قسط نمبر60 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: ستاون) (ہندوستان ~ حصہ ہفتم) (البیرونی کی تحقیق کے مطابق اہل ہند کے عقائد ~ حصہ چہارم)
وید: ویدوں کی صحیح تاریخ کا تعین مشکل ہے البتہ یہ پتہ چلتا ہے کہ 900 ق م تک یہ مکمل ہو گئے تھے تخلیق کائنات کے بارے میں کسی حتمی نظریہ کا ان میں ذکر نہیں حتی کہ ان کے خداؤں کو بھی تخلیق کائنات کا علم نہ تھا کہ کیسے ہوئی۔ رگ وید کے آخری منتر میں ہے کہ سب سے قدیم آدمی کو دیوتاؤں نے بطور قربانی ذبح کیا اور معجزانہ طور پر اس نے اپنے مقطوعہ اجزا سے کائنات کی مختلف چیزوں کو پیدا کیا اس سے یہ چار ذاتیں تخلیق ہوئیں۔
(انسائیکلو پیڈیا آف لیونگ فیتھ، صفحہ 219، حوالہ رگ وید 10-90)
قربانی پہلے بھی ان کی پوجا کا اہم عنصر تھی لیکن اب اس کی اہمیت سو گنا بڑھ گئی سام وید ، یجر وید، اتھروید، رگ وید کے بعض منظوم اور بعض نثری حصوں کو الگ کر دیا گیا انہیں قربانی کے وقت پڑھا جاتا۔ اتھر وید میں وہ عملیات درج تھے جن سے بیماروں کو صحت، رقیب بیویوں سے نجات، جنگ میں فتح، مقدمات میں کامیابی حاصل ہوتی۔ دیوتاؤں کی خوشنودی کا انحصار قربانی پر تھا۔ اور قربانی کی مقبولیت کا انحصار برہمنوں پر۔ کیونکہ صرف وہی لوگ صحیح طور پر قربانی کی رسم ادا کر سکتے تھے ورنہ اگر وہ خود قربانی دیتے اور اس میں ذرا سی غلطی بھی سرزد ہو جاتی تو اس قربانی سے قربانی دینے والوں کو الٹا نقصان پہنچتا اس نظریہ کے اجاگر ہونے سے برہمنوں کو بڑی تقویت پہنچی اسی بنا پر تمام ملکی قوانین سے انہیں مستغنی قرار دے دیا گیا اور غیر مشروط اطاعت اور بے پایاں تعظیم کے وہ مستحق بن گئے رگ وید میں پنجابی معاشرہ کی عکاسی ہوتی تھی لیکن جب آریہ مشرقی علاقوں کی طرف بڑھتے چلے گئے تو اس وقت کے تصنیف شدہ یا نازل شدہ ویدوں میں دو آبہ گنگا جمنا کے حالات کی عکاسی ہونے لگی۔ دراوڑوں کے عقیدہ میں سے جس عقیدہ کو آریوں نے اپنایا اور اس کو بڑی اہمیت دی وہ تاریخ کا عقیدہ تھا۔
(انسائیکلو پیڈیا آف لیونگ فیتھ، صفحہ 220)
پہلے بتایا گیا کہ ہر ایک کو موت آنی ہے خواہ وہ آسمانوں کا مکین کیوں نہ ہو یہ کہا گیا کہ دیوتاؤں کو بھی موت سے مفر نہیں۔ پہلے دیو تا مرتے ہیں ان کی جگہ نئے دیوتا جنم لیتے ہیں ساری مخلوق باری باری پیدا ہوتی ہے اور مرتی ہے پھر پیدا ہوتی ہے اور مرتی ہے یہ چکر ختم نہیں ہوتا۔ اس چکر سے نجات کا ذریعہ ترک دنیا کے بغیر اور کوئی نہیں۔ لوگ شہروں کو اور اپنے بستے گھروں کو چھوڑ کر ویرانوں اور جنگلوں کا رخ کرنے لگے اور خشک ترین زہد کو اپنا یا جانے لگا۔ صدیوں برہمنوں کی برتری اور بالا دستی کا ڈنکا بجتا رہا۔ اور لوگ ان کی غیر مشروط اطاعت کو اپنے لئے سرمایہ سعادت سمجھتے رہے۔
برہمنی اقتدار کے خلاف بغاوت: ان حالات میں ایک سیلانی گروہ پیدا ہو گیا جس کے افراد بھیک مانگ کر اپنا پیٹ بھرتے انہوں نے برہمنوں کی غیر مشروط اطاعت اور قربانی کی رسوم کے بارے میں ویدوں کی تعلیمات کو نظر انداز کر دیا اور اپنی نجات کا راستہ خود تلاش کیا۔ ان میں بدھا اور مہاویرا جیسے مصلح پیدا ہوئے جنہوں نے نئے مذہب کی بنیاد رکھی۔ آخر کار ہندو رشی اس نتیجہ پر پہنچے کہ تمام چیزیں ایک حقیقی وجود میں جذب ہو کر ایک بن جایا کرتی ہیں۔ جب انسان اس حقیقت کو پالیتا ہے تو اس کو موت و حیات کی مسلسل کشمکش سے نجات مل جاتی ہے۔
عقیدہ توحید: ساری کائنات کا سربراہ ایک اور اعلیٰ خدا ہے جس پر کائنات کی بقا اور نشو و نما کا دار و مدار ہے۔ کچھ چھوٹے درجے کے خداؤں کی امداد سے وہ حکومت کر رہا ہے جو در حقیقت اس کی صفات کے مظاہر ہیں یوں ہندو مت بنیادی طور پر دین توحید ہے۔ تعلیم یافتہ ہندوؤں کے نزدیک ان چھوٹے خداؤں کا مقام ایسا ہی ہے جیسے کیتھولک کلیسا میں فرشتوں اور سینٹوں کا، یہ چھوٹے خدا بہت سے معاملات میں آزاد بھی ہیں۔ ان میں باہمی رقابت اور مخالفت بھی ہوتی ہے اور آپس میں دست و گریباں بھی ہوتے ہیں۔مسٹر بوشم لکھتے ہیں کہ ہندوؤں کی توحید اور یہودیوں کی توحید میں واضح اختلاف ہے یہودی ایک خداوند عالم کے بغیر تمام خداؤں کی یکسر نفی کرتے ہیں اور ہندو سب خداؤں کو ایک خدا میں سمیٹ دیتے ہیں، تامل سیوا ازم کی ایک مستند کتاب سے انہوں نے یہ رباعی درج کی ہے۔
What ever god you accept, he (Siva) is that god. Other gods die and are born, and suffer & sin. They cannot reward, but he will see and reward your worship.
ترجمہ: تم کسی دیوتا کو اپنا خدا مان لو۔ وہی شیوا معبود اعلیٰ ہے دوسرے دیوتا مرتے ہیں اور پھر پیدا ہوتے ہیں تکلیف اٹھاتے ہیں گناہ کرتے ہیں وہ تمہیں کوئی انعام نہیں دے سکتے بلکہ شیوا ( معبود اعلی ) ہی تمہارے اعمال کو دیکھے گا اور تمہاری عبادت کا تمہیں انعام دے گا۔
(انسائیکلو پیڈیا آف لیونگ فیتھ، صفحہ 226)
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲