قسط نمبر24 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: اکیسواں)
(ایران ~ حصہ اکیسواں)
(محرمات کے ساتھ نکاح)
ایران میں محرمات بیٹی، بہن وغیرہ کے ساتھ شادی کو مذہبی طور پر جائز سمجھا جاتا تھا اور اس قسم کی شادی خویذ و گدس کہلاتی تھی۔ایرانیوں کے ہاں اس قسم کی شادی کی رسم بہت دیرینہ ہے چنانچہ ہخامنشیوں کی تاریخ میں ہمیں اس کی کئی مثالیں ملتی ہیں ان کی مذہبی کتابوں میں اس شادی کی بڑی عظمت بیان کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ایسی مزاوجت ( شادی ) پر خدا کی رحمت کا سایہ پڑتا ہے اور شیطان اس سے دور رہتا ہے نرسی برز مہر مفسر کا یہاں تک دعوی ہے کہ خویذ و گدس سے کبائر کا کفارہ ہو جاتا ہے۔ایرانیوں کے ہاں عہد ساسانی میں محرمات کے ساتھ شادی کی رسم کی تصدیق نہ صرف معاصر مورخین مثلا اگا تھیاس وغیرہ کے بیان سے ہوتی ہے بلکہ اس عہد کی تاریخ میں ایسی شادی کی کئی مثالیں بھی موجود ہیں مثلاً بہرام چوبیں نے اور مہران گشنسپ نے اس قسم کی شادیاں کیں۔
(ایران بعہد ساسانیاں، صفحہ ۴۲۹۔ ۴۲۸)
سر پرسی” ہسٹری آف پرشیا” میں لکھتے ہیں کہ بہمن نے اپنی بہن ہمائی سے شادی کی اس کے بطن سے اس کے مرنے کے بعد دارا پیدا ہوا۔
(ہسٹری آف پرشیا، صفحہ ۳۹۱)
لیکن علامہ طبری رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے ہمائی یا ( خمانی ) اس کی بیٹی تھی۔اور وہ اس سے حاملہ ہوئی۔جب بہمن مرنے لگا تو اس کی بیٹی جو اس کی زوجہ بھی تھی نے کہا کہ میرے شکم میں جو بچہ ہے تم اس کی تاج پوشی کرو اور اس کو اپنا وارث تخت بناؤ۔
(طبری، جز دوم، صفحہ ۴)
یزدگرد دوم نے اپنی بیٹی سے شادی کی۔ کافی عرصہ اسے اپنی بیوی بنائے رکھا پھر اس کو قتل کر دیا محرمات کے ساتھ شادی کا رواج اتنا عام تھا کہ وہ ایرانی جو زرتشتی مذہب کے علاوہ کسی اور مذہب سے منسلک تھے انہوں نے بھی اس رواج کو اپنا لیا۔ اور بیٹیوں اور بہنوں کے ساتھ شادیاں رچانا شروع کر دیں حالانکہ ان کے مذہب کی رو سے یہ فعل قطعاً ممنوع اور حرام تھا۔ پروفیسر آرتھر لکھتا ہے: ایران کے عیسائیوں نے زرتشتیوں کی دیکھا دیکھی محرمات کے ساتھ شادی کرنے کی رسم اختیار کرلی تھی۔حالانکہ یہ امر ان کی شریعت کے بالکل خلاف تھا۔
(ایران بعہد ساسانیاں ،صفحہ ۵۷۱)
ایرانیوں کے ہاں ازدواجی زندگی کے بارے میں چند عجیب و غریب معمولات تھے جنہیں کوئی باغیرت اور با حمیت انسان سننے کے لئے بھی شائد تیار نہ ہو۔ لیکن وہ ان معمولات پر کوئی خجالت و شرم محسوس کئے بغیر کھلم کھلا عمل کرتے تھے ۔پروفیسر آرتھر لکھتے ہیں: شوہر مجاز تھا کہ اپنی بیوی یا بیویوں میں سے ایک کو خواہ وہ بیاہتا بیوی ہی کیوں نہ ہو کسی دوسرے شخص کو جو انقلاب روزگار سے محتاج ہو گیا ہو اس غرض کے لئے دے دے کہ وہ اس سے کسب معاش کے کام میں مدد لے اس میں عورت کی رضامندی کا حاصل کرنا ضروری نہیں ہوتا۔ اس عارضی ازدواج میں جو اولاد ہوتی تھی وہ پہلے شوہر کی سمجھی جاتی تھی یہ مفاہمت ایک باضابطہ قانونی اقرار نامے کے ذریعہ سے ہوتی تھی ۔ اس قسم کا معاہدہ انسانی ہمدردی کے ذیل میں شامل کیا جاتا تھا یعنی یہ کہ ایک شخص نے اپنے ایک محتاج ہم مذہب کی مدد کی۔
(ایران بعہد ساسانیاں ،صفحہ ۴۳۶ – ۴۳۷)
البیرونی نے “کتاب الہند” میں ان کے ہاں مروج ازدواج بدل کے ایک قانون کا ذکر کیا ہے جس کو “نامہ تنسر” کے مصنف نے ذکر کیا ہے۔ پروفیسر آرتھر نے البیرونی کی “کتاب الہند” سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے۔ جب ایک شخص مرجائے اور اس کی اولاد نرینہ نہ ہو تو اس کے معاملہ پر غور کیا جائے اور دیکھا جائے کہ اگر اس کی بیوی ہے تو اس کی شادی متوفی کے قریب ترین رشتہ دار کے ساتھ کر دی جائے۔اور اگر بیوی نہیں ہے تو اس کی لڑکی یا اور کوئی قریب کے رشتہ کی عورت کو اس کے قریب ترین رشتہ دار کے ساتھ بیاہ دیا جائے اگر رشتہ کی کوئی عورت نہ مل سکے تو پھر متوفی کے مال سے مہر ادا کر کے کسی غیر عورت کو اس کے رشتہ دار کے ساتھ بیاہ دیا جائے ایسی شادی سے جو لڑ کا ہو گا وہ متوفی کا سمجھا جائے گا جو شخص اس فرض کو ادا کرنے سے غفلت کرے گا وہ بے شمار جانوں کے قتل کرنے کا ذمہ دار ہو گا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے متوفی کی نسل اور نام کو مٹائے گا۔
(ایران بعہد ساسانیاں ،صفحہ ۴۳۸)
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲