یُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِی ٱلسَّمَـٰوَ ٰتِ وَمَا فِی ٱلۡأَرۡضِ ٱلۡمَلِكِ ٱلۡقُدُّوسِ ٱلۡعَزِیزِ ٱلۡحَكِیمِ (١) هُوَ ٱلَّذِی بَعَثَ فِی ٱلۡأُمِّیِّـۧنَ رَسُولࣰا مِّنۡهُمۡ یَتۡلُوا۟ عَلَیۡهِمۡ ءَایَـٰتِهِۦ وَیُزَكِّیهِمۡ وَیُعَلِّمُهُمُ ٱلۡكِتَـٰبَ وَٱلۡحِكۡمَةَ وَإِن كَانُوا۟ مِن قَبۡلُ لَفِی ضَلَـٰلࣲ مُّبِینࣲ (٢) وَّاَخَرِینَ مِنۡهُمۡ لَمَّا یَلۡحَقُوا۟ بِهِمۡۚ وَهُوَ ٱلۡعَزِیزُ ٱلۡحَكِیمُ (٣) ذَ ٰلِكَ فَضۡلُ ٱللَّهِ یُؤۡتِیهِ مَن یَشَاۤءُۚ وَٱللَّهُ ذُو ٱلۡفَضۡلِ ٱلۡعَظِیمِ (٤)
(سُورَةُ الجُمُعَةِ: 1-4)
قَالَ اللهُ تَعَالٰى:
اِنَّ اللهَ وَمَلٰئِكَتَهٗ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ يٰٓاَیُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا○
لَبَيْكَ اَللّٰهُمَّ رَبِّيْ وَسَعْدَيْكَ صَلَوَاتُ اللهِ الْبَرِّ الرَّحِيْمِ وَالْمَلٰئِكَةِ الْمُقَرَّبِيْنَ وَالنَّبِيّٖنَ وَ الصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّهَدَآءِ وَالصَّالِحِيْنَ وَمَا سَبَّحَ لَكَ مِنْ شَىْءٍ يَارَبِّ الْعَلَمِيْنَ عَلٰى سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا وَحَبِيْبِنَا وَشَفِيْعِنَا مُحَمَّدٍ بَحْرِ اَنْوَارِكَ وَمَعْدَنِ اَسْرَارِكَ وَلِسَانِ حُجَّتِكَ وَعُرُوْسِ مَمْلِكَتِكَ وَاِمَامِ حَضْرَتِكَ وَخَاتَمِ الْاَنْبِيَآءِكَ وَعَلٰى اٰلِهِ الطّٰهِرِيْنَ الْمُطَهَّرِيْنَ وَاَزْوَاجِهِ الزَّكِيَّاتِ الطّٰهِرَاتِ اُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِيْنَ وَاَصْحَابِهٖ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِيْنَ وَمَنْ اَحَبَّهٗ وَاتَّبَعَهٗ اِلٰى يَوْمِ الدِّيْنِ صَلٰوةً وَ سَلَامًا وَتَحِيَّةً تَدُوْمُ بِدَوَامِكَ وَتَبْقٰى بِبَقَآءِكَ تُرْضِيْكَ وَ تُرْضِيْهِ وَتَرْضٰى بِهَا عَنَّا يَآ اَرْحَمَ الرّٰحِمِيْنَ: اَمَّابَعْدُ!
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع آسمانی کے بعد پانچ صد اکہتر سال گزر چکے تھے اس قلیل مدت میں آپ علیہ السلام پر نازل شدہ کتاب انجیل مقدس کو بنی اسرائیل کے علماء سوء نے اپنی تحریفات (تبدیلییوں) سے مسخ کر کے رکھ دیا تھا۔ آپ علیہ السلام کے امتی بے شمار فرقوں میں بٹ چکے تھے اور ان میں باہمی منافرت یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ ہر فرقہ دوسرے فرقہ کو ملحد اور کافر کہتا تھا اور صرف اپنے آپ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دین حق کا اجارہ دار سمجھتا تھا۔وحی الہی کا نور تاباں دھندلا گیا تھا۔ انسان کی فریب خوردہ عقل اوہام اور خود ساختہ عقائد کی دلدل میں پھنس چکی تھی، گنتی کے چند خوش نصیب افراد کے علاوہ آپ علیہ السلام کی ساری امت آپ علیہ السلام کے بتائے ہوئے راستہ سے بھٹک گئی تھی، غضب یہ ہوا کہ انہوں نے اس مسیح کو ابن اللہ (خدا کا بیٹا) کہنا شروع کر دیا، جس نے اپنی پیدائش کے چند روز بعد اپنے پنگھوڑے میں جھولتے ہوئے یہ اعلان کیا تھا۔
“اِنِّيْ عَبْدُاللهِ اٰتٰنِيَ الْكِتٰبَ وَجَعَلَنِيْ نَبِيًّا ”
ترجمہ: (یعنی میں خدا نہیں، خدا کا بیٹا نہیں) بلکہ میں تو اس کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی ہے اور مجھے منصب نبوت پر فائز کیا ہے۔ (سورۃالمریم: آیۃ 30)
اپنے اس معجزہ سے انہوں نے اپنی عفت مآب والدہ کی پاکدامنی کی گواہی بھی دے دی اور اس حقیقت کو بھی واشگاف کر دیا کہ میں اللہ تعالی کا بندہ ہوں اور اس کا نبی ہوں، لیکن آپ علیہ السلام کے ماننے والوں نے آپ علیہ السلام کی اس ناقابل تردید شہادت کو مسترد کر دیا، آپ علیہ السلام کو عبداللہ کہنے کے بجائے آپ علیہ السلام پر ابن اللہ ( اللہ کا بیٹا) کی سنگین اور گستاخانہ تہمت لگا کر توحید کے عقیدہ کی نفی کر دی، اس طرح انہوں نے نہ صرف حضرت عیسی علیہ السلام کی بعثت کے مقصد کو بلکہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی آمد کے مقصد عظیم کو ٹھکرا کر رکھ دیا۔ وہ نفوس ذکیہ جو محض اپنے خالق و مالک کی وحدانیت کا پرچم لہرانے کے لئے اور چار دانگ عالم میں اس کی توحید کا ڈنکا بجانے کے لئے تشریف لائے تھے، جب انہیں کو خدا کی الوہیت میں شریک ٹھہرالیا گیا تو لوگ توحید کا سبق سیکھتے تو کس سے؟ اپنے پروردگار کی وحدانیت کے عقیدہ کا چراغ روشن کرتے تو کیونکر۔ اس دور میں سب سے قریبی وحی کی جب یہ حالت ہو گئی تھی تو وحی کے وہ سر چشمے جن کا تعلق ماضی بعید سے تھا اور وہ آسمانی صحیفے جو قدیم زمانہ میں انبیاء کرام علیہم السلام پر نازل کئے گئے تھے، ان میں شرک والحاد کی آلائشیں کہاں تک در نہ آئی ہوں گی، اور کسی حق کے متلاشی کے لئے کیونکر ممکن رہا ہو گا کہ وہ ان کتب آسمانی سے حق کے نور کا اکتساب کر سکے۔
چھٹی صدی عیسوی ایک ایسا دور تھا جبکہ کائنات ارضی کے گوشہ گوشہ میں شرک اور بت پرستی کی بیماری ایک وبا کی صورت اختیار کر چکی تھی اور جب اللہ تعالی کے بندوں کا رشتہ ہی اپنے رب سے ٹوٹ چکا تھا تو ان کی اخلاقی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی زندگی میں جو تباہ کن فسادات رونما ہو چکے ہوں گے ان کا تصور کر کے ہی سعید روحوں پر لرزہ طاری ہو جاتا ہو گا۔
ساری انسانیت کے ہادی و راہبرﷺ قیامت تک آنے والے تمام عصور و دہور کے نیر اعظمﷺ کی تشریف آوری سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد جس کو خلافت ارضی کی خلعت زیبا پہنائی گئی تھی، جس کے سر پر اشرف المخلوقات ہونے کا تاج سجایا گیا تھا، جس کے علم کے سمندر کی بیکرانیوں کے سامنے نوری ملائکہ کو اعتراف عجز کرنا پڑا تھا۔ اور انہیں اس پیکر خاکی کے سامنے سجدہ تعظیم بجا لانے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس آدم علیہ السلام کی اولاد صرف خدا فراموش ہی نہیں بلکہ خدا فراموشی کے باعث خود فراموش بھی بن چکی تھی، انہیں قطعاً یاد نہ رہا تھا کہ وہ خلاق جہاں کی شان تخلیق کا شاہکار ہیں، وہ چشم کائنات کی پتلی ہیں، مہر و ماہ، بحر و بر ، فضائیں اور خلائیں ان کے زیرنگیں ہیں، ہر چیز ان کی خدمت بجالانے کے لئے پیدا کی گئی ہے اور ان کی تخلیق کا مقصد صرف یہ ہے کہ وہ اپنے خالق و مالک کو پہچانیں۔ دل کی گہرائیوں سے اس سے محبت کریں۔ عشق و محبت کے جذبات سے سرشار ہو کر اس کی بارگاہ عظمت و کمال میں بے خودی سے اپنا سر نیاز جھکا دیں، ان کی زبان ہی نہیں ان کا دل بھی “سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلیٰ” کے روح پرور کلمات سے اپنی بندگی، بے چارگی، بیکسی اور بے بسی کا اظہار کر رہا ہو۔ اس کے بجائے انہوں نے ہر چیز کو اپنا خدا، اپنا معبود اور اپنا حاجت روا بنا لیا تھا۔ بے جان پتھروں کے سامنے وہ سجدہ ریز تھے، درختوں کے اردگر د وہ طواف کناں نظر آتے تھے۔ کبھی کسی پہاڑ کی اونچی چوٹی سے مرعوب ہو کر اس کے سامنے بچھے جاتے تھے، کبھی مہر و ماہ کی تابندگیوں کے لئے سراپا عقیدت بن جاتے تھے، کبھی کسی حیوان کے گوبر اور پیشاب میں پاکی کو تلاش کرتے دکھائی دیتے تھے، الغرض انہوں نے عزت و کرامت کی اس خلعت کو تار تار کر دیا تھا۔ اور اپنی بے نظیر اور بے مثال ظاہری اور باطنی خوبیوں کا جنازہ نکال دیا تھا، جو ان کے پیدا کرنے والے نے بڑی فیاضی سے انہیں مرحمت فرمائی تھیں۔ وہ تمام مظاہر فطرت سے ڈرتے بھی تھے اور ان کے سامنے جھکتے بھی تھے، لیکن اگر کسی ہستی کی طرف سے انہوں نے آنکھیں بند کر لی تھیں اور منہ پھیر لیا تھا تو وہ ان کا کریم اور رحیم پرور دگار تھا۔ جس نے ان کو اپنے ان گنت احسانات و کرامات سے نوازا تھا۔ ان حالات کو قرآن کریم نے “وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلَالٍ مُّبِیْنٍ کے جامع الفاظ سے بیان فرمایا ہے، یعنی اس نبی مکرمﷺ کی آمد سے پہلے وہ سب کھلی گمراہی میں بھٹک رہے تھے۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲