قسط نمبر49 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: چھیالیسواں) (مصر ~ حصہ سوئم) (اہل مصر کے مذہبی عقائد ~ حصہ دوئم)
ایلفرڈ ٹیلر اپنی کتاب “عربوں کی فتح مصر” میں لکھتا ہے۔ اگرچہ مصر کے قبطیوں نے عیسائیت کو قبول کر لیا تھا اس کے باوجود رومی حکمرانوں اور مصری محکوموں کے تعلقات ہمیشہ کشیدہ رہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ رومی اور مصری الگ الگ نسل سے تعلق رکھتے تھے اور نسلی تعصب باہمی فتنہ و فساد کا سبب بنتا رہتا تھا۔ لیکن اس سے بھی زیادہ موثر وجہ یہ تھی کہ اگرچہ قبطیوں نے عیسائی مذہب اختیار کر لیا تھا لیکن رومی عیسائیوں اور قبطی عیسائیوں کے فرقے الگ الگ تھے رومی عیسائیوں نے کالیسڈن کی کونسل کے اس فیصلہ کو تسلیم کر لیا تھا کہ مسیح کی ذات میں دو فطرتیں ہیں ایک الہی اور ایک انسانی یہ فرقہ ملکانیہ کہلاتا تھا۔ لیکن مصریوں نے کالیسڈن کی اس قرار داد کو منظور کرنے سے انکار کر دیا وہ اس بات کے قائل تھے کہ مسیح ایک فطرت کے حامل ہیں یہ عقیدہ رکھنے والے فرقہ کو نسطوری فرقہ کہا جاتا تھا۔ اس اختلاف کے باعث مسیحیت کے ان دو فرقوں میں شدید بغض و عناد پیدا ہو گیا ان میں اکثر فتنہ و فساد کے شعلے بھڑکتے رہتے۔ باہمی خونریزی کے باعث خون کے دریا بہنے لگتے۔ ایک مذہبی اجتماع میں اسکندریہ کے اسقف اعظم نے جو رومی حکومت کا نمائندہ اور ملکانیہ فرقہ کا پیرو کار تھا اس نے قربان گاہ پر کھڑے ہو کر نسطوری فرقہ (مصری قبطی) کے قتل عام کا اعلان کیا۔ اس کے حامیوں نے گرجا میں عبادت کے لئے جمع ہونے والے قبطیوں کو اس بیدردی سے تہ تیغ کرنا شروع کیا کہ کشتوں کے پشتے لگ گئے اور خون کی ندیاں رواں ہو گئیں اور گرجے کی عمارت ان کے خون سے رنگین ہو گئی۔
(عربوں کی فتح مصر از ایلفرڈ ٹیلر، خلاصہ صفحہ 29-30)
یہی مصنف اس کے بعد لکھتا ہے۔ کہ ساتویں صدی عیسوی میں مصر میں ملک کے سیاسی حالات کی حیثیت ثانوی تھی اولیں حیثیت مذہب کو حاصل تھی۔ وطن کی محبت عملی طور پر مفقود تھی۔ قومی اور نسلی مخالفتوں کی وجہ بھی مذہبی نظریات میں تضاد تھا۔ لوگ مذہبی موضوعات پر جب بحث کرتے تو فرط غضب سے آپے سے باہر ہو جاتے ۔ اور بالکل غیر اہم اور حقیر موضوعات پر لڑتے ہوئے اپنی جان کی بازی لگا دیتے۔ ان کے نزدیک الہیات کے مسائل میں معمولی سا اختلاف بھی ناقابل برداشت تھا۔
(عربوں کی فتح مصر، صفحہ 45)
مصری لوگ جب بتوں کے پجاری تھے تو اس وقت بلیوں ، مگرمچھوں کے پجاری اس بات پر لڑا کرتے تھے کہ ان دو چیزوں میں سے کون سی چیز زیادہ پرستش کے لائق ہے اور اب انہوں نے عیسائیت کی فرقہ بازیوں اور فروعی اختلافات کو باہمی جنگ و جدال کا ذریعہ بنا لیا۔ کالسیڈن کی کونسل 451ء میں منعقد ہوئی جس نے عیسائی ملت کو کبھی نہ متحد ہونے والے دو فرقوں میں بانٹ دیا۔ ایک فرقہ مسیح کے لئے ایک فطرت کا قائل تھا اور مصر کے قبطی اسی عقیدہ کو اپنائے ہوئے تھے اور دوسرا گروہ مسیح کے لئے دو فطرتوں کا قائل تھا۔ کیونکہ رومی حکمران ملکانیہ فرقہ سے متعلق تھے اس لئے وہ مصریوں کے عقیدہ کو ایک بدعت سمجھتے تھے اور اس کی بیخ کنی کو اپنا فرض گردانتے تھے۔ ٹائیسں ٹاس نے (NICETAS) 699ء میں جب اسکندریہ پر قبضہ کیا تو اس نے وہاں کے اسقف اعظم کو جو ملکانیہ فرقہ سے تعلق رکھتا تھا قتل کر دیا۔ ہرقل نے جب قسطنطنیہ کی شاہی قوت کے خلاف بغاوت کی تو مصر کے قبطی پر امید ہو گئے کہ ہرقل کے بر سراقتدار آنے سے ان کے مصائب و آلام کا خاتمہ ہو جائے گا جو فوکس کے عہد حکومت میں انہیں برداشت کرنا پڑے قبطیوں کا اسقف جو پانچ سال کے لئے اس منصب پر مقرر ہوا تھا اس بغاوت کے دوران اس نے مزید چھ سال کے لئے یہ عہدہ حاصل کر لیا، حکومت بیشک ملکانیہ فرقہ کے ہاتھ میں تھی لیکن مصریوں نے اپنے کئی کلیسا تعمیر کر لئے اور اپنی بہت سی خانقاہیں قائم کر لیں۔ ہرقل بر سراقتدار آنے کے بعد قبطیوں کی ہمدردیاں حاصل کرنا چاہتا تھا لیکن بازنطینیہ کے دربار نے مصر کے لئے مالکانیہ فرقہ کا ایک اسقف مقرر کر دیا۔
خسرو پرویز نے بیت المقدس کو تخت و تاراج کرنے کے بعد فلسطین اور شام پر قبضہ کر لیا اور اس کے بعد اسکندریہ پر حملہ کیا۔ اس وقت اسکندریہ کی مضبوط فصیل کے سارے دروازے بند کر دیئے گئے۔ لیکن ایک نہر جس کے ذریعہ سے اہل اسکندریہ کو گندم سے لدے ہوئے جہاز پہنچتے تھے اور جس کے ذریعہ اہل اسکندریہ کو پینے کا پانی فراہم ہوتا تھا وہ جنوبی دیوار کے نیچے نیچے بہتی تھی اور پھر شہر کے اندر داخل ہو جاتی تھی۔ اس کے دائیں حصہ سے گزرتے ہوئے سمندر میں جاگرتی تھی۔ شہر میں اس کے داخل ہونے کے دونوں راستے مضبوطی سے بند کر دیئے گئے۔ لیکن اس کا وہ دروازہ جہاں سے وہ سمندر میں گرتی تھی وہ کھلا رہتا تھا۔ اس کے ذریعہ غلہ سے لدی ہوئی کشتیاں شہر میں پہنچتیں اور ماہی گیر مچھلیوں سے بھری ہوئی اپنی کشتیوں کو لے کر یہاں پہنچ جاتے تھے اس کا یہ دروازہ بندرگاہ کے بالکل متصل تھا اور رومیوں کے جنگی جہاز بلاخوف و خطر آتے جاتے تھے پھر اس کی حفاظت کے بارے میں بھی چنداں اہتمام نہیں کیا جاتا تھا۔ پیٹر نامی ایک غیر ملکی شخص اسکندریہ میں تحصیل علم کے لئے آیا ہوا تھا۔ اس نے غداری کرتے ہوئے ایرانیوں کو اس مخفی راستہ کا سراغ بتا دیا، پیٹر کے بارے میں جو معلومات حاصل ہوئی ہیں وہ یہ ہیں کہ وہ یہودی تھا۔ اس کی غداری کے باعث اسکندریہ پر ایرانیوں نے قبضہ کر لیا تو شہر میں قتل عام شروع ہوا۔
(عربوں کی فتح مصر ،خلاصہ صفحہ 74-76)
اور بے شمار لوگ تہ تیغ کر دیئے گئے اور جو زندہ بچ گئے ان میں سے بعض کو جنگی قیدی بنا کر ایران بھیج دیا گیا جن لوگوں کے ساتھ ایرانی فوجیوں نے کوئی تعرض نہیں کیا ان میں سے ایک قبطیوں کا اسقف تھا۔ جس کا نام انڈر ونیکس تھا اور قبطیوں کے وہ لوگ جو پہلی حکومت میں ملازم تھے ایرانیوں نے ان کو اپنے عہدوں پر برقرار رکھا اور کاروبار حکومت میں ان کا تعاون حاصل کیا۔ اگرچہ بعض مورخین نے لکھا ہے کہ مصریوں نے ایرانی فاتحین کو اپنا نجات دہندہ سجھتے ہوئے ان کا پُرجوش خیر مقدم کیا۔ لیکن بٹلر نے اس چیز کو تسلیم نہیں کیا۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲