Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
قسط نمبر43 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:چالیسواں) (سلطنت روم ~ حصہ ہفتم) (اہل روم کے معاشرتی حالات ~ حصہ دوئم)
اس سلسلہ میں ول ڈیورانٹ نے اسکندریہ کی ایک خاتون کا ذکر کیا ہے جس کا نام ہیپاٹیا (HYPATIA) تھا۔ اس نے پہلے فن ریاضی میں کمال حاصل کیا۔ اور علمِ فلکیات میں پٹولیمی(PTOLEMY) نے جو کتاب لکھی تھی اس کی شرح لکھی۔ اس نے علم ریاضی میں گراں بہا تصنیفات تالیف کیں۔ پھر ریاضی سے وہ فلسفہ کے میدان میں پہنچی ۔ افلاطون اور پلوٹینس کے خطوط پر اپنا مستقل نظامِ فکر تعمیر کیا اس زمانہ کا ایک عیسائی مؤرخ سقراط لکھتا ہے کہ وہ اپنے زمانہ کے تمام فلسفیوں سے گوئے سبقت لے گئی تھی اسے اسکندریہ کے عجائب خانہ میں فلسفہ کی “چیئر” تفویض کی گئی تھی۔ اس کے لیکچرز اتنے دلکش اور مدلل ہوتے تھے کہ دور و نزدیک سے سامعین کا ایک جمِ غفیر اس کا لیکچر سننے کے لئے جمع ہو جاتا تھا۔ وہ اپنی پاکبازی اور راست گفتاری کے باعث عالمی سطح پر قابل تعریف اور قابل تکریم بن گئی تھی۔ لیکن اسکندریہ کے عیسائی اس کو حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے کیونکہ وہ صرف خود ہی لوگوں کو راہِ راست سے بھٹکا دینے والی کافرہ نہ تھی بلکہ وہ اورسٹس (ORESTES) کی دوست تھی جو اس شہر کا ایک کٹر کافر تھا۔ جب آرچ بشپ ” سیرئل”(CYRIL) نے اپنے راہبوں کو اس بات پر برانگیختہ کیا کہ وہ اسکندریہ سے یہودیوں کو نکال باہر کریں تو اورسٹس نے بادشاہ کو اس واقعہ کی خفیہ رپورٹ دی۔ بعض راہبوں نے اس پر پتھراؤ کیا اور اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ سیرئل کے معاونین نے ہیپاٹیا پر یہ الزام لگایا کہ اس نے اورسٹس کو مصالحت کرنے سے باز رکھا ہے ایک دن ہیپاٹیا بگھی میں جارہی تھی کہ سیرئل کے چند کٹر پیرو کاروں نے جن کی قیادت سیرئل کے دفتر کا ایک چھوٹا کلرک کر رہا تھا۔ اسے بگھی سے نیچے اتار لیا اسے گھسیٹ کر ایک کلیسا میں لے گئے اس کے کپڑے اتار دیئے گئے ٹائلوں سے اسے اتنا مارا کہ وہ دم توڑ گئی پھر انہوں نے اس کی لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے۔ اور اس کو نذرِ آتش کر دیا لیکن بادشاہ نے ایسے سنگین جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو کوئی سزا نہ دی صرف یہ فرمان نافذ کیا کہ آئندہ راہب لوگ آزادانہ طور پر پبلک میں آ جا نہ سکیں۔ (دی ایج آف فیتھ، خلاصہ، صفحہ 122-123) خوشحال رومی عیش و راحت کی زندگی بسر کیا کرتے وہ دیہات میں اپنے لئے بنگلے تعمیر کرتے ان بنگلوں کی کھڑکیاں شیشے کی ہوتیں پانی کے لئے نل لگا دیئے جاتے اور انہوں نے حرارت پہنچانے کا بھی ایک طریقہ ایجاد کر لیا تھا۔ جس کی وجہ سے نلوں میں گرم ہوا پھرنے لگتی۔ گویا ان کے بنگلے گرمیوں اور سردیوں میں ایک طرح کے ایئر کنڈیشنڈ تھے۔ ان کے کھانے پینے کا شوق جنون کی حد کو پہنچا ہوا تھا چنانچہ وہ ایک مرتبہ کھانا کھا کر عمدا قے کر کے پیٹ خالی کر لیتے تاکہ دوسری مرتبہ لذیذ کھانوں سے لطف اندوز ہو سکیں۔ لیکن کسانوں کے لئے آرام کے سامان نہ ہونے کے برابر تھے شہروں میں عام لوگ لکڑی کی بدنما جھونپڑیوں میں رہتے جو چھ چھ سات سات منزلہ ہوتیں۔ بیروز گاری عام تھی اور حکومت نے کبھی اس سنگین مسئلہ کی طرف توجہ نہ دی اور نہ کبھی اس کا کوئی پائیدار حل سوچا۔ چنانچہ نصف سے زیادہ آبادی خیرات پر گزر اوقات کرتی۔ رومی سلطنت کی تمام ریاستوں میں امیروں اور غریبوں کے درمیان وسیع خلیج حائل تھی۔سلطنت نے رعایا کے لئے بلا امتیاز امیر و غریب حمام اور سرکس مہیا کر دیئے تھے جنہیں دیکھنے کے لئے اور ان میں غسل کرنے کے لئے کوئی ٹکٹ خریدنا نہیں پڑتا تھا۔ سرکس میں جنگی رتھوں کی دوڑ اور جنگی مقابلے ہوتے۔ دوڑوں میں شرطیں بھی لگائی جاتیں۔ فقراء اپنی قسمت کو سنوارنے کے لئے ان شرطوں میں بڑھ چڑھ کر بازی لگاتے اور اس طرح ان کی جیب میں جو کچھ ہوتا وہ بھی ختم ہو جاتا۔ 🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲
Scroll to Top