Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹

قسط نمبر22 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:انیسواں )

(ایران ~ حصہ انیسواں)
(ایران کے معاشرتی حالات)

اس سے پہلے ہم ایران کے مذہبی اور سیاسی حالات کا اختصار کے ساتھ تذکرہ کر چکے ہیں اب ہم آپ کو ان کی معاشرتی زندگی سے بھی روشناس کرانا چاہتے ہیں تاکہ قارئین پر واضح ہوجائے کہ ان کے باہمی تعلقات کی نوعیت کیا تھی؟ اور حقوق و فرائض کے تعین کی بنیادیں کیا تھیں؟ اس عہد کے ایران کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے یہ چیز بالکل آشکارا ہو جاتی ہے کہ ایرانی معاشرہ مختلف طبقات میں منقسم تھا۔ اور ان کے درمیان ایسی محکم حد بندیاں تھیں جن کو وہ بآسانی عبور نہیں کر سکتے تھے معاشرہ کے جس طبقہ میں وہ پیدا ہوئے عمر بھر وہ اس طبقہ کے ساتھ وابستہ رہنے پر مجبور تھے ان کو اپنا آبائی پیشہ ترک کرنے کی بھی آزادی نہ تھی۔اعلیٰ طبقوں کو چند ایسی مراعات حاصل تھیں جن کے بارے میں ادنی طبقات کے لوگ سوچ بھی نہیں سکتے تھے مذہبی راہنماؤں نے ان کو اپنی موجودہ حالت پر شاکر رہنے کے لئے یہ درس دیا تھا کہ ان کے آباء و اجداد نے جو پیشہ اختیار کیا تھا اپنی مرضی سے نہیں کیا تھا، بلکہ خدا کی طرف سے ان کو اس پیشہ کو اپنانے کا حکم ملا تھا۔ جو پیشہ خدائی فرمان کے تحت ان کے آباء و اجداد نے اختیار کیا تھا۔اب ان کی اولاد کو یہ حق حاصل نہیں کہ اسے چھوڑ کر کوئی اور پیشہ اختیار کر سکیں چنانچہ پروفیسر آرتھر لکھتے ہیں۔ ایرانی سوسائٹی کی عمارت دو ستونوں پر قائم تھی ایک نسب اور دوسری جائیداد۔ طبقہ نجباء ( شرفاء ) اور عوام الناس کے درمیان نہایت محکم حدود قائم تھیں دونوں کی ہر چیز میں امتیاز تھا سواری میں اور لباس میں مکان میں باغ میں عورت اور خدمت گاروں میں “نامہ تنسر” میں ایک اور مقام پر اسی امتیاز کی توضیح یوں کی گئی ہے۔ نجباء کو عام پیشہ ور اور ملازمین سے جو چیز ممتاز کرتی ہے وہ ان کی سواری کی شان و شوکت اور ان کے لباس اور ساز و سامان کی چمک دمک ہے۔ان کی عورتیں اپنے ریشمی لباس سے پہچانی جاتی ہیں ان کے سر بفلک محل، ان کی پوشاک، ان کے جوتے اور ان کے پاجامے، ان کی ٹوپیاں اور ان کا شکار اور ان کے دوسرے امیرانہ شوق۔ غرض ہر چیز ان کی عالی نسبی کا پتہ دیتی ہے۔
(ایران بعہد ساسانیاں، صفحہ 417-418)

سوسائٹی میں ہر شخص کے لئے ایک معین مقام تھا ساسانی سیاست کا یہ ایک محکم اصول تھا کہ کوئی شخص اپنے اس رتبے سے بلند تر رتبے کا ہرگز خواہاں نہ ہو۔ جو اس کو پیدائشی طور پر از روئے نسب حاصل ہے اعلیٰ طبقہ کے افراد کو خصوصی مراعات حاصل تھیں ان کی عالی نسبی اور ان کی غیر منقولہ جائیدادوں کو نقصان پہنچانے یا ان کو اپنے نام منتقل کرانے کی کسی کو اجازت نہ تھی بلکہ ان چیزوں کی حفاظت ان سے زیادہ حکومت کی ذمہ داری تھی۔ پروفیسر آرتھر کے قول کے مطابق امراء و نجباء کے خاندانوں کی پاکی نسب اور ان کی غیر منقولہ جائیدادوں کی محافظت قانون کے ذمہ تھی۔ شاہان ایران کو اپنی نسبی بلندی کا اس قدر شدید احساس تھا کہ وہ صرف اپنی رعایا سے ہی اپنے آپ کو بالاتر نہیں سمجھتے تھے بلکہ دوسرے آزاد ممالک کے حکمرانوں کو بھی اپنا ہم پلہ خیال نہ کرتے تھے بلکہ انہیں اپنے سے فروتر سمجھتے تھے۔ اس لئے وہ دوسرے ممالک کے بادشاہوں کی بیٹیوں کے ساتھ نکاح نہ کرتے اور انہیں اپنے حرم کی زینت نہ بناتے ۔ کسی غیر ایرانی بادشاہ کو بھی اپنی بیٹیوں کا رشتہ دینے سے احتراز کرتے۔ عوام الناس کو یہ اجازت بھی نہ تھی کہ وہ طبقہ امراء میں کسی کی غیر منقولہ جائیداد مکان یا زمین قیمت ادا کر کے بھی خرید سکیں۔شاہان ایران حکومت کا کوئی کام کسی نیچ ذات کے آدمی کو سپرد نہیں کرتے تھے فردوسی نے “شاہنامہ” میں ایک واقعہ لکھا ہے۔ جس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے وہ لکھتا ہے۔ نوشیروان کو ایک دفعہ رومیوں کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے روپے کی ضرورت پڑی ایک مالدار موچی بادشاہ کو ایک بڑی رقم دینے پر آمادہ ہوا ساسانی عہد کی روایات کی رو سے موچی کی ذات بہت پست تھی تاہم جنگی ضرورت کے باعث معاملہ طے ہو گیا اور موچی نے روپوں کے توڑے اونٹوں پر لدوا کر بھجوا دیئے بادشاہ اس کی خدمت گزاری پر بہت خوش ہوا اور وعدہ کیا کہ روپیہ واپس ادا کرتے وقت اصل زر کے علاوہ ایک معقول رقم زائد اس کو دی جائے گی۔لیکن موچی کے دل میں ایک اور امنگ چٹکیاں لینے لگی اس نے خواہش ظاہر کی کہ میری اس خدمت کے عوض بادشاہ اس کے بیٹے کو اپنے دبیروں کے زمرہ میں داخل کر لے نوشیروان نے یہ سنتے ہی اشرفیوں سے لدے ہوئے اونٹ واپس بھجوا دیئے اور جن خیالات کا اظہار کیا ان کو فردوسی نے اپنے ان اشعار میں نظم کیا ہے۔

چُو فرزند مابر نشیند بہ تخت
دبیرے ببایدش پیروز بخت
کہ جب ہمارا بیٹا تخت نشین ہو گا تو اسے ایسے دبیر یعنی وزیر کی ضرورت ہو گی جو نیک بخت ہو ۔

ہنر یابد از مردِ موز آفروش
سپارد بدو چشم بینا و گوش
وہ جب جوتے بیچنے والے شخص سے مشورہ کرے گا تو اپنی دیکھنے والی آنکھیں اور سننے والے کان اس کے سپرد کر دے گا۔

بدست خردمند مردِ نژاد
نماند جز از حسرت و سرد باد
ایسے مشیر اور وزیر کی وجہ سے عقلمند انسان کو حسرت و نامرادی کے بغیر اور کچھ حاصل نہ ہو گا۔

برما پسِ مرگ نفریس بود
چُو آئینِ این روز گار ایں بود
اگر میں نے اس دستور کو یعنی نیچ ذات کے لوگوں کو دبیر بنانا منظور کر لیا تو میرے مرنے کے بعد لوگ مجھ پر نفریں بھیجیں گے۔

عام طور پر نچلے طبقہ کا کوئی فرد اعلیٰ طبقہ میں منتقل نہیں ہو سکتا تھا لیکن اگر کسی شخص میں کوئی غیر معمولی جوہر ہوتا تو اس کا طرح طرح سے امتحان لیا جاتا، اگر وہ ان آزمائشوں میں پورا اترتا تو پھر اس کو اعلیٰ طبقہ میں داخل ہونے کی اجازت ملتی۔ لیکن عملاً شاذ و نادر ہی ایسا ہوتا تھا۔ جن امتیازات کا ابھی تک ذکر ہوا ہے یہ ان طبقات میں پائے جاتے تھے جو ایرانی قومیت کے حامل تھے اور یہاں کے اصلی باشندے تھے۔ لیکن ایرانیوں اور غیر ایرانیوں کے درمیان بھی امتیازات کی ایک دیوار کھڑی کر دی گئی تھی اس کی کیفیت ہم کو ان نسخوں کے خلاصہ سے معلوم ہوتی ہے جو ضائع ہو چکے ہیں مثلاً جب کبھی ایرانیوں کو کفار کے ساتھ کھانے میں شریک ہونے کا موقع ملا تو اس کے لئے خاص مذہبی احکام و قواعد تھے جن کی بجا آوری اور پابندی ضروری تھی غیر ایرانی ملازموں کی تنخواہ اس ملازم کی تنخواہ سے مختلف ہوتی تھی جو زرتشتی مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top