Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹

 قسط نمبر 8 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: پنجم) 

(ایران ~ حصہ پنجم)
(ایرانیوں کے ہاں تخلیق کائنات کا تصور)

یہ عالم رنگ و بو کس طرح معرض وجود میں آیا اس کے بارے میں عجیب و غریب نظریات اہل ایران کے ہاں رائج تھے جن کو قصے اور کہانیاں تو کہا جا سکتا ہے لیکن عقل و دانش ان کو حقیقت تسلیم کرنے سے قاصر ہے۔ان کہانیوں کے سلسلہ دراز میں سے ہم ایک نظریہ آپ کے سامنے بیان کرتے ہیں جو ان کے نزدیک سب سے زیادہ مقبول اور مستند خیال کیا جاتا تھا۔ ڈاکٹر آرتھر ایران بعہد ساسانیاں میں لکھتے ہیں۔مسئلہ آفرنیش کائنات کا قصہ جو سب نے لکھا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ خدائے اصلی یعنی زروان ہزار سال تک قربانیاں دیتا رہا تاکہ اس کے ہاں بیٹا پیدا ہو جس کا نام وہ اہورامزدا رکھے لیکن ہزار سال کے بعد اس کے دل میں شک پیدا ہونا شروع ہوا کہ اس کی قربانیاں کارگر نہیں ہوئیں تب اس کے دو بیٹے موجود ہو گئے ایک اہورامزدا جو اس کی قربانیوں کا نتیجہ تھا اور دوسرا اہرمن جو اس کے شک کا نتیجہ تھا۔ زروان نے وعدہ کیا کہ میں دنیا کی بادشاہی اس کو دوں گا جو پہلے میرے سامنے آئے گا، تب اہرمن اس کے سامنے آگیا زروان نے پوچھا تو کون ہے اہرمن نے جواب دیا۔میں تیرا بیٹا ہوں۔زروان نے کہا میرا بیٹا تو معطر اور نورانی ہونا چاہئے اور تو متعفن اور ظلمانی ہے۔تب اہورامزدا معطر اور نورانی جسم کے ساتھ پیدا ہوا۔زروان نے اسے بطور اپنے فرزند کے شناخت کیا اور اس سے کہا کہ اب تک تو میں تیرے لئے قربانیاں دیتا رہا۔اور اب آئندہ چاہیے کہ تو میرے لئے قربانیاں دے اہرمن نے باپ کو اس کا وعدہ یاد دلایا کہ تو نے کہا تھا کہ جو پہلے میرے سامنے آئے گا اس کو بادشاہ بناؤں گا۔زروان نے کہا کہ میں نو ہزار سال کی بادشاہی تجھے دیتا ہوں لیکن اس مدت کے گزرنے کے بعد اہورامزدا اکیلا سلطنت کرے۔
(ایران بعہد ساسانیاں، صفحہ ۱۹۸ – ۱۹۷)

اس نظریہ تخلیق کائنات کے مطالعہ سے اس کی لغویت از خود آشکارا ہو جاتی ہے۔جس پر کسی تبصرہ کی ضرورت نہیں جو اولاد کا محتاج ہو۔ وہ خدا کیونکر ہو سکتا ہے؟ جو خدا ہزار سال تک قربانیاں دیتا رہے اور اس کی امید بر نہ آئے تو ایسے خدا کی خدائی سے کسی مخلوق کی مشکل کیسے آسان ہوگی؟ ہزار سال کی قربانی کے بعد امید بر بھی آئی تو عجیب انداز سے کہ دو بیٹے پیدا ہوئے ایک سراپا خیر اور ایک مجسمہ شر ،اس خدا کی مرضی تو یہ تھی کہ میں دنیا کی مملکت سراپا خیر بیٹے کو دوں گا لیکن مجسمہ شر بیٹا اتنا عیار نکلا کہ اپنے باپ کو بھی پچھاڑ دیا اور اس کو مجبور کر دیا کہ وہ کائنات کی زمام حکومت اس کے حوالے کر دے ناچار اور بے بس زروان کو بادل نخواستہ نو ہزار سال کے لئے اس دنیا کی حکومت اہرمن کے سپرد کرنا پڑی۔یہ طفلانہ قصہ، صرف قصہ ہی نہیں تھا بلکہ عرصہ دراز تک ایک باشوکت و جبروت قوم کا عقیدہ بنارہا جس پر وہ پختگی سے ڈٹی رہی۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top