چھٹی صدی عیسوی میں مملکت ایران کا حدود اربعہ: ہم سب سے پہلے یہ گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ چھٹی صدی عیسوی میں مملکت ایران کا حدود اربعہ کیا تھا یہ کن ممالک اور علاقہ جات پر مشتمل تھی۔ چھٹی صدی عیسوی میں مملکت ایران کا حدود اربعہ وہ نہیں تھا، جو آج کے ایران کا ہے موجودہ دور کی بہت سی آزاد مملکتیں اس وقت ایران کا ایک حصہ تھیں ول ڈیورانٹ (WILL DURRANT) اپنی مشہور کتاب (THE AGE OF FAITH) میں رقمطراز ہے۔ تیسری صدی عیسوی کا ایران (چھٹی صدی میں بھی یہی حالات تھے ) مندرجہ ذیل ممالک پر مشتمل تھا افغانستان، بلوچستان، سودیانہ، بیخ اور عراق موجودہ پرشیا جس کو فارس کہتے ہیں، یہ اس وقت کی مملکت کا ایک جنوب مشرقی صوبہ تھا اس کو ایران کہنے کی وجہ یہ تھی کہ یہ آریوں کا ملک تھا۔
(دی ایج آف فیتھ، صفحہ 136)
اردو دائرہ معارف اسلامیہ میں اس کی مزید وضاحت کی گئی ہے۔یہ سلطنت بلوچستان، کچ، مکران، کرمان، غور، بامیان، ہندوکش ،سیستان، زابلستان، خراسان ، ماوراء النہر (موجودہ ازبکستان، تاجکستان اور قازقستان)، رشت، اصفہان، مازندران ،استر آباد، گرگان، فارس، لارستان ، خوزستان، افغانستان ، کابلستان، ،پنجاب، کردستان، شیروان، بابل، موصل اور دیار بکر پر مشتمل تھی۔
(دائرہ معارف اسلامیہ اردو، صفحہ 627، جلد 3، طبع اول 1968ء)
ایران کا لفظ آریانہ سے مشتق ہے۔ جس کا مطلب ہے آریاؤں کی سرزمین اسی دائرہ معارف اسلامیہ میں ہے۔مورخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ نویں صدی قبل مسیح میں آریائی نسل کی ایک شاخ جنوبی روس سے چل کر مغربی ایران کے سلسلہ کوہ زاغروس کے وسطی علاقہ میڈیا میں آباد ہوئی اور اسی جغرافیائی نسبت سے یہ لوگ ” ماد ” کہلائےاسی نسل کی ایک دوسری شاخ مشرقی ایران میں وارد ہوئی یہ لوگ صوبہ کرمان سے ہوتے ہوئے پارس (فارس) آئے اور “پارسی” کہلائے۔
(دائرہ معارف اسلامیہ، اردو صفحہ 635، جلد 3)
موجودہ ایران کا رقبہ چھ لاکھ اٹھائیس ہزار مربع میل ہے۔ آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس وقت کے ایران کا رقبہ کتنا بڑا ہو گا۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲