قسط نمبر 64 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: اکسٹھ)
یہ واقعہ علامہ البیرونی نے ان کی معتبر کتابوں سے نقل کیا ہے۔ لکھتے ہیں نارائن، ان قوتوں میں سے ایک قوت کا نام ہے جو بڑی اعلیٰ و ارفع ہے اور اس کا مقصد حیات عالم انسانیت سے مصائب و آلام کو دور کرنا ہے اس کے درمیان اور علت اولی کے درمیان کوئی فرق نہیں یہ مختلف جسموں ، رنگوں اور روپوں میں اس دنیا میں ظاہر ہوتا ہے جب چھٹا منتر ختم ہوا تو وہ اس دنیا میں ظہور پذیر ہوا اور بل بن بیروچن کی سلطنت کو تباہ و برباد کر دیا۔بل نے زہرہ کو اپنا وزیر بنایا تھا۔ اور ساری دنیا کا وہ بادشاہ تھا۔ اس نے اپنی ماں سے جب اپنے باپ کے زمانہ کی باتیں سنیں کیونکہ اس وقت لوگ پہلے “کرتیا جوک ” کے قریب تھے اور آرام و راحت کی زندگی بسر کر رہے تھے ہر قسم کی مشکلات ان سے دور تھیں ماں سے اپنے باپ کے زمانہ کی باتیں سن کر اس میں رشک کا جذبہ پیدا ہوا اور اپنے باپ سے بڑھ کر اپنی رعایا کو آرام پہنچانے کے لئے اس نے کمر ہمت باندھی لوگوں کو عطیات دینے ، ان میں مال و دولت بانٹنے، قربانیاں پیش کرنے اور دوسرے نیک کاموں میں وہ شب و روز مصروف رہنے لگا۔
قریب تھا کہ وہ سو قربانیوں کا نصاب پورا کر کے جنت اور سارے جہاں کی بادشاہی کا مستحق قرار پائے جب وہ ننانوے قربانیاں دے چکا تو عالم بالا کے مکینوں میں خوف و ہراس پیدا ہو گیا انہیں یہ خدشہ محسوس ہونے لگا کہ بل کی ان کوششوں اور قربانیوں کے باعث لوگ ان کی طرف سے مستغنی ہو جائیں گے اور ان کی پوجا پاٹ سے منہ موڑ لیں گے تو وہ سارے نارائن کی خدمت میں حاضر ہوئے اس سے درخواست کی کہ وہ انہیں اس خوفناک انجام سے بچائے نارائن نے ان کی درخواست قبول کر لی اور”بامن ” نامی ایک انسان کے روپ میں زمین پر اترا۔ اس کے دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں اپنے دوسرے بدن کی نسبت سے چھوٹے تھے جس کی وجہ سے وہ بڑا بد صورت نظر آنے لگا تھا۔ وہ بل بادشاہ کے پاس آیا اس وقت وہ قربانی ادا کرنے میں مصروف تھا۔ برہمن آگ کے اردگرد حلقہ باندھے کھڑے تھے زہرہ، اس کی وزیر اس کے سامنے تھی خزانوں کے منہ کھول دیئے گئے تھے جواہرات کے ڈھیر لگا دیئے گئے تھے تاکہ تحائف اور صدقات کی شکل میں لوگوں میں تقسیم کئے جائیں۔ یہ نو وارد “بامن” برہمنوں کے ساتھ وید پڑھنے میں مصروف ہو گیا اس نے سام وید کے شلوک پڑھنے شروع کئے اس کے لحن میں بلا کا سوز تھا اس نے بادشاہ کو مست کر دیا بادشاہ اس کی وید خوانی سے اتنا خوش ہوا کہ اس نے دل میں طے کر لیا کہ یہ شخص جو کہے گا جو کچھ مانگے گا وہ اس کو ضرور دے گا۔
زہرہ نے سرگوشی کرتے ہوئے اسے کہا کہ یہ نارائن ہے تیرا ملک چھینے کے لئے یہاں آیا ہے اس سے ہوشیار رہنا۔ لیکن بادشاہ فرط مسرت میں اتنا مگن تھا کہ اس نے اپنے وزیر کی بات کی طرف توجہ نہ دی اور بامن سے پوچھا کہ مانگ جو مانگنا چاہتے ہو۔ اس نے کہا میں تیری سلطنت میں سے چار قدم زمین چاہتا ہوں تاکہ وہاں زندگی بسر کر سکوں اس نے کہا جہاں سے چاہو جس طرح چاہو پسند کر لو بامن نے پانی طلب کیا تاکہ اپنے ہاتھوں پر ڈال کر اس وعدہ کی پختگی کا اعلان کرے زہرہ کوزے میں داخل ہو گئی۔ وہ اپنے بادشاہ سے اتنی محبت کرتی تھی کہ وہ اس کو ہر قیمت پر نارائن کے قریب سے بچانا چاہتی تھی، اس نے لوٹے میں داخل ہو کر ٹوٹی کو بند کر دیا تاکہ اس سے پانی نہ نکلے جب پانی نہ نکلا تو بادشاہ نے غصے سے تھپڑ مارا اور زہرہ کی ایک آنکھ ضائع کر دی اور اسے پرے دھکیل دیا۔ پھر پانی بہنے لگا اس وقت بامن نے ایک قدم مشرق کی طرف ایک مغرب کی طرف ایک قدم اوپر کی طرف رکھا جنت تک پہنچ گیا چوتھا قدم رکھنے کے لئے دنیا میں جگہ ہی نہ رہی بامن نے بادشاہ کو وعدہ ایفا نہ کرنے کی پاداش میں اپنا غلام بنا لیا اور اپنا پاؤں اس کے کندھوں کے درمیان رکھا جو اس بات کی علامت تھی کہ اب بل بادشاہ نہیں رہا۔ بلکہ بامن کا غلام بن گیا ہے اس کو لے کر وہ زمین میں دھنس گیا یہاں تک کہ پاتال تک پہنچا۔ اس سے سارے جہانوں کی حکومت چھین لی اور حکومت پلندر کے حوالے کر دی۔
جس قوم کی اعلیٰ روحانی قوتوں کا یہ کردار ہو اس کے عام لوگوں کی اخلاقی گراوٹ کا با آسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ان کی ایک مذہبی کتاب “بشن دھرم” میں ایک عجیب واقعہ مذکور ہے۔ چاند کو “شش لکش” کہا جاتا ہے کیونکہ اس کے کُرے کا جِرم (جسم) پانی سے ہے اس لئے اس میں زمین کی تصویر جھلکتی ہے زمین میں پہاڑ ہیں، درخت ہیں جن کی شکلیں مختلف ہیں ان سے خرگوش کی شکل بنتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ چاند کی منزلوں میں پرجابت کی بیٹیاں ہیں اور چاند نے ان کے ساتھ بیاہ کیا ہوا ہے پھر ان میں سے روہنی کے ساتھ اس کو حد درجہ عشق ہو گیا اور وہ اس کو دوسری تمام بہنوں پر جو اس کی بیویاں تھیں ترجیح دینے لگا اس کی بہنوں نے مارے غیرت کے اپنے باپ سے چاند کی شکایت کی۔ پر جابت نے بڑی کوشش کی کہ ان کے درمیان صلح ہو جائے اس نے انہیں وعظ و نصیحت بھی کی لیکن سب بے سود ۔ اس وقت پرجابت نے چاند پر لعنت بھیجی جس سے اس کے چہرے پر برص کے داغ ظاہر ہوئے اس سے چاند کو بڑی ندامت ہوئی۔ اپنے گناہ سے توبہ کرنے کے لئے پرجابت کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے کہا میری ایک ہی بات ہوتی ہے میں اس سے رجوع نہیں کرتا۔ لیکن میں تیری رسوائی کو نصف مہینہ ڈھانپ دیا کروں گا۔ چاند نے کہا میرے سابقہ گناہ کا اثر کس طرح محو ہو گا اس نے کہا کہ اس کی صورت یہ ہے کہ تم اپنے سامنے ” مہادیو” کے لنگ ( عضو تناسل ) کی صورت نصب کرو اور اس کی پوجا پاٹ کیا کرو۔ پس چاند نے ایسا ہی کیا اور یہ سومنات میں ایک پتھر کی صورت میں موجود تھا سوم کے معنی چاند اور نات کے معنی صاحب ہے۔
سلطان محمود غزنوی رحمۃ اللہ علیہ نے 426ھ میں سومنات کو فتح کیا اس کے اوپر والے حصہ کو توڑ دیا اس کو اس کی طلائی زنجیروں اور مرصع تاج کے ساتھ غزنی لے آیا اس کا کچھ حصہ ایک میدان میں پھینک دیا گیا، جہاں چکر سوام، کا بت جو تھانیسر سے محمود لایا تھا۔ پڑا ہوا ہے اور اس کا کچھ حصہ غزنی کی جامع مسجد کے دروازے کے باہر رکھا ہوا ہے لوگ اپنے پاؤں سے لگی ہوئی مٹی اور کیچڑ اس سے صاف کرتے ہیں۔ مہادیو کے لنگ کا مجسمہ سومنات کے مندر میں نصب تھا، ہر روز دریائے گنگا سے پانی کا بھرا ہوا ایک گھڑا اور کشمیر کے لالہ زاروں سے تازہ پھولوں کی ایک ٹوکری اس پر نچھاور کی جاتی۔ اس بت کے بارے میں ان کا عقیدہ یہ تھا کہ وہ تمام دیرینہ بیماریوں سے شفا دیتا ہے اور لاعلاج امراض کو دور کرتا ہے وغیرہ وغیرہ سومنات کے علاوہ ہندوستان کے جنوب مغربی علاقوں خصوصاً بلاد سندھ میں یہ مجسمہ مندروں میں پوجا کے لئے بکثرت رکھا جاتا تھا۔
(تحقیق ماللہند، صفحہ 430)
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲