قسط نمبر25 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:بائیسواں)
(ایران ~ حصہ بائیسواں)
(ایران کے معاشرتی حالات ~ حصہ اول)
معاشی لحاظ سے ایرانی سوسائٹی دو طبقوں میں بٹی ہوئی تھی ایک طبقہ امراء، رؤساء، جاگیر داروں اور فوجی جرنیلوں کا مراعات یافتہ طبقہ تھا۔ ان کے پاس سارے ملک کی دولت سمٹ کر آگئی تھی۔ دوسرا طبقہ ایران کے عوام کا تھا جن میں کاشتکار ، مزدور ، دستکار اور دوسرے لوگ تھے ان کے مقدر میں مفلسی اور محرومی لکھ دی گئی تھی۔وہ صدیوں سے اس چکی میں پس رہے تھے دور دور تک اس مصیبت سے رہائی پانے کی انہیں کوئی امید کی کرن نظر نہیں آرہی تھی۔اگرچہ ایران کا سرکاری مذہب زرتشتی تھا اور اس کی شریعت میں زراعت کو بڑی اہمیت حاصل تھی ان کی مذہبی کتابوں میں اس پیشہ کو عظیم اور مقدس پیشہ کہا گیا تھا۔ اس کے باوجود کسانوں کی حالت قابل رحم تھی۔ وہ اپنی زمین کے ساتھ بندھے رہتے تھے ان سے ہر طرح کی بیگار (معاوضہ کے بغیر مزدوری) اور جبری خدمت لی جاتی تھی، جب فوج کسی میدان جنگ کی طرف کوچ کرتی تو ان بے چارے کسانوں کے بڑے بڑے گروہ ان کے پیچھے گھسٹتے چلے جاتے تاکہ فوجیوں کی خدمت بجا لائیں اور ان کے ہر حکم کی تعمیل کے لئے حاضر رہیں۔ اس پر مزید ستم یہ کہ ان غریبوں کی کسی قسم کی تنخواہ یا اجرت سے حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی تھی۔قانون بھی اس غریب طبقہ کی زیادہ حمایت نہیں کرتا تھا امراء اپنے زیر فرمان کسانوں، غلاموں اور رعایا کی زندگی اور موت کا اپنے آپ کو مالک و مختار سمجھتے تھے۔ کسانوں کا تعلق بڑے زمینداروں کے ساتھ تقریباً ویسا ہی تھا جیسے غلاموں کا تعلق اپنے آقاؤں کے ساتھ ۔وہ اس بات کے بھی پابند تھے کہ بوقت ضرورت فوجی خدمات انجام دیں۔
ٹیکسوں کا سلسلہ ختم ہونے میں نہیں آتا تھا۔ نت نئے ٹیکس کاشتکاروں پر لگائے جاتے تھے جنہوں نے ان کی کمر توڑ دی تھی۔اس لئے بہت سے کاشتکاروں نے زراعت کا پیشہ ترک کر دیا۔ اگرچہ فوج میں بھرتی ہونے سے ٹیکسوں کا بوجھ کم ہو جاتا تھا لیکن انہیں ان بے مقصد اور خون ریز جنگوں سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ جن میں حکمران طبقہ نے اپنی رعایا کو ہر وقت الجھا رکھا تھا۔ چنانچہ انہوں نے عبادت گاہوں اور خانقاہوں میں پناہ لینا شروع کی اس سے بے روز گاری اور جرائم کی گرم بازاری میں روز بروز اضافہ ہوتا جاتا تھا۔ لوگ ناجائز طریقوں سے روپیہ بٹورنے کی بیماری کا بری طرح شکار ہو گئے تھے۔ خسرو نوشیرواں جو تاریخ میں نوشیرواں عادل کے نام سے مشہور ہے اس نے ایران کے لگان کے نظام میں اصلاحات کیں۔ لیکن ان اصلاحات سے کسانوں کی مشکلات اور عوام کا بوجھ کہاں تک کم ہوا اس کے بارے میں پروفیسر آرتھر کی رائے ملاحظہ فرمائیں، وہ لکھتے ہیں۔ خسرو نوشیرواں کی مالی اصلاحات میں بے شک رعایا کی نسبت خزانے کے مفاد کو زیادہ ملحوظ رکھا گیا تھا عوام الناس اسی طرح جہالت اور عسرت میں زندگی بسر کر رہے تھے جیسا کہ زمانہ سابق میں بازنطینی فلسفی جو شہنشاہ کے ہاں آکر پناہ گزیں ہوئے تھے ایران سے جلد برداشتہ خاطر ہو گئے ایرانیوں کی بعض رسموں مثلا تزویج محرمات کی رسم یا لاشوں کو دخموں پر کھلا چھوڑ دینے کی مذہبی رسم نے ان کو برہم کیا لیکن محض یہ رسمیں نہیں تھیں جن کی وجہ سے ان کو ایران میں رہنا ناگوار ہوا۔بلکہ ذات پات کی تمیز اور سوسائٹی کے مختلف طبقوں کے درمیان نا قابل عبور فاصلہ اور خستہ حالی جس میں نچلے طبقوں کے لوگ زندگی بسر کر رہے تھے۔یہ وہ چیزیں تھیں جن کو دیکھ کر وہ آزردہ خاطر ہوئے طاقتور لوگ کمزوروں کو دباتے تھے۔اور ان کے ساتھ بہت ظلم اور بے رحمی کا سلوک کرتے تھے۔
(ایران بعہد ساسانیاں، صفحہ 589-590)
زرتشتی مذہب میں کتے کی بڑی تعظیم کی جاتی ہے اوستا کے ایک نسب (حصہ) میں ایک پورا باب ہے جس میں ریوڑ کے کتے کی حفاظت کے لئے قوانین بیان کر دیئے گئے ہیں لیکن ایک کسان جو انسان ہے اسکے حقوق کی پاسبانی کا کوئی اہتمام نہیں کیا گیا۔ ستم بالائے ستم یہ کہ محصول اور لگان ادا کرنے کا تقریباً سارا بوجھ اس طبقہ پر لاد دیا گیا تھا جو پہلے ہی غربت و افلاس ،محرومیوں اور مجبوریوں کے شکنجہ میں کسا ہوا تھا اور کراہ رہا تھا خسرو نوشیرواں نے لگان کے بارے میں جو اصلاحات کیں ان کے مطابق ایران کے عوام کو دو قسم کے محصول ادا کرنا پڑتے تھے ایک خراج جو زمین کی پیداوار سے لیا جاتا تھا دوسرا جزیہ، لیکن ایران کے سات بڑے خاندان جن میں شاہی خاندان بھی شامل تھا ان محصولوں سے مستثنیٰ تھے، اسی طرح امراء عظام جن کو العظماء کہا جاتا تھا انہیں بھی دونوں محصولوں سے بری کر دیا گیا تھا، بلکہ تمام فوجی سپاہی سرکاری عہدہ دار آتش کدوں کے نگران مذہب کے نمائندے اور وہ اشخاص جو شہنشاہ ایران کے شخصی ملازم تھے ان محصولوں کی ادائیگی پر مجبور نہ تھے۔
(ایضا)
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲