Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
قسط نمبر57 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: چوّن) (ہندوستان ~ حصہ چہارم) (البیرونی کی تحقیق کے مطابق اہل ہند کے عقائد ~ حصہ دوئم)
شرک کی آمیزش اور عوام کا عقیدہ: اس کے بعد البیرونی اس کی تفصیل بیان کرتے ہیں کہ کس طرح یہ عقیدہ شرک سے آلودہ ہوا اور کس طرح خدائے واحد پر ایمان لانے والی قوم ہزاروں بلکہ لاکھوں خداؤں کو پوجنے لگی۔ اس ضمن میں وہ لکھتے ہیں:یونان کے قدیم علماء کا یہ عقیدہ تھا کہ حقیقت میں صفت وجود سے متصف ایک ہی ذات ہے اور وہ ہے علۃ اولی کیونکہ یہی بالذات تمام ماسوا سے مستغنی اور بے نیاز ہے اور باقی جملہ معلولات اپنے وجود اپنی نشوونما اور اپنی بقا میں علت اولی ( خالق اکبر) کے محتاج ہیں اس لئے ان کا وجود حقیقی نہیں بلکہ خیالی اور تصوراتی ہے ہندوستان کے حکماء کا بھی تقریباً یہی نظریہ تھا۔ ان میں سے بعض حکماء کی یہ رائے ہے کہ جو معلول یعنی موجود حتی الامکان کوشش کرتا ہے کہ وہ علت اولی ( خالق حقیقی ) کا زیادہ سے زیادہ قرب حاصل کرے اور اس کی صفات سے اپنے آپ کو متصف کرے جب بدن کا حجاب اٹھ جاتا ہے اور روح یا نفس قَفَسِ عُنُصُری (جسم انسانی) سے رہائی حاصل کر لیتا ہے تو اس کو شئون کائنات میں تصرف کرنے کی قدرت حاصل ہو جاتی ہے اس بناء پر اسے الہ کہا جانے لگتا ہے۔ اس کے نام پر ہیکل تعمیر کئے جاتے ہیں اور اس کے لئے طرح طرح کی قربانیاں دی جاتی ہیں۔ چنانچہ جالینوس اپنی کتاب “الحث على تعلم الصناعات” میں لکھتا ہے کہ جو لوگ فضلیت علم سے متصف ہوتے ہیں اور اس بنا پر کوئی مفید ایجاد کرتے ہیں ان کو انسانیت کی اس خدمت کے باعث الہ بننے کا اعزاز حاصل ہو جاتا ہے جس طرح اسقلیبوس دیوینوسیوس اگرچہ انسان تھے ۔ لیکن اس بنا پر ان کو الوہیت کے مقام پر فائز کر دیا گیا کہ ان میں سے ایک نے علم طب لوگوں کو سکھایا اور دوسرے نے انگوروں سے مختلف قسم کی شرابیں کشید کرنے کی صنعت سے لوگوں کو شناسا کیا۔ افلاطون اپنی کتاب “طیماؤس”میں لکھتا ہے کہ: اللہ تعالی نے ان اہل کمال و فضیلت انسانوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ تم اپنی ذات کے اعتبار سے تو فساد سے منزہ نہیں ہو۔ لیکن مرنے کے بعد تمہیں فنا اور فساد سے دوچار نہیں ہونا پڑے گا کیونکہ جب میں نے تمہیں ان عظیم صلاحیتوں اور قابلیتوں کے ساتھ پیدا کیا تو اس وقت میں نے اپنی مرضی سے تمہارے ساتھ یہ پختہ وعدہ کیا تھا کہ تمہیں فنا ہونے اور فساد پذیر ہونے سے بچاؤں گا۔یہی افلاطون دوسرے موقع پر لکھتا ہے: اللہ تعالی عدد کے اعتبار سے یکتا ہے متعدد الٰہوں کا کوئی وجود نہیں ہے۔ توحید کے اس عقیدہ کو تسلیم کرنے کے باوجود وہ لوگ ہر اس چیز کو جو جلیل القدر ہو اور شرافت و کرامت کی حامل ہو۔ اس کے لئے الہ کا لفظ بے دریغ استعمال کرتے تھے یہاں تک کہ فلک بوس پہاڑوں ، بڑے بڑے دریاؤں اور اس قسم کی دوسری چیزوں کو بھی الہ کہا جانے لگا تھا۔ بعد میں آنے والے لوگوں نے اس تفریق کو فراموش کر دیا اور ان ارباب فضل و کمال کو اور دوسری نفع بخش اور فائدہ مند اشیاء کو حقیقی خدا سمجھ لیا گیا اور خداوند وحدہ لا شریک کی بجائے ان کی عبادت کی جانے لگی۔ اور ان کے نام کی قربانیاں دی جانے لگیں۔ (تحقیق ماللہند ،خلاصہ، صفحہ 24-38) ہندوستان کی عوام کا عقیدہ: لیکن ہندوستان کے عوام کا یہ عقیدہ نہیں وہ ہر اس چیز کو جو جلیل القدر ہو اور شریف ہو اس کو الٰہ کہہ دیتے ہیں حتی کہ کئی پہاڑوں کو، دریاؤں کو، سمندروں کو ، اسی طرح کئی درختوں اور جانوروں کو بھی وہ صفت الوہیت سے متصف مانتے ہیں یہاں تک ہم نے علامہ البیرونی کی تصنیف سے استفادہ کرتے ہوئے اللہ تعالی کی ذات کے بارے میں عوام و خواص کا عقیدہ بیان کیا۔ اب ہم دوسرے مراجع کی طرف رجوع کرتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ انہوں نے اس کے بارے میں کیا لکھا ہے ورلڈ سویلائزیشن کے دونوں مصنف رقمطراز ہیں: قدیم آریاؤں کے مذہب کے متعلق ویدوں میں یہ مرقوم ہے کہ آریہ اصنام پرست تھے اور ان کے دیوتا فطری قوتیں تھیں یا وہ اشخاص جو ان قوتوں کا پیکر سمجھے جاتے تھے ۔ ابتداء میں نہ بت بنائے جاتے تھے اور نہ ان کے لئے بت خانے تعمیر کئے جاتے دیوتاؤں کی بڑی پوجا یہ تھی کہ ان کے لئے قربانیاں دی جاتیں۔ عام طور پر اناج اور دودھ کی قربانیاں پیش کی جاتی تھیں۔ گوشت ان دیوتاؤں کی قربان گاہ پر جلایا جاتا۔ پجاری خود بھی اسے کھاتے تھے اور اس کا بہترین حصہ پروہت کو دیا جاتا تھا سب سے مرغوب ترین قربانی “سومہ” تھی یہ ایک شراب ہے جو ایک پہاڑی بوٹی سے کشید کی جاتی ہے۔ وہ اپنے دیوتاؤں کو بہت عالی شان اور طاقت ور سمجھتے اور جب تک وہ “سومہ” ( شراب ) پیتے رہتے وہ فنا اور موت سے بلند تر تھے قربانی دینے والے یہ خیال کرتے کہ جن دیوتاؤں کے لئے انہوں نے قربانیاں دی ہیں وہ انہیں اس کے عوض بڑے بڑے انعامات سے بہرہ ور کر کے مالا مال کر دیں گے۔ ان کی تجارت اور کاروبار نفع بخش ہو گا ان کے کھیت عمدہ اور کثیر غلہ پیدا کریں گے ان کے جانور افزائش نسل کے باعث تعداد میں بڑھ جائیں گے۔ اور ان کے گھروں میں دودھ اور مکھن کی نہریں جاری ہو جائیں گی۔ بڑی عیاری سے یہ عقیدہ آہستہ آہستہ ان کے ذہنوں میں نقش کر دیا گیا کہ قربانی کا اجر اور اس کے عوض میں ان کی مادی خوشحالی فقط اس وقت انہیں نصیب ہوگی جب کہ ان کی قربانی ہر قسم کی غلطیوں اور خطاؤں سے مبرا ہو ۔ اور اگر انہوں نے ذرا سی بھی غلطی کی تو نہ صرف یہ کہ وہ اس کے اجر سے محروم ہوں گے بلکہ الٹا ان کے دیوتا ان سے خفا ہوں گے اور غضبناک دیوتا ان کی جان ، اولاد اور مال کو تہس نہس کر کے رکھ دے گا اس لئے دیوتاؤں کی ناراضگی کے خطرہ سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ وہ خود یہ قربانیاں پیش نہ کریں بلکہ برہمن جو قربانی کے آداب و شرائط سے پوری طرح آگاہ ہیں ان کو کہا جائے کہ وہ ان کی قربانیاں ان کے دیوتاؤں کے حضور پیش کریں آہستہ آہستہ قربانی پیش کرنے کا اختیار برہمنوں تک محدود ہو گیا اور جس نے ان کو ہندو معاشرہ میں ایک بلند پایہ مقام عطا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے لئے معاشی خوشحالی کے دروازے کھول دیئے۔ (ورلڈ سویلائزیشن، صفحہ 81) 🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲
Scroll to Top