قسط نمبر 19 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:سولہواں)
(ایران ~ حصہ سولہواں)
(ساسانی خاندان ~ حصہ نہم)
(ساسانی خاندان کی حکومت کا آغاز ~ حصہ پنجم)
اس آمرانہ ملوکیت کا یہ نتیجہ تھا کہ بادشاہوں کو اپنی حفاظت کے لئے خصوصی انتظامات کرنے پڑتے تھے جب وہ دربار عام میں شرکت کے لئے جاتے تو اس وقت بھی ایسے تکلفات کو ملحوظ رکھا جاتا کہ بادشاہ کے قریب کوئی بھٹک نہ سکے شاہی دربار عام میں جو آداب ملحوظ رکھے جاتے اور جن قواعد و ضوابط کی پابندی ضروری سمجھی جاتی اس کا ذکر پروفیسر آرتھر نے بایں الفاظ کیا ہے۔ شاہی تخت ہال کے سرے پر پردے کے پیچھے رکھا جاتا تھا۔اعیان سلطنت اور حکومت کے اعلیٰ عہدہ داروں کو پردے سے مقررہ فاصلے پر بٹھایا جاتا تھا درباریوں کی جماعت اور دوسرے ممتاز لوگوں کے درمیان ایک جنگلا حائل رہتا تھا اچانک پردہ اٹھتا تھا اور شہنشاہ تخت پر بیٹھے دیبا (باریک ریشم) کے تکئے پر سہارا لگائے، زربفت (سونے اور ریشم کی تاروں سے بنا ہوا کپڑا) کا بیش بہا لباس پہنے جلوہ گر ہوتا تھا۔ تاج، جو سونے اور چاندی کا بنا ہوا اور زمرد، یاقوت اور موتیوں سے مرصع تھا۔بادشاہ کے سر کے اوپر چھت کے ساتھ ایک سونے کی زنجیر کے ذریعہ سے لٹکا رہتا تھا جو اس قدر باریک تھی کہ جب تک تخت کے بالکل قریب آکر نہ دیکھا جائے نظر نہیں آتی تھی۔ اگر کوئی شخص دور سے دیکھتا تو یہی سمجھتا تھا کہ تاج بادشاہ کے سر پر رکھا ہوا ہے لیکن حقیقت میں وہ اس قدر بھاری تھا کہ کوئی انسانی سر اس کو نہیں اٹھا سکتا تھا۔ کیونکہ اس کا وزن ساڑھے اکانوے کلو تھا۔(ایک کلوگرام ۵/۱ ۲پونڈ کے برابر ہوتا ہے) لہذا ساڑھے اکانوے کلو تقریباً اڑھائی من بنتا ہے۔
(ایران بعہد ساسانیان، صفحہ 530-531)
خسرو اول کے جانشین ہرمزد چہارم کے تاج کے بارے میں ایک مشہور سیاح ” تھیونی لیکٹس” بیان کرتا ہے۔اس کا تاج سونے کا تھا اور جواہرات سے مرصع تھا سرخ یاقوتوں کی چمک جو اس میں جڑے ہوئے تھے آنکھوں کو خیرہ کرتی تھی۔اس کے گرد موتیوں کی قطاریں جو اس کے بالوں پر لٹک رہی تھیں اپنی لہراتی ہوئی شعاعوں کو زمرد کی خوش نما آب و تاب کے ساتھ ملا کر ایسی عجیب کیفیت پیش کرتی تھیں کہ دیکھنے والوں کی آنکھیں فرط حیرت سے کھلی کی کھلی رہ جاتی تھیں۔اس کی شلوار ہاتھ کے بنے ہوئے زربفت کی تھی جس کی قیمت بے اندازہ تھی۔ فی الجملہ اس کے لباس میں اس قدر زرق برق تھی جس قدر کہ نمود و نمائش کا تقاضا تھا۔
(ایران بعہد ساسانیاں ،صفحہ 532)
ان کے ہاں دربار میں حاضر ہونے کے بھی مقررہ قواعد تھے جن کی پابندی ہر شخص پر لازمی تھی اس کے بارے میں پروفیسر مذکور لکھتے ہیں۔ جو شخص بادشاہ کے حضور میں حاضر ہوتا تھا اس کو قدیم دستور کے مطابق سامنے آکر سجدہ کرنا پڑتا تھا۔ قاعدہ یہ تھا کہ پشتیک بانی سالار یا کوئی اور بڑا عہدیدار جس کو محل کی دربانی کا کام سپرد ہوتا تھا۔ بادشاہ کو آکر اطلاع دیتا تھا کہ فلاں شخص شرف باریابی حاصل کرنا چاہتا ہے جب بادشاہ اجازت دیتا تو اندر داخل ہوتے وقت اپنی آستین میں سے سفید اور صاف کستان کا رومال نکال کر منہ کے آگے باندھ لیتا بادشاہ کے سامنے اس کو باندھنا اس کی جلالت کے تقدس کے خیال سے تھا۔قریب آکر وہ شخص فوراً زمین پر گر پڑتا اور جب تک بادشاہ اسے اٹھنے کی اجازت نہ دیتا وہ اسی حالت میں پڑا رہتا اٹھنے کے بعد وہ نہایت تعظیم کے ساتھ ہاتھ سے سلام کرتا۔
(ایران بعہد ساسانیاں، صفحہ 534-535)
بادشاہ اور رعایا کے درمیان امتیاز کو اور بھی کئی طریقوں سے ظاہر کیا جاتا مثلا جس روز بادشاہ سینگیاں لگواتا یا فصد کراتا یا کوئی دوائی کھاتا تو لوگوں میں منادی کرا دی جاتی تاکہ تمام درباری اور پایہ تخت کے رہنے والے ان میں سے کوئی یہ کام نہ کرے ان کا عقیدہ یہ تھا کہ اگر کوئی دوسرا شخص بھی اس دن وہی علاج کرے تو پھر بادشاہ پر دوا کا اثر گھٹ جائے ان مخصوص مجالس میں بھی یہ احتیاط اور پردہ داری ملحوظ رکھی جاتی جن میں بادشاہ لہو و لعب اور شراب نوشی میں مشغول ہوتا۔ اس وقت بھی اس کے اور ندیموں (شرابی دوست) کے درمیان پردہ آویزاں رہتا۔ اور ایک خاص درباری جو خرم باش کے لقب سے ملقب ہوتا اور جو لازما کسی فوجی جرنیل کا بیٹا ہوتا وہ حاضر ہوتا اور ایک شخص کو حکم دیتا کہ وہ بلند جگہ کھڑے ہو کر یہ اعلان کرے کہ “يَالِسَانُ اِحْفَظْ رَاْسَكَ فَاِنَّكَ تُجَالِسُ فِيْ هٰذَا الْيَوْمِ الْمَلِكَ”
ترجمہ:اے زبان ! اپنے سر کی حفاظت کر یعنی آداب شاہی کو ہمیشہ ملحوظ رکھ کیونکہ تو آج بادشاہ کے دربار میں بیٹھا ہوا ہے۔
(مروج الذہب للمسعودی، صفحہ 288، جلداول)
یہ اعلان بلند آواز سے کیا جاتا۔ تاکہ مجلس لہو و لعب میں شریک ہونے والا ہر شخص سن لے۔اور ندیموں میں سے کسی کی مجال نہ تھی کہ وہ زبان سے بات کرے وہ اشارے سے اپنا مدعا ایک دوسرے کو سمجھاتے تھے۔اس شاہانہ جاہ و جلال کے باوجود اور حفاظتی تدابیر کے باوجود بادشاہ اپنے آپ کو محفوظ محسوس نہیں کرتا تھا۔اسے ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا کہ کہیں اس کے دشمن اس کو قتل نہ کر دیں۔چنانچہ انہوں نے اپنے لئے متعدد خواب گاہیں بنائی ہوئی تھیں کسی شخص کو اس بات کا علم نہ ہوتا کہ بادشاہ آج کہاں سو رہا ہے۔کہتے ہیں کہ اردشیر اول خسرو اول، خسرو دوم اور کئی دوسرے ساسانی بادشاہوں کے لئے چالیس مختلف جگہوں پر بستر بچھائے جاتے تھے اور اس پر بھی بعض وقت بادشاہ ان میں سے کسی بستر پر نہیں سوتا تھا بلکہ کسی معمولی سے کمرے میں بغیر بستر کے ہاتھ کا سرہانہ بنا کر لیٹا رہتا تھا۔ (ایران بعہد ساسانیان ،صفحہ 541)
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲