Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
قسط نمبر 63 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: سرسٹھ)

اہل یونان کی طرح اہل ہند بھی اس بات کے قائل نہ تھے کہ انہیں قوانین اور نظم حیات بذریعہ انبیاء اللہ تعالٰی کی طرف سے دیئے جاتے ہیں جن کی پابندی ان پر لازمی ہوتی ہے بلکہ یونانیوں کی طرح اہل ہند کا بھی یہ نظریہ تھا کہ قانون بنانے کا کام علماء اور حکماء سے وابستہ ہے اس لئے وہ قانون سازی کے معاملہ میں صرف اپنے علماء کی طرف ہی رجوع کیا کرتے تھے۔ اہل ہند کے نزدیک اس بات میں کوئی قباحت نہ تھی کہ پہلے احکام کو منسوخ کر کے ان کی بجائے نئے احکام کا نفاذ عمل میں لایا جائے وہ کہتے ہیں کہ بہت سی چیزیں باس دیو کی آمد سے قبل مباح تھے بعد میں انہیں حرام کر دیا گیا ان میں سے ایک گائے کا گوشت ہے جو پہلے حلال تھا سب لوگ اسے کھاتے تھے پھر لوگوں کی طبیعتوں میں تبدیلی آگئی گائے کا گوشت بہت گراں ہو گیا تو اس کو حرام کر دیا گیا۔ نکاح اور نسب کے مسائل میں بھی اس قسم کی تبدیلیاں لائی گئیں اس وقت تین صورتیں تھیں ایک تو یہ کہ میاں بیوی کی مقاربت سے اولاد پیدا ہو ۔ جیسا کہ آج کل بھی ہے۔ دوسری یہ کہ باپ جب اپنی لڑکی کو بیاہ دیتا تو اس وقت شرط لگاتا کہ اس کے بطن سے جو بچہ پیدا ہوگا وہ اس کے داماد کا بیٹا نہیں کہلائے گا بلکہ اس کا بیٹا کہلائے گا۔ تیسرا یہ کہ کوئی اجنبی کسی کی بیوی کے ساتھ بدکاری کرے اس سے جو اولاد پیدا ہو اس کا باپ وہ اجنبی شخص نہیں ہوگا بلکہ اس عورت کا خاوند ہوگا۔ کیونکہ زمین خاوند کی ہے اور اس اجنبی نے زمین کے مالک کی اجازت سے اس میں بیج ڈالا ہے اس وجہ سے پانڈو کو شنتن کا بیٹا کہا جاتا ہے شنتن بادشاہ تھا اس کے لئے کسی رشی نے بد دعا کی جس کے باعث بیوی سے صحبت پر وہ قادر نہ رہا۔ اس نے بیاس بن پراشر کو کہا کہ وہ اس کی بیویوں کے ساتھ مقاربت کرے اور ان کے شکم سے اس کے لئے بیٹا پیدا کرے شنتن کی پہلی بیوی جب بیاس کے پاس گئی تو اس پر کپکپی طاری ہو گئی اسے جو حمل ہوا اس سے جو بچہ پیدا ہوا وہ بیمار اور زرد رو تھا، پھر اس نے اپنی دوسری رانی بیاس کے پاس بھیجی اس نے شرم و حیا کے باعث اپنا منہ اپنی اوڑھنی سے ڈھانپ لیا۔ اس طرح جو بچہ پیدا ہوا وہ مادر زاد اندھا تھا۔ آخر اس نے اپنی تیسری رانی کو اس کی طرف بھیجا اور اسے وصیت کی کہ نہ اس سے ڈرے اور نہ اس سے حیا کرے چنانچہ وہ ہنستی مسکراتی اس کے پاس گئی اور اس سے پانڈو پیدا ہوا جو پرلے درجے کا عیار اور عیاش تھا۔ پانڈو کے چار بیٹوں کی ایک مشترکہ بیوی تھی جو ایک ایک ماہ ہر ایک کے پاس ٹھہرتی تھی۔
(تحقیق ماللہند، البیرونی، صفحہ 82)

ان کی مذہبی کتابوں میں مرقوم ہے کہ پراشر جو بڑا زاہد اور پارسا تھا وہ ایک دفعہ ایک کشتی میں سوار ہوا اس کشتی میں ملاح کی بیٹی تھی جس نے اس کا دل لوٹ لیا اس نے اس کو بہلانا پھسلانا شروع کیا تاکہ وہ اسے اپنے ساتھ مجامعت کرنے دے یہاں تک کہ وہ اس کام کے لئے رضا مند ہو گئی جب کشتی کنارے پر آگئی تو وہاں کوئی اوٹ نہیں تھی جس کے پردے میں وہ یہ قبیح حرکت کر سکیں اسی وقت ایک بیل اگی اور اتنی بڑھی کہ اس کے پردے میں انہوں نے مجامعت کی اور اس زنا سے جو بچہ پیدا ہوا اس کا نام بیاس ہے جو ان کے نامور فضلاء میں شمار ہوتا ہے۔جس کا تذکرہ ابھی آپ نے پڑھا ہے۔
(تحقیق ماللہند، البیرونی، صفحہ 82)

کشمیر کے پہاڑی علاقہ میں اب بھی ہندوؤں میں اس قسم کی رسوا کن شادیاں ہوتی رہتی ہیں متعدد بھائی ایک بیوی کو اپنی زوجہ بنائے رکھتے ہیں اسلام سے قبل عرب میں بھی اس قسم کی ذلت آمیز شادیوں کا رواج تھا۔ ان میں سے ایک رواج بدال ہوتا تھا کہ ایک شخص اپنی بیوی کو کسی شخص کے لئے مباح کر دیتا اور وہ شخص اس کے بدلے میں اپنی بیوی کو اجازت دے دیتا کہ وہ اس شخص کے ساتھ ہم بستری کرے۔
(تحقیق ماللہند، البیرونی، صفحہ 83)

علامہ البیرونی نے ان کی بعض عجیب و غریب عادات کا بھی ذکر کیا ہے ان کے مطالعہ سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ مسلمانوں کے ہندوستان میں آنے سے قبل ان کے رہن سہن کے طور طریقے کیسے تھے اور ان کا تمدن کتنا گھٹیا تھا۔ وہ اپنے جسم کے بال نہیں مونڈا کرتے تھے ان کے ہاں موسم گرما میں سخت گرمی ہوتی تھی اس لئے وہ ننگے رہتے تھے اور سر کو سورج کی تمازت سے بچانے کے لئے اپنے بڑھے ہوئے غیر تراشیدہ بالوں سے ڈھانپا کرتے تھے وہ اپنی ڈاڑھی کو مینڈھیوں میں گوندھ دیا کرتے تھے ۔ وہ اپنے زیر ناف بالوں کو بھی صاف نہیں کرتے تھے۔ وہ اپنے ناخنوں کو کاٹتے نہیں تھے اور اپنے بڑھے ہوئے ناخنوں پر اترایا کرتے تھے اور اس کو اپنی امارت و ثروت کی علامت قرار دیتے کہ وہ اپنے ہاتھوں سے کوئی کام نہیں کرتے ان کے سارے کام ان کے نوکر اور نوکرانیاں کیا کرتی ہیں نیز ان بڑھے ہوئے ناخنوں سے وہ اپنے سروں کو کھجلایا کرتے تھے اور ان کے بالوں میں جوؤں کا جو لشکر رواں دواں رہتا تھا ان کو پکڑنے کے لئے استعمال کرتے تھے وہ ایسے چبوترے پر بیٹھ کر کھانا کھاتے جو گائے کے گوبر سے لیپا گیا ہوتا تھا مل کر کھانا کھانے کا ان کے ہاں رواج نہ تھا، ہر شخص علیحدہ علیحدہ کھانا کھاتا اور جو بچ جاتا اس کو استعمال کرنا ممنوع تھا اس کو باہر پھینک دیا جاتا تھا۔ عام طور پر مٹی کے بنے ہوئے برتن ہی ان کے ہاں استعمال ہوتے تھے کھانے کے بعد برتنوں کو بھی وہ باہر پھینکوا دیا کرتے تھے پان کا استعمال عام تھا۔ جس سے ان کے دانت سرخ رہتے تھے وہ نہار منہ شراب پیا کرتے اور اس کے بعد کھانا تناول کرتے وہ گائے کا پیشاب بھی چسکیاں لے کر پیتے لیکن اس کا گوشت نہ کھاتے وہ سرنگی کی تاروں پر مضراب لگا کر مختلف راگ پیدا کرتے وہ دھوتیاں باندھا کرتے اور بعض لوگ صرف دو انگلی چوڑی لنگوٹی سے سترِ عورت کا تکلف کرتے بعض لوگ ایسی شلوار پہنتے جس میں کثیر مقدار روئی ٹھونسی ہوتی جس سے کئی لحاف بنائے جا سکتے ازار بند پیچھے کی طرف باندھتے ان کے بٹن بھی پشت کی جانب ہوتے ان کی واسکٹیں بھی عجیب قسم کی ہوتیں بہت تنگ جرابیں پہنتے جن کو پہننا ایک مسئلہ بن جاتا غسل میں پہلے پاؤں دھوتے پھر منہ دھوتے۔ وہ پہلے غسل کرتے پھر صحبت کرتے کھیتی باڑی کا کام ان کی عورتیں کرتیں مرد آرام سے گھر بیٹھے رہتے ان کے مرد عورتوں کی طرح رنگین لباس پہنتے نیز کانوں میں بالیاں، ہاتھوں میں کڑے، انگلیوں میں سونے کی انگوٹھیاں پہنتے اور بغیر زین کے گھوڑوں پر سواری کرتے اپنی کمر کے ساتھ ایک خنجر آویزاں رکھتے اور گلے میں زنّار پہنتے ولادت کے وقت عورتوں کی بجائے مرد دایا کا کام کرتے۔ وہ چھوٹے بیٹے کو بڑے بیٹے پر فضیلت دیتے وہ گھروں میں داخل ہوتے وقت اجازت طلب نہ کرتے۔ لیکن گھروں سے نکلتے وقت اذن لیتے مجالس میں چوکڑی مار کر بیٹھتے اور بزرگوں کے سامنے ناک صاف کرنے میں کوئی کراہت محسوس نہ کرتے بھری محفل میں جوئیں مارنے سے احتراز نہ کرتے زور سے ریح خارج کرنے کو باعث برکت سمجھتے ۔ لیکن چھینک مارنے کو بُرا شگون قرار دیتے پارچہ باف کو گندا اور حجام کو نظیف خیال کرتے جو شخص ان کے کہنے پر ان کو پانی میں غرق کر دیتا یا آگ میں جلا دیتا اس کو اجرت ادا کرتے یہ ان کے اطوار اور طرز بود و باش کی نامکمل فہرست ہے اس کی مکمل فہرست میں ایسی چیزیں بھی ہیں جن کے ذکر سے حیا مانع ہے اور نہ اس موضوع اور پلیٹ فارم کی شان کے شایان ہے کہ ایسی حیا سوز باتوں کا ذکر کیا جائے ۔ جادو کا رواج ان کے ہاں عام تھا اور اس پر انہیں شدت سے اعتقاد تھا۔ یہ سب حالات علامہ البیرونی کی کتاب تحقیق ماللہند سے ماخوذ ہیں۔
(تحقیق ماللہند ،خلاصہ ،صفحہ 144تا 146)

امور مملکت میں ان کے بادشاہ اور ان کے رشی جس قسم کی عیارانہ حرکتیں کرتے اور مذموم کردار کا مظاہرہ کرتے اس کو واضح کرنے کے لئے ایک مثال پر اکتفا کریں گے جس سے حقیقت حال واضح ہو جائے گی۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top