Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
لیٹ فارم: سیرت النبی ﷺ انٹرنیشنل فورم {SIF} عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 66 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: تریسٹھ) {ہندوستان : حصہ تیرہواں}

آریوں کے عقائد و اطوار بھارت میں نقل مکانی سے پہلے اور بعد میں: ہم نے علامہ البیرونی اور دیگر مستند مصنفین کے حوالوں سے یہ تحریر کیا ہے کہ آریہ لوگ توحید کے قائل تھے لیکن یہ وضاحت ضروری ہے کہ کیا انہوں نے ہندوستان پر جب یلغار کی تو اس وقت بھی وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان رکھتے تھے یا اس شاہراہ ہدایت سے ان کے قدم پھسل چکے تھے، نیز یہ بھی بتانا ہے کہ عقیدہ تناسخ پر ان کا ایمان ہندوستان آنے سے پہلے بھی تھا یا یہاں پہنچ کر انہوں نے اس عقیدہ کو اپنایا۔ یہ تو آپ پڑھ چکے کہ وہ اپنے مردوں کو آگ میں جلا دیا کرتے تھے لیکن یہ امر تحقیق طلب ہے کہ کیا ہندوستان آنے سے پہلے بھی ان کے ہاں یہ رسم جاری تھی یا ہندوستان میں بود و باش اختیار کرنے کے بعد انہوں نے اپنے مردوں کو نذر آتش کرنے کا طریقہ اختیار کیا اس امر کی وضاحت تو ہو چکی کہ انہوں نے اپنے معاشرہ کو چار طبقوں میں تقسیم کر دیا اب یہ بتانا مطلوب ہے کہ شودر ، جو کہ سب سے زیادہ بد قسمت اور محروم طبقہ تھاوہ کون لوگ تھے ۔ کیا وہ آریہ قوم کے افراد تھے یا ہندوستان کے اصلی باشندے تھے جن کے علاقوں پر آریوں نے اپنا تسلط قائم کیا اور وہاں کے رہنے والوں کو اپنی غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دیا اور بنیادی انسانی حقوق سے بھی انہیں محروم کر دیا مسٹر ٹریور لنگ (TREVOR LING) نے ان مسائل پر بڑی وضاحت سے بحث کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ” آریوں کی آمد سے پہلے جو لوگ ہندوستان میں آباد تھے وہ بڑے بڑے شہروں کے بجائے چھوٹے چھوٹے دیہات میں رہتے تھے اور ان کا عمومی پیشہ زراعت تھا۔ تاریکی کے اس دور میں زراعت پیشہ لوگ جن معبودوں کی پرستش کرتے تھے وہ مذکر نہیں بلکہ مونث ہوا کرتے دیوتاؤں کے بجائے دیویاں ان کی معبود ہوا کرتیں۔ لیکن آریہ جب ہندوستان میں آئے تو ان کا پیشہ شکار اور گلہ بانی تھا اور وہ خانہ بدوشی کی زندگی بسر کرتے تھے اور ان کے معبود دوسری شکار پیشہ قوموں کی طرح مذکر ہوتے دیویوں کے بجائے وہ دیوتاؤں کی پرستش کرتے اور جب یہ لوگ ہندوستان میں آئے اس وقت ان کے متعدد ایسے دیوتا تھے جن کی یہ پوجا پاٹ کیا کرتے تھے ۔ رگ وید کے حوالہ سے ان کے چند معبودوں کے نام اور ان کی صفات کا ذکر کیا جاتا ہے۔ ان کے ایک دیوتا کا نام “وارونا” تھا۔ یہ ایک آسمانی دیوتا تھا اور قدیم یونان میں اس آسمانی دیوتا کو اوراناس (OURANOS) کہتے تھے ویدوں میں جن دیگر دیوتاؤں کے نام ہیں وہ یونان روم اور ایران میں بھی قریب المخرج ناموں سے موسوم ہیں دایوس (DYAOS) جو کہ بہت سے دیوتاؤں کا باپ تھا۔ یونانی دیو مالا میں اس کو ذیوس (ZEUS) اور رومی زبان میں جیو پیٹر ( JUPITER) کہا جاتا مترا، سورج دیوتا تھا۔ جسے ویدوں کے مذہب میں وارونا کے ساتھ ملحق کیا گیا تھا اس کو یونانی اور ایرانی زبان میں متراس کہا جاتا تھا۔ اس کی پرستش مشرق اوسط اور بحر روم کے علاقوں میں بھی کی جاتی تھی ۔ ایک اور فطری طاقت جس کی پوجا دیوتا کی طرح کی جاتی تھی وہ سوما ( SOMA) تھی جسے پودوں کا بادشاہ کہا جاتا۔ اور جس سے بڑی نشہ آور شراب کشید کی جاتی۔ اور پجاری اس کے نشہ سے مخمور ہو کر پوجا کی رسمیں ادا کرتے ایرانی زبان میں اس کو ھاؤما( HAOMA) کہتے تھے اور وہ لوگ بھی پوجا کے وقت اس کو پی کر مدہوش ہوتے ویدوں میں مذکور ایک معبود کا نام اگنی (AGNI) ہے جس کا معنی آگ ہے لاطینی میں اس کو اگنیس (IGNIS) کہا جاتا۔ اس کے بارے میں ان کا یہ عقیدہ تھا کہ یہ لوگوں کی قربانیوں اور نذرانوں کو معبودوں تک پہنچاتا ہے۔
(ہسٹری آف ریلیجن ایسٹ اینڈ ویسٹ خلاصہ، صفحہ30 تا 33 از ٹریور لنگ)

ان چند مثالوں سے یہ بات واضح ہو گئی کہ جب آریہ کوہ ہندوکش کے درہ کے راستہ سے شمال مغربی ہندوستان میں داخل ہوئے تو اس وقت وہ عقیدہ توحید سے محروم ہو چکے تھے اور متعدد خداؤں کی پوجا کو انہوں نے اپنا شعار بنا لیا تھا، ان کے دیوتاؤں کے ناموں اور اہل یونان ، روم اور ایران کے دیوتاؤں کے ناموں میں گہری مماثلت پائی جاتی ہے لہجہ میں تھوڑا سا تفاوت کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ یہ بعید از امکان نہیں کہ نقل مکانی کر کے ہندوستان کے شمال مغربی حصہ میں آباد ہونے والے آریوں میں خواص اس وقت بھی خداوند وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کرتے ہوں ۔ اور جن خداؤں کا یہاں ذکر کیا گیا ہے عوام کالانعام (چوپایوں کی طرح) نے ان کو اپنا معبود بنا لیا ہو ۔ علامہ البیرونی کی تحقیق بھی اسی نظریہ کی تائید کرتی ہے رگ وید کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان میں آنے سے قبل آریوں کے ہاں اپنے مردوں کو نذر آتش کرنے کا رواج نہیں تھا۔ وہ ان کو دفن کیا کرتے تھے جب وہ ہندوستان میں آئے اور یہاں بسنے والے دراوڑوں کو دیکھا کہ وہ اپنے مردوں کو آگ میں جلاتے ہیں تو انہوں نے ان کی پیروی کرتے ہوئے مردوں کو جلانا شروع کر دیا۔ تناسخ کے عقیدہ کے بارے میں بھی رگ وید کی شہادت سے پتہ چلتا ہے کہ جب آریہ ہندوستان میں آئے تو ان کا یہ عقیدہ نہیں تھا کہ مرنے کے بعد انسانی روح ایک جسم کو چھوڑ کر دوسرے جسم میں داخل ہو جاتی ہے پھر مرنے کے بعد اس دوسرے جسم کو چھوڑ کر کسی نئے جسم کو اپنا مسکن بنا لیتی ہے اور یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ بلکہ آریہ کا اس وقت یہ عقیدہ تھا کہ جو لوگ گناہ کی زندگی بسر کرتے ہیں انہیں مہا دیوتا۔ “وارونا ” زمین کے سب سے نچلے حصہ میں ایک خوفناک جگہ (دوزخ) میں بھیج دیتا ہے اور جو لوگ راستی اور پاکبازی کی زندگی بسر کرتے ہیں وار و نا انہیں فردوس بریں میں بھیج دیتا ہے۔ جہاں وہ ابدی مسرتوں میں اپنی زندگی بسر کرتے ہیں لیکن یہاں آنے کے بعد انہوں نے دراوڑوں کو عقیدہ تناسخ کا قائل پایا تو وہ بھی اس پر ایمان لے آئے۔ کیونکہ چند ایسے اعتراضات تھے جو ان کے ذہنوں کو پریشان رکھتے تھے ان کا تسلی بخش جواب انہیں تناسخ کے عقیدہ میں نظر آیا وہ دیکھتے کہ ایک شخص عزت اور عیش کی زندگی بسر کر رہا ہے اور دوسرا شخص ابتداء سے ہی مصائب و آلام اور غربت و افلاس کے شکنجہ میں کسا ہوا ہے اس کی وہ کوئی توجیہ نہ کر سکتے اس لئے انہوں نے اس عقیدہ کو اپنا کر اپنی ذہنی تشویش کا مداوا کیا۔ آریہ، جن دیوتاؤں کی پوجا کیا کرتے ان کا تعلق آسمانی سیاروں کے ساتھ تھاوہ بعض قدیم خداؤں کو ترک کر دیتے اور بعض کی اہمیت ان کے نزدیک کم ہو جاتی اور بعض کی شان بہت بڑھ جاتی ویدوں کے زمانہ کا سب سے بڑا دیوتا “اندرا” تھا۔ جسے جنگوں کا دیوتا کہا جاتا ممکن ہے اندرا، کوئی بہادر جنگ جو سپاہی ہو اور اس کو اس کے کارہائے نمایاں کے باعث دیوتا کا درجہ دے دیا گیا ہو آریوں کا یہ عقیدہ تھا کہ اندرا دیوتا کی امداد سے ہی انہوں نے دراوڑوں پر غلبہ حاصل کیا ہے اس کا خاص ہتھیار بجلی کا کڑکا تھا۔ یہ جنگ کا دیوتا ہونے کے باوجود بڑا مہربان اور شفیق تھا۔ ان کے نزدیک یہی بادلوں میں مقید پانی کو برسنے کا حکم دیتا ہے اور کھیت اور باغات سیراب و شاداب ہوتے ہیں یہ دیوتا صرف آریوں میں ہی معروف نہ تھا بلکہ بابل کے فاتح کاسٹس (KASSITES) بھی اس کے پرستار تھے۔ الغرض وارونا، مترا ، اندرا، آریوں کے تین سب سے بڑے دیوتا تھے۔
(ہسٹری آف ریلیجن ایسٹ اینڈ ویسٹ خلاصہ، صفحہ 25تا 36)

یہی مصنف بوشم کے حوالہ سے لکھتا ہے کہ وید کے ابتدائی دور میں آریوں کے دو طبقے تھے ایک خاص اور دوسرا عوام ۔ حکمران کو راجہ کہا جاتا۔ جو اپنی اسمبلی کے ارکان کی امداد سے حکومت کے فرائض انجام دیتا لیکن ویدوں کے آخری دور میں سوسائٹی کی تقسیم چار طبقات میں کر دی گئی سب سے اعلیٰ برہمن، پھر کھشتری ، پھر ویش، سب سے نیچے شودر یہ شودر کون تھے ان کے بارے میں ٹریور لکھتا ہے۔

It is usually held that these consisted of those of the indigenous peoples who had been forced to labour for the conquering & territory-occupying Aryans & possibly also the offspring of the mixed marriages between these natives & their Aryans coudпcLoL2

ترجمہ: یعنی عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ شودر طبقہ ان قبائل کے افراد پر مشتمل تھا۔ جو بھارت کے باشندے تھے اور جن کو ان کے فاتحین نے اور ان کے ملک پر قبضہ کرنے والوں نے مجبور کر دیا تھا کہ یہ لوگ ذلیل قسم کی خدمات انجام دیں اور یہ بھی ممکن ہے اس طبقہ میں وہ لوگ بھی شامل ہوں جو آریوں اور دراوڑوں کے درمیان باہمی شادیوں سے پیدا ہوئے۔ ویدوں میں اس تقسیم کا ذکر بتاتا ہے کہ اس تقسیم کی بنیاد ان کا مذہب تھا نیز کچھ برہمن آریوں کی اولاد سے تھے اور کچھ برہمن قبیلے ، ماتا دیوی کے رحم سے پیدا ہوئے تاکہ انسانی شکل میں اس دیوی کی نمائندگی کریں۔
(ہسٹری آف ریلیجن ،صفحہ 53)

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top