Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
قسط نمبر44 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:اکتالیسواں) (سلطنت روم ~ حصہ ہشتم) (اہل روم کے معاشی حالات ~ حصہ اول)
رومن مملکت کے معاشی حالات کا تذکرہ وہاں کے معاشرتی حالات کے ضمن میں آپ پڑھ چکے ہیں مزید وضاحت کے لئے ول ڈیورانٹ کا یہ اقتباس بڑا بصیرت افروز ہے۔ بازنطینی حکومت کا اقتصادی نظام مخلوط قسم کا تھا۔ اس میں نجی کاروبار کی بھی اجازت تھی اور اس میں بعض صنعتوں کو حکومت نے اپنی ملکیت میں بھی لے لیا تھا۔ کسانوں کے حقوقِ ملکیت کے بارے میں جسٹینین کا قانون نافذ تھا اور اس پر عمل ہو رہا تھا جاگیریں وسیع سے وسیع تر ہوتی جارہی تھیں اور کاشتکار مجبورَا بڑے زمینداروں کی غلامی کی زنجیروں میں جکڑے چلے جارہے تھے کیونکہ قحط سالی یا طغیانی کی وجہ سے ان کی زرعی پیداوار بری طرح متاثر ہوتی تھی لیکن ٹیکسوں کا بوجھ جوں کا توں ان پر باقی رہتا تھا۔ پے در پے جنگوں کی وجہ سے عام کاشتکار روز افزوں ٹیکسوں کے بوجھ کو برداشت کرنے سے قاصر تھے صنعتی کار خانوں میں مزدوری کرنے والے لوگ آزاد تھے شام ، مصر، شمالی افریقہ میں مزدوروں کو جبرا کام کرنا پڑتا تھا۔ تاکہ آبپاشی کی بڑی نہروں کو درست رکھا جاسکے۔ حکومت اپنے کارخانوں میں زیادہ تر ایسی چیزیں بناتی جن کی فوج کو ،افسر شاہی کو اور اہل دربار کو ضرورت ہوتی ۔ معدنی دولت حکومت کی ملکیت تھی لیکن پرائیوٹ ادارے دکانوں کو حکومت سے کرایہ پر لے لیتے اور معدنیات نکالتے ۵۵۲ء کے قریب نسطوریا فرقہ کے چند راہب چین سے ریشم کے کیڑوں کے انڈے اور شہتوت کے درختوں کی قلمیں لے آئے ۔ حکومت نے ریشم پیدا کرنے کی صنعت کو اپنی سرپرستی میں لے کر نقطہ عروج تک پہنچایا۔ ریشمی پارچات اور ارغوانی رنگوں کی ساخت صرف حکومت کے تصرف میں تھی ان کے کارخانے شاہی محلات کے اندر ہوتے یا شاہی محلات کے گرد و نواح میں ریشمی ارغوانی رنگ کا لباس پہننے کی اجازت حکومت کے افسرانِ اعلیٰ تک محدود تھی۔ سب سے زیادہ قیمتی ریشمی کپڑا شاہی خاندان کے افراد کے لئے مختص تھا۔ بعض لوگوں نے اپنے ذاتی ذرائع سے ریشم کے کیڑوں کے انڈے حاصل کئے اور ان کی پرورش کر کے ریشم بنایا اور اس سے ریشمی کپڑے بنانے شروع کر دیئے۔ جسٹینین نے اس بلیک مارکیٹ کو ختم کرنے کے لئے ریشم سازی اور ریشم بافی کی صنعتوں سے ساری پابندیاں اٹھا لیں اور عوام کو بھی اجازت دے دی کہ وہ بھی اس میدان میں اپنی بھی صنعتیں لگائیں۔ جسٹینین نے حکومت کے کارخانوں میں تیار شدہ ریشم کے پارچات سے دکانوں کو بھر دیا اور ان کا نرخ بھی بڑی حد تک گرا دیا اور اتنے کم نرخ پر ان کو بازار میں فروخت کرنا شروع کر دیا کہ پرائیویٹ ادارے اس قیمت پر ریشمی کپڑا فروخت نہیں کر سکتے تھے کیونکہ ان کی لاگت بہت زیادہ تھی اس مقابلہ میں ناکام ہونے کے بعد ریشمی کپڑا بنانے والے نجی کار خانے بند ہو گئے۔ جب نجی کار خانوں میں بنا ہوا ریشمی کپڑا مارکیٹ میں آنا بند ہو گیا تو بادشاہ نے حکومت کے کارخانوں میں بنے ہوئے ریشمی پارچات کے نرخوں کو بڑھا دیا اور اس طرح اپنی قوم کے باہمت افراد کی حوصلہ شکنی کر کے ریشم سازی اور ریشم بافی کی صنعت میں اپنی اجارہ داری قائم کرلی۔ (دی ایج آف فیتھ، صفحہ 188-119) “انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا” میں رومن سلطنت کے عنوان کے نیچے حکومت کے مالیاتی نظام پر تبصرہ کرتے ہوئے مقالہ نگار لکھتا ہےکہ اگرچہ عدالتی نظم و نسق بہترین تھا۔ لیکن سلطنت کا مالیاتی نظام بہت ہی خراب تھا۔ اگر حکومت عوامی اقتصادیات کے اصولوں سے آشنا ہوتی تو وہ اپنے باشندوں کی خوشحالی کو مجروح کئے بغیر اپنی آمدنی میں بہت کچھ اضافہ کر سکتی تھی۔ جو ٹیکس لگائے جاتے ان کی شرح بہت زیادہ تھی اور اس کی وصولی میں بڑے تشدد سے کام لیا جاتا تھا۔ تجارت حکومت کے لئے قوت و طاقت کا ایک بہت بڑا منبع تھی لیکن حکومت کاروباری لوگوں کو یوں للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتی کہ اس کا جی چاہتا کہ ان سے زیادہ سے زیادہ مال چھین سکے۔ آمدنی کا اہم ذریعہ زرعی زمینیں تھیں زمین کے مالکوں پر رومن عہدِ حکومت کے سارے دور میں اتنا بوجھ ڈالا جاتا رہا جو بالکل نامناسب تھا۔ لگان زرعی پیداوار کے مطابق وصول نہیں کیا جاتا تھا بلکہ زمین کی مالیت و حیثیت کو پیش نظر رکھ کر وصول کیا جاتا تھا۔ آخری دور میں تو یوں معلوم ہوتا تھا گویا چولہا ٹیکس لگا دیا گیا ہے۔ ان گونا گوں ٹیکسوں کے علاوہ زمین پر ایک نیا ٹیکس اس لئے لگادیا گیا کہ اس ٹیکس سے جو آمدنی ہو اس سے فوج اور شاہی افسروں کی امداد کی جائے یہ جنس کی شکل میں وصول کیا جاتا تھا۔ 🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲
Scroll to Top