قسط نمبر47 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: چوالیسواں) (مصر ~ حصہ اول) (اہل مصر کا سیاسی نظام)
اہل مصر: مورخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ تمام تہذیبوں سے قدیم ترین تہذیب اہل مصر کی ہے۔ یہی وہ ملک ہے جہاں تمدن و ثقافت کی پہلی شمع روشن ہوئی۔ مصریوں کے آثار قدیمہ ان کی فنی تعمیر میں مہارت اور علم ریاضی میں ید طولیٰ رکھنے کے شاہد عادل ہیں دریائے نیل ان کے لئے قدرت کا ایک عظیم عطیہ تھا۔ جس کھیت میں اس کا پانی پہنچ جاتا وہاں فصلیں لہلہانے لگتیں اور اس کی سرسبزی و شادابی کو دیکھ کر دلوں کو مسرت اور آنکھوں کو تازگی نصیب ہوتی۔ کسی صحراء کے ٹکڑے کو ہموار کر دیا جائے اور ہموار کرنے کے بعد اسے نیل کے پانی سے سیراب کر دیا جائے تو قلیل وقت میں وہ ٹکڑا دنیا کے بہترین زرخیز میدانوں سے بھی سبقت لے جاتا۔ ان کے مندروں کی عمارتیں جن میں سے اکثر اب بھی اپنی اصلی صورت میں موجود ہیں اور اپنے بنانے والوں کی فن تعمیر میں مہارت کاملہ پر گواہی دے رہی ہیں وہ حکیمانہ اقوال جو اس زمانہ سے منقول ہیں ان کی حکمت اور دانائی کی غمازی کر رہے ہیں ایک دو آپ بھی ملاحظہ فرمائیے۔
1) اگر تم خوشحالی میں خوش خصال پائے جاؤ تو جب حالات ناگفتہ بہ ہوں تم ان کو برداشت کرنے کے قابل پائے جاؤ گے۔
2) دوسرا قول ہے تمہارا دل تو سمندر کی طرح علم و دانائی سے لبریز ہونا چاہئے لیکن تمہاری زبان تمہارے قابو میں ہونی چاہئے۔
3) دور اندیش آدمی کامیاب ہو جاتا ہے اور محتاط آدمی کی تعریف کی جاتی ہے۔
اس طرح کے بہت سے حکیمانہ اقوال ہیں جن سے ان کی عقل مندی اور دانشوری کا پتہ چلتا ہے۔یہ جملے اپنی حکیمانہ معنویت کے باعث اہمیت و افادیت میں ان کے اہراموں سے کم درجہ نہیں رکھتے لیکن جب ہم ان کے مذہبی عقائد کے بارے میں قدیم کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو حیرت زدہ ہو کر سوچنے لگتے ہیں کیا اتنے بڑے ریاضی دان، فن تعمیر کے اتنے بڑے ماہر اور ایسے پُراز حکمت بول بولنے والے دانشور ایسے احمقانہ اور طفلانہ عقائد کے حامل ہو سکتے ہیں؟
اہل مصر کا سیاسی نظام: قدیم مصر میں بادشاہ کو “الہ” یعنی دیوتا تصور کیا جاتا تھا اور اس طرح اس کے لئے آداب پرستش بجا لائے جاتے تھے۔ بادشاہ ہی بڑے خداؤں کے سامنے اپنی رعایا کی نمائندگی کرتا ان کی طرف سے قربانیاں پیش کرتا تھا اور مذہبی تقریبات میں صدارت کے فرائض انجام دیتا تھا۔ بادشاہ کے تعلقات مذہبی پیشواؤں کے ساتھ عام طور پر دوستانہ ہوتے تھے، لیکن جب کبھی کوئی کمزور بادشاه تخت نشین ہوتا تو مذہبی پیشوا اس کی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کے شاہی اختیارات خود سنبھال لیتے تھے، ایرانیوں کی طرح قدیم مصر میں بھی بادشاہ کے متعلق یہی عقیدہ تھا کہ یہ خدائی خاندان کا ایک فرد ہے۔ اور خود خدا نے ہی اس کو یہ حکومت اور سلطنت بخشی ہے۔ اس طرح رعایا کے دلوں میں اس کی ہیبت اور رعب قائم تھا اور اس کے خلاف بغاوت کرنے کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ یہ بغاوت بادشاہ کے خلاف نہ تھی بلکہ اس خدا کے خلاف تھی جس نے اس کو تخت سلطانی پر متمکن کیا تھا۔ اس لئے اگرچہ مشورہ کے لئے علماء و فضلاء اور سن رسیدہ تجربہ کار لوگوں کی ایک مجلس مشاورت موجود ہوتی تھی لیکن بادشاہ ان کے مشورے اور فیصلہ کا پابند نہ تھا۔
(قصۃ الحضارة : صفحہ 94، جلد اول، جزء ثانی)
وزیر اعظم، بادشاہ کے برعکس ایک انسان ہی ہوتا تھا۔ مصر دو حصوں میں منقسم تھا مصر بالا اور مصر زیریں۔ ہر ایک کا وزیر الگ الگ ہوتا تھا۔ مصر زیریں کی حکومت کے دفاتر ممفس میں تھے وزارت بھی موروثی چیز تھی۔ لیکن طاقتور بادشاہ وزیروں کو اتنا بااختیار نہیں ہونے دیتے تھے کہ وہ بادشاہ کے لئے وبال جان ثابت ہوں ۔ وزیر کے اختیارات پر قیود و شرائط عائد کی جاتی تھیں اور سرکاری خزانے کا خزانچی مالیاتی معاملات میں آزاد ہوتا تھا ان کے علاوہ بادشاہ کے دیگر خصوصی آفیسرز ہوتے تھے جن کو بادشاہ کے کان اور آنکھ کہا جاتا۔ ان کا فرض یہ تھا کہ وہ وزیر اعظم اور خزانچی کی کارکردگیوں کی نگرانی کریں وزیر اعظم انتظامی امور کے علاوہ عدلیہ کا چیف جسٹس بھی ہوتا تھا۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲