قسط نمبر 10 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ :ہفتم
(ایران ~ حصہ ہفتم)
(اہل پرتھیا)
ایران کے دوسرے صوبوں کی طرح پارتھیا بھی ایک صوبہ تھا، جو موجودہ خراسان اور استر آباد کی حدود میں واقع تھا۔ یہ ایرانی مملکت کا ایک حصہ تھا، جہاں کے رہنے والے شہنشاہ ایران کو خراج اور دیگر مالی واجبات ادا کرتے تھے۔یہاں تک کہ ان میں ایک باہمت فرد ارساس (ARSACES) پیدا ہوا جس نے اپنی قائدانہ اور فاتحانہ صلاحیتوں کے باعث ایک آزاد مملکت کی بنیاد رکھی جس کا آغاز سن دو سو انچاس قبل مسیح میں ہوا اس کی فتوحات کا سلسلہ وسیع سے وسیع تر ہوتا گیا یہاں تک کہ اس نے رومی حکمران کے ساتھ جنگ کر کے رومی مملکت کا کافی حصہ زیر نگین کر لیا، یہاں کے باشندے کسی خاص مذہب کے پابند نہ تھے دیگر جاہل اقوام کی طرح وہ اپنے اسلاف کے مجسموں کی پرستش کرتے یہ لوگ بھی ہخامنشیوں کی طرح زرتشتیوں سے متاثر ہوئے اور دو ابدی خداؤں اہورامزدا اور اہرمن کو ماننے لگے۔ اہورامزدا نیکی کا خدا تھا اور اہرمن شر کا دیوتا۔ سورج اور چاند کی پرستش بھی شروع ہو گئی ان کے علاوہ اور بھی بہت سے معبود تھے جن کی پارتھیا کے لوگ پوجا کیا کرتے عام لوگ صرف اپنے آباء واجداد کی پوجا کو ہی کافی سمجھتے ہر اعلیٰ و ادنی خاندان کا یہ از حد قیمتی سرمایہ تھا۔ جادو اور منتروں پر ان کا راسخ اعتقاد تھا۔
(ہسٹری آف پرشیا، صفحہ 369)
ول ڈیورانٹ لکھتا ہے۔ ان کے ہاں جادو اور علم نجوم پر بڑا بھروسہ کیا جاتا اور کوئی اہم کام شروع کرنے سے پہلے نجومیوں سے مشورہ کرنا وہ ضروری سمجھتے ۔
( ایج آف فیتھ، صفحہ 139)
جب سورج طلوع ہوتا وہ اس وقت اس کی عبادت کرتے اور سورج کو اس کے پرانے نام ” مترا” سے یاد کیا جاتا۔
(ہسٹری آف پرشیا ،صفحہ 369)
آہستہ آہستہ پارتھیا کے باشندوں نے آگ کی پرستش کی طرف سے بے اعتنائی برتنا شروع کر دی سورج چاند و غیرہ اشیاء کی پوجا میں یہاں تک محو ہو گئے کہ بڑے بڑے آتش کدے ٹھنڈے ہو گئے اور وہ قربان گاہیں جہاں آگ کے لئے قربانیاں دی جاتی تھیں وہ ویران اور سنسان ہو گئیں۔ (ہسٹری آف پرشیا، صفحہ 396-397)
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲