Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹

*قسط نمبر 7 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ :چہارم)*

(ایران ~ حصہ چہارم)
(ایران کے مذہبی عقائد ~ حصہ سوئم)

پروفیسر مذکور نے اس مضمون کی ابتداء میں یہ بتایا ہے کہ زرتشت کا زمانہ چھ سو اٹھارہ تا پانچ سو اکتالیس قبل مسیح ہے۔ جبکہ پانچ سو چھیاسی قبل مسیح میں اس کی عمر تیس سال تھی جب اس نے اپنے مذہب کی دعوت کا آغاز کیا۔یہ وہ دور ہے جب کہ بابل کے بادشاہ نے یہوداہ کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا اور یروشلم کے لاکھوں یہودیوں کو اسیران جنگ کی حیثیت سے بابل میں لے آیا تھا۔اور وہ پچاس سال تک جنگی قیدیوں کی طرح بابل میں غلاموں کی سی زندگی بسر کرتے رہے اور یہی وہ پچاس سال ہیں جب زرتشت اپنے مذہب کی تبلیغ میں مصروف رہا۔زرتشت کی وفات ٹریور (TREVOR) کی تحقیق کے مطابق پانچ سو اکتالیس قبل مسیح میں ہوئی یعنی اس واقعہ سے صرف تین سال قبل جب کہ ایران کے بادشاہ سائرس نے بابل کو فتح کیا اور اسے اپنی ایرانی مملکت کا حصہ بنایا۔اور یہودی جو بابل میں اسیری کی زندگی بسر کر رہے تھے ان کو یروشلم واپس جانے کی اجازت دی۔یقیناً وہ لوگ زرتشت کی تعلیمات سے متاثر ہوئے ہوں گے اور ان اثرات کا صحیح اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب یہودی مذہب کے ان نظریات کا جو اس جلاوطنی سے پہلے تھے موازنہ ان کے ان عقائد سے کیا جائے جن کو انہوں نے بابل کی جلاوطنی سے واپسی کے بعد اپنایا۔
(ہسٹری آف ریلیجین، صفحہ ۷۵)

اہورامزدا جو کہ سراپا خیر قوت کا نام تھا۔اس کی ہم عصر اور ہم پلہ ایک برائی کی طاقت بھی تھی جسے اہرمن کہتے ہیں خیر و شر کی ان دونوں قوتوں کے درمیان ان کے نزدیک روز اول سے باہمی تنازعہ جاری ہے، کبھی خیر کو فتح حاصل ہوتی ہے اور کبھی برائی کا پلہ بھاری رہتا ہے۔ مذہبی زندگی کے رسم ورواج کے ہجوم میں تین ایسی چیزیں ہیں جنہیں زرتشت کے مذہب کے بنیادی اصول قرار دیا جا سکتا ہے۔طلب معاش کے لئے جتنے پیشے ہیں ان میں شریفانہ اور معزز پیشہ صرف کھیتی باڑی اور مویشیوں کی پرورش ہے۔ عالم امکان کی یہ ساری تخلیقات اس باہمی آویزش کا نتیجہ ہیں جو روز ازل سے نیکی و بدی کی قوتوں کے درمیان برپا ہے۔ ہوا، پانی، آگ اور مٹی پاک عناصر ہیں انہیں پلید نہیں کرنا چاہئے۔ ان اصولوں کی وضاحت اس طرح کی جا سکتی ہے کہ زرتشت کے نزدیک سب سے پاکیزہ زندگی یہ ہے کہ انسان اپنی رہائش کے لئے اور اپنے مویشیوں کے لئے مکان تعمیر کرے اس کے پاس کتا بھی ہو بیوی بھی اور بچے بھی۔ وہ بہترین اناج کاشت کر ے گھاس اگائے، پھلدار درختوں کے باغات لگائے، سیم زدہ علاقوں میں پانی خشک کرنے کی تدبیریں کام میں لائے۔ زرتشت نے روزہ رکھنے سے سختی سے منع کر دیا، کیونکہ اس طرح انسان کمزور ہو جاتا ہے، نہ مذہب کا کام کر سکتا ہے نہ دنیا کا۔ ان کے نزدیک شادی کرنا فرض ہے اور تعدد ازواج کی بھی اجازت ہے، جس کے بچے زیادہ ہوں بادشاہ پر لازم ہے کہ اسے انعامات سے نوازے اور اس کی حوصلہ افزائی کرے، ان کا دوسرا اصول یہ ہے کہ اچھی اور مفید چیزوں کا خالق اہورامزدا ہے، جیسے بیل، کتا، مرغ، اس کے بر عکس مضر اور نقصان دہ چیزوں کی تخلیق کا کام اہرمن کی طرف منسوب کرتے ہیں، جیسے درندے ، سانپ، مکھیاں، کیڑے مکوڑے وغیرہ ان کو مارنا حتی کہ چیونٹی کو تلف کرنا بھی ضروری کام ہے اور ایسا کرنے والے کو ثواب ملتا ہے کیونکہ یہ چیزیں کسان کے اناج کو کھاتی ہیں یا نقصان پہنچاتی ہیں۔ کتے کو بڑی اہمیت دی گئی ہے اس کو انسان کے برابر رکھا گیا ہے بلکہ بیوی اور بچوں پر بھی اسے فوقیت دی گئی ہے۔جانوروں میں اودبلاؤ ( سگ ماہی، دریائی بلی) کو ان کے نزدیک بڑا تقدس حاصل ہے اس کے مارنے کی سزا دس ہزار کوڑے ہیں۔ اتنی سنگین سزا کسی اور جرم کے لئے مقرر نہیں کی گئی۔ ان کا تیسرا اصول آگ کی تقدیس ہے۔ یہاں تک کہ پروہت پر بھی لازم ہے کہ وہ قربان گاہ پر جب مذہبی رسوم ادا کرنے لگے تو اپنے منہ کو کپڑے سے لپیٹ لے تاکہ اس کے سانس سے آگ آلودہ نہ ہو۔ اودبلاؤ ، مٹی اور آگ کی تقدیس و تعمیر کے گیت گانے والی قوم حضرت انسان کو کس حقارت آمیز نظر سے دیکھتی ہے اور اس کو کس ذلت آمیز سلوک کا مستحق قرار دیتی ہے اس کا مطالعہ بھی از حد تعجب خیز ہے۔ان کے نزدیک جب انسان بیمار ہو جائے تو وہ کسی شفقت اور خصوصی توجہ کا مستحق نہیں رہتا بلکہ وہ قابل نفرت ہو جاتا ہے کیونکہ بیماری اس بات کی علامت ہے کہ اس پر بری قوت نے قابو پا لیا ہے اس لئے اس کے قریبی رشتہ دار بھی اس کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور اسے زندگی کی ضروریات سے بھی محروم کر دیا جاتا ہے۔بیمار کے علاج میں تساہل گائے کے پیشاب سے ناپاک کو پاک کرنے کا طریقہ اس حیرت انگیز مذہب کے کمزور پہلو ہیں۔
(ہسٹری آف پرشیا خلاصہ ،صفحہ 108 تا 110)

جب کوئی زرتشتی قریب المرگ ہو جاتا ہے تو روٹی کا ایک ٹکڑا اس کے سینے پر رکھ دیتے ہیں اور ایک کتا اس کے قریب لایا جاتا ہے اگر وہ کتا اس روٹی کے ٹکڑے کو کھالے تو سمجھ لیا جاتا ہے کہ یہ شخص مر گیا ہے مرنے کے بعد اس کے ساتھ جو ذلت آمیز برتاؤ کیا جاتا ہے۔ اس کے بارے میں سن کر انسان سراپا حیرت بن جاتا ہے کہ مرنے والے کے بیٹے،بھائی اور قریبی رشتہ دار اس کی لاش کے ساتھ ایسا ذلت آمیز سلوک کیونکر گوارا کر لیتے ہیں۔وہ زمین میں دفن بھی نہیں کرتے کیونکہ اس طرح مٹی جو ان کے نزدیک پوتر ہے وہ پلید ہو جاتی ہے اس کو نذر آتش کر کے بھسم بھی نہیں کرتے کیونکہ آگ جو ان کی معبود ہے وہ اس کی آلائشوں سے ناپاک ہو جاتی ہے بلکہ اس کو ایک گہرے کنویں ( دخمہ ) میں لٹکا دیتے ہیں گوشت خور پرندے کوے، چیلیں، گیدھیں اس پر جھپٹ جھپٹ کر اس کا گوشت نوچ لیتے ہیں دل یہ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں کہ زرتشت جیسے توحید کا درس دینے والے مصلح اور معرفت الہی کا سبق پڑھانے والے معلم نے اپنے مالک و خالق کی تخلیق کے اس شاہکار کی یوں تحقیر اور تذلیل کی اجازت دی ہو لیکن زرتشت کا امتی کہلانے والے صدیوں سے یہی کر رہے ہیں اور آج بھی مُردوں کے ساتھ ان کے رویے میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی۔ قریب مرگ آدمی کے پاس ایک رسم ادا کی جاتی ہے جسے ” سگرید” کہتے ہیں اس کا طریقہ یہ ہے کہ زرد رنگ کا کتا جس کی چار آنکھیں ہوں یا ایک سفید رنگ کا کتا جس کے بھورے کان ہوں وہ اس قریب المرگ آدمی کے پاس لایا جاتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ کتے کے دیدار سے شیطان اس مرنے والے کی لاش میں گھسنے کی جو کوشش کر رہا ہوتا ہے وہ اس کوشش میں ناکام ہو جاتا ہے۔
(ہسٹری آف پرشیا، صفحہ ۱۰۳)

پروفیسر آرتھر اپنی کتاب (ایران بعہد ساسانیاں) میں رقمطراز ہیں۔ اوستا کے بیشمار مقامات سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ عناصر طبعی کی پرستش ہمیشہ دین زرتشتی کی اصولی خصوصیت رہی اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ زرتشتی آگ اور پانی و مٹی کو آلودہ کرنے سے کس قدر پرہیز کرتے ہیں۔ اگاتھیاس لکھتا ہے کہ اہل ایران سب سے زیادہ پانی کا احترام کرتے ہیں یہاں تک کہ پانی کے ساتھ منہ دھونے سے بھی پرہیز کرتے ہیں اور سوائے پینے اور پودوں میں دینے کے اور کسی غرض کے لئے نہیں چھوتے ، وندیداد، میں مذہبی رسوم تعمیر کے لئے پانی کے استعمال کی سب ہدایات لکھی گئی ہیں۔تعمیر کے لئے اگر کوئی چیز پانی سے زیادہ مؤثر ہے تو وہ گائے کا پیشاب ہے۔
(ایران بعہد ساسانیاں، صفحہ 189)

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top