس بھی چلو۔ اس وقت ایک شیخ نمودار ہوا جو بڑا خوش اندام اور خوبرو تھا۔ اس کی رائے بھی بہت صائب تھی اس نے کہا کہ تم مارے مارے بھٹکتے پھر رہے ہو۔ جب کہ تمہارے پاس حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کے خاندان کی یادگار موجود ہے لوگوں نے کہا۔ تمہارا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابو طالب کے پاس جائیں؟ اس بزرگ نے کہا بے شک ۔ سب لوگ کھڑے ہو گئے میں بھی ان کے ساتھ کھڑا ہو گیا ہم نے جا کر حضرت ابو طالب کا دروزاہ کھٹکھٹایا آپ باہر نکلے ۔ سب لوگ آپ کی طرف دوڑے عرض کی اے ابو طالب ! قحط سالی نے وادی کو جلا کر رکھ دیا ہے

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 139نبی کریمﷺ کا عہد شباب اور کسب معاش کا دور: حصہ چہارم}

(عصمت ربانی)

رحمت عالمﷺ فرمایا کرتے جب بھی میں کسی ایسے کام کا ارادہ کرتا جو میری شان کے شایاں نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کے ارتکاب سے مجھے بچا لیتا۔ چند واقعات زبان رسالتﷺ سے سماعت فرمائیے حضورﷺ نے فرمایا۔ ایک روز میں اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ ہم سب پتھر اُٹھا اُٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جا رہے تھے میں نے اپنا تہبند اتار کر اپنے کندھے پر رکھ لیا۔ جیسے ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا تہبند کھولا تو آپ بےبہوش ہر کر گر پڑے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ کبھی کسی کے سامنے برہنہ نہیں ہوئے۔ چنانچہ میں نے اپنا تہبند باندھ لیا اور بچوں کے ساتھ پتھر اُٹھانے کے شغل میں پھر مصروف ہو گیا۔ حالانکہ سارے بچوں نے اپنی چادریں اتاری ہوئی تھیں۔ 

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 140نبی کریمﷺ کا عہد شباب اور کسب معاش کا دور: حصہ پنجم}

(حربِ فجار:حصہ اول)

عہد جاہلیت میں عرب کے باشندے عقیدہ کی گمراہی، علم سے محرومی کے علاوہ نسلی تفاخر، قبائلی عصبیت، شخصی رعونت اور انانیت کی بیماریوں میں بری طرح مبتلا تھے ذرا ذرا سی بات پر غضب ناک ہو جاتے آپس میں اُلجھ پڑتے تلواریں نیام سے باہر نکل آتیں۔ پھر اپنے بھائی بندوں کو اس بے دردی سے تہ تیغ کرتے کہ خون کے دریا بہنے لگتے اس بے مقصد قتل عام پر انہیں ذرا ندامت نہ ہوتی بلکہ ان کارستانیوں پر فخر کرتے اور اتراتے۔ ان بہادروں کی شان میں قصیدے لکھے جاتے جنہوں نے اپنے عزیزوں کو زیادہ بے دردی سے اور کثیر تعداد میں قتل کیا ہوتا۔ یہاں بطور مثال ایک جنگ کا ذکر کیا جاتا ہے کیونکہ سرکار دو عالم ﷺ نے بھی اپنے چچاؤں کے ساتھ اس میں شرکت فرمائی تھی ۔ اس جنگ کی تفصیلات میں نے “العقد الفرید ” سے نقل کی ہیں۔ اس کے مطالعہ سے زمانہ جاہلیت کی ساری لڑائیوں کی حقیقت آشکارا ہو جائے گی۔ 

Scroll to Top