سیرت النبیﷺ کی اقساط
قسط نمبر 1 سیرت النبیﷺ انٹرنیشنل فورم کا تعارف
محترم قارئین و سامعین کرام ~ السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُهُ: ہم آپ کے سامنے سیرت النبیﷺانٹرنیشنل فورم کے پلیٹ فارم سے حاضر ہیں۔
سیرت النبی ﷺانٹرنیشنل فورم کا منشور صرف یہ ہے کہ دنیا کے ہر انسان (مسلم یا غیر مسلم) تک ہم اپنے پیارے اور محترم حضور نبی کریمﷺ کی سیرت کا پیغام پہنچا کر ان کے اندر حضور نبی کریمﷺ کی سیرت کے بارے آگاہی پیدا کر کے، دلوں میں محبت رسولﷺ کو پیدا کرنا اور ان کی روح کو نور ایمان سے منور کرنا ہے۔
قسط نمبر 2 بعثت نبویﷺ کے وقت نوع انسانی کی گمراہی کی حالت زار (حصہ اول)
یُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِی ٱلسَّمَـٰوَ ٰتِ وَمَا فِی ٱلۡأَرۡضِ ٱلۡمَلِكِ ٱلۡقُدُّوسِ ٱلۡعَزِیزِ ٱلۡحَكِیمِ (١) هُوَ ٱلَّذِی بَعَثَ فِی ٱلۡأُمِّیِّـۧنَ رَسُولࣰا مِّنۡهُمۡ یَتۡلُوا۟ عَلَیۡهِمۡ ءَایَـٰتِهِۦ وَیُزَكِّیهِمۡ وَیُعَلِّمُهُمُ ٱلۡكِتَـٰبَ وَٱلۡحِكۡمَةَ وَإِن كَانُوا۟ مِن قَبۡلُ لَفِی ضَلَـٰلࣲ مُّبِینࣲ (٢) وَّاَخَرِینَ مِنۡهُمۡ لَمَّا یَلۡحَقُوا۟ بِهِمۡۚ وَهُوَ ٱلۡعَزِیزُ ٱلۡحَكِیمُ (٣) ذَ ٰلِكَ فَضۡلُ ٱللَّهِ یُؤۡتِیهِ مَن یَشَاۤءُۚ وَٱللَّهُ ذُو ٱلۡفَضۡلِ ٱلۡعَظِیمِ (٤)
(سُورَةُ الجُمُعَةِ: 1-4)
قَالَ اللهُ تَعَالٰى:
اِنَّ اللهَ وَمَلٰئِكَتَهٗ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ يٰٓاَیُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا○
قسط نمبر3 بعثت نبویﷺ کے وقت نوع انسانی کی گمراہی کی حالت زار (حصہ دوم: آخری حصہ)
اس سے پیشتر کہ اپنے کریم پروردگار کی توفیق سے اس آفتاب عالم تاب کی تابانیوں کا ذکر کریں جس نے بلندیوں اور پستیوں کو بقعہ نور بنا دیا۔جس کی روشن کرنوں سے زمین کا گوشہ گوشہ جگمگا اٹھا۔ ہم مناسب بلکہ ضروری سمجھتے ہیں کہ اس “ضَلَالٍ مُّبِیْنٍ” سے بھی اپنے قارئین کو روشناس کرائیں جس میں صرف کوئی فرد کوئی قبیلہ، یا کوئی قوم نہیں بھٹک رہی تھی بلکہ سارا عالم انسانیت اس کی شدید گرفت میں تھا اور کراہ رہا تھا۔ اور انسانی زندگی کا کوئی پہلو بھی ایسا نہیں رہا تھا، جسے فساد و عناد کی آندھیوں نے تباہ و برباد نہ کر دیا ہو، یہ تو ہمارے لئے ممکن نہیں کہ ہم کرہ زمین کے مختلف براعظموں میں پھیلی ہوئی انسانی آبادیوں کے حالات کا مکمل نقشہ آپ کے سامنے پیش کر سکیں،
قسط نمبر4 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: اول)
چھٹی صدی عیسوی میں مملکت ایران کا حدود اربعہ: ہم سب سے پہلے یہ گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ چھٹی صدی عیسوی میں مملکت ایران کا حدود اربعہ کیا تھا یہ کن ممالک اور علاقہ جات پر مشتمل تھی۔ چھٹی صدی عیسوی میں مملکت ایران کا حدود اربعہ وہ نہیں تھا، جو آج کے ایران کا ہے موجودہ دور کی بہت سی آزاد مملکتیں اس وقت ایران کا ایک حصہ تھیں ول ڈیورانٹ (WILL DURRANT) اپنی مشہور کتاب (THE AGE OF FAITH) میں رقمطراز ہے۔ تیسری صدی عیسوی کا ایران (چھٹی صدی میں بھی یہی حالات تھے ) مندرجہ ذیل ممالک پر مشتمل تھا افغانستان، بلوچستان، سودیانہ، بیخ اور عراق موجودہ پرشیا جس کو فارس کہتے ہیں، یہ اس وقت کی مملکت کا ایک جنوب مشرقی صوبہ تھا اس کو ایران کہنے کی وجہ یہ تھی کہ یہ آریوں کا ملک تھا۔
ایران کے جس تاریخی عہد سے ہم بحث کرنا چاہتے ہیں وہ ساسانی خاندان کی حکمرانی کا عہد ہے اس خاندان کی شہنشاہیت کا مؤسس اول ارد شیر تھا۔ اس نے 28 اپریل 224ء میں طیسفون کو فتح کیا اور جب وہ اس شہر میں فاتحانہ شان و شوکت سے داخل ہوا تو اس نے آشکانی خاندان کے جانشین ہونے کا دعوی کیا اس طرح ساسانی خاندان کی حکمرانی کا آغاز ہوا۔
(ایران بعد ساسانیاں ،صفحہ 112، مطبوعہ انجمن ترقی اردو دہلی 1948ء)
یہاں وِل ڈیورانٹ کا ایک اقتباس نقل کر رہے ہیں۔امید ہے اس کے مطالعہ سے قارئین کو حقیقت حال سے پوری طرح باخبر ہونے میں مدد ملے گی، وہ لکھتے ہیں۔ زرتشت سے پہلے جو مذہب ایران میں رائج تھا اس میں متعدد خداؤں پر ایمان لانا ضروری تھا۔ سب سے بڑا خدا سورج دیوتا تھا جس کو “مترا ” کہا جاتا تھا۔ زمین اور اس کی زرخیزی کی دیوی کا نام “انیتا” تھا۔ ہوما اس مقدس بیل کا نام تھا جو ایک دفعہ مرگیا اسے پھر زندہ کیا گیا اس نے نوع انسانی کو اپنا خون پینے کے لئے دیا۔تاکہ اس کو دوام حاصل ہو جائےـ وہ لوگ جب اس بیل کی عبادت کرتے تھے تو پہلے ایک شراب پی کر خوب مست ہو جاتے تھے پھر اس کی پوجا کرتے تھے، یہ شراب “ہوما” نامی ایک بوٹی سے بنائی جاتی تھی
پروفیسر مذکور نے اس مضمون کی ابتداء میں یہ بتایا ہے کہ زرتشت کا زمانہ چھ سو اٹھارہ تا پانچ سو اکتالیس قبل مسیح ہے۔ جبکہ پانچ سو چھیاسی قبل مسیح میں اس کی عمر تیس سال تھی جب اس نے اپنے مذہب کی دعوت کا آغاز کیا۔یہ وہ دور ہے جب کہ بابل کے بادشاہ نے یہوداہ کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا اور یروشلم کے لاکھوں یہودیوں کو اسیران جنگ کی حیثیت سے بابل میں لے آیا تھا۔اور وہ پچاس سال تک جنگی قیدیوں کی طرح بابل میں غلاموں کی سی زندگی بسر کرتے رہے اور یہی وہ پچاس سال ہیں جب زرتشت اپنے مذہب کی تبلیغ میں مصروف رہا۔زرتشت کی وفات ٹریور (TREVOR) کی تحقیق کے مطابق پانچ سو اکتالیس قبل مسیح میں ہوئی یعنی اس واقعہ سے صرف تین سال قبل جب کہ ایران کے بادشاہ سائرس نے بابل کو فتح کیا
یہ عالم رنگ و بو کس طرح معرض وجود میں آیا اس کے بارے میں عجیب و غریب نظریات اہل ایران کے ہاں رائج تھے جن کو قصے اور کہانیاں تو کہا جا سکتا ہے لیکن عقل و دانش ان کو حقیقت تسلیم کرنے سے قاصر ہے۔ان کہانیوں کے سلسلہ دراز میں سے ہم ایک نظریہ آپ کے سامنے بیان کرتے ہیں جو ان کے نزدیک سب سے زیادہ مقبول اور مستند خیال کیا جاتا تھا۔ ڈاکٹر آرتھر ایران بعہد ساسانیاں میں لکھتے ہیں۔مسئلہ آفرنیش کائنات کا قصہ جو سب نے لکھا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ خدائے اصلی یعنی زروان ہزار سال تک قربانیاں دیتا رہا تاکہ اس کے ہاں بیٹا پیدا ہو جس کا نام وہ اہورامزدا رکھے لیکن ہزار سال کے بعد اس کے دل میں شک پیدا ہونا شروع ہوا
حیات بعد الموت کا عقیدہ آریوں کے قدیم اور بنیادی عقائد میں سے ایک تھا۔ان کا یہ ایمان تھا کہ مرنے کے بعد انسان کو زندہ کیا جائے گا اور اگر اس نے دنیوی زندگی میں نیک کام کئے ہیں تو اس کو ان کا اجر ملے گا اور وہ ہمیشہ کے لئے جنت میں مسرت و شادمانی کی زندگی بسر کرے گا، اور اگر اس نے برے کاموں میں اپنی زندگی برباد کی ہے تو جب وہ زندہ کیا جائے گا تو ان گناہوں کی اسے سزا بھگتنی ہوگی۔جنرل سر پرسی ایرانیوں کے قدیم عقائد پر تفصیلی بحث کرنے کے بعد اس کا خلاصہ ان الفاظ میں بیان کرتا ہے۔ہم نے آریوں کی اپنے اصل وطن سے نقل مکانی کر کے ایران پر قابض ہونے کا سراغ لگایا ہے اور ایران کو یہ نام اسی وجہ سے ملا ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ پہلے وہ اجڈ ،خانہ بدوش قسم کے لوگ تھے
ایران کے دوسرے صوبوں کی طرح پارتھیا بھی ایک صوبہ تھا، جو موجودہ خراسان اور استر آباد کی حدود میں واقع تھا۔ یہ ایرانی مملکت کا ایک حصہ تھا، جہاں کے رہنے والے شہنشاہ ایران کو خراج اور دیگر مالی واجبات ادا کرتے تھے۔یہاں تک کہ ان میں ایک باہمت فرد ارساس (ARSACES) پیدا ہوا جس نے اپنی قائدانہ اور فاتحانہ صلاحیتوں کے باعث ایک آزاد مملکت کی بنیاد رکھی جس کا آغاز سن دو سو انچاس قبل مسیح میں ہوا اس کی فتوحات کا سلسلہ وسیع سے وسیع تر ہوتا گیا یہاں تک کہ اس نے رومی حکمران کے ساتھ جنگ کر کے رومی مملکت کا کافی حصہ زیر نگین کر لیا، یہاں کے باشندے کسی خاص مذہب کے پابند نہ تھے
ساسانی خاندان کی حکومت کے بانی اردشیر نے جب 226 ء یا 227ء میں اپنی شہنشاہیت کی بنیاد رکھی تو اس نے پھر زرتشتی مذہب کو عروج بخشا سورج اور چاند کی پوجا ختم کر دی گئی، دوسرے معبودوں کے اصنام کو توڑ پھوڑ دیا گیا ساری قوم زرتشت کے مذہب کی پیروکار بن گئی لیکن اس سے یہ غلط فہمی نہ ہو کہ اردشیر نے زرتشت کے دین توحید کو قبول کر لیا تھا۔بلکہ اس نے زرتشت کے انہیں نظریات کو قبول کیا جس کی نمائندگی موبدان (آتش پرستوں کے پیشوا) کر رہے تھے اور جس میں آگ کی پرستش سر فہرست تھی اس تحریف شده مروج زرتشتی مذہب کی حمایت اور تبلیغ کا بیڑا اردشیر اول نے اٹھایا۔ چنانچہ پروفیسر آرتھر (ایران بعہد ساسانیاں) میں لکھتا ہے ۔ہم پہلے بیان کر چکے ہیں
ایران میں ایک مخصوص قبیلہ “ماگی” کو مذہبی اجارہ داری حاصل تھی۔اگرچہ ان کے مذہبی افکار میں تغیرات رونما ہوتے رہے لیکن تمام ادوار میں مذہبی پیشوائی کا حق صرف اسی خاندان میں مرکوز رہا پروفیسر آرتھر لکھتے ہیں۔ مجوس یا مغاں اصل میں میڈیا کے ایک قبیلہ یا اس قبیلہ کی ایک خاص جماعت کا نام تھا جو غیر زرتشتی مزدائیت کے علماء مذہب تھے جب مذہب زرتشت نے ایران کے مغربی علاقوں میڈیا اور فارس کو تسخیر کیا تو مغاں اصلاح شدہ مذہب کے رؤساء روحانی بن گئے۔
مذہبی تعصب کی تباہ کاریاں: ایران میں ماگیوں کے غیر محدود اختیارات نے مذہبی تشدد کا روپ اختیار کر لیا اور بڑی تباہیوں اور بربادیوں کا باعث بنے “مانی” نے جب اپنے پیغامبر ہونے کا دعویٰ کیا تو ماگیوں نے اسے تختہ دار پر لٹکا دیا۔یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ ساسانی بادشاہوں نے ابتداء میں مذہبی رواداری کا ثبوت دیا یہودیوں پر یورپ میں عیسائی جب مظالم ڈھاتے تو وہ ابتداء میں یونانی مملکت میں آکر پناہ لیتے۔لیکن جب قسطنطین کے عہد میں رومن مملکت نے عیسائی مذہب اختیار کر لیا تو رومیوں اور ایرانیوں میں عرصہ دراز سے عداوت کے جو شعلے بھڑک رہے تھے انہوں نے عیسائیوں اور ایران کے زرتشتیوں کے درمیان مذہبی عداوت کا رنگ اختیار کر لیا۔
ایران کے سیاسی حالات: ساسانی خاندان کے عہد حکومت میں ایران کے سیاسی حالات بیان کرنے سے پہلے پارتھیا کے عہد اقتدار میں ایران کے سیاسی حالات کا تذکرہ قارئین کے لئے فائدہ سے خالی نہ ہو گا۔پارتھیا کے عہد حکومت میں ایران کے سات خاندانوں کو سیاسی اور معاشی لحاظ سے دیگر ایرانی قبائل پر برتری حاصل تھی ان سات خاندانوں میں دو تو شاہی خاندان تھے ان کے علاوہ پانچ خاندانوں میں سے دو خاندان امتیازی شان کے مالک تھے ایک تو ” سورین” کا خاندان تھا۔اس خاندان کو بادشاہ کو تاج پہنانے کا موروثی حق حاصل تھا اور دوسرا “قارین” کا خاندان تھا۔ان گھرانوں میں جو لوگ گاؤں کے سربراہ تھے
ساسانی خاندان کے برسراقتدار آنے کو ایسی روایات سے وابستہ کر دیا گیا ہے جن سے ایرانی باشندوں کے ذہن میں یہ چیز راسخ ہو گئی ہے کہ ساسانیوں کو حکومت اللہ تعالی کی طرف سے دی گئی ہے اس میں کسی انسانی طاقت کا کوئی دخل نہیں تقریباً ساسان کے ہر بادشاہ نے اپنی رعایا کے لوح قلب پر اس امر کو ثبت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس کے سر پر جو تاج شاہی ہے براہ راست خداوند عالم نے اسے یہ پہنایا ہے۔گویا ایسے بادشاہ کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے کا خیال بھی اس خدا سے براہ راست بر سر پیکار ہونے کے مترادف ہے جس نے اس بادشاہ کو اورنگ شاہی اور تاج سلطانی ارزانی فرمایا ہے ۔لوگوں کو جو قلبی عقیدت اللہ تعالی کے ساتھ تھی ان روایات و حکایات کی بناء پر وہی عقیدت ان کو اپنے بادشاہ کے ساتھ بھی ہوتی تھی ہم قارئین کے سامنے وہ حکایت بیان کرتے ہیں جو مؤرخین نے ساسانی خاندان کے برسراقتدار آنے کے بارے میں بیان کی ہے۔
ترجمہ: ساری تعریفیں اللہ تعالی کے لئے ہیں جس نے اپنی نعمتوں کے ساتھ ہمیں مخصوص فرمایا اور اپنی مہربانیوں سے ہمیں اپنے گھیرے میں لیا۔اور ملکوں کو ہمارے لئے مسخر کر دیا۔بندوں کو ہماری فرمانبرداری کی طرف رہنمائی کی ہم اس کی حمد کرتے ہیں، اس شخص کی حمد کی طرح جس نے اس فضل کو پہچانا جو اس پر اس نے کیا۔اور ہم اس کا شکر ادا کرتے ہیں اس آدمی کی طرح کہ جو ان عطیات کی قدر و منزلت کو پہچانتا ہے جو اس پر کئے گئے۔ اور جن کے لئے اللہ تعالی نے اسے چن لیا ہے۔
ساسانی بادشاہ اس بات کی کوشش کرتے تھے کہ ان کی رعایا انہیں خداؤں کی نسل سے سمجھے آرتھر لکھتے ہیں۔اپنے کتبوں میں شاہان ساسانی ہمیشہ اپنے آپ کو پرستندگان مزدا کہتے ہیں لیکن ساتھ ہی وہ اپنے نام کے ساتھ خدا کے القاب بھی لگاتے ہیں اور اپنے آپ کو شخص ربانی (بغ ) اور خداؤں (یزدان ) کی نسل سے بتلاتےہیں۔
(ایران بعہد ساسانیاں ،صفحہ ۳۳۷)
حکمران طبقہ نے مختلف طریقوں سے عوام کے ذہنوں میں جب یہ چیز راسخ کر دی کہ بادشاہ کی بادشاہی منجانب خدا ہے تو اب بادشاہ کی ذات کو جملہ اختیارات کا سرچشمہ تسلیم کرنے میں کوئی رکاوٹ باقی نہ رہی۔ اس کے منہ سے نکلنے والا ہر جملہ قانون یقین کیا جانے لگا۔ جس کے سامنے سر تسلیم خم کرنا رعایا کے ہر فرد پر لازم تھا۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے ول ڈیورانٹ نے “قصۃ الحضارة” میں بڑی تفصیل سے لکھا ہے جس کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔ بادشاہ کو یہ اختیار تھا کہ جس کے بارے میں چاہتا مقدمہ چلائے بغیر، کوئی جرم ثابت کئے بغیر، اس کے لئے موت کی سزا کا حکم سنا دیتا بلکہ بادشاہ کی ماں اور اس کی بڑی ملکہ کو بھی یہ اختیارات حاصل تھے کہ وہ جس کو چاہیں موت کے گھاٹ اتار دیں۔
اس آمرانہ ملوکیت کا یہ نتیجہ تھا کہ بادشاہوں کو اپنی حفاظت کے لئے خصوصی انتظامات کرنے پڑتے تھے جب وہ دربار عام میں شرکت کے لئے جاتے تو اس وقت بھی ایسے تکلفات کو ملحوظ رکھا جاتا کہ بادشاہ کے قریب کوئی بھٹک نہ سکے شاہی دربار عام میں جو آداب ملحوظ رکھے جاتے اور جن قواعد و ضوابط کی پابندی ضروری سمجھی جاتی اس کا ذکر پروفیسر آرتھر نے بایں الفاظ کیا ہے۔ شاہی تخت ہال کے سرے پر پردے کے پیچھے رکھا جاتا تھا۔اعیان سلطنت اور حکومت کے اعلیٰ عہدہ داروں کو پردے سے مقررہ فاصلے پر بٹھایا جاتا تھا درباریوں کی جماعت اور دوسرے ممتاز لوگوں کے درمیان ایک جنگلا حائل رہتا تھا اچانک پردہ اٹھتا تھا اور شہنشاہ تخت پر بیٹھے دیبا (باریک ریشم) کے تکئے پر سہارا لگائے،
حتیاط کا یہ عالم تھا کہ بادشاہ کے مخصوص کمرے میں اس کی اجازت کے بغیر اس کا اپنا بیٹا بھی داخل نہیں ہو سکتا تھا جاحظ نے اس بارے میں ایک دلچسپ حکایت بیان کی ہے۔ یزدگرد اول نے ایک دن اپنے بیٹے بہرام کو جو اس وقت تیرہ سال کا تھا ایسی جگہ پر دیکھا جہاں اس کو آنے کا حق نہ تھا اس نے اس سے پوچھا کہ آیا دربان نے تمہیں یہاں آتے دیکھا تھا بہرام نے کہا ہاں ! بادشاہ نے کہا اچھا جاؤ اسے تیس کوڑے مارو اور نکال دو۔اور اس کی جگہ آزاد مرد کو دربان مقرر کرو، چنانچہ ایسا ہی کیا گیا کچھ مدت بعد ایک دن پھر بہرام نے وہاں آنا چاہا لیکن آزاد مرد نے اس کے سینے پر زور کا مکا مارا اور کہا اگر میں نے پھر تجھے یہاں دیکھا تو تجھے ساٹھ کوڑے لگاؤں گا۔تیس اس بات کے کہ تو نے پہلے دربان پر ظلم کیا اور تیس اس بات کے کہ وہی ظلم تو مجھ پر نہ کرے۔بادشاہ کو جب اس بات کی اطلاع ملی تو اس نے آزاد مرد کو بلوا کر خلعت اور انعام دیا۔
خسرو پرویز اور ہرقل قیصر روم کے درمیان طویل عرصہ تک جنگوں کا سلسلہ جاری رہا۔ ابتداء میں خسرو پرویز کو پے در پے شاندار فتوحات حاصل ہوئیں یہاں تک کہ رومن ایمپائر کا بہت بڑا حصہ اس کے زیرنگین ہو گیا انطاکیہ ، یروشلم جو عیسائیوں کے مقدس مقامات تھے ان پر بھی اس نے قبضہ کر لیا اور مقدس صلیب بھی عیسائیوں سے چھین لی۔ اس وقت فتح کے نشہ سے سرشار ہو کر خسروپرویز نے جو خط ہرقل کو لکھا اس میں اس کے غرور اور رعونت نیز اپنے مد مقابل کے لئے تہذیب و شائستگی سے گرے ہوئے سوقیانہ کلمات پڑھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے۔ اس خط کو ول ڈیورانٹ نے اپنی مشہور کتاب “دی ایج آف فیتھ” صفحہ 147 پر اور جنرل سر پرسی نے اپنی کتاب “ہسٹری آف پرشیا” کے صفحہ 482 پر نقل کیا ہے جس کا انگریزی متن درج کیا جارہا ہے۔
اس سے پہلے ہم ایران کے مذہبی اور سیاسی حالات کا اختصار کے ساتھ تذکرہ کر چکے ہیں اب ہم آپ کو ان کی معاشرتی زندگی سے بھی روشناس کرانا چاہتے ہیں تاکہ قارئین پر واضح ہوجائے کہ ان کے باہمی تعلقات کی نوعیت کیا تھی؟ اور حقوق و فرائض کے تعین کی بنیادیں کیا تھیں؟ اس عہد کے ایران کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے یہ چیز بالکل آشکارا ہو جاتی ہے کہ ایرانی معاشرہ مختلف طبقات میں منقسم تھا۔ اور ان کے درمیان ایسی محکم حد بندیاں تھیں جن کو وہ بآسانی عبور نہیں کر سکتے تھے معاشرہ کے جس طبقہ میں وہ پیدا ہوئے عمر بھر وہ اس طبقہ کے ساتھ وابستہ رہنے پر مجبور تھے ان کو اپنا آبائی پیشہ ترک کرنے کی بھی آزادی نہ تھی۔اعلیٰ طبقوں کو چند ایسی مراعات حاصل تھیں جن کے بارے میں ادنی طبقات کے لوگ سوچ بھی نہیں سکتے تھے مذہبی راہنماؤں نے ان کو اپنی موجودہ حالت پر شاکر رہنے کے لئے یہ درس دیا تھا
خاندان کی بنیاد تعدد ازدواج پر تھی ایک شخص کو متعدد بیویوں سے نکاح کرنے کی اجازت تھی ہر شخص اپنی آمدنی کے مطابق بیویوں کی تعداد مقرر کر سکتا تھا۔غریب آدمی کو ایک بیوی پر قناعت کرنا پڑتی تھی۔ خاوند گھر کا مالک اور خاندان کا سربراہ ہو تا تھا۔ ساری بیویوں کو یکساں درجہ نہیں دیا جاتا تھا۔ بلکہ بعض کو بعض پر خصوصی امتیازات حاصل تھے۔ ایک بڑی بیوی ہوتی تھی جس کو “زنِ پادشاہی ہا” کہتے تھے وہ دوسری بیویوں سے افضل سمجھی جاتی تھی اور اس کے خاص حقوق تھے اس کے علاوہ دوسری بیویوں کا درجہ بہت کم تھا ان کو ” زنِ چگاری ہا ” کہتے تھے یعنی خدمت گار بیوی ان کے قانونی حقوق بڑی بیگم کے حقوق سے مختلف تھے خاوند پر لازم تھا کہ اپنی بیاہتا بیوی کو عمر بھر نان و نفقہ دے۔
ایران میں محرمات بیٹی، بہن وغیرہ کے ساتھ شادی کو مذہبی طور پر جائز سمجھا جاتا تھا اور اس قسم کی شادی خویذ و گدس کہلاتی تھی۔ایرانیوں کے ہاں اس قسم کی شادی کی رسم بہت دیرینہ ہے چنانچہ ہخامنشیوں کی تاریخ میں ہمیں اس کی کئی مثالیں ملتی ہیں ان کی مذہبی کتابوں میں اس شادی کی بڑی عظمت بیان کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ایسی مزاوجت ( شادی ) پر خدا کی رحمت کا سایہ پڑتا ہے اور شیطان اس سے دور رہتا ہے نرسی برز مہر مفسر کا یہاں تک دعوی ہے کہ خویذ و گدس سے کبائر کا کفارہ ہو جاتا ہے۔ایرانیوں کے ہاں عہد ساسانی میں محرمات کے ساتھ شادی کی رسم کی تصدیق نہ صرف معاصر مورخین مثلا اگا تھیاس وغیرہ کے بیان سے ہوتی ہے بلکہ اس عہد کی تاریخ میں ایسی شادی کی کئی مثالیں بھی موجود ہیں مثلاً بہرام چوبیں نے اور مہران گشنسپ نے اس قسم کی شادیاں کیں۔
(ایران بعہد ساسانیاں، صفحہ ۴۲۹۔ ۴۲۸)
معاشی لحاظ سے ایرانی سوسائٹی دو طبقوں میں بٹی ہوئی تھی ایک طبقہ امراء، رؤساء، جاگیر داروں اور فوجی جرنیلوں کا مراعات یافتہ طبقہ تھا۔ ان کے پاس سارے ملک کی دولت سمٹ کر آگئی تھی۔ دوسرا طبقہ ایران کے عوام کا تھا جن میں کاشتکار ، مزدور ، دستکار اور دوسرے لوگ تھے ان کے مقدر میں مفلسی اور محرومی لکھ دی گئی تھی۔وہ صدیوں سے اس چکی میں پس رہے تھے دور دور تک اس مصیبت سے رہائی پانے کی انہیں کوئی امید کی کرن نظر نہیں آرہی تھی۔اگرچہ ایران کا سرکاری مذہب زرتشتی تھا اور اس کی شریعت میں زراعت کو بڑی اہمیت حاصل تھی ان کی مذہبی کتابوں میں اس پیشہ کو عظیم اور مقدس پیشہ کہا گیا تھا۔ اس کے باوجود کسانوں کی حالت قابل رحم تھی۔ وہ اپنی زمین کے ساتھ بندھے رہتے تھے ان سے ہر طرح کی بیگار (معاوضہ کے بغیر مزدوری) اور جبری خدمت لی جاتی تھی،
آپ بآسانی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جو لوگ وسیع و عریض جاگیروں کے مالک تھے جن کے پاس دولت کے انبار تھے جو بآسانی حکومت کے ٹیکسوں اور واجبات کو ادا کر سکتے تھے انہیں تو ان ٹیکسوں کی ادائیگی سے بری الذمہ قرار دے دیا گیا تھا اور سارا بوجھ نادار اور مفلوک الحال عوام پر ڈال دیا گیا تھا۔ اس وجہ سے امیر اور غریب میں جو خلیج پہلے بھی وسیع تھی وہ مزید وسیع ہو گئی اور عوام کو حکومت کے لگان ادا کرنے میں گونا گوں دقتوں اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ آرتھر لکھتے ہیں۔ گورنمنٹ کی آمدنی کے بڑے بڑے ذرائع خراج اور شخصی ٹیکس تھے شخصی ٹیکس کی ایک خاص رقم سالانہ مقرر ہو جاتی تھی جس کو محکمہ مالیات مناسب طریقہ سے ادا کنندگان پر تقسیم کر دیتا تھا خراج کی وصولی اس طرح ہوتی تھی
ایران کے معاشرتی اور معاشی حالات کا جائزہ آپ پڑھ چکے ہیں۔ اخلاقی لحاظ سے بھی ایرانی معاشرہ زوال و انحطاط کی گہری پستیوں میں گر چکا تھا۔ جس معاشرہ میں بیٹی اور بہن کو اپنی منکوحہ بنانا گوارا کر لیا جاتا ہو بلکہ اسے باعث رحمت آسمانی خیال کیا جاتا ہو اور جس معاشرہ میں اپنی بیوی کو عاریتاً اپنے کسی دوست کے حوالے کر دینا ایک پسندیدہ اور قابل تعریف فعل ہو وہاں ضبطِ نفس کے بارے میں سوچنا اور جنسی بے راہ روی پر کوئی قدغن لگنا کیونکر ممکن ہو سکتا ہے اس لئے زنا، بدکاری کا عام رواج تھا۔ شراب کھلے بندوں پی جاتی تھی بلکہ مذہبی تقریبات میں اس کو بڑے اہتمام سے حاضرین کی تواضع کے لئے پیش کیا جاتا تھا۔ ان معاشی ناہمواریوں اور معاشرتی بے راہ رویوں کے باعث مزدک کو اپنا فلسفہ پیش کرنے کی جسارت بھی ہوئی اور اسے ناقابل تصور کامیابی بھی حاصل ہوئی۔ ماحول پہلے ہی متعفن تھا ذرا سی ہوشیاری اور عیاری کی ضروت تھی جو اس معاشرے کو ہمیشہ کے لئے پیوند خاک کرنے کے لئے کافی تھی چنانچہ مزدک نے جو م
قباذ کی حکومت کو جب دس سال پورے ہو گئے تو موبدان موبد اور جتنے بڑے علماء اور اعیان مملکت تھے جمع ہوئے اور انہوں نے کیقباد کو تاج و تخت سے معزول کر دیا اور اس کے بھائی جامسپ کو اپنا بادشاہ بنا لیا۔ انہوں نے کیقباد کو کہا کہ تو نے مزدک کی پیروی اختیار کی مزدک اور اس کے حواریوں نے لوگوں پر جو ظلم و ستم توڑے اس میں تم ان کے معاون ثابت ہوئے ۔ اب تمہاری نجات کی اس کے علاوہ کوئی صورت نہیں کہ تم اپنے آپ کو ہمارے حوالے کر دو۔ ہم تمہیں ذبح کریں اور آگ کے سامنے تمہاری قربانی پیش کریں اس نے اپنے آپ کو ان کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا، چنانچہ اسے قید کر دیا گیا۔ اس کے مرنے کے بعد نوشیروان تخت نشین ہوا اس نے مزدک اور اس کے ماننے والوں کو تہ تیغ کر دیا اس طرح یہ فتنہ فرو ہوا۔
یران کی وسیع اور عظیم الشان مملکت نیز وہاں کے باشندوں کی معاشرتی زندگی کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں آپ نے مندرجہ بالا مختصر جائزہ کا مطالعہ فرما لیا۔ آخر میں ہم وہاں کے نظام عدل و انصاف کے بارے میں کچھ عرض کرنا مناسب سمجھتے ہیں۔ پروفیسر آرتھر نے اس موضوع پر بڑی شرح و بسط سے لکھا ہے اس کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔ اوستا اور اس کی تفسیریں اور اجماع نیکاں (فقہاء کے فتاوے) قانون کے ماخذ تھے، مجموعہ قوانین کی کوئی خاص کتاب موجود نہ تھی۔ علم فقہ کی تمام تفصیلات بیشتر مفسرین کے اقوال پر مبنی تھیں۔
جو لوگ عیسائی مذہب قبول کرتے ان پر ظلم و ستم کی انتہا کر دی جاتی ۔ اور انہیں ایسی سنگین نوعیت کی سزائیں دی جاتیں جن کے ذکر سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کبھی کانوں اور آنکھوں میں پگھلا ہوا سیسہ ڈال دیا جاتا تھا۔ اور کبھی زبان کھینچ کر نکال لی جاتی تھی۔ زخموں پر لیموں ، سرکہ اور نمک چھڑکے جاتے تھے ۔ ان بدنصیبوں کے جسم کے اعضا ایک ایک کر کے کاٹے اور مروڑے جاتے تھے، بعض وقت پیشانی سے ٹھوڑی تک چہرے کی کھال اتار لی جاتی تھی۔ ان کی آنکھوں اور باقی تمام جسم میں سلاخیں پھیری جاتی تھیں اور جب تک وہ مر نہ جائیں ان کے منہ آنکھیں اور نتھنوں میں سرکہ، رائی برابر ڈالتے رہتے تھے۔ ایک آلہ تعذیب جو اکثر استعمال کیا جاتا تھا،
ساسانی خاندان کے طویل عہد حکومت میں ایران کی سیاسی ، مذہبی ، اخلاقی اور معاشی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ قارئین کو معلوم ہو جائے کہ آفتابِ اسلام کے طلوع ہونے سے قبل اس عظیم مملکت کے شہری کس قسم کی زندگی بسر کیا کرتے تھے اس کے بعد اس وقت کی مشہور دوسری عالمی طاقت یعنی سلطنت ” رومہ ” اور اس میں بسنے والے شہریوں کی زندگی کے مختلف گوشوں کے بارے میں کچھ عرض کرنا ضروری سمجھتے ہیں لیکن چونکہ رومی یونانیوں کے جانشین ہیں ان کے سیاسی، معاشی اور معاشرتی نظریات بڑی حد تک یونانی حکماء کے نظریات سے متاثر ہیں اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے
ان دو نظموں کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ یونانی دیوتاؤں کے ایک وسیع خاندان سے اپنی مذہبی عقیدت رکھتے تھے دیوتاؤں کا یہ خاندان کوہ اولیمپس کی برف پوش بلندیوں پر سکونت پذیر تھا دیوتاؤں کے اس خاندان کی حکومت زیوس (ZEUS) اور اس کی بیوی ہیرا (HERA) کے ہاتھ میں تھی۔ یہ دیوتا انسانی معاملات میں مداخلت کرتے رہتے تھے مختلف شعبہ ہائے حیات مختلف دیوتاؤں کے سپرد تھے سمندروں کے دیوتا کا نام پوسیڈن (POSEIDON) تھا۔ ہیفا اسٹس (HEPHAISTOS) اسلحہ سازی کا دیوتا تھا۔ سورج کی حرکات کو اپولو (APOLLO) سے منسوب کیا جاتا تھا۔
قسط نمبر33 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: تیسواں) (یونان ~ حصہ سوئم) (اہل یونان کے معاشرتی حالات)
قدیم یونان کا معاشرہ تین طبقوں میں منقسم تھا۔
بادشاه: سیاسی اختیارات کے ساتھ ساتھ اسے سب سے بڑا مذہبی پیشوا بھی مانا جاتا تھا۔ اور وہ اپنے امراء کی مدد اور مشوروں سے اپنی حکومت کا کاروبار چلاتا۔ بادشاہ اور اس کی ملکہ عام لوگوں کی طرح خود بھی کام کرتے تھے اوڈیسوس نامی بادشاہ کو بھی اس بات پر فخر تھا کہ وہ اپنے کھیتوں میں کام کرتا ہے اور اس نے اپنا پلنگ خود بنایا ہے اور اس کی ملکہ پینی لوپی سوت کاتتی اور کپڑا بُنتی ہے۔
امراء: ان کا یہ دعویٰ تھا کہ وہ دیویوں اور دیوتاؤں سے پیدا ہوئے ہیں اور ان کا نسب زیوس دیوتا سے ملتا ہے جو کوہ اوپس کے دیوتاؤں کے خاندان کا حاکم اعلیٰ ہے اسی دعوی کی بناء پر انہوں نے اپنے معاشرہ میں دیگر طبقات اور قبائل پر فوقیت حاصل کر لی۔
اہل یونان کے معاشی حالات: جیسے پہلے بتایا گیا ہے کہ وہاں زرعی زمینوں کی مقدار بہت کم تھی اس لئے خوشحال کسانوں کے لئے تو یہ ممکن تھا کہ وہ اپنے محدود قطعات اراضی میں زیتون کے پودوں کی کاشت کریں اور طویل عرصہ تک ان پودوں کی نگہداشت کے اخراجات برداشت کریں۔ لیکن غریب کسانوں کے لئے یہ طریقہ کار قابل عمل نہ تھا۔ وہ دولت مند ہمسایوں سے قرض لینے پر مجبور ہو جاتے قرض خواہ گراں شرح سود پر انہیں قرض دیتے۔ مقروضوں کے لئے قرضوں کی ادائیگی ایک کٹھن مرحلہ تھا اس محدود آمدنی سے اپنا اور بال بچوں کا پیٹ پالیں یا قرضہ ادا کریں؟ اس سوال کا ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا جب وہ مقررہ میعاد پر قرض نہ ادا کر سکتے تو ان کی جائیداد ان سے چھین لی جاتی بعض اوقات شخصی آزادی سے بھی انہیں محروم ہونا پڑتا۔ایسے شخص کو مجبور کیا جاتا کہ قرض خواہ کے انگوروں کے باغوں میں بسلسلہ ادائیگی قرض مزدوری کرتا رہے۔
یونان کی سرزمین جہاں فلسفہ پیدا ہوا اور جس کی فضاؤں میں پروان چڑھا۔ اس کے نامور فرزندوں کی عظیم کوششوں کے باعث فلسفہ کی روشنی سے نہ صرف یورپ بلکہ ایشیا اور شمالی افریقہ کے دور افتادہ ممالک کے در و دیوار بھی جگمگانے لگے جسے بجا طور پر یہ ناز ہے کہ اس نے سقراط، افلاطون، ارسطو جیسے نابغہ روز گار فلاسفر پیدا کئے لیکن جب ہم دقت نظر سے ان عظیم دانشوروں کی تعلیمات کا غیر جانبدارانہ مطالعہ کرتے ہیں تو ان کی اچھی باتوں کے ساتھ ساتھ ہمیں ایسی خرافات بھی ملتی ہیں، جنہیں پڑھ کر عقل انسانی کی نارسائی کا اعتراف کرنا پڑتا ہے۔ ابو نصر فارابی جو یونانی فلسفہ کا بہترین ترجمان اور قابل اعتماد مفسر ہے اس نے اپنے رسالہ میں افلاطون اور ارسطو کی آراء و نظریات میں تضاد دور کرنے کی کوشش کی ہے
قسط نمبر36 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: تنتیسواں) (یونان ~ حصہ ششم ~ آخری حصہ) (یونان کے حکماء و فلاسفر ~ حصہ دوئم ~ آخری حصہ)
افلاطون کے بعد اس کا شاگرد ارسطو، یونان کے افق پر حکمت و فلسفہ کا آفتاب بن کر طلوع ہوتا ہے اور اپنے استاد کے نظریات کی پر زور تردید کرتا ہے وہ لکھتا ہے:
فَقَدْ ظَنَّ اَفْلَاطُوْنُ اَنَّ شُيُوْعِيَةَ الْاَطْفَالِ تُوَسِّعُ دَائِرَةَ التَّعَاطُفِ لٰكِنَّهَا فِي الْحَقِيْقَةِ تُؤَدِّىْ اِلٰى اِنْتِفَآءِ الْمَحَبَّةِ وَالْاِحْتَرَامِ لِاَنَّ الطِّفْلَ الَّذِيْ هُوَ ابْنُ الْجَمِيْعِ لَيْسَ اِبْنُ اَحَدٍ○
ترجمہ: افلاطون نے بچوں کو ان کے والدین سے منسوب کرنے کی مخالفت کی ہے اور انہیں مشترکہ ماں باپ کی اولاد قرار دیا ہے اس کا خیال ہے کہ اس طرح باہمی محبت و پیار کا دائرہ وسیع ہو گا در حقیقت یہ سراپا افتراء و بہتان ہے اس طرح تو محبت و احترام کے سارے جذبات نیست و نابود ہوں گے کیونکہ جو بچہ سب کا ہوتا ہے وہ کسی کا بھی نہیں ہوتا۔
(کتاب الجمع، صفحہ ۳۸)
قسط نمبر37 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: چونتیسواں) (سلطنت روم ~ حصہ اول)
رومہ کے محل وقوع نے اس کی اہمیت میں بڑا اضافہ کر دیا تھا یہ شہر سات پہاڑیوں کے اس مقام پر آباد ہوا تھا جہاں دریائے ٹائبر پر پل بنایا گیا تھا، طبعی طور پر دفاعی نقطہ نظر سے بہت مستحکم تھا اس میں بآسانی قلعہ بندیاں کی جاسکتی تھیں اور دشمن کی بڑی سے بڑی حملہ آور فوج سے اس کی حفاظت کا فریضہ بآسانی انجام دیا جا سکتا تھا۔ یہ اٹلی کے وسط میں اس کے مغربی ساحل سے تقریبا پندرہ میل کے فاصلہ پر تھا۔ اٹلی آب و ہوا اور زمین کے اعتبار سے بحیثیت عمومی بحیرہ روم کے اوصاف و خصائص کا مرقع ہے۔ اٹلی کے زرعی میدان اگرچہ بہت زیادہ وسیع نہیں تاہم یونان کے مقابلہ میں ان کا رقبہ بہت زیادہ ہے اور زمین بڑی زرخیر ہے۔ ابتداء میں بیرونی حکمران جزیرہ نما اٹلی پر حکمرانی کرتے تھے لیکن لاطینی قبیلے ان اجنبی حکمرانوں سے سخت نفرت کرتے تھے
قسط نمبر38 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: پنتیسواں)(سلطنت روم ~ حصہ دوئم)
نئے طالع آزماؤں میں سب سے پیش پیش جولیس سیزر تھا۔ جو رومی سرداروں میں پرلے درجہ کا حریص تھا۔ اس نے اپنی وسیع فتوحات سے (58 ق م – 50 ق م)میں شہرت حاصل کر لی اور اپنے کارناموں کو خوب پھیلایا۔ آخر کار اس نے 49 ق م میں رومہ پر حکمرانی کے لئے اپنی جان کی بازی لگا دی۔ اور اس نے سینٹ کے احکام کو نظر انداز کر دیا اور تربیت یافتہ سپاہیوں کی فوج لے کر پومپی کو شکست دینے کے لئے جو سیزر کا داماد اور سابقہ حلیف تھا۔ سیزر اٹلی سے ہسپانیہ ،وہاں سے یونان مقدونیہ اور وہاں سے مصر گیا۔ مصر پہنچنے پر اسے معلوم ہوا کہ پومپی قتل ہو چکا ہے مصر کی نوجوان ملکہ کلیو پیٹرا نے سیزر سے مدد کی التجائیں کیں تاکہ اس کا متزلزل تخت بحال رہے
قسط نمبر39 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: چھتیسواں) (سلطنت روم ~ حصہ سوئم) (اہل روم کا مذہب ~ حصہ اول)
ابتدائی دور کے رومی قدیم مذہب پر کار بند تھے ایک چھوٹی سی شہری ریاست کے لئے جس میں کسان بستے تھے وہ قدیم مذہب بالکل طبعی تھا۔ وہ ان روحوں کی پرستش کرتے تھے جو گھروں ، چشموں ، کھیتوں اور جنگلات کے دوسرے مقاموں میں کار فرما تھیں سادہ لوح کسانوں کو طلسمی باتوں پر بڑا اعتقاد تھا۔جب یونان کبیر ( رومہ ) اور باقی یونانی دنیا کا الحاق عمل میں آیا تو جمہوریت کے آخری دور کے رومیوں نے کوہ اولمپس کے دیوتاؤں کو اپنا معبود بنا لیا البتہ ان دیوتاؤں اور دیویوں کے نام مقامی ہی رکھے مثلا یونانیوں کے زیوس کا نام رومیوں نے جوپیٹر (مشتری ) اور یونانی ہیرا ( زیوس کی بیوی ) کا نام رومیوں نے جونو (JUNO) رکھ دیا اس طرح پوسیڈن، نیپچون(NEPTUNE) سمندر کا دیوتا زحل (ریرس مارس (MARS) (جنگ کا دیوتا مریخ) ہٹااسٹس ولکن (VULCAN) (آگ کا رومی دیوتا) ایفروڈائٹ وینس (زہرا ) ہتھینا منروا MINERVA) (علم کی دیوی) کہلانے لگے۔
(تاریخ تہذیب ،صفحہ 154، جلد اول)
قسط نمبر40 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: سنتیسواں)(سلطنت روم ~ حصہ چہارم) (اہل روم کا مذہب ~ حصہ دوئم)
جو لوگ مسیحی عقائد اختیار کرتے تھے ان کے خلاف ایذارسانی اور تعذیب کا سلسلہ کئی صدیوں تک جاری رہا لیکن آخر کار اس مذہب نے تمام رومن سلطنت میں اپنی فتح کا پرچم لہرا دیا اس کے بعد بھی یہ کوششیں جاری رہیں کہ اس سلطنت کی سابقہ بت پرستانہ حیثیت کو بحال کیا جائے آخری بڑی کوشش بادشاہ جولین نے 361 تا 363 میں کی جو رومیوں کے حکمران طبقے کی روایات سے گہری وابستگی رکھتا تھا اسے واقعی یقین تھا کہ مسیحی لوگ یونانی اور رومی ثقافت کی شائستگیوں کے خلاف مشرق کی ایک گھٹیا اوہام طرازی مسلط کر دینے کی فکر میں ہیں یہ شائستگیاں بڑی محنت و مشقت سے حاصل کی گئی تھیں لیکن یہ صرف دو سال بادشاہ رہنے کے بعد انتقال کر گیا اس طرح مسیحیت نے بہت جلد سابقہ حیثیت حاصل کر لی۔ گبن نے ان وجوہات کی نشاندہی کی ہے
قسط نمبر41 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: اڑتیسواں) (سلطنت روم ~ حصہ پنجم) (اہل روم کا مذہب ~ حصہ سوئم)
دوسرا واقعہ جو بڑے دور رس نتائج کا باعث بنا اور اس کے عہد میں وقوع پذیر ہوا وہ یہ تھا کہ اس نے بازنطین کو رومہ کی سلطنت کا دوسرا دارالحکومت بنایا اور اس کو روم ثانی کی حیثیت دے دی یہاں ہی قسطنطنیہ کا شہر آباد کیا گیا جو بعد میں رومی حکومت کا مرکز بنا اس شہر کو یہ خصوصیت حاصل تھی کہ روز اول سے یہ شہر مسیحی تھا۔ اور یونانی ثقافت کا مرکز تھا۔ اسے کبھی بھی بت پرستانہ حکومت کا مرکز نہیں بنایا گیا۔ قسطنطین نے کلیسا کو ریاست کا ایک شعبہ بنایا اور اسے اپنے شاہانہ کنٹرول میں رکھا۔ جب کبھی کسی بادشاہ نے کافرانہ اور بت پرستانہ عقائد کو فروغ دینا چاہا عیسائیت کے پیروکار اس کی مزاحمت کے لئے فوراً میدان میں نکل آئے۔”انسائیکلوپیڈیا آف برٹانیکا” کا مقالہ نگار ان نظریاتی تنازعات کا ذکر کرتا ہے جو خود عیسائیوں میں رونما ہوئے
قسط نمبر42 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:انتالیسواں) (سلطنت روم ~ حصہ ششم) (اہل روم کے معاشرتی حالات ~ حصہ اول)
سلطنت رومہ کی آبادی دو طبقوں میں منقسم تھی۔ ایک طبقہ امراء کا تھا اور دوسرا عوام کا ۔امراء کا طبقہ خوشحال خاندانوں پر مشتمل تھا۔ شہریت کے پورے حقوق انہیں کو حاصل تھے اس طبقہ میں صرف وہ لوگ شامل تھے جو زرعی زمینوں کے وسیع و عریض قطعات کے مالک تھے۔ یا بڑی بڑی جائیدادوں والے کنبوں سے وابستہ تھے اس طبقہ کے تمام افراد عیش و عشرت کی زندگی بسر نہیں کرتے تھے بلکہ کھیتوں میں محنت و مشقت بھی کرتے تھے۔ امراء کے طبقہ میں سے ایک فوجی ہیرو سنسنیٹس (CINCINNATUS) تھا۔ جس نے پانچویں صدی قبل مسیح کے وسط میں دو مرتبہ رومہ کو دشمن کی یلغار سے بچایا تھا۔ اور اسے فتح یاب کیا۔ جب بھی اسے فوج کا سپہ سالار بننے کی دعوت دی گئی۔
قسط نمبر43 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:چالیسواں) (سلطنت روم ~ حصہ ہفتم) (اہل روم کے معاشرتی حالات ~ حصہ دوئم)
اس سلسلہ میں ول ڈیورانٹ نے اسکندریہ کی ایک خاتون کا ذکر کیا ہے جس کا نام ہیپاٹیا (HYPATIA) تھا۔ اس نے پہلے فن ریاضی میں کمال حاصل کیا۔ اور علمِ فلکیات میں پٹولیمی(PTOLEMY) نے جو کتاب لکھی تھی اس کی شرح لکھی۔ اس نے علم ریاضی میں گراں بہا تصنیفات تالیف کیں۔ پھر ریاضی سے وہ فلسفہ کے میدان میں پہنچی ۔ افلاطون اور پلوٹینس کے خطوط پر اپنا مستقل نظامِ فکر تعمیر کیا اس زمانہ کا ایک عیسائی مؤرخ سقراط لکھتا ہے کہ وہ اپنے زمانہ کے تمام فلسفیوں سے گوئے سبقت لے گئی تھی اسے اسکندریہ کے عجائب خانہ میں فلسفہ کی “چیئر” تفویض کی گئی تھی۔ اس کے لیکچرز اتنے دلکش اور مدلل ہوتے تھے کہ دور و نزدیک سے سامعین کا ایک جمِ غفیر اس کا لیکچر سننے کے لئے جمع ہو جاتا تھا۔
رومن مملکت کے معاشی حالات کا تذکرہ وہاں کے معاشرتی حالات کے ضمن میں آپ پڑھ چکے ہیں مزید وضاحت کے لئے ول ڈیورانٹ کا یہ اقتباس بڑا بصیرت افروز ہے۔ بازنطینی حکومت کا اقتصادی نظام مخلوط قسم کا تھا۔ اس میں نجی کاروبار کی بھی اجازت تھی اور اس میں بعض صنعتوں کو حکومت نے اپنی ملکیت میں بھی لے لیا تھا۔ کسانوں کے حقوقِ ملکیت کے بارے میں جسٹینین کا قانون نافذ تھا اور اس پر عمل ہو رہا تھا جاگیریں وسیع سے وسیع تر ہوتی جارہی تھیں اور کاشتکار مجبورَا بڑے زمینداروں کی غلامی کی زنجیروں میں جکڑے چلے جارہے تھے کیونکہ قحط سالی یا طغیانی کی وجہ سے ان کی زرعی پیداوار بری طرح متاثر ہوتی تھی
اس کے بارے میں ول ڈیورانٹ کی مشہور کتاب “دی ایج آف فیتھ” کا ایک اقتباس ہی کافی ہے وہ لکھتے ہیں۔ اخلاقی، جنسی اور کاروباری لحاظ سے رومی سلطنت کے مکینوں کی حالت قابل رشک نہ تھی۔ ایک طرف تو رقص کی مذمت کی جاتی تھی لیکن قسطنطنیہ میں رقص گاہیں اور ناچ گھر آباد تھے۔ کلیسا نے اعلان کر دیا تھا کہ وہ ایکٹروں کو بپتسمہ نہیں دیں گے یعنی وہ ایکٹروں کو عیسائی مذہب قبول کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اس کے باوجود بازنطینی اسٹیج پر ایکٹروں اور ان کے کھیلوں کو بڑی پذیرائی بخشی جاتی تھی قانونی طور پر ان پر یہ پابندی تھی کہ وہ ایک سے زیادہ شادی نہیں کر سکتے لیکن دوسری طرف ان کی جنسی خواہشات کی تسکین کا سامان کر دیا گیا تھا۔
اہل مصر: مورخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ تمام تہذیبوں سے قدیم ترین تہذیب اہل مصر کی ہے۔ یہی وہ ملک ہے جہاں تمدن و ثقافت کی پہلی شمع روشن ہوئی۔ مصریوں کے آثار قدیمہ ان کی فنی تعمیر میں مہارت اور علم ریاضی میں ید طولیٰ رکھنے کے شاہد عادل ہیں دریائے نیل ان کے لئے قدرت کا ایک عظیم عطیہ تھا۔ جس کھیت میں اس کا پانی پہنچ جاتا وہاں فصلیں لہلہانے لگتیں اور اس کی سرسبزی و شادابی کو دیکھ کر دلوں کو مسرت اور آنکھوں کو تازگی نصیب ہوتی۔ کسی صحراء کے ٹکڑے کو ہموار کر دیا جائے اور ہموار کرنے کے بعد اسے نیل کے پانی سے سیراب کر دیا جائے تو قلیل وقت میں وہ ٹکڑا دنیا کے بہترین زرخیز میدانوں سے بھی سبقت لے جاتا۔ ان کے مندروں کی عمارتیں جن میں سے اکثر اب بھی اپنی اصلی صورت میں موجود ہیں
ابتداء میں ہر قبیلہ کا الگ خدا ہوتا تھا اور ہر قبیلہ صرف اپنے ہی خدا کی پوجا کرتا تھا۔ کسی دوسرے قبیلہ کے خدا کو پہلے قبیلے والے اپنا خدا نہیں تسلیم کرتے تھے۔ اس طرح ایک محدود قسم کی توحید کا تصور پایا جاتا تھا۔ ایک دوسری صورت بھی تھی کہ وہ ایک موقع پر کسی ایک دیوتا کی پرستش کرتے اور اس کے ساتھ کسی اور کی پرستش نہ کرتے اور دوسرے موقع پر اسی طرح ایک اور دیوتا کو اپنی پوجا پاٹ کے لئے مختص کر لیتے اور اس وقت کسی اور دیوتا کی رسم پرستش ادا نہ کرتے۔ البتہ ایک مکتبہ فکر “ہیلیوپولس” کے مذہبی رہنما ایک الہ کے قائل تھے “را” یعنی سورج دیوتا کی پرستش کرتے تھے اور ایک محدود وقت کے لئے صرف اسی کو رب کائنات سمجھا جاتا تھا۔ ایمن ہوٹپ-3 (AMENHOTEP III) کے زمانہ میں صرف اور صرف قُرص آفتاب (سورج کی ٹکیا) کی پرستش کی جاتی تھی
ایلفرڈ ٹیلر اپنی کتاب “عربوں کی فتح مصر” میں لکھتا ہے۔ اگرچہ مصر کے قبطیوں نے عیسائیت کو قبول کر لیا تھا اس کے باوجود رومی حکمرانوں اور مصری محکوموں کے تعلقات ہمیشہ کشیدہ رہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ رومی اور مصری الگ الگ نسل سے تعلق رکھتے تھے اور نسلی تعصب باہمی فتنہ و فساد کا سبب بنتا رہتا تھا۔ لیکن اس سے بھی زیادہ موثر وجہ یہ تھی کہ اگرچہ قبطیوں نے عیسائی مذہب اختیار کر لیا تھا لیکن رومی عیسائیوں اور قبطی عیسائیوں کے فرقے الگ الگ تھے رومی عیسائیوں نے کالیسڈن کی کونسل کے اس فیصلہ کو تسلیم کر لیا تھا کہ مسیح کی ذات میں دو فطرتیں ہیں ایک الہی اور ایک انسانی یہ فرقہ ملکانیہ کہلاتا تھا۔ لیکن مصریوں نے کالیسڈن کی اس قرار داد کو منظور کرنے سے انکار کر دیا وہ اس بات کے قائل تھے کہ مسیح ایک فطرت کے حامل ہیں یہ عقیدہ رکھنے والے فرقہ کو نسطوری فرقہ کہا جاتا تھا۔ ا
علامہ ابو العباس احمد بن علی المقریزی رحمۃ اللہ علیہ کا حوالہ دیتے ہوئے ایلفرڈ ٹیلر لکھتا ہے کہ:ایرانیوں نے مصر میں فتح کے بعد بے شمار عیسائیوں کو موت کے گھاٹ اتارا ۔ اور ان میں سے بے شمار لوگوں کو جنگی قیدی بنایا ان کے بہت سے گرجوں کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا یہودیوں نے عیسائیوں کے اس قتل عام اور گرجوں کے انہدام میں ایرانیوں کی مدد کی۔ ایک دفعہ تو خسرو نے رومی مملکت کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔ بیت المقدس پر قبضہ کر کے وہاں بیس روز تک قتل عام اور لوٹ مار کا بازار گرم رکھا۔ نوے ہزار عیسائی مارے گئے ہزار بشپ اور نن ( راہبہ عورتیں ) تہ تیغ کر دی گئیں۔ اور ان کے گرجے گرا دیئے گئے اور وہ صلیب جس پر عیسائیوں کے عقیدے کے مطابق حضرت عیسی علیہ السلام کو معاذ اللہ پھانسی دیا گیا تھا جو ان کے نزدیک مقدس ترین چیز تھی۔
سائرس نے جو مظالم قبطیوں پر ڈھائے ان کی فہرست بہت طویل ہے ان میں سے صرف ایک واقعہ بطور مثال ہم پیش کرنا چاہیں گے۔بنیامین، قبطیوں کا ایک معزز پادری تھا اس کا بھائی میناس (MENAS) قبطی عقیدہ کا پیرو کار تھا۔ اسے سائرس کے سامنے پیش کیا گیا اور بڑا ڈرایا دھمکایا گیا لیکن وہ اپنے عقیدہ پر ثابت قدم رہا۔ پھر مشعلیں روشن کر کے اس کے پہلوؤں کے قریب کی گئیں جنہوں نے اس کی جلد اور گوشت کو جلا دیا اور چربی پگھل کر نیچے گرنے لگی لیکن اس کے پائے ثبات میں ذرا لغزش نہ آئی تب اس کے منہ سے ایک ایک کر کے دانت اکھیڑ لئے گئے پھر اسے ایک ریت کی بوری میں بند کر دیا گیا اور اسے سمندر کے ساحل پر لے گئے، تین مرتبہ اسے کہا گیا اگر اسے زندگی عزیز ہے تو اپنے عقیدہ سے توبہ کرے۔ اور کالسیڈن کی
عام طور پر تعلیم موروثی ہوتی ہے، یعنی باپ اپنا علم اور اپنا فن اپنی اولاد کو سکھاتا ہے۔ لیکن اٹھارہویں خاندان کے عہد حکومت میں بڑے بڑے شہروں میں اسکول بھی کھول دیئے گئے جہاں بچے تعلیم حاصل کرنے کے لئے جاتے تھے۔ قدیم زمانہ کی مصری عمارتیں خصوصاً مندر اور اہرام ان کے فن تعمیر اور ریاضیات میں مہارت کے ناقابل تردید شواہد ہیں “انسائیکلو پیڈیا گلورئیل” کے مقالہ نگار نے تحریر کیا ہے۔ پٹولیمیز (PTOLEMIES) خاندان کے عہد حکومت میں مصر دنیا کے تمام ممالک سے زیادہ تعلیم یافتہ اور زیادہ دولت مند تھا۔ آپ پیچھے اسکندریہ کی فلسفی اور ماہر ریاضی دان ہپاٹیا ( HYPATIA) کے درد ناک قتل کا واقعہ پڑھ چکے ہیں بہر حال اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت اسکندر یہ علم اور فلسفہ کا مرکز تھا۔
مصر کا فن و ثقافت: مصریوں کے عمومی تذکروں میں ان کی ثقافت اور ان کے فنون کے بارے میں اشارۃً ذکر آپ پڑھ چکے ہیں۔ مصر کے طول و عرض میں ان کے آثار قدیمہ، ان کی بلند ہمتی اور عظمت کی گواہی دے رہے ہیں۔ تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں آپ یونانی مشہور مورخ ہیروڈیٹس کی یہ تحریر ملاحظہ کریں جس میں اس نے جیزا کے ہرم کے بارے میں کچھ تفصیلات دی ہیں:وہ لکھتا ہے ایک لاکھ مزدور بیس سال تک اس کی تعمیر میں مصروف رہے تب جیزا کا ایک حرم پایہ تکمیل تک پہنچا۔ اس کی کل بلندی چار سو اسی فٹ سے زائد ہے اس میں دو لاکھ سے زائد چونے کے پتھر کے تراشیدہ ٹکڑے لگے ہوئے ہیں اور ان کو اس کمال مہارت سے ایک دوسرے کے ساتھ پیوست کیا گیا ہے کہ آج کا کوئی ماہر معمار بھی اس طرح کی چنائی نہیں کر سکتا۔ ہر پتھر کے ٹکڑے کا وزن اڑھائی ٹن ہے یعنی ستر من ہے۔
چند سال پہلے تک مؤرخین اور تہذیب انسانی کے ماہرین کے ہاں یہ خیال سند قبول حاصل کر چکا تھا کہ ہندوستان میں آریوں کی آمد کے بعد تہذیب و ثقافت کا آغاز ہوا ۔ اس سے پہلے اس برصغیر پر جہالت اور بربریت کی ظلمت چھائی ہوئی تھی تمدن و شائستگی کا نام تک نہ تھا۔ لوگ گھاس پھوس کے بنے ہوئے جھونپڑوں میں زندگی بسر کرتے تھے ادنی درجہ کا لباس پہنتے اور درختوں کے پتوں پر کھانا رکھ کر تناول کرتے لیکن موہنجوداڑو(سندھ) اور ہڑپہ(پنجاب) میں کھدائی کے بعد عجیب و غریب انکشافات ہوئے ہیں یہ کھدائی سر جان مارشل کے زیر نگرانی 1920ء میں آثار قدیمہ کی سروے سوسائٹی آف انڈیا نے کرایا۔ اس سے پرانے زمانے کے شہروں کے جو آثار و کھنڈرات دستیاب ہوئے ہیں انہوں نے ہندوستان کے مورخین کی سوچ کا رخ بدل دیا ہے، یہ ایسی ناقابل تردید شہادتیں ملی ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے
قسط نمبر55 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: باون) (ہندوستان ~ حصہ دوئم) (ابو ریحان البیرونی)
ابو ریحان البیرونی: قرآن کریم کی تعلیم نے مسلمان علماء میں غور و فکر اور تحقیق و تجسس کا ذوق پیدا کر دیا تھا۔ ہر وہ چیز جو ان کی نگاہوں کے سامنے آتی۔ وہ اس کی حقیقت تک پہنچنے کے لئے سرگرم عمل ہو جاتے۔ جن اقوام عالم سے ان کو واسطہ پڑا اور جن مذاہب سے ان کی شناسائی ہوئی انہوں نے ان کے ظاہری اور باطنی حالات جاننے اور حقائق کی تہہ تک پہنچنے کے لئے اپنی بہترین توانائیاں صرف کر دیں۔ جب مسلمانوں کا تعلق ہندوستان سے ہوا تو انہوں نے اہل ہند کے مذہبی عقائد، رسم و رواج، طرز بود و باش کو پوری طرح سمجھنے کے لئے اپنی علمی اور فکری قوتیں وقف کر دیں اور اہل علم و دانش کی ایک کثیر تعداد نے اس موضوع پر تحقیق کے لئے اپنی زندگیاں قربان کر دیں۔
ابتداء میں آریہ عقیدہ توحید پر ایمان رکھتے تھے اللہ تعالی کی ذات کے بارے میں ان کا نظریہ یہ تھا کہ:
“اِنَّهُ الْوَاحِدُ الْاَزَلِیُّ مِنْ غَيْرِ ابْتَدَاءٍِ وَّلَا اِنْتِهَاءٍ اَلْمُخْتَارُ فِیۡ فِعۡلِہٖ، الۡقَادِرُ الۡحَکِیۡمُ الۡحَیُّ الۡمُحۡیِ الۡمُدَبِّرُ الۡمُبۡقِیْ اَلۡفَرۡدُ فِیۡ مَلَكُوۡتِهٖ عَنِ الْاَضْدَادِ وَالْاَنْدَادِ لَا يَشْبَهْ شَيْئًا وَلَا يُشْبِھُهٗ شَىۡءٌ”
ترجمہ:وہ یکتا ہے وہ ازلی ہے نہ اس کی کوئی ابتدا ہے نہ انتہا، وہ اپنے افعال میں مختار کامل ہے وہ قدرت کا مالک ہے دانا ہے خود زندہ ہے دوسری چیزوں کو زندہ کرنے والا ہے مدبر ہے اچھی چیزوں کو باقی رکھنے والا ہے وہ اپنی بادشاہی میں یگانہ ہے نہ اس کی کوئی ضد ہے نہ اس کا کوئی مدمقابل ، نہ وہ کسی چیز سے مماثلت رکھتا ہے اور نہ اس سے کوئی چیز مماثلت رکھتی ہے۔ (تحقیق ماللہند، صفحہ 20)
شرک کی آمیزش اور عوام کا عقیدہ: اس کے بعد البیرونی اس کی تفصیل بیان کرتے ہیں کہ کس طرح یہ عقیدہ شرک سے آلودہ ہوا اور کس طرح خدائے واحد پر ایمان لانے والی قوم ہزاروں بلکہ لاکھوں خداؤں کو پوجنے لگی۔ اس ضمن میں وہ لکھتے ہیں:یونان کے قدیم علماء کا یہ عقیدہ تھا کہ حقیقت میں صفت وجود سے متصف ایک ہی ذات ہے اور وہ ہے علۃ اولی کیونکہ یہی بالذات تمام ماسوا سے مستغنی اور بے نیاز ہے اور باقی جملہ معلولات اپنے وجود اپنی نشوونما اور اپنی بقا میں علت اولی ( خالق اکبر) کے محتاج ہیں اس لئے ان کا وجود حقیقی نہیں بلکہ خیالی اور تصوراتی ہے ہندوستان کے حکماء کا بھی تقریباً یہی نظریہ تھا۔ ان میں سے بعض حکماء کی یہ رائے ہے کہ جو معلول یعنی موجود حتی الامکان کوشش کرتا ہے کہ وہ علت اولی ( خالق حقیقی ) کا زیادہ سے زیادہ قرب حاصل کرے اور اس کی صفات سے اپنے آپ کو متصف کرے جب بدن کا حجاب اٹھ جاتا ہے
ہندوؤں کے لاتعداد دیوتا اور ان کی الہامی کتابیں: ہندوؤں کے دیوتاؤں کی فہرست بہت طویل تھی جو ہر لحظہ بڑھتی رہتی تھی، بغور مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ دیوتاؤں کی اس طویل فہرست میں ایسے دیوتا بھی ہیں جو یورپین آریاؤں کے دیوتاؤں سے مشابہت رکھتے ہیں ڈائیوس (DYAVS) جو درخشندہ آسمان کا دیوتا ہے وہ یونانی دیوتا زیئس (ZEUS) کا ہی دوسرا نام ہے۔ وارونا (VARUNA) وہ دیوتا ہے جو آسمان کا نمائندہ ہے، آسمان کی طرح ہر چیز کو گھیرے ہوئے اور یکجا کئے ہوئے ہے، اسے آسورا (ASURA) کہا جاتا ہے یہ ایران کے اعلیٰ ترین دیوتا اہورا مزدا کا ہم معنی ہے۔ پانچ دیوتا ایسے ہیں جو سورج کے مختلف مظاہر ہیں۔ مترا جسے ایرانی متراس کہتے ہیں اس کو وہ اہمیت نہیں جو اہورا مزدا کو ایران یا یونان میں حاصل تھی۔
ورلڈ سویلائزیشن کے دونوں مصنف لکھتے ہیں۔ اہل مغرب کی اصطلاح کے مطابق ہندو ازم کو مذہب نہیں کہا جاسکتا کیونکہ یہ ہر قسم کے عقیدہ کو اپنانے کے لئے تیار ہوتا ہے تمام رسم و رواج کو اختیار کر لیتا ہے خواہ وہ قدیم زمانہ کے گھناؤنے رسم و رواج ہوں یا عصر جدید کے اعلیٰ و ارفع رسم و رواج ۔ ہندومت کے کوئی مقررہ عقائد و اصول نہیں۔ جن کو ماننا اس مذہب کے ہر پیرو پر لازمی اور ناگزیر ہو۔ اس کے ماننے والے کہیں ایک جگہ جمع ہو کر عبادت نہیں کرتے ان کا کوئی مسلمہ کلیسا نہیں ہے البتہ برہمنوں کے بارے میں ان کے خاص معتقدات میں مخصوص طریقہ ہائے کار ہیں جن کی سارے ہند میں پیروی کی جاتی ہے برہمن اپنے ماننے والوں کے لئے ضروری نہیں سمجھتے کہ وہ کسی مخصوص عقیدہ پر ایمان لے آئیں اور نہ کسی نئی بدعت کے خلاف جنگ آزما ہونے کی انہیں دعوت دیتے ہیں
قسط نمبر60 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: ستاون) (ہندوستان ~ حصہ ہفتم) (البیرونی کی تحقیق کے مطابق اہل ہند کے عقائد ~ حصہ چہارم)
وید: ویدوں کی صحیح تاریخ کا تعین مشکل ہے البتہ یہ پتہ چلتا ہے کہ 900 ق م تک یہ مکمل ہو گئے تھے تخلیق کائنات کے بارے میں کسی حتمی نظریہ کا ان میں ذکر نہیں حتی کہ ان کے خداؤں کو بھی تخلیق کائنات کا علم نہ تھا کہ کیسے ہوئی۔ رگ وید کے آخری منتر میں ہے کہ سب سے قدیم آدمی کو دیوتاؤں نے بطور قربانی ذبح کیا اور معجزانہ طور پر اس نے اپنے مقطوعہ اجزا سے کائنات کی مختلف چیزوں کو پیدا کیا اس سے یہ چار ذاتیں تخلیق ہوئیں۔
(انسائیکلو پیڈیا آف لیونگ فیتھ، صفحہ 219، حوالہ رگ وید 10-90)
قربانی پہلے بھی ان کی پوجا کا اہم عنصر تھی لیکن اب اس کی اہمیت سو گنا بڑھ گئی سام وید ، یجر وید، اتھروید، رگ وید کے بعض منظوم اور بعض نثری حصوں کو الگ کر دیا گیا انہیں قربانی کے وقت پڑھا جاتا۔
کائنات نام ہے گردشوں کے لامتناہی تسلسل کا۔ ہندوؤں کے نزدیک یہ تسلسل وشنو دیوتا کی زندگی سے وابستہ ہے بنیادی گردش کو “کالپا” کہتے ہیں جس کا معنی ہے برہما کا دن ۔ اس کی مقدار چار ہزار دو سو ملین زمینی سالوں کے برابر ہے ان کی دیو مالائی اصطلاح میں یہ کہا جاتا ہے کہ ہر کائناتی دن کے آغاز میں وشنو، شیش ناگ، جس کے ہزار سر ہیں، کی گود میں سویا رہتا ہے یہ ناگ لامتناہی زمانہ کی علامت ہے وہ کائناتی قدیم سمندر میں جھولا جھولتا رہتا ہے وشنو کی ناف سے کنول کا پھول اگتا ہے اور اس کی لپٹی ہوئی پتیوں سے برہما دیوتا جنم لیتا ہے، جو خالق کائنات ہے۔ یہ جہان کی تخلیق کرتا ہے پھر وشنو جاگتا ہے اور اس پر حکمرانی کرتا ہے کالپا کے اختتام سے پہلے وشنو ایک مرتبہ پھر سو جاتا ہے اور ساری کائنات اس کے جسم میں ضم ہو جاتی ہے
قسط نمبر 62 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ
{ہندوستان : حصہ نہم}
(ہندوؤں کی عملی زندگی)(حصہ: انسٹھ)
ہندوؤں کے سلسلہ میں یہ بات بڑی حیرت انگیز اور تعجب خیز ہے کہ انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ کوئی ہندو ایک خدا کی عبادت کرتا ہے یا متعدد خداؤں کی یا کسی کو بھی خدا یقین نہیں کرتا ان کے نزدیک اہم بات یہ ہے کہ وہ ہندوانہ طریقہ پر زندگی گزاریں اور ان رسم و رواج کی پابندی کریں جو صدیوں سے ان کے ہاں جاری ہیں مثلاً شادی، مرگ کی رسوم، ذات پات کے نظام کی پابندی وغیرہ وغیرہ۔ اپنے بتوں کے ساتھ وہ انسانوں کی طرح سلوک روا رکھتے ہیں، بت اگر گھر میں ہوں تو وہ معزز مہمان ہیں ان کی خاطر مدارات میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی جاتی اور اگر وہ بت مندر میں ہے تو وہ بادشاہ ہے اس دیوتا کو اس طرح بیدار کیا جاتا ہے جیسے اس نے شب رفتہ اپنی رانی کے ساتھ گزاری ہو۔ پوری رسوم کے ساتھ اسے تخت پر بٹھایا جاتا ہے تخت کو پہلے دھوتے ہیں خشک کرتے ہیں پھولوں کا نذرانہ پیش کر کے اس روٹھے ہوئے دیوتا کو مناتے ہیں۔
قسط نمبر 63 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ{ہندوستان : حصہ دہم} (ہندوؤں کے قانون کے مآخذ : حصہ اول)(حصہ: سرسٹھ)
اہل یونان کی طرح اہل ہند بھی اس بات کے قائل نہ تھے کہ انہیں قوانین اور نظم حیات بذریعہ انبیاء اللہ تعالٰی کی طرف سے دیئے جاتے ہیں جن کی پابندی ان پر لازمی ہوتی ہے بلکہ یونانیوں کی طرح اہل ہند کا بھی یہ نظریہ تھا کہ قانون بنانے کا کام علماء اور حکماء سے وابستہ ہے اس لئے وہ قانون سازی کے معاملہ میں صرف اپنے علماء کی طرف ہی رجوع کیا کرتے تھے۔ اہل ہند کے نزدیک اس بات میں کوئی قباحت نہ تھی کہ پہلے احکام کو منسوخ کر کے ان کی بجائے نئے احکام کا نفاذ عمل میں لایا جائے وہ کہتے ہیں کہ بہت سی چیزیں باس دیو کی آمد سے قبل مباح تھے بعد میں انہیں حرام کر دیا گیا ان میں سے ایک گائے کا گوشت ہے جو پہلے حلال تھا سب لوگ اسے کھاتے تھے پھر لوگوں کی طبیعتوں میں تبدیلی آگئی گائے کا گوشت بہت گراں ہو گیا تو اس کو حرام کر دیا گیا۔ نکاح اور نسب کے مسائل میں بھی اس قسم کی تبدیلیاں لائی گئیں اس وقت تین صورتیں تھیں ایک تو یہ کہ میاں بیوی کی مقاربت سے اولاد پیدا ہو ۔ جیسا کہ آج کل بھی ہے۔
یہ واقعہ علامہ البیرونی نے ان کی معتبر کتابوں سے نقل کیا ہے۔ لکھتے ہیں نارائن، ان قوتوں میں سے ایک قوت کا نام ہے جو بڑی اعلیٰ و ارفع ہے اور اس کا مقصد حیات عالم انسانیت سے مصائب و آلام کو دور کرنا ہے اس کے درمیان اور علت اولی کے درمیان کوئی فرق نہیں یہ مختلف جسموں ، رنگوں اور روپوں میں اس دنیا میں ظاہر ہوتا ہے جب چھٹا منتر ختم ہوا تو وہ اس دنیا میں ظہور پذیر ہوا اور بل بن بیروچن کی سلطنت کو تباہ و برباد کر دیا۔بل نے زہرہ کو اپنا وزیر بنایا تھا۔ اور ساری دنیا کا وہ بادشاہ تھا۔ اس نے اپنی ماں سے جب اپنے باپ کے زمانہ کی باتیں سنیں کیونکہ اس وقت لوگ پہلے “کرتیا جوک ” کے قریب تھے اور آرام و راحت کی زندگی بسر کر رہے تھے ہر قسم کی مشکلات ان سے دور تھیں ماں سے اپنے باپ کے زمانہ کی باتیں سن کر اس میں رشک کا جذبہ پیدا ہوا
قسط نمبر 65 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ
{ہندوستان : حصہ بارہواں}
ہندوؤں کے ہاں عدل و انصاف کا نظام:(حصہ: باسٹھ)
ہندی معاشرہ میں نظام عدل و انصاف کے خد و خال اختصار کے ساتھ پیش کئے جاتے ہیں۔ قاضی ہر مدعی کو حکم دیتا ہے کہ وہ اپنا دعویٰ تحریری طور پر پیش کرے اور ایسے گواہ بھی پیش کرے جن سے اس کا دعویٰ ثابت ہوتا ہو عام طور پر گواہوں کی تعداد کم از کم چار مقرر تھی لیکن اگر گواہ ایسا ہوتا جس کی ثقاہت قاضی کے نزدیک مسلم ہوتی تو پھر اس ایک گواہ کی گواہی سے بھی قاضی مقدمہ کا فیصلہ کر دیتا۔ قاضی پر لازم تھا کہ وہ راز داری سے بھی حقیقت حال معلوم کرنے کی کوشش کرے اور ظاہری علامات و قرائن سے بھی استدلال کرے اگر مدعی گواہ پیش نہ کر سکتا تو پھر مدعا علیہ پر لازم تھا کہ وہ قسم اٹھائے مدعا علیہ کے لئے یہ بھی جائز تھا کہ وہ مدعی کو قسم کھانے کے لئے کہے۔ قسم کی مختلف صورتیں تھی جس قسم کا دعوئی ہوتا اسی انداز کی قسم بھی ہوتی
قسط نمبر66 بعثت نبویﷺ سے قبل ترق
یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ(حصہ: تریسٹھ) {ہندوستان : حصہ تیرہواں}
آریوں کے عقائد و اطوار بھارت میں نقل مکانی سے پہلے اور بعد میں: ہم نے علامہ البیرونی اور دیگر مستند مصنفین کے حوالوں سے یہ تحریر کیا ہے کہ آریہ لوگ توحید کے قائل تھے لیکن یہ وضاحت ضروری ہے کہ کیا انہوں نے ہندوستان پر جب یلغار کی تو اس وقت بھی وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان رکھتے تھے یا اس شاہراہ ہدایت سے ان کے قدم پھسل چکے تھے، نیز یہ بھی بتانا ہے کہ عقیدہ تناسخ پر ان کا ایمان ہندوستان آنے سے پہلے بھی تھا یا یہاں پہنچ کر انہوں نے اس عقیدہ کو اپنایا۔ یہ تو آپ پڑھ چکے کہ وہ اپنے مردوں کو آگ میں جلا دیا کرتے تھے لیکن یہ امر تحقیق طلب ہے کہ کیا ہندوستان آنے سے پہلے بھی ان کے ہاں یہ رسم جاری تھی یا ہندوستان میں بود و باش اختیار کرنے کے بعد انہوں نے اپنے مردوں کو نذر آتش کرنے کا طریقہ اختیار کیا اس امر کی وضاحت تو ہو چکی
قسط نمبر67 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: چونسٹھ){ہندوستان : حصہ چودہواں}
برہمنی اقتدار کے خلاف بغاوت: آپ پہلے پڑھ چکے ہیں کہ آریوں کی جملہ عبادات میں قربانی کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی تھی اور لوگ از خود قربانی کی رسم ادا نہیں کر سکتے تھے۔ برہمن ہی ان کی طرف سے اس رسم کو ادا کرنے کے مجاز تھے یہ امر ان کی آمدنی کا ایک بہت بڑا ذریعہ تھا۔ جس سے برہمن خاندان بڑی خوشحالی کی زندگی بسر کرتے تھے جب غیر فطری عقائد اور نا قابل فہم پوجا پاٹ کی رسوم سے لوگ دل برداشتہ ہو گئے تو برہمنوں کے مسلط کئے ہوئے اس دھرم کے خلاف متعدد تحریکیں زور پکڑنے لگیں جن میں بدھ مت اور جین مت کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی جس کا تفصیلی تذکرہ ابھی ہم آپ کی خدمت میں پیش کریں گے یہاں صرف ایک بات بتا دینا مناسب ہے
قسط نمبر68 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ(حصہ: پینسٹھ) {ہندوستان : حصہ پندرہواں} (بدھ مت اور جین مت : حصہ اول)
دھ مت اور جین مت: ہندو مت نے ہندی معاشرہ کو چار طبقات میں تقسیم کر دیا تھا اور ان کے درمیان امتیازات کے ایسے پہاڑ کھڑے کر دیے تھے جن کو عبور کرنا ممکن نہ تھا۔ بعض طبقات عزت و احترام کے انتہائی بلند مراتب پر فائز ہونے کے ساتھ ساتھ مالی اور مادی مراعات سے بھی سرفراز تھے اور بعض طبقات ذلت و رسوائی کی گہرائیوں میں پھینکے جانے کے ساتھ ساتھ ہر قسم کی محرومیوں سے بھی دو چار تھے محروم طبقوں کے افراد کی تعداد مراعات یافتہ طبقات کی تعداد سے بہت زیادہ تھی۔ یہ لوگ صدیوں ان نا گفتہ بہ حالات میں صبر کا دامن مضبوطی سے پکڑے رہے کیونکہ انہیں یہ باور کرا دیا گیا تھا کہ انسانی معاشرہ کی یہ تقسیم کسی انسان نے نہیں کی بلکہ یہ ان کے دیوتاؤں کا عمل ہے اور کون ہے جب تک وہ دیوتاؤں کو اپنا دیوتا یقین کرتا ہے
قسط نمبر 69 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ(حصہ: چھیاسٹھ) {ہندوستان : حصہ سولہواں} (بدھ مت اور جین مت : حصہ دوم)
دھ مت: جین مت سے بھی زیادہ اہم اور اثر آفرین بدھ مت کی تحریک تھی جس کے بانی کا نام “گوتم” یا “گوتما” تھا۔ چھٹی صدی قبل مسیح میں شمالی ہند کے معاشرتی اور سیاسی حالات کے بارے میں ایک محقق “کوسمبی” (D.D.KOSAMBI) کے حوالہ سے ٹریور لنگ، اپنی کتاب “ہسٹری آف ریلیجن” میں لکھتا ہے۔اس وقت قبائلی حکومتیں جن کا سربراہ راجہ ہوا کرتا تھا، وہ اپنی کونسل کے تجربہ کار اور کہنہ سال ممبروں کے مشورہ سے حکومت کے فرائض انجام دیا کرتا تھا۔ ایسی حکومتیں آہستہ آہستہ ختم ہونے لگیں اور بڑے بڑے بادشاہ وسیع علاقوں پر قبضہ کرتے چلے گئے۔ ان بادشاہوں کے حکمرانی کے طور طریقے قبائلی راجوں کے طریقوں سے بالکل مختلف تھے
قسط نمبر 70 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ(حصہ: ستاسٹھ) {ہندوستان : حصہ سترہواں} (بدھ مت اور جین مت : حصہ سوم)
ان کے لٹریچر کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اس معنی میں کسی کو خدا نہیں مانتے تھے کہ وہ اس کائنات کا خالق و مالک اور شئون کائنات نیک و بد کی تدبیر فرما رہا ہے لیکن دیوتاؤں کے وجود سے انہیں بھی انکار نہیں۔ ہندوؤں کے کئی دیوتاؤں کو بھی مانتے تھے۔ اور انہوں نے اپنے مخصوص دیوتا بھی مقرر کئے ہوئے تھے۔ جنگ کا دیوتا جس کو برہمن اندرا کہتے تھے اس کو بدھ مت میں سَکّہ (SAKKA) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے صحیح بات یہ ہے کہ نہ وہ خدا کے وجود پر ایمان لانے کو ضروری سمجھتے تھے اور نہ کسی کو خدا، نہ ماننے کو وہ ضروری سمجھتے تھے۔ ان کا تعلق لا ادری فرقہ سے تھا۔ جن سے جو بات پوچھی جائے ان کا ایک ہی جواب ہوتا ہے کہ میں نہیں جانتا۔ خدا کے وجود اور عدم وجود دونوں کے بارے میں ان کا یہی جواب تھا