ان دو نظموں کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ یونانی دیوتاؤں کے ایک وسیع خاندان سے اپنی مذہبی عقیدت رکھتے تھے دیوتاؤں کا یہ خاندان کوہ اولیمپس کی برف پوش بلندیوں پر سکونت پذیر تھا دیوتاؤں کے اس خاندان کی حکومت زیوس (ZEUS) اور اس کی بیوی ہیرا (HERA) کے ہاتھ میں تھی۔ یہ دیوتا انسانی معاملات میں مداخلت کرتے رہتے تھے مختلف شعبہ ہائے حیات مختلف دیوتاؤں کے سپرد تھے سمندروں کے دیوتا کا نام پوسیڈن (POSEIDON) تھا۔ ہیفا اسٹس (HEPHAISTOS) اسلحہ سازی کا دیوتا تھا۔ سورج کی حرکات کو اپولو (APOLLO) سے منسوب کیا جاتا تھا۔
اپولو دیوتا کی رائے کا ان کے نزدیک خاص احترام تھا جب تک اپولو سے شگون نہ لے لیتے نہ جنگ شروع کرتے نہ آباد کاری کی مہم پر روانہ ہوتے اور نہ کسی اور بڑے کام کی طرف قدم اٹھاتے اپولو کا اصل مرکز ڈلفی میں تھا وہاں ایک پجارن ایک شگاف کے اوپر تپائی رکھ کر بیٹھ جاتی تھی اس کے اندر سے عجیب و غریب بخارات اٹھتے تھے اس پر ایک گونہ بے خودی کی کیفیت طاری ہوتی وہ بڑبڑاتی لیکن الفاظ سمجھ میں نہ آتے اس کے پاس ایک پجاری کھڑا رہتا جو اس کی بات کا ترجمہ نظم میں کر دیتا۔یہی ڈلفی کے مندر کا شگون تھا عموما یہ شگون مبہم انداز میں پیش کیا جاتا۔ حکمت کی دیوی کا نام ایتھینا (ATHENA) تھا یہ انسان کو عقل و دانش سے بہرہ ور کرتی تھی۔جنگ کے دیوتا کا نام ایریز (ARES) تھا اس کی مدد سے جنگ میں فتح نصیب ہوتی تھی۔ محبت کی دیوی کا نام ایفرو ڈائٹ تھا (APHRODITE) اور ان کے نزدیک محبت میں وہی کامیاب ہوتا جس پر یہ مہربان ہوتی خداؤں کا یہ خاندان اخلاق و کردار کے اعتبار سے ہرگز قابل رشک نہ تھا بلکہ یہ سرکش حریفوں اور جھگڑالو افراد کا ایک کنبہ تھا جو چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایک دوسرے سے دست و گریبان رہتے اور فتنہ و فساد کی آگ بھڑکاتے رہتے تھے۔
اہل ایتھنز کی ضعیف الاعتقادی کا ایک عجیب قصہ یونان کے مشہور مورخ ہیروڈوٹس نے بیان کیا ہے وہ ملاحظہ فرمائیے اور دیکھئے کہ علوم فلسفہ اور حکمت میں ید طولیٰ رکھنے والی قوم عقائد کے میدان میں کس قدر طفلانہ سوچ کی مالک تھی۔ اسسٹرٹیس ” ایک ظالم اور بد قماش حکمران کو اہل ایتھنز نے معزول کر دیا اور اسے جلا وطن کر دیا۔ اس جابر حکمران اور اس کے ندیموں نے ایک خوبصورت عورت تلاش کی جس کا قد چھ فٹ تھا اس عورت کو زرہ بکتر پہنا دی اور اسے سکھا دیا کہ رتھ میں سوار ہونے کے بعد اس نے کیا کچھ کرنا ہے۔ چنانچہ وہ رتھ میں بیٹھ کر شہر میں داخل ہو گئی ہرکارے اس سے پیشتر بھیج دیئے گئے تھے کہ وہ یہ منادی کرا دیں، ایتھنز کے شہریو! اسسٹرٹیس کا استقبال دوبارہ دوستانہ انداز میں کرو منروہ دیوی (ایتھینا ) سب سے بڑھ کر اس کی عزت کرتی ہے وہی اسے دوبارہ اپنے شہر میں لائے گی یہ منادی گلی گلی کوچہ کوچہ میں زور شور سے کر دی گئی اور علاقہ میں یہ افواہ پھیلا دی گئی کہ منروہ دیوی خود اپنے چنے ہوئے آدمی کو واپس لا رہی ہے چنانچہ شہر کے لوگ پوری طرح اس کے قائل ہو گئے کہ وہ عورت واقعی دیوی ہے اور اس کے روبرو زمین بوس ہو گئے اور اسسٹرٹیس کو واپس لے لیا گیا۔
ایتھنز کے قریب ایک مکان “ایلیوسس ” (ELEUSIS) تھا جہاں دنتر دیوی کے اعزاز میں خاص رسمیں ادا کی جاتی تھیں یہ زراعت اور بار آوری کی دیوی تھی۔ فصلوں اور زراعت کے اچھا ہونے کا دار و مدار اس دیوی کی نظر عنایت پر تھا۔ اہل یونان دیوتاؤں کے مندروں میں بڑے قیمتی نذرانے پیش کرتے تھے اور منقولہ و غیر منقولہ جائیدادیں ان کے نام وقف کی جاتی تھیں اور جب کوئی خاص مشکل پیش آجاتی تو انسانی قربانی سے بھی دریغ نہ کیا جاتا۔ ایگا میمنوں، ٹرائے کی جنگ میں یونانیوں کا سپہ سالار تھا وہ چاہتا تھا کہ دیوی آرٹو مس اس پر مہربان ہو جائے جس نے غلط سمت میں ہوائیں چلا کر ٹرائے کے خلاف اس کی مہم میں رکاوٹ پیدا کر رکھی تھی چنانچہ اس نے اس دیوی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اپنی جواں سال بیٹی اپنی گنیا کو اس کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھا دیا۔
(تاریخ تہذیب ،حصہ اول ،از کرین برنٹن، و غیره، ترجمہ غلام رسول مہر، صفحہ ۹۳-۹۴)
ہر شہر اور ہر آبادی کا مقامی تہوار تھا لیکن بڑے تہواروں میں سب اہل یونان شریک ہوتے تھے۔ سب سے بڑا تہوار ہر چار سال کے بعد اولمپیا میں منایا جاتا تھا جو مغربی پیلوپونی سکس میں تھا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں زیوس دیوتا کا معبد تھا۔ ان تہواروں میں صرف کھیلوں کے مقابلے ہی نہ ہوتے بلکہ ،موسیقی، شاعری، شہنائی نوازی، حسن اور شراب نوشی کے مقابلے بھی ہوتے۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲